PIB Backgrounder
تپِ دق سے پاک ہندوستان کی جانب
پیش رفت، جدت طرازی اور عوامی شمولیت
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
13 OCT 2026 4:48PM by PIB Delhi
|
تپِ دق کے خلاف ہندوستان کی جدوجہد میں نمایاں کامیابیاں حاصل ہوئی ہیں۔ 2015 سے 2024 کے درمیان ہندوستان میں تپِ دق کے نئے معاملات کی سالانہ تعداد میں21 فیصد کمی درج کی گئی، جبکہ عالمی سطح پر یہ کمی12 فیصد رہی۔ ہندوستان میں علاج کی سہولتوں تک رسائی کی شرح 92 فیصد ہے، جبکہ عالمی سطح پر یہ شرح 78 فیصد ہے۔ ‘ٹی بی مکت بھارت ابھیان’ سے پاک ہندوستان کی مہم کو مزید تیز کرنے کے نتیجے میں اب تک مجموعی طور پر 28.1 کروڑ سے زیادہ افراد کی جانچ کی جا چکی ہے، 20 لاکھ سے زائد افراد کو تپِ دق سے بچاؤ کا علاج فراہم کیا گیا ہے، 5.7 لاکھ نئے ‘نِکشیہ متروں’ کو شامل کیا گیا ہے اور 46,118 گرام پنچایتوں کو تپِ دق سے پاک ہونے کا سرٹیفکیٹ دیا گیا ہے۔ہندوستان میں تپِ دق کے خلاف اقدامات کو نمایاں طور پر تیز کیا گیا ہے۔ اس مقصد کے لیے ہاتھ میں پکڑ کر استعمال کیے جانے والے ایکسرے آلات کے ذریعے ایکسرے جانچ میں34 گنا اضافہ کیا گیا ہے، مصنوعی ذہانت(اے آئی) پر مبنی چیٹ بوٹ ‘خوشی’ سے لیس تپِ دق سے پاک ہندوستان ایپ متعارف کرائی گئی ہے اور ادویات کے خلاف مزاحمت رکھنے والے مریضوں کے لیے مختصر مدت پر مشتمل اور زیادہ محفوظ بی پی اے ایل ایم علاج کا طریقہ شروع کیا گیا ہے، جس میں بیڈاکوئلین، پریٹیومینیڈ، لائنزولڈ اور موکسی فلوکساسین ادویات شامل ہیں۔ اس کے ساتھ ہی مصنوعی ذہانت پر مبنی جدید ابتدائی جانچ کے آلات بھی متعارف کرائے گئے ہیں۔اس پیش رفت کو مزید آگے بڑھاتے ہوئے جے او ایس ایچ (صحت کے لیے مشترکہ دستہ) مہم نوجوانوں اور مقامی برادریوں کو متحرک کر رہی ہے تاکہ تپِ دق کے بارے میں بیداری پیدا کی جا سکے، بیماری کی جلد تشخیص، بروقت علاج اور علاج کو باقاعدگی سے جاری رکھنے کی حوصلہ افزائی کی جا سکے اور اس بیماری سے وابستہ سماجی بدنامی کو دور کیا جا سکے۔ عوامی شمولیت اور اجتماعی کوششوں کو مضبوط بنا کر یہ مہم تپِ دق سے پاک ہندوستان کے ہدف کے حصول کے لیے عوامی تحریک کے طریق کار کو مزید تقویت دے رہی ہے۔
|
تعارف
ہندوستان تپِ دق کے خاتمے کی سمت مسلسل آگے بڑھ رہا ہے۔ عالمی ادارۂ صحت کی عالمی تپِ دق رپورٹ -2025 کے مطابق2015 سے سن 2024 کے درمیان ہندوستان میں ہر سال سامنے آنے والے تپِ دق کے نئے معاملات میں21 فیصد کمی درج کی گئی، جبکہ عالمی سطح پر یہ کمی12 فیصد رہی۔ ہندوستان میں تپِ دق کے علاج کی سہولتوں تک رسائی کی شرح 92 فیصد ہے، جبکہ عالمی سطح پر یہ شرح 78 فیصد ہے۔

یہ دنیا بھر میں تپِ دق کے واقعات میں ہونے والی نمایاں ترین کمیوں میں سے ایک ہے، جو اس مرض سے زیادہ متاثرہ دیگر ممالک میں درج کی گئی کمی کی رفتار سے بھی زیادہ ہے۔ اسی مدت کے دوران تپِ دق سے ہونے والی اموات میں بھی28 فیصد کمی آئی۔ تپِ دق کی تشخیص، جانچ اور علاج کے لیے حکومت ہند کی ہدف پر مبنی اور کثیر الجہتی حکمت عملی نے اس مثبت رجحان میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ جدید ٹیکنالوجی، مقامی سطح پر صحت کی خدمات میں توسیع، عوامی شمولیت اور سستے علاج کی سہولتوں نے ہندوستان کو اس عام اور ممکنہ طور پر جان لیوا بیماری کے خاتمے کی راہ پر گامزن کر دیا ہے۔

|
تپِ دق کے خاتمہ کے لیے عوام کو متحرک کرنے کی‘ جوش’ مہم
تپِ دق کے خاتمے کی سمت جاری کوششوں کو مزید تیز کرنے کے لیے13 اکتوبر - 2026 کو ملک گیر سوشل میڈیا مہم چلائی گئی، جس میں آزمائشی بنیاد پر 11 ریاستوں کے 55 اضلاع میں جوش (جوائنٹ اسکواڈ فارہیلتھ) ٹیموں کو شامل کیا گیا۔ ہر جوش ٹیم میں‘مائی بھارت’ کے رضاکار، نیشنل کیڈٹ کور کے کیڈٹس اور ایک نامزد درجہ اوّل کے افسر شامل ہیں، جو بروقت جانچ اور علاج کے بارے میں بیداری پھیلاتے ہیں۔
یہ نظام نوجوانوں کو نچلی سطح پر عوامی بیداری پیدا کرنے کے لیے متحرک کرتا ہے۔ تمام وزارتوں، محکموں، صحت کے اداروں،‘ مائی بھارت’ کے رضاکاروں، نوجوانوں کی تنظیموں، اسٹوڈنٹس اور شہریوں کی حوصلہ افزائی کی جاتی ہے کہ وہ سوشل میڈیا پر پوسٹس، تصاویر، ویڈیوز اور نوجوانوں کی قیادت میں ہونے والی سرگرمیوں کی متاثر کن کہانیوں کے ذریعہ تپِ دق کے بارے میں بیداری بڑھانے، بیماری کی جلد تشخیص، علاج کو باقاعدگی سے جاری رکھنے اور اس مرض سے وابستہ سماجی بدنامی سے پاک معاشرہ تشکیل دینے کی کوششوں میں اپنا تعاون دیں۔

وزارت صحت و خاندانی بہبود نے اراکین پارلیمنٹ اور قانون ساز اسمبلیوں کے اراکین کے ساتھ تپِ دق سے پاک ہندوستان مہم کے سلسلہ میں ورکشاپس منعقد کیں۔ تاہم، اس مہم کو آگے بڑھانے کے لیے عوامی برادریوں کو شامل کرنا نہایت اہم سمجھا گیا۔ ‘جوش’ مہم کا مقصد عوامی شمولیت میں اضافہ کرنا ہے، جس کے تحت جانچ اور بیماری کی جلد تشخیص کی اہمیت کو اجاگر کیا جا رہا ہے۔ اس مہم میں تشخیص اور علاج کی ضرورت کے ساتھ عوامی شمولیت پر بھی زور دیا گیا ہے، تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگوں کی جانچ کی جا سکے اور ان مریضوں کی شناخت بھی ہو سکے جن میں بیماری کی علامات ظاہر نہیں ہوتیں۔خصوصاً کمزور اور محروم طبقات میں عوامی شمولیت اور بیداری پیدا کرنا خوف دور کرنے اور لوگوں کو علاج اور جانچ کی اہمیت سے آگاہ کرنے کے لیے نہایت ضروری ہے۔ اس پہل کے ساتھ یہ مہم ادارہ جاتی تعاون اور عوام کو متحرک کرنے، دونوں کے ذریعے تپِ دق سے پاک ہندوستان کے خواب کو حقیقت میں بدلنے کا مقصد رکھتی ہے۔
|
تپِ دق اور اس کی علامات
تپِ دق کیا ہے؟
تپِ دق (ٹی بی) ایک جرثومے کے سبب ہوتی ہے جسے مائیکوبیکٹیریم ٹیوبَرکیولوسس کہا جاتا ہے۔ یہ بیماری عموماً پھیپھڑوں کو متاثر کرتی ہے۔ تاہم، تپِ دق جسم کے دیگر حصوں، مثلاً دماغ، گردوں یا ریڑھ کی ہڈی کو بھی متاثر کر سکتی ہے۔
اس جرثومے سے متاثر ہونے والا شخص بیمار ہو سکتا ہے، لیکن بعض افراد میں بیماری کی علامات ظاہر نہیں ہوتیں۔ تپِ دق کی غیرفعال حالت یا پوشیدہ انفیکشن بھی پایا جاتا ہے۔ غیرفعال تپِ دق میں مبتلا افراد عام طور پر فعال تپِ دق کے مریضوں کی طرح دوسروں میں بیماری نہیں پھیلاتے، تاہم ان میں کسی بھی وقت فعال تپِ دق پیدا ہو سکتی ہے اور وہ بیمار ہو سکتے ہیں۔ جرثومے سے متاثر ہونے کی صورت میں شیر خوار بچوں، کم عمر بچوں اور کمزور مدافعتی نظام والے افراد کے بیمار ہونے کا امکان زیادہ ہوتا ہے۔ مناسب علاج نہ ہونے کی صورت میں فعال تپِ دق جان لیوا ثابت ہو سکتی ہے۔

تپِ دق کی علامات
فعال تپِ دق کی علامات عموماً جسم کے اس حصے سے متعلق ہوتی ہیں جو جرثومے سے متاثر ہوتا ہے، تاہم تپِ دق کی تمام اقسام میں کچھ علامات مشترک بھی ہوتی ہیں۔

فعال یا علامات والی تپِ دق میں مبتلا افراد اس بیماری کے جراثیم دوسروں تک پھیلا سکتے ہیں۔ کھانسنے، چھینکنے یا بولنے کے دوران جراثیم پر مشتمل باریک قطرے ہوا میں خارج ہو سکتے ہیں، جنہیں قریب موجود افراد سانس کے ذریعے اندر لے سکتے ہیں۔ ایسا خاص طور پر ان جگہوں پر ہونے کا امکان زیادہ ہوتا ہے جہاں ہوا کی آمد و رفت کا مناسب انتظام نہ ہو۔
اگرچہ تپِ دق ہوا کے ذریعے پھیلتی ہے، لیکن یہ درج ذیل طریقوں سے نہیں پھیلتی:
- ہاتھ ملانے سے
- عوامی بیت الخلا استعمال کرنے سے
- کھانا اور برتن مشترکہ طور پر استعمال کرنے سے
- روزمرہ کے سماجی میل جول سے
پھیپھڑوں کی تپِ دق میں مبتلا مریض عموماً تپِ دق کی مناسب ادویات کم از کم دو ہفتے تک استعمال کرنے کے بعد دوسروں میں بیماری پھیلانے کے قابل نہیں رہتے۔ جسم کے پھیپھڑوں کے علاوہ دیگر حصوں میں تپِ دق ہونے کی صورت میں عموماً مریض اس بیماری کو دوسروں تک نہیں پھیلا سکتے۔
|
علامات ظاہر ہونے پر آپ کو کیا کرنا چاہیے؟
قومی تپِ دق کے خاتمے کا پروگرام ملک بھر میں صحت کے تمام سرکاری مراکز اور متعدد نجی صحت مراکز میں جانچ اور علاج کی مفت سہولتیں فراہم کرتا ہے۔ اگر آپ میں یا آپ کے کسی جاننے والے میں تپِ دق کی علامات ظاہر ہوں تو:
- رہنمائی کے لیے‘ نکشیہ سمپرک تپِ دق اور ہیپاٹائٹس’ کی ٹول فری ہیلپ لائن 1800-11-6666 پر رابطہ کریں اور اپنے قریبی سرکاری صحت مرکز جائیں۔ سرکاری پروگراموں کے تحت تپِ دق کی تشخیص اور علاج مفت فراہم کیا جاتا ہے۔
- - آپ مزید معلومات حاصل کرنے کے لیے اپنے اینڈرائڈ فون پر ‘تپِ دق آروگیہ ساتھی ایپ’ بھی ڈاؤن لوڈ کر سکتے ہیں۔ یہ ایپ تپِ دق کی علامات اور قریبی صحت مراکز کے بارے میں معلومات فراہم کرتی ہے۔ اس کے ذریعے تپِ دق کی تشخیص اور علاج کی سہولت فراہم کرنے والے قریب ترین مراکز کا پتا لگایا جا سکتا ہے۔ اس کے علاوہ یہ ادویات کے مضر اثرات اور تپِ دق کے مریضوں کے لیے غذائیت سے متعلق مشورے بھی فراہم کرتی ہے۔
|
ہندوستان میں تپِ دق کے خاتمہ کے لیے حکمت عملی کا منصوبہ
حکومت پائیدار ترقی کے ہدف 3 کے مطابق تپِ دق (ٹی بی) کے خاتمے کے لیے پُرعزم ہے۔ اس ہدف کا مقصد سبھی کے لیے صحت مند زندگی کو یقینی بنانا اور فلاح و بہبود کو فروغ دینا ہے۔ جون - 2020 میں اعلان کردہ ہندوستان میں تپِ دق کے خاتمے کے لیے قومی حکمت عملی کا منصوبہ 2020-25 چار بنیادی ستونوں پر مبنی ہے: تعمیر، بچاؤ، تشخیص اور علاج۔ اس منصوبے میں بیماری کی جلد تشخیص، اس کے پھیلاؤ میں کمی، مریضوں کا مناسب ادویات اور طریق علاج سے علاج اور مریضوں کی مدد کے لیے معاون نظام قائم کرنے پر توجہ دی گئی ہے۔

قومی پروگرام برائے خاتمۂ تپِ دق
سال2020 میں حکومت ہندوستان نے نظرثانی شدہ قومی پروگرام برائے تپِ دق کنٹرول (آر این ٹی سی پی) کا نام تبدیل کرکے قومی پروگرام برائے خاتمۂ تپِ دق (این ٹی ای پی)رکھ دیا۔ اس تبدیلی سے ہندوستان کے اس ہدف کی عکاسی ہوتی ہے کہ 2030 کے عالمی ہدف سے پہلے تپِ دق کا خاتمہ کیا جائے۔ این ٹی ای پی، قومی حکمت عملی کے منصوبہ کے چار ستونوں پر مبنی ہے:تشخیص، علاج، بچاؤ اور تعمیر۔ اس پروگرام کی اہم سرگرمیاں درج ذیل ہیں:
- اعلیٰ معیار کی جانچ کے ذریعہ تپِ دق میں مبتلا افراد کی جلد تشخیص اور کمزور طبقات میں ایسے مریضوں کی تلاش کے لیے کمیونٹی کی سطح پر فعال رسائی، جن کی تشخیص نہیں ہو پائی ہے۔
- معیاری ادویات اور علاج کے طریقوں کے ذریعہ فوری علاج، جس میں ادویات کے خلاف مزاحمت رکھنے والی تپِ دق کا علاج بھی شامل ہے۔
- پرائیویٹ شعبہ میں علاج حاصل کرنے والے مریضوں سے رابطہ اور ان کے ساتھ تعاون۔
- براہ راست مالی امداد کی منتقلی اور ‘نِکشیہ متر’ پہل کے ذریعہ مریضوں کی ضروریات پر مبنی علاج میں مدد اور غذائیت سے متعلق اقدامات۔
- گھر کے افراد، بچوں، ایچ آئی وی کے ساتھ زندگی گزارنے والے افراد اور زیادہ خطرے سے دوچار یا کمزور طبقات میں تپِ دق کے مریضوں کے رابطے میں آنے والے افراد کی نشاندہی اور تپِ دق سے بچاؤ کے لیے علاج۔
- ہوا کے ذریعے پھیلنے والے انفیکشن کی روک تھام کے اقدامات۔
- بیماری کے سماجی اسباب سے نمٹنے کے لیے مختلف شعبوں کے درمیان تعاون پر مبنی اقدامات۔
حکومت این ٹی ای پی کے تحت مختلف پروگرام چلاتی ہے۔
پردھان منتری ٹی بی مکت بھارت ابھیان
وزیر اعظم تپِ دق سے پاک ہندوستان مہم 9 ستمبر 2022 کو قومی پروگرام برائے خاتمۂ تپِ دق کے ایک اضافی اہم جزو کے طور پر شروع کی گئی۔ اس پہل کا مقصد زندگی کے تمام شعبوں سے تعلق رکھنے والے لوگوں کو ایک‘عوامی تحریک’ کی شکل میں متحد کرنا اور تپِ دق کے خاتمے کی جانب ملک کی پیش رفت کو تیز کرنا ہے۔ اس کے مقاصد درج ذیل ہیں:
- علاج کے نتائج بہتر بنانے کے لیے تپِ دق کے مریضوں کو اضافی مدد فراہم کرنا۔
- عوامی شمولیت میں اضافہ کرنا۔
- کارپوریٹ سماجی ذمہ داری (سی ایس آر) سے فائدہ اٹھانا۔
‘نِکشیہ پوشن یوجنا اور نِکشیہ متر’ پروگرام
تپِ دق کے مریضوں کو علاج میں استعمال ہونے والی ادویات کے مضر اثرات سے نمٹنے کے لیے زیادہ پروٹین والی غذا کھانا ضروری ہے۔ 2018 میں شروع کی گئی نِکشیہ پوشن یوجنا کے تحت تپِ دق کے ہر درج شدہ مریض کو ماہانہ 1,000 روپے کی مالی امداد فراہم کی جاتی ہے۔ اپریل 2018 میں اس کے آغاز سے اب تک 1.38 کروڑ مستفیدین کے بینک کھاتوں میں براہ راست 4,454.68 کروڑ روپے منتقل کیے جا چکے ہیں۔
تپِ دق کا علاج طویل ہوتا ہے، جو کم از کم 6 ماہ تک جاری رہتا ہے اور بعض اوقات اس سے بھی زیادہ وقت لگتا ہے۔ نِکشیہ متر سے مراد ایسا‘تپِ دق دوست’یا معاون ہے، جو علاج کے اس عرصے کے دوران مریضوں کی مدد کرتا ہے۔ کوئی فرد، غیر سرکاری تنظیم، کمپنی، مذہبی یا سماجی گروپ، سرکاری عہدیدار یا معروف شخصیت رضاکارانہ طور پر ‘نِکشیہ متر’ بن سکتی ہے۔
تپِ دق دوست مریضوں کے ذاتی اخراجات کم کرنے میں مدد کے لیے باقاعدگی سے غذائی اشیا کی ٹوکریاں فراہم کرتا ہے۔ وہ باقاعدگی سے مریضوں کی خیریت دریافت کرکے نفسیاتی اور سماجی مدد بھی فراہم کر سکتا ہے، نیز صحت یابی کے بعد مریضوں کو دوبارہ اپنی زندگی سنوارنے میں مدد دینے کے لیے پیشہ ورانہ معاونت بھی فراہم کر سکتا ہے۔
12 نومبر- 2025 تک:
- 6,77,541 افراد اور اداروں نے ‘نِکشیہ متر’ کے طور پر تپِ دق کے مریضوں میں45 لاکھ سے زیادہ غذائی اشیا کی ٹوکریاں تقسیم کیں۔
- ‘مائی بھارت’ کے 2 لاکھ سے زیادہ رضاکار‘ نِکشیہ متر’ کے طور پر خدمات انجام دینے کے لیے آگے آئے ہیں۔ ‘مائی بھارت’ نوجوانوں کے امور اور کھیلوں کی وزارت کی ایک پہل ہے، جو 15 سے 29 سال کی عمر کے نوجوانوں کو مختلف سرکاری محکموں، نجی اداروں اور شہری سماج کی شراکت داریوں سے جوڑتی ہے، تاکہ حقیقی زندگی کے چیلنجوں اور مسائل سے نمٹا جا سکے۔
سو روزہ ٹی بی مکت بھارت ابھیان
صحت اور خاندانی بہبود کی وزارت نے 7 دسمبر- 2024 کو تپِ دق کے خاتمے کی ملک کی سب سے وسیع مہموں میں سے ایک100 روزہ تپِ دق سے پاک ہندوستان مہم33 ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کے 347 ترجیحی اضلاع میں شروع کی۔ تپِ دق کی جلد تشخیص کے لیے خطرے سے دوچار آبادی کی نشاندہی اور زیادہ خطرے والے طبقات کی منظم جانچ کی گئی۔ عوامی تحریک کے نتیجے میں30,000 سے زیادہ منتخب نمائندوں اور 24 متعلقہ وزارتوں کی فعال شمولیت بھی یقینی ہوئی، جبکہ‘ نِکشیہ متر’ کی جانب سے تعاون فراہم کیا گیا۔ اس طرح تپِ دق کے خاتمے کے لیے پورے معاشرے اور پوری حکومت کو شامل کرنے کا طریق کار اختیار کیا گیا۔ تپِ دق سے پاک ہندوستان مہم کی حکمت عملیوں کو اب وسعت دے کر ملک بھر کے تمام اضلاع میں نافذ کیا گیا ہے۔
جون-2026 تک اس خصوصی مہم نے کئی اہم سنگ میل عبور کیے ہیں:28.1 کروڑ سے زیادہ افراد کی جانچ کی گئی، 20 لاکھ افراد کو تپِ دق سے بچاؤ کا علاج (ٹی پی ٹی) فراہم کیا گیا اور 5.7 لاکھ نئے ‘نِکشیہ’ متر شامل کیے گئے۔
مارچ2026 میں شروع ہونے والے مہم کے دوسرے مرحلہ کے دوران 1.2 لاکھ زیادہ خطرے والے گاؤوں اور وارڈوں میں1.7 لاکھ سے زیادہ ‘آیوشمان آروگیہ شِوِر’ منعقد کیے گئے۔ ان سرگرمیوں میں32 لاکھ طلبہ اور 1.9 لاکھ ‘مائی بھارت’ رضاکاروں نے فعال طور پر حصہ لیا۔ تپِ دق سے پاک ہندوستان مہم کے تحت علاج کی کامیابی کی شرح بڑھ کر 90 فیصد ہو گئی ہے، جو عالمی اوسط 88 فیصد سے زیادہ ہے۔
نئے آغاز
ادویات کے خلاف مزاحمت رکھنے والی تپِ دق کے مریضوں کے لیے پروگرام کے تحت نیا، مختصر دورانیہ کا، زیادہ محفوظ اور انتہائی مؤثر بی پی اے ایل ایم طریق علاج متعارف کرایا گیا ہے۔ اس میں بیڈاکوئلین، پریٹومینیڈ، لائنزولڈ اور موکسی فلوکساسین شامل ہیں۔ اس طریق علاج سے علاج کی مدت کم ہو کر 6 ماہ رہ جائے گی۔ اب تک 15,000 سے زیادہ مریضوں کا علاج ادویات کے خلاف متعدد مزاحمت رکھنے والی تپِ دق یا رِفیمپیسن کے خلاف مزاحمت رکھنے والی تپِ دق کے لیے اس طریق علاج کے تحت شروع کیا جا چکا ہے۔
تپِ دق سے بچاؤ کا علاج: اس بات کو تسلیم کرتے ہوئے کہ بچاؤ بھی علاج جتنا ہی اہم ہے، اہل مستفیدین کو تپِ دق سے بچاؤ کا علاج (ٹی پی ٹی) فراہم کیا جاتا ہے، تاکہ تپِ دق کے انفیکشن کو فعال بیماری میں تبدیل ہونے سے روکا جا سکے۔ ہدف پر مبنی اور اختراعی طریق کار کے ذریعے اس پروگرام نے گزشتہ برسوں کے دوران تپِ دق کے مریضوں کے ساتھ ایک ہی گھر میں رہنے والے افراد اور ایچ آئی وی کے ساتھ زندگی گزارنے والے لوگوں کو ٹی پی ٹی فراہم کرکے کامیابی کے ساتھ تحفظ فراہم کیا ہے۔ اس اقدام کو فعال اور خصوصی طور پر تپِ دق کے مریضوں کی تلاش کی مہموں کے ساتھ بھی مربوط کیا گیا ہے اور اس کا دائرہ دیگر کمزور طبقات تک بڑھایا گیا ہے۔

آیوشمان آروگیہ مندر
آیوشمان آروگیہ مندر، آیوشمان بھارت اسکیم کے تحت قائم کمیونٹی صحت مراکز ہیں، جن کا مقصد سبھی لوگوں کو صحت کی معیاری اور قابلِ برداشت سہولتیں فراہم کرنا ہے۔ 13 اکتوبر- 2026 تک ہندوستان میں1,87,250 آیوشمان آروگیہ مندر قائم ہیں۔ ان میں ذیلی صحت مراکز، بنیادی صحت مراکز، شہری بنیادی صحت مراکز، آیوش (آیوروید، یوگا اور نیچروپیتھی، یونانی، سدھ اور ہومیوپیتھی) مراکز اور شہری صحت و فلاح و بہبود کے مراکز شامل ہیں۔ تپِ دق کی علامات ظاہر ہونے پر لوگ تشخیص کے لیے ان مراکز سے رجوع کر سکتے ہیں۔

ہماچل پردیش کے ضلع کُلّو میں آیوشمان آروگیہ مندر کے صحت کارکنان خواتین میں تپِ دق اور دیگر بیماریوں کی جانچ کر رہے ہیں (20 ستمبر 2025)، صحت اور خاندانی بہبود کی وزارت
تکنیکی بنیادی ڈھانچہ
تپِ دق کی جلد تشخیص اور دیکھ بھال کے لیے تیزی سے سالماتی جانچ کرنے والی9,800 سے زیادہ سہولتیں اور کلچر اور ادویات کے تئیں حساسیت کی جانچ کرنے والی107 تجربہ گاہیں موجود ہیں۔ یہ دنیا کا سب سے بڑا نیٹ ورک ہے۔ اس کے علاوہ درج ذیل ذرائع بھی استعمال کیے جا رہے ہیں:
- کمیونٹی کی سطح پر جانچ کے لیے مصنوعی ذہانت سے لیس500 سے زیادہ دستی ایکسرے یونٹ موجود ہیں، جبکہ 1,500 یونٹ ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کو فراہم کیے جا رہے ہیں۔
- نِکشیہ ڈجیٹل پلیٹ فارم کے ذریعے غذائی امداد کی رقم براہِ راست مستفیدین کے کھاتوں میں منتقل کی جاتی ہے۔
- ایکس رے جانچ میں34 گنا اضافہ: ملک بھر میں بڑے پیمانے پر دستی ایکسرے یونٹ تعینات کیے جانے کے نتیجے میں یہ اضافہ ہوا ہے۔
- ٹی بی سے مکت بھارت ابھیان ایپ اور ‘خوشی’ چیٹ بوٹ: حال ہی میں شروع کیے گئے اس ڈجیٹل پلیٹ فارم میں مصنوعی ذہانت سے چلنے والا چیٹ بوٹ شامل ہے، جو پیش رفت پر نظر رکھنے، شہریوں کو علامات کے بارے میں رہنمائی فراہم کرنے اور قریبی تشخیصی مراکز کا پتا لگانے میں مدد کرتا ہے۔
- صلاحیت سازی: وزارت نے قومی صحت مشن کے تحت ریڈیوگرافرز کی آسامیوں میں اضافہ کیا ہے اور اس کے ساتھ ٹرو نیٹ اور سی بی این اے اے ٹی تشخیصی مشینوں کی تعداد بھی بڑھائی ہے۔
|
کشمیر کے دور دراز علاقوں میں تپِ دق کے مریضوں کی تلاش
کشمیر کے ضلع باندی پورہ کی دور افتادہ وادی گریز میں جو ہمالیہ میں2,400 میٹر کی بلندی پر واقع ہے اور سردیوں میں باقی علاقوں سے کٹ جاتی ہے، قومی پروگرام برائے خاتمۂ تپِ دق کی کشمیر ٹیم نے تپِ دق کی جانچ کی ایک خصوصی مہم چلائی۔ جدید تشخیصی مشینوں اور قابل حمل ایکسرے آلات سے لیس موبائل جانچ وینوں کے ذریعے ٹیم نے تین دن میں1,250 افراد کی جانچ کی اور مزید جانچ کے لیے تپِ دق کے 250 سے زیادہ مشتبہ مریضوں کی نشاندہی کی۔ ٹیم نے ہندوستانی فوج، مقامی صحت کارکنوں، گاؤں کے نمائندوں اور مذہبی رہنماؤں کے ساتھ بیداری اجلاس بھی منعقد کیے۔ یہ کوشش سن 2025 تک‘ ٹی بی فر کشمیر’ کا ہدف حاصل کرنے کے لیے جموں و کشمیر کے عزم کی عکاسی کرتی ہے۔
|
مصنوعی ذہانت پر مبنی اقدامات
حکومت صحت کی خدمات کی فراہمی میں مصنوعی ذہانت کو شامل کرنے اور علاج تک رسائی کو بہتر بنانے اور علاج میں تیزی لانے کے مقصد سے تپِ دق کی نشاندہی، تشخیص اور علاج کے لیے مصنوعی ذہانت (اے آئی)کے نظام استعمال کر رہی ہے۔ یہ اقدامات درج ذیل ہیں:
:
|
ہیلتھ فوکس
|
اے آئی حل پہل
|
عمل، ٹیکنالوجی
‘علاج’ کا تجربہ
|
اور
|
طبی اثر
|
آپریشنل
|
|
ٹی بی اسکریننگ
|
ٹی بی کے خلاف کھانسی (سی اے ٹی بی)
|
صوتی: اے آئی اسمارٹ فون ایپ کے ذریعہ مریض کی کھانسی کی 3 سیکنڈ کی ریکارڈنگ ٹی بی کے تعدد پیٹرن کا تجزیہ کرتی ہےدستخط۔
|
1.62 لاکھ سے زائد اسکریننگ، روایتی طریقوں کے مقابلہ میں 12-16فیصد اضافی۔
|
|
ٹی بی
مینجمنٹ
|
منفی نتائج کی پیشین گوئی
|
پیش گوئی کرنے والے تجزیات: اے آئی مریضوں کو علاج کی ناکامی کے اعلی خطرے پر جھنڈا لگاتا ہے، ایک بار علاج کے بعد پرچم لگا نے کی شروعات۔
|
ملک بھر میں تعیناتی کے بعد منفی نتائج میں 27 فیصد کمی کی اطلاع دی گئی۔
|
|
ٹی بی ٹریج
|
ڈیپ سی ایکس آر (سینے کا ایکسرے)
|
ریڈیولوجی: اے آئی ڈجیٹل ایکس رے کی خودکار ریڈنگ جس کے لیے نوڈولز/کیویٹیز کی نشاندہی کی جائے،فرضی ٹی بی کے معاملات۔
|
ملک کی 8 ریاستوں/ مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں تعینات، بائی پاس کرنے کے لیے حکومت کو مفت دستیاب ہے۔
ماہرین کی کمی۔
|
تپِ دق کے خاتمہ کی جانب پیش قدمی
ہندوستان میں تپِ دق کے مریضوں کی شرح میں مسلسل کمی اس بات کی واضح یاد دہانی ہے کہ پختہ عزم، عوامی شمولیت اور صحت عامہ کے مضبوط اقدامات واقعی فرق پیدا کرتے ہیں۔ مسلسل نگرانی، علاج کی سہولتوں تک وسیع تر رسائی اور اجتماعی ذمہ داری کے ساتھ ملک اس مستقبل کی جانب بڑھ رہا ہے، جہاں تپِ دق سے پاک ہندوستان محض ایک ہدف نہیں بلکہ ایک قابل حصول حقیقت ہوگا۔ ‘جوش ’سوشل میڈیا مہم کا مقصد تپِ دق کے بارے میں بیداری بڑھانا اور اس کے خاتمے کے لیے عوام کو متحرک کرنے میں مدد دینا ہے۔ صحت کے تمام درجوں کے اداروں، نوجوانوں اور عوامی برادریوں کو شامل کرنے والے ان اقدامات کے ذریعہ ہندوستان ایک ترقی یافتہ ہندوستان -2047 کی تعمیر کے لیے اس خطرناک اور عام بیماری کے خاتمے کی جانب پیش قدمی کر رہا ہے۔
حوالہ جات
Ministry of Health and Family Welfare
https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2189415
https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2275402®=1&lang=1
https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2114549
https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=1808582
https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2184456
https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2081662
https://mohfw.gov.in/?q=en/basicpage-
https://tbcindia.mohfw.gov.in/national-strategic-plan-to-end-tb-in-india-2020-25/
https://dghs.mohfw.gov.in/national-tuberculosis-elimination-programme.php
https://tbcindia.mohfw.gov.in/concept-note/
https://aam.mohfw.gov.in/
https://tbcindia.mohfw.gov.in/wp-content/uploads/2024/10/TB-Report_for-Web_08_10-2024-1.pdf
https://mohfw.gov.in/?q=/press-info/7783
https://www.mohfw.gov.in/?q=en/pressrelease-217
https://tbcindia.mohfw.gov.in/wp-content/uploads/2023/05/4193711960Social-action-plan-2013-Final-7th-Jan-14.pdf
https://tbcindia.mohfw.gov.in/wp-content/uploads/2023/05/4773363959TOG-Chapter-1-Introduction.pdf
PIB Backgrounder
https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2244661®=3&lang=1
Click to see pdf
*****
ش ح-ظ الف- م ش
UR No. 6041
(ریلیز آئی ڈی: 2323151)
وزیٹر کاؤنٹر : 8