زراعت اور کاشتکاروں کی فلاح و بہبود کی وزارت
مرکزی وزیر زراعت جناب شیوراج سنگھ چوہان اور وزیر ماحولیات جناب بھوپیندر یادو کی جانب سے فصل کی باقیات (اسٹبل) کے انتظام کا مشترکہ جائزہ
”فصل کی باقیات (اسٹبل) کوئی مسئلہ نہیں، بلکہ کسانوں کی آمدنی بڑھانے اور مٹی کی صحت کو بہتر بنانے کا ایک حل ہیں“: کرشی بھون میں اعلیٰ سطحی بین وزارتی اجلاس کا انعقاد
مرکزی وزیر زراعت جناب شیوراج سنگھ چوہان کا ریاستوں کو واضح پیغام: ”فصل کی باقیات جلانے کی روک تھام کے لیے جنگی بنیادوں پر کارروائی کریں؛ بہت کم وقت باقی ہے“
”ہمیں مٹی کا تحفظ کرنا ہوگا اور کسانوں کی خوشحالی کو یقینی بنانا ہوگا“: مرکزی وزیر زراعت جناب شیوراج سنگھ چوہان
”مشینیں صرف کاغذوں پر نہیں بلکہ کھیتوں میں چلنی چاہئیں: پرانی مشینوں کی مرمت کریں اور چھوٹے کسانوں کو رعایتی نرخوں پر ان کی دستیابی یقینی بنائیں“: جناب شیوراج سنگھ
”مرکزی حکومت ریاستوں کو ہر ممکن مالی امداد فراہم کر رہی ہے؛ پنجاب کو اپنا ’استعمال کا سرٹیفکیٹ‘ فوری طور پر جمع کرانا چاہیے تاکہ اگلی قسط جاری کی جا سکے“: جناب شیوراج سنگھ چوہان
”کلیکٹرز کو میدانِ عمل میں ذمہ داری سنبھالنی چاہیے اور مائیکرو پلاننگ (تفصیلی منصوبہ بندی) کے ذریعے کام کرنا چاہیے: فصل کی باقیات سے دھواں پیدا کرنے کے بجائے انہیں بجلی، بائیو سی این جی اور کھاد میں تبدیل کرنے کا روڈ میپ تیار کریں“: جناب شیوراج سنگھ چوہان
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
13 OCT 2026 8:43PM by PIB Delhi
دھان کی کٹائی کے موجودہ سیزن کے دوران فصل کی باقیات (اسٹبل) کے انتظام کو ’مشن موڈ‘ میں نافذ کرنے کے لیے آج نئی دہلی کے کرشی بھون میں ایک اعلیٰ سطحی بین الوزارتی جائزہ اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس کی مشترکہ صدارت مرکزی وزیر برائے زراعت و بہبودِ کسانان و دیہی ترقی جناب شیوراج سنگھ چوہان اور مرکزی وزیر برائے ماحولیات، جنگلات و موسمیاتی تبدیلی جناب بھوپیندر یادو نے کی۔ اجلاس میں زراعت و بہبودِ کسانان کے مرکزی وزیر مملکت جناب بھاگیرتھ چودھری، اہم ریاستوں (بشمول دہلی-این سی آر، پنجاب، ہریانہ، اتر پردیش اور مدھیہ پردیش) کے وزرائے زراعت، مرکزی سیکریٹری زراعت جناب آتیش چندرا، مرکزی سیکریٹری برائے ماحولیات، جنگلات و موسمیاتی تبدیلی جناب نریندر بھوشن اور مرکزی و ریاستی حکومتوں کے دیگر اعلیٰ عہدیداران موجود تھے۔ اجلاس کے دوران، دونوں مرکزی وزراء نے واضح کیا کہ فصلوں کی کٹائی مکمل ہونے اور ربیع کی فصلوں کی بوائی کے درمیان بہت کم وقت باقی ہے۔ لہٰذا، انتظامی مشینری کو محض فائلوں تک محدود رہنے کے بجائے جنگی بنیادوں پر براہِ راست زمینی سطح پر کارروائی کرنی چاہیے۔ انہوں نے ضلعی سطح کے کلیکٹرز کو سخت ہدایات جاری کیں کہ وہ فوری طور پر اجلاس طلب کریں، نگرانی کے نظام کو مضبوط بنائیں اور اس بات کو یقینی بنائیں کہ عملی حل پر بلا تاخیر عمل درآمد کیا جائے۔ اس بات پر زور دیا گیا کہ اس اہم مدت کے دوران فصل کی باقیات (پرالی) کو جلانے سے روکنے کے لیے میدانی سطح پر فوری باہمی رابطہ اور مؤثر کارروائی کی جائے۔

”فصل کی باقیات کوئی مسئلہ نہیں، بلکہ کسانوں کی آمدنی اور مٹی کی صحت کو بہتر بنانے کا ایک ذریعہ ہیں“: جناب شیوراج سنگھ چوہان
اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے مرکزی وزیر زراعت جناب شیوراج سنگھ چوہان نے کہا کہ دھان کی کٹائی کا عمل جاری ہے اور کسان اگلی فصل کے لیے اپنے کھیت تیار کرنے کے لیے پرعزم ہیں۔ ایسے حالات میں، کسانوں کو صرف یہ کہنا کافی نہیں ہوگا کہ وہ فصل کی باقیات کو نہ جلائیں۔ انہیں ایسے متبادل فراہم کیے جانے چاہئیں جو استعمال میں آسان، آسانی سے دستیاب اور کم خرچ ہوں۔ فصل کی باقیات جلانے سے نہ صرف فضائی آلودگی پھیلتی ہے بلکہ مٹی کے مفید جاندار بھی ہلاک ہو جاتے ہیں اور ضروری غذائی اجزاء جل کر راکھ ہو جاتے ہیں۔ لہٰذا، ’مدر ارتھ‘ (زمین) کا تحفظ اور مٹی کی صحت کو برقرار رکھنا ضروری ہے۔ جب فصل کی باقیات کو مٹی میں ملایا جاتا ہے تو یہ نامیاتی کھاد میں تبدیل ہو سکتی ہیں؛ اور جب انہیں کھیت سے ہٹا دیا جاتا ہے تو بائیو سی این جی بائیو ایتھنول، بجلی کی پیداوار اور مویشیوں کے چارے میں استعمال کے ذریعے یہ کسانوں کی اضافی آمدنی کا ذریعہ بن سکتی ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ مقصد صرف فصل کی باقیات کو جلانے سے روکنا نہیں ہے بلکہ ایک ایسا مضبوط نظام وضع کرنا ہے جس میں کسانوں کو سرے سے فصل کی باقیات جلانے کی ضرورت ہی پیش نہ آئے۔ مقصد یہ ہونا چاہیے کہ باقیات کے انتظام کے لیے عملی اور معاشی طور پر قابلِ عمل انتظامات کیے جائیں اور ساتھ ہی کسانوں کو ماحول دوست زرعی طریقوں کے ذریعے ’کاربن کریڈٹس‘ جیسے مواقع سے فائدہ اٹھانے کے قابل بنایا جائے۔ اس طرح کے نقطہ نظر سے ماحول کا تحفظ ہوگا اور ساتھ ہی کسانوں کے روزگار کو تقویت ملے گی اور زراعت کی طویل مدتی پائیداری میں بہتری آئے گی۔
مدھیہ پردیش اور راجستھان میں بڑھتے ہوئے واقعات پر تشویش؛ جنگی بنیادوں پر کارروائی کی ہدایات
اجلاس کے دوران پیش کیے گئے اعداد و شمار کے تجزیے پر تبصرہ کرتے ہوئے جناب شیوراج چوہان نے کہا کہ یہ حوصلہ افزا بات ہے کہ 15 ستمبر سے 12 اکتوبر کے درمیان، گزشتہ سال کی اسی مدت کے مقابلے میں فصل کی باقیات جلانے کے واقعات میں نمایاں کمی آئی ہے۔ ہریانہ میں 53.3 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی، جبکہ اتر پردیش میں تقریباً 32 فیصد کمی درج کی گئی۔ پنجاب میں بھی کچھ کمی ریکارڈ کی گئی تھی۔ تاہم، مدھیہ پردیش اور راجستھان میں فصل کی باقیات جلانے کے واقعات میں اضافے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے، مرکزی وزیر زراعت نے دونوں ریاستوں کو ہدایت کی کہ وہ متاثرہ اضلاع اور دیہات کی نشاندہی کریں اور صورتحال سے نمٹنے کے لیے فوری طور پر خصوصی لائحہ عمل (ایکشن پلان) پر عمل درآمد کریں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ کٹائی کا ایک بڑا حصہ ابھی باقی ہے۔ لہٰذا، جن ریاستوں میں واقعات کی تعداد میں کمی آئی ہے، انہیں بھی غفلت کا شکار نہیں ہونا چاہیے اور فصل کی کٹائی کے بقیہ عرصے کے دوران مکمل چوکسی برقرار رکھنی چاہیے۔

مشینوں کے 100 فیصد استعمال کو یقینی بنائیں؛ پرانی مشینوں کو بیکار پڑا رہنے سے روکیں
مرکزی وزیر جناب شیوراج چوہان نے اس بات پر خصوصی زور دیا کہ فصلوں کی باقیات (پرالی) کو ٹھکانے لگانے والی مشینری فعال رہے اور اس کا مؤثر استعمال کیا جائے۔ انہوں نے بتایا کہ مرکزی حکومت نے اب تک ریاستوں کو 3.54 لاکھ سے زائد مشینیں فراہم کی ہیں، جن میں موجودہ مالی سال 27-2026 کے دوران فراہم کردہ 26,109 نئی مشینیں بھی شامل ہیں۔ انہوں نے حکام کو ہدایت کی کہ نئی مشینوں کی تقسیم کے ساتھ ساتھ، غیر فعال ہو جانے والی پرانی مشینوں کی فوری مرمت کر کے انہیں دوبارہ کام میں لایا جائے۔ ایسا نہ کرنے کی صورت میں، مشینری کی موجودگی کے باوجود آلات کی غیر ضروری قلت پیدا ہو سکتی ہے۔ انہوں نے 'کسٹم ہائرنگ سینٹرز' کو فعال کرنے اور اس بات کو یقینی بنانے پر بھی زور دیا کہ چھوٹے اور معمولی کسانوں کو درکار مشینری مناسب اور رعایتی نرخوں پر دستیاب ہو سکے۔ اصل توجہ اس بات پر ہونی چاہیے کہ کسانوں کو ضرورت کے وقت آلات واقعی دستیاب ہوں، نہ کہ وہ یونہی بیکار پڑے رہیں۔
مرکز کی جانب سے بھاری مالی امداد؛ پنجاب پر زور کہ وہ 'استعمال کا سرٹیفکیٹ' جلد جمع کرائے
فنڈز کی دستیابی کے حوالے سے اجلاس کو بتایا گیا کہ مرکزی حکومت نے 19-2018 اور 26-2025 کے درمیان 'فصلوں کی باقیات کے انتظام' اسکیم کے تحت ریاستوں کو 4,266.47 کروڑ روپے کی خطیر رقم جاری کی ہے۔ اس میں پنجاب کے لیے 2,056.50 کروڑ روپے، ہریانہ کے لیے 1,171.71 کروڑ روپے، اتر پردیش کے لیے 868.67 کروڑ روپے اور مدھیہ پردیش کے لیے 59 کروڑ روپے شامل تھے۔ موجودہ مالی سال 27-2026 کے لیے بھی 592.57 کروڑ روپے مختص کیے گئے تھے، جن میں سے 430.87 کروڑ روپے پہلے ہی جاری کیے جا چکے ہیں۔ تاہم، مرکزی وزیر جناب شیوراج سنگھ چوہان نے مختص شدہ فنڈز کے سست استعمال پر تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے زور دیا کہ کسانوں کو ضروری وسائل اور آلات بروقت ملنے چاہئیں تاکہ وہ فصلوں کی باقیات کا مؤثر طریقے سے انتظام کر سکیں۔ خاص طور پر، پنجاب حکومت پر زور دیا گیا کہ وہ مرکزی حکومت کی جانب سے پہلے جاری کیے گئے فنڈز کا 'استعمال کا سرٹیفکیٹ' بلا تاخیر جمع کرائے۔ اس سے اسکیم کے تحت اگلی قسط کی فوری اور بلاتعطل ادائیگی ممکن ہو سکے گی، جس سے فصل کی باقیات کے انتظام کے اقدامات کے لیے مالی معاونت کی مسلسل فراہمی یقینی بنے گی۔
خشک سالی سے متاثرہ علاقوں میں فصل کی باقیات (پرالی) کو چارے کے طور پر استعمال کریں؛ کسانوں اور صنعتوں کے درمیان براہ راست روابط قائم کریں۔
مرکزی وزیر زراعت جناب شیوراج سنگھ چوہان نے ہدایت کی کہ خشک سالی جیسے حالات کا سامنا کرنے والے علاقوں میں فصل کی باقیات (پرالی) کو اکٹھا کر کے محفوظ طریقے سے ذخیرہ کیا جائے تاکہ اسے مویشیوں کے چارے کے طور پر استعمال اور فراہم کیا جا سکے۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ کسانوں کو ان سپلائی چینز (سپلائی کے نظام) کے ساتھ براہ راست جوڑا جائے جو تھرمل پاور پلانٹس (جہاں پرالی کے پیلٹس کو کوئلے کے ساتھ جلایا جاتا ہے)، کمپریسڈ بائیو گیس کی تنصیبات اور سیکنڈ جنریشن بائیو ایتھنول پلانٹس کو خام مال فراہم کرتی ہیں۔ اس طرح کے روابط فصل کی باقیات کے مفید استعمال کے لیے اضافی مواقع پیدا کرنے اور کسانوں کو اضافی آمدنی حاصل کرنے میں مددگار ثابت ہوں گے۔ انہوں نے ریاستی حکومتوں سے کہا کہ وہ اس بات کو یقینی بنائیں کہ منظور شدہ سپلائی پروجیکٹس پر بلا تاخیر عملی طور پر عمل درآمد کیا جائے۔ انہوں نے 'پوسا-44' جیسی طویل مدت والی اقسام کے بجائے 'پوسا-2090'اور 'پی آر-126' جیسی بہتر اور کم مدت والی دھان کی اقسام کی حوصلہ افزائی کرنے پر بھی زور دیا۔ کم مدت والی اقسام کسانوں کو اپنی فصل جلد کاٹنے اور اگلی بوائی کے موسم سے قبل کھیتوں کو صاف کرنے کے لیے کافی وقت فراہم کریں گی۔

ریاستوں کو ہر ممکن تعاون کا یقین
مرکزی وزیر جناب شیوراج سنگھ چوہان نے کہا کہ نچلی سطح پر نفاذ کی بنیادی ذمہ داری ریاستی حکومتوں کی ہے۔ تاہم، وزیر اعظم جناب نریندر مودی کی قیادت اور رہنمائی میں، مرکزی حکومت ریاستوں اور کسانوں کے ساتھ مضبوطی سے کھڑی ہے اور ہر مرحلے پر ہر ممکن تکنیکی، انتظامی اور مالی معاونت فراہم کر رہی ہے۔ انہوں نے تمام متعلقہ وزارتوں، کرشی وگیان کیندروں اور ضلعی انتظامیہ سے اپیل کی کہ وہ فصل کی باقیات (پرالی) کے انتظام کو ایک مشترکہ قومی عزم کے طور پر لیں اور اس کے موثر نفاذ کے لیے اجتماعی طور پر کام کریں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ مرکز، ریاستی حکومتوں اور مقامی انتظامیہ کی مربوط کوششیں ضروری ہیں تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جا سکے کہ کسانوں تک بروقت عملی حل پہنچ سکیں۔ حتمی مقصد زرعی کھیتوں کو آلودگی سے پاک رکھنا، مٹی کی صحت کا تحفظ کرنا، کسانوں کے روزگار کو بہتر بنانا اور کاشتکار برادری کی خوشحالی میں اپنا حصہ ڈالنا ہے۔
سہ پہر 3 بجے کے بعد سیٹلائٹ مشاہدے کے وقفے کی سخت نگرانی کی ہدایت: جناب بھوپیندر یادو
ماحولیات، جنگلات اور موسمیاتی تبدیلی کے مرکزی وزیر جناب بھوپیندر یادو نے فصل کی باقیات جلانے کے واقعات کو روکنے کے لیے زمینی سطح پر نگرانی اور نفاذ کے اقدامات کو تیز کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے پنجاب کے اہم اضلاع بشمول سنگرور، ترن تارن، امرتسر، پٹیالہ اور گرداسپور، نیز ہریانہ کے اضلاع جیسے کیتھل، کرنال، کروکشیتر، انبالہ اور فتح آباد میں خصوصی چوکسی برتنے پر زور دیا۔ اس کا مقصد ان علاقوں میں فصل کی کٹائی کے طریقوں کا جائزہ لینا اور فصل کی باقیات جلانے کے واقعات کے امکان کا اندازہ لگانا تھا تاکہ پیشگی احتیاطی اقدامات کیے جا سکیں۔ انہوں نے کٹائی کے جاری سیزن کے دوران حساس علاقوں کی نشاندہی کرنے اور مقامی نگرانی کے انتظامات کو مضبوط بنانے کی اہمیت پر زور دیا۔
جناب یادو نے نگرانی کی تاثیر کو بہتر بنانے کے لیے فصل کی باقیات جلانے سے متعلق ڈیٹا کو 'کمیشن فار ایئر کوالٹی مینجمنٹ' اور 'سینٹرل پولوشن کنٹرول بورڈ' کے ساتھ مربوط کرنے کی ضرورت پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ آنے والے دنوں میں کٹائی کے متوقع وقت کی پیش گوئی کرنا اور موسمی حالات کی کڑی نگرانی کرنا اہم ہے جو نیشنل کیپیٹل ریجن میں ہوا کے معیار (آلودگی کی سطح) کو متاثر کر سکتے ہیں۔ اس طرح کی معلومات حکام کو بدلتی ہوئی صورتحال کا جائزہ لینے اور بروقت ضروری کارروائی کرنے میں مدد فراہم کریں گی۔ انہوں نے اقدامات کے اثرات کا مؤثر جائزہ لینے اور ابھرتے ہوئے چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے اصلاحی اقدامات کی نشاندہی کرنے پر بھی زور دیا۔ فصلوں کی باقیات کو جلانے سے روکنے کی کوششوں کو مزید مؤثر بنانے اور جوابی کارروائی کو مضبوط کرنے کے لیے، نافذ کیے جانے والے اقدامات کا مسلسل جائزہ لینا ناگزیر ہوگا۔
اس بات پر زور دیتے ہوئے کہ نگرانی کا انحصار صرف سیٹلائٹ ڈیٹا پر نہیں ہونا چاہیے، جناب یادو نے کہا کہ ضلعی کلیکٹرز کو زمینی سطح پر جائزے لینے چاہئیں اور فصلوں کی باقیات جلانے کی روک تھام کی کوششوں کو مزید مؤثر بنانے کے لیے نفاذی اقدامات کو مضبوط کرنا چاہیے۔ انہوں نے سہ پہر 3 بجے کے بعدجب سیٹلائٹ کی کوئی گزر دستیاب نہیں ہوتی نگرانی کے وقفے کے دوران زمینی گشت اور فلائنگ اسکواڈز کے ذریعے سخت نگرانی کی ضرورت پر زور دیا۔ اس عرصے میں خصوصی توجہ کی ضرورت ہے تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جا سکے کہ فصل کی باقیات جلانے کے واقعات نظروں سے اوجھل نہ رہ جائیں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ سیٹلائٹ پر مبنی نگرانی، فیلڈ معائنے اور مؤثر نفاذ کا امتزاج حکام کو فوری ردعمل ظاہر کرنے اور کٹائی کے اہم دورانیے میں فصلوں کی باقیات کو جلانے سے روکنے میں مدد دے گا۔
***
ش ح ۔ ال ۔ ع ر
UR-6037
(ریلیز آئی ڈی: 2323031)
وزیٹر کاؤنٹر : 5