وزارت خزانہ
مرکزی وزیر خزانہ محترمہ نرملا سیتارمن کا سنگاپور کا کامیاب دورہ اختتام پذیر؛ سرمایہ کاری اور مالیاتی تعاون کو مضبوط بنانے پر توجہ مرکوز کی گئی
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
12 OCT 2026 8:05PM by PIB Delhi
مرکزی وزیر خزانہ اور کارپوریٹ امور محترمہ نرملا سیتارمن نے 8 سے 11 اکتوبر 2026 تک سنگاپور کا اپنا سرکاری دورہ مکمل کیا۔ اس دورے کے دوران اعلیٰ سطحی دو طرفہ ملاقاتوں اور عالمی سرمایہ کاروں، مالیاتی اداروں اور کاروباری شعبے کی سرکردہ شخصیات کے ساتھ متعدد اجلاس منعقد کیے گئے، جن کا مقصد ہندوستان اور سنگاپور کے درمیان اقتصادی اور مالیاتی تعاون کو مضبوط بنانا تھا۔
دورے کے دوران مرکزی وزیر خزانہ نے سنگاپور کے صدر عزت مآب جناب تھرمن شانموگرتنم اور وزیر اعظم عزت مآب جناب لارنس وونگ سے ملاقات کی۔ اس کے علاوہ انہوں نے نائب وزیر اعظم اور وزیر تجارت و صنعت عزت مآب جناب گن کم یونگ اور وزیر خارجہ عزت مآب ڈاکٹر ویوین بالاکرشنن سے بھی ملاقات کی۔



ان ملاقاتوں کے دوران چوتھے ہندوستان-سنگاپور وزارتی گول میز اجلاس (آئی ایس ایم آر) کے نتائج کو آگے بڑھانے میں ہونے والی پیش رفت کا جائزہ لینے اور جامع اسٹریٹجک شراکت داری کو مزید گہرا کرنے کے امکانات پر غور کرنے کا موقع ملا۔ دونوں فریقوں نے ہندوستان-آسیان تعاون اور علاقائی اقتصادی روابط کو مضبوط بنانے کے طریقوں پر بھی تبادلۂ خیال کیا، جس میں 2027 میں سنگاپور کی آسیان کی صدارت سے قبل کی تیاریوں پر بھی توجہ دی گئی۔
محترمہ سیتارمن نے سنگاپور کے صدر عزت مآب جناب تھرمن شانموگرتنم اور بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی منیجنگ ڈائریکٹر محترمہ کرسٹالینا جارجیوا کی میزبانی میں منعقدہ ظہرانے میں بھی شرکت کی۔ اس ظہرانے میں عالمی مالیاتی اداروں، سرمایہ کاری کمپنیوں، تعلیمی شعبے اور حکومتِ سنگاپور کے سینیئر رہنماؤں نے شرکت کی، جس سے عالمی اقتصادی اور مالیاتی پیش رفت پر تبادلۂ خیال کا موقع فراہم ہوا۔
سنگاپور کی قیادت کے ساتھ بات چیت میں دو طرفہ سرمایہ کاری کو وسعت دینے، مالیاتی روابط کو مضبوط بنانے اور ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز کے شعبے میں تعاون کو آگے بڑھانے پر توجہ مرکوز کی گئی۔ مرکزی وزیر خزانہ نے ہندوستان کے مضبوط معاشی بنیادی عوامل، ترقی کے امکانات اور جاری پالیسی اصلاحات کو اجاگر کیا اور سنگاپور میں قائم ادارہ جاتی سرمایہ کاروں اور کاروباری اداروں کو ہندوستان کی ترقی کے سفر میں زیادہ سرمایہ کاری کرنے کی ترغیب دی۔ سرمایہ کاروں کے غور و خوض کے لیے نیشنل انویسٹمنٹ اینڈ انفراسٹرکچر فنڈ (این آئی آئی ایف) کے مجوزہ منصوبوں میں سے بنیادی ڈھانچے کے چند منتخب منصوبوں کو بھی پیش کیا گیا، تاکہ مزید بات چیت اور متعلقہ ہندوستانی حکام کے ساتھ رابطوں کی راہ ہموار ہو سکے۔
سرمایہ کاری کے فروغ کے سلسلے میں مرکزی وزیر خزانہ اور کارپوریٹ امور محترمہ نرملا سیتارمن نے عالمی مالیاتی اداروں اور سرمایہ کاری کمپنیوں کے سرکردہ نمائندوں کے ساتھ ایک کاروباری گول میز اجلاس میں شرکت کی۔ ان اداروں میں جے پی مورگن چیس، بلیک راک، ڈوئچے بینک، پیمکو، ابوظہبی انویسٹمنٹ اتھارٹی (اے ڈی آئی اے)، کارلائل، ٹیمسیک، ملینیم مینجمنٹ، سٹیڈل اور بریون ہاورڈ شامل تھے۔ اجلاس میں اقتصادی اصلاحات کے تئیں ہندوستان کے مسلسل عزم اور عالمی غیر یقینی صورتِ حال کے باوجود اس کی اقتصادی لچک، عالمی اور ملکی مالیاتی منڈیوں میں ہونے والی پیش رفت، مصنوعی ذہانت (AI) میں تیز رفتار ترقی کے اثرات اور ہندوستانی اثاثوں میں عالمی سرمایہ کاری بڑھانے کے مواقع پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔ شرکت کنندگان نے ہندوستان کی ترقی کے امکانات پر اعتماد کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ وہ حکومت کی جانب سے مسلسل ترقی پسند، مالیاتی طور پر محتاط، قابل پیش گوئی اور ترقی پر مبنی پالیسیوں کے تسلسل کے ساتھ بنیادی ڈھانچے پر توجہ برقرار رہنے کے منتظر ہیں۔
مرکزی وزیر خزانہ نے بڑے ادارہ جاتی سرمایہ کاروں، مالیاتی اداروں اور عالمی کارپوریشنوں کی سینئر قیادت کے ساتھ الگ الگ دو طرفہ ملاقاتیں بھی کیں۔ ان اداروں میں مٹسوبشی یو ایف جے فنانشل گروپ (ایم یو ایف جی)، سومیتومو مٹسوئی بینکنگ کارپوریشن (ایس ایم بی سی)، ویلنگٹن مینجمنٹ، اسٹینڈرڈ چارٹرڈ بینک، جی آئی سی (گورنمنٹ آف سنگاپور انویسٹمنٹ کارپوریشن)، ڈی بی ایس بینک، اسکینڈینیوسکا اینسکیلڈا بینکن (ایس ای بی)، ٹیمسیک، ٹی پی جی، ایچ پی ایس انویسٹمنٹ پارٹنرز، کیپیٹا لینڈ انویسٹمنٹ، انٹیل، برٹش انٹرنیشنل انویسٹمنٹ (بی آئی آئی)، آئی ایچ ایچ ہیلتھ کیئر اور بی کیپیٹل شامل تھے۔
ان مالیاتی اداروں اور عالمی کارپوریشنوں کی سینئر قیادت نے صارفین کی منڈیوں، اسٹارٹ اپس، مالیاتی ٹیکنالوجی (فن ٹیک)، جدید ترین ٹیکنالوجی (ڈیپ ٹیک) اور صحت کی دیکھ بھال سمیت اہم شعبوں میں سرمایہ کاری میں گہری دلچسپی ظاہر کی۔ ان ملاقاتوں میں بنیادی ڈھانچے کے شعبے میں سرمایہ کاری اور مالی اعانت کے مواقع پر بھی غور کیا گیا، خصوصاً مصنوعی ذہانت اور اس سے متعلق بنیادی ڈھانچے، بشمول سیمی کنڈکٹرز اور ڈیٹا سینٹر، ہندوستان کی توانائی کی منتقلی اور توانائی کے تحفظ کے لیے قابلِ تجدید توانائی، مینوفیکچرنگ، چھوٹی، بہت چھوٹی اور درمیانے درجے کی صنعتوں (ایم ایس ایم ای)، تجارتی مالیات، مالیاتی خدمات، غذائی اشیا کی سپلائی چین اور ترقی پر مبنی دیگر شعبوں میں۔
طیاروں کو لیز پر دینے، خزانہ جاتی مراکز قائم کرنے اور ہندوستان کی مالیاتی منڈیوں میں عالمی سرمایہ کاروں کی زیادہ شرکت کے امکانات پر بھی غور کیا گیا۔ طویل مدتی ادارہ جاتی سرمایہ جمع کرنا اور ہندوستان کی بنیادی ڈھانچے اور ترقیاتی ترجیحات کے لیے مالی اعانت کے ذرائع کو وسعت دینا سرمایہ کاری سے متعلق بات چیت کے اہم موضوعات رہے۔ محترمہ سیتارمن نے سرمایہ کاروں کو این آئی آئی ایف اور گفٹ انٹرنیشنل فنانشل سروسز سینٹر (گفٹ آئی ایف ایس سی) کے ذریعے سرمایہ کاری کے مواقع تلاش کرنے کی ترغیب دی۔ شرکاء نے ہندوستانی منڈی کے تئیں اپنے مضبوط عزم کا اعادہ کیا اور ملک میں اپنی سرمایہ کاری برقرار رکھنے اور اسے وسعت دینے کے ارادے کا اظہار کیا، جو ہندوستان کے طویل مدتی ترقیاتی امکانات پر ان کے مسلسل اعتماد کی عکاسی کرتا ہے۔
اس دورے کے دوران مالیاتی روابط اور ابھرتی ہوئی مالیاتی ٹیکنالوجیز کے حوالے سے بات چیت کو بھی آگے بڑھایا گیا۔ سنگاپور کے مالیاتی حکام، بشمول مانیٹری اتھارٹی آف سنگاپور (ایم اے ایس)، کے ساتھ ملاقاتوں میں مالیاتی اثاثوں کی ٹوکنائزیشن، ڈیجیٹل کرنسی، مرکزی بینک کی ڈیجیٹل کرنسیوں (سی بی ڈی سی)، باہمی مطابقت اور قابلِ اعتماد تصفیے کے انتظامات جیسی جدید ٹیکنالوجیز پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔ سنگاپور نے اثاثوں کی ٹوکنائزیشن کے شعبے میں اپنا تجربہ شیئر کرنے میں گہری دلچسپی ظاہر کی۔ ان بات چیت سے ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز اور مالیاتی منڈیوں میں ان کے استعمال کے حوالے سے دونوں ممالک کے مالیاتی حکام کے درمیان مزید تعاون کے امکانات تلاش کرنے کا موقع ملا۔
کاروباری اداروں کے ساتھ ہونے والی بات چیت میں ہندوستان کے تیزی سے وسعت پاتے سیمی کنڈکٹر اور مصنوعی ذہانت کے ماحولیاتی نظام سے پیدا ہونے والے مواقع پر بھی تبادلۂ خیال کیا گیا۔ اس میں انڈیا سیمی کنڈکٹر مشن کے تحت سرمایہ کاری، ہنرمند افرادی قوت کی تیاری، صنعت سے منسلک تربیت اور مصنوعی ذہانت سے متعلق مہارتوں کی ترقی کے اقدامات، نیز بینکاری اور مالیاتی خدمات میں مصنوعی ذہانت کے استعمال پر گفتگو شامل تھی۔ دیگر موضوعات میں قابلِ تجدید توانائی، برقی نقل و حرکت، ہوا بازی کے شعبے میں دیکھ بھال، مرمت اور اوورہال (ایم آر او)، غذائی تحفظ اور فوڈ پروسیسنگ، پائیدار مالیات اور صحت کی دیکھ بھال کا بنیادی ڈھانچہ شامل تھے۔
سنگاپور بزنس فیڈریشن (ایس بی ایف) کے ساتھ بات چیت میں مخصوص کاروباری روابط قائم کرنے اور سنگاپور کے کاروباری وفود کے ہندوستان کے دوروں کے ذریعے کاروبار سے کاروبار کے روابط کو مضبوط بنانے پر توجہ دی گئی، تاکہ ہندوستانی کاروباری اداروں اور ریاستی حکومتوں کے ساتھ بامقصد تبادلۂ خیال ممکن ہو سکے۔ سنگاپور بزنس فیڈریشن نے تعاون کے ممکنہ شعبوں کی نشاندہی کی، جن میں سیمی کنڈکٹر سپلائی چین، ایم آر او، غذائی تحفظ اور فوڈ پروسیسنگ شامل ہیں۔
اس دورے نے ہندوستان اور سنگاپور کی شراکت داری کی گہرائی اور جاری پالیسی مذاکرات کو زیادہ سرمایہ کاری، کاروباری روابط اور مالیاتی تعاون میں تبدیل کرنے کے مشترکہ عزم کی توثیق کی۔ سنگاپور کی سیاسی قیادت، ادارہ جاتی سرمایہ کاروں، مالیاتی اداروں اور کاروباری شعبے کے ساتھ وسیع پیمانے پر ہونے والی بات چیت سے ہندوستان کی ترقی اور سرمایہ کاری کے مواقع کو اجاگر کرنے، مشترکہ دلچسپی کے شعبوں کی نشاندہی کرنے اور آئندہ رابطوں کے ذرائع کو مضبوط بنانے میں مدد ملی۔ توقع ہے کہ ان بات چیت سے طویل مدتی سرمایہ جمع کرنے، مالیاتی روابط کو گہرا کرنے اور ابھرتے ہوئے نیز اسٹریٹجک شعبوں میں تعاون کو آگے بڑھانے کی مسلسل کوششوں کو تقویت ملے گی۔
محترمہ سیتارمن کے ہمراہ نیشنل انویسٹمنٹ اینڈ انفراسٹرکچر فنڈ (این آئی آئی ایف) کے چیف ایگزیکٹو آفیسر، انٹرنیشنل فنانشل سروسز سینٹرز اتھارٹی (آئی ایف ایس سی اے) کی چیئر پرسن اور محکمہ اقتصادی امور کے سینئر عہدیداران بھی تھے۔
***
ش ح۔ ف ش ع
U: 5056
(ریلیز آئی ڈی: 2322591)
وزیٹر کاؤنٹر : 9