کامرس اور صنعت کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

تجارت و صنعت کے مرکزی وزیر جناب پیوش گوئل نے عالمی ٹیکنالوجی کے فروغ اور روزگار کے مواقع پیدا کرنے کے دوہرے طریقۂ کار پر زور دیا


مرکزی وزیر نے ’دلی ڈائیلاگ: مستقبل کے تقاضوں سے ہم آہنگ ہندوستان کیلئے پالیسیاں‘ سے خطاب کیا

ہندوستان دنیا بھر میں کار سازی کا مرکز بنے گا: جناب پیوش گوئل

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 12 OCT 2026 2:22PM by PIB Delhi

تجارت اور صنعت کے مرکزی وزیر جناب پیوش گوئل نے دنیا کی بہترین ٹیکنالوجیز سے استفادہ کرنے اور روزگار و کاروبار کے وسیع امکانات والے شعبوں کی نشاندہی کرنے کے دوہرے طریقۂ کار پر زور دیا۔

آج نئی دہلی میں ’دلی ڈائیلاگ: مستقبل کے تقاضوں سے ہم آہنگ ہندوستان کیلئے پالیسیاں‘ سے خطاب کرتے ہوئے، انہوں نے کاروباری اداروں، نئے کاروباری منصوبوں اور نوجوانوں کے لیے مواقع پیدا کرنے کی اہمیت کو اجاگر کیا۔ وزیر موصوف نے کہا، ’’ہم عالمی منڈی کا حصہ بننا چاہتے ہیں۔ ہم لوگوں، روزگار کے مواقع، ہمارے نئے کاروباری منصوبوں اور نوجوانوں کو نئے نئے خیالات پیش کرنے کے مواقع فراہم کرنا چاہتے ہیں۔‘‘

جناب گوئل نے آزاد تجارتی معاہدوں (ایف ٹی اے) کے ذریعے عالمی منڈیوں کے ساتھ ہندوستان کے بڑھتے ہوئے روابط کو اجاگر کیا اور اس بات پر زور دیا کہ یہ معاہدے ہندوستانی کاروباری اداروں اور نوجوانوں کے لیے نئے مواقع پیدا کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ترقی یافتہ معیشتوں کے ساتھ ہندوستان کی شراکت داری سے دونوں فریقوں کو فائدہ پہنچ سکتا ہے۔ ہندوستان ٹیکسٹائل، جوتے سازی، زراعت اور غذائی اشیا کی ڈبہ بندی جیسے شعبوں میں اپنی صلاحیتوں سے فائدہ پہنچا سکتا ہے، جبکہ اس کے بدلے جدید ٹیکنالوجیز اور اعلیٰ معیار کے الیکٹرانک آلات تک رسائی حاصل کرسکتا ہے۔

عالمی سطح پر روابط بڑھانے اور خود انحصاری کے تئیں ہندوستان کے نقطۂ نظر پر زور دیتے ہوئے، جناب گوئل نے کہا، ’’ہم ہندوستان کے دروازے دنیا کے لئے بند نہیں کر رہے ہیں۔ درحقیقت، ہم انہیں مزید وسیع پیمانے پر کھول رہے ہیں۔‘‘

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے جناب پیوش گوئل نے ہندوستان کی اقتصادی ترقی اور برآمدات کے لیے بلند حوصلہ اہداف مقرر کرنے کی اہمیت پر بھی زور دیا۔ انہوں نے ایک ٹریلین ڈالر کی برآمدات کا ہدف پیش کرتے ہوئے اسے حاصل کرنے کی ہندوستان کی صلاحیت پر اعتماد ظاہر کیا اور وکست بھارت 2047 کے سفر کے حصے کے طور پر ملک کے بلند حوصلہ قومی اہداف کے حصول کے لئے مسلسل کوششیں کرنے کی اہمیت کو اجاگر کیا۔

وزیر موصوف نے کہا کہ 2047 تک ہندوستان کو ایک ترقی یافتہ ملک بنانے کے عزم کی تکمیل کے لیے ایک ایسا لائحۂ عمل تیار کیا گیا ہے جس میں ان شعبوں کی نشاندہی کی گئی ہے جو ملک کی ترقی میں اہم کردار ادا کریں گے۔ انہوں نے ہندوستان کے 1.4 ارب لوگوں میں اشیا اور خدمات کی بڑھتی ہوئی مانگ کو اجاگر کیا اور کہا کہ درآمدات میں اضافہ بھی گھریلو صنعت اور بین الاقوامی سرمایہ کاروں کے لیے مواقع کی نشاندہی کرتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ الیکٹرانک اشیا اور گھریلو استعمال کے برقی آلات کی بڑھتی ہوئی مانگ سے سیمی کنڈکٹر کارخانوں سمیت ملک میں اشیا کی تیاری کے شعبے میں سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی ہوسکتی ہے۔

جناب گوئل نے سیاحت کو روزگار پیدا کرنے اور کاروبار کے نئے مواقع فراہم کرنے کی وسیع صلاحیت رکھنے والا شعبہ قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ مصنوعی ذہانت سیاحت کے فروغ کی سرگرمیوں کو زیادہ مؤثر بنا سکتی ہے، تاہم اس شعبے میں انسانی تجربات کی اہمیت ہمیشہ برقرار رہے گی۔ انہوں نے کہا، ’’مصنوعی ذہانت سیاحت کے فروغ کو زیادہ مؤثر بنانے میں ہی مدد دے سکتی ہے، لیکن اس کے علاوہ انسانی تجربات پر مصنوعی ذہانت کا اثر نہیں پڑے گا۔‘‘

انہوں نے ہندوستان کے کھانوں کے ورثے اور علاقائی تنوع کو بھی اجاگر کیا اور ہندوستانی غذائی روایات کے ساتھ فلٹر کافی، رسَم، اِڈلی اور ڈوسا جیسی اشیا کی صلاحیتوں کا ذکر کیا۔

جناب گوئل نے ہندوستان کی آبادی کے لحاظ سے حاصل برتری کو بھی اجاگر کیا اور کہا کہ نوجوان آبادی ہندوستان کے لیے ایسے وقت میں مواقع فراہم کرتی ہے جب بہت سی معیشتوں میں عمر رسیدہ افراد کی تعداد بڑھ رہی ہے۔ انہوں نے جرمنی اور جاپان جیسے ممالک میں ہندوستانی مزدوروں کی مانگ کا ذکر کیا اور بین الاقوامی منڈیوں میں ہندوستانی پیشہ وروں کی خدمات انجام دینے کی صلاحیت کو اجاگر کیا۔ جناب گوئل نے بین الاقوامی سطح پر ہندوستانی مزدوروں پر کئے جانے والے اعتماد کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ہندوستانیوں کو ان کی دیانت داری اور دوسروں کی دیکھ بھال کے تئیں ان کے عزم کی وجہ سے عزت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔

جناب پیوش گوئل نے اعتماد ظاہر کیا کہ ہندوستان عالمی سطح پر کار سازی کا مرکز بن کر ابھرے گا۔ انہوں نے کہا کہ جیسے جیسے بازار میں مانگ اس سطح تک پہنچے گی جہاں بڑے پیمانے پر پیداوار معاشی طور پر قابل عمل ہوجائے گی، بین الاقوامی گاڑیاں بنانے والی کمپنیاں ہندوستان میں تیزی سے اپنی گاڑیاں تیار کرنے لگیں گی۔ برطانیہ اور یوروپی یونین سے کاروں کی درآمد کے لئے دی گئی کوٹے کی اجازت کا حوالہ دیتے ہوئے، جناب گوئل نے وضاحت کی کہ ان کے تحت زیادہ تر مہنگی کاریں شامل ہیں، جبکہ کم قیمت والی کاروں کے زمرے کو ابھی کھولا نہیں گیا ہے۔ انہوں نے لگژری کاریں بنانے والی ان کمپنیوں کی مثالیں پیش کیں جنہوں نے ابتدا میں ہندوستانی بازار کا جائزہ لینے کے بعد پونے میں اپنے پیداواری کارخانے قائم کیے۔ اس تناظر میں جناب گوئل نے عالمی کار ساز کمپنیوں کو ہندوستان کی جانب راغب کرنے اور عالمی کار سازی میں ملک کی پوزیشن مضبوط کرنے کے امکانات کو اجاگر کیا۔

عالمی سطح پر ہندوستان کی مسابقتی صلاحیت مضبوط کرنے میں معیار کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے، وزیر موصوف نے پالیسی سازوں، صنعت سے وابستہ فریقوں اور اداروں، بشمول ہندوستانی معیارات کے بیورو اور ہندوستانی غذائی تحفظ و معیارات کی اتھارٹی، سے معیار کو بہتر بنانے کے لیے اجتماعی کوششیں کرنے کی اپیل کی۔

جناب گوئل نے اپنے خطاب کے اختتام پر اس بات پر زور دیا کہ اگر ہندوستان عالمی سطح کے معیارات کو اپناتا ہے اور ان پر عمل کرتا ہے تو دنیا کی کوئی طاقت اسے آگے بڑھنے سے نہیں روک سکتی اور پوری دنیا میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوانے کا موقع ہندوستان کے پاس ہے۔

***

ش ح۔ ک ا۔ ن ع

U.NO.5014


(ریلیز آئی ڈی: 2322225) وزیٹر کاؤنٹر : 9