کارپوریٹ امور کی وزارت
کوئلہ اور کانوں کے امور کے وزیرِ مملکت نے کارپوریٹ سماجی ذمہ داری سے متعلق تیسری قومی کانفرنس اور نمائش ( این سی سی ایس آر 2026 ) کا افتتاح کیا
معاشی ترقی کا حقیقی مفہوم اسی وقت پورا ہوتا ہے ، جب اس کے فوائد ’’مضبوط برادریوں، وسیع تر مواقع اور زیادہ مستحکم خطوں ‘‘ کی صورت میں نظر آئیں : وزیرِ مملکت ستیش چندر دوبے
سی ایس آر ، وکست بھارت کے لیے درکار اجتماعی کوششوں کا ایک اہم اظہار ہے : وزارتِ کارپوریٹ امور کی سکریٹری ڈاکٹر پلوی جین گوول
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
10 OCT 2026 4:21PM by PIB Delhi
حکومتِ ہند کی وزارتِ کوئلہ اور کانوں کے امور کے وزیرِ مملکت جناب ستیش چندر دوبے نے نئی دلّی میں کارپوریٹ امور کی وزارت کے تحت انڈین انسٹی ٹیوٹ آف کارپوریٹ افیئرز ( آئی آئی سی اے ) کے زیرِ اہتمام کارپوریٹ سماجی ذمہ داری سے متعلق تیسری قومی کانفرنس اور نمائش ( این سی سی ایس آر 2026 ) کا افتتاح کیا۔ 6 تا 7 اکتوبر ، 2026 کو منعقد ہونے والی دو روزہ کانفرنس کا موضوع تھا ، ’’ وکست بھارت کے لیے سی ایس آر کے جذبے کی ازسرِنو تشکیل : ضابطوں کی پابندی سے عہد و وابستگی تک‘‘ ۔

اپنے کلیدی خطاب میں کوئلہ اور کانوں کے امور کے وزیرِ مملکت جناب ستیش چندر دوبے نے قومی معاشی ترقی، علاقائی ترقی اور قدرتی وسائل سے مالا مال علاقوں میں رہنے والی برادریوں کی فلاح و بہبود کے درمیان گہرے تعلق کو اجاگر کیا۔ انہوں نے کہا کہ معاشی ترقی کا حقیقی مفہوم اسی وقت پورا ہوتا ہے ، جب اس کے فوائد ’’مضبوط برادریوں، وسیع تر مواقع اور زیادہ مستحکم خطوں‘‘ کی صورت میں نظر آئیں۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ قدرتی وسائل اور مقامی برادریوں سے گہرا تعلق رکھنے والے شعبوں میں ترقی اور سماجی بہبود کو الگ الگ مقاصد کے طور پر نہیں دیکھا جا سکتا۔ اس موقع پر انہوں نے ’’ بھارتی کوئلہ کمپنیوں کے لیے جامع سی ایس آر فریم ورک ‘‘ کا باضابطہ اجرا کیا۔ یہ فریم ورک کوئلہ شعبے میں سی ایس آر کے تحت زیادہ منظم، ضروریات پر مبنی اور نتائج پر مرکوز اقدامات کے لیے شعبہ جاتی رہنمائی فراہم کرنے کے مقصد سے تیار کیا گیا ہے۔
افتتاحی اجلاس میں ’’انڈیا سی ایس آر فیکٹ بک 25-2024 ‘‘ کا بھی اجرا کیا گیا، جو بھارت میں سی ایس آر کے بدلتے ہوئے منظرنامے سے متعلق معلومات کو یکجا کرنے والا ایک جامع حوالہ ہے۔ اس اجلاس میں حکومتِ ہند کی کارپوریٹ امور کی وزارت کی سکریٹری ڈاکٹر پلوی جین گوول، بھارت میں یو این ویمن کی ملکی نمائندہ محترمہ شوکو ایشیکاوا، انڈین انسٹی ٹیوٹ آف کارپوریٹ افیئرز ( آئی سی اے اے ) کے ڈائریکٹر جنرل اور چیف ایگزیکٹو آفیسر جناب گیانیشور کمار سنگھ اور آئی آئی سی اے کے اسکول آف بزنس انوائرنمنٹ کی سربراہ پروفیسر گریما ددھیچ بھی موجود تھیں۔

افتتاحی خطاب کرتے ہوئے محترمہ پلوی جین گوول، سکریٹری، وزارتِ کارپوریٹ امور نے سی ایس آر کو بھارت کے وسیع تر کارپوریٹ گورننس اور قومی ترقی کے فریم ورک کا حصہ قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ این سی سی ایس آر 2026 کا موضوع تمام متعلقہ فریقوں سے یہ تقاضا کرتا ہے کہ وہ ’’سالانہ ذمہ داری کی ادائیگی سے آگے بڑھ کر‘‘ اس وسیع تر رول پر غور کریں ، جو ذمہ دار کاروباری ادارے بھارت کی ترقی کے سفر میں ادا کر سکتے ہیں۔بھارت میں سی ایس آر کے منفرد قانونی نظام کا حوالہ دیتے ہوئے ، انہوں نے زور دیا کہ اس فریم ورک میں قانونی ذمہ داری کے ساتھ کمپنیوں کی سطح پر جواب دہی، بورڈ کی نگرانی، عوامی سطح پر معلومات کا انکشاف اور اثرات کا جائزہ شامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ سی ایس آر ، وکست بھارت کے لیے درکار اجتماعی کوششوں کا ایک اہم اظہار ہے۔ اس موقع پر انہوں نے ’’انڈیا سی ایس آر فیکٹ بک 25-2024 ‘‘ کا بھی اجرا کیا۔
استقبالیہ خطاب میں جناب گیانیشور کمار سنگھ، ڈائریکٹر جنرل اور چیف ایگزیکٹو آفیسر، آئی آئی سی اے نے اس بات کو اجاگر کیا کہ سی ایس آر سے متعلق مباحثوں کو عملی نفاذ اور ترقی کے نمایاں نتائج پر مرکوز رکھنا ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ سی ایس آر حکومت، صنعت، سرکاری شعبے کے اداروں، نفاذی تنظیموں، ترقیاتی شراکت داروں اور تعلیمی اداروں کو ایک پلیٹ فارم پر لاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’’فیصلے بورڈ رومز میں کیے جا سکتے ہیں، لیکن ان کی حقیقی اہمیت کا اندازہ بالآخر ، ان اسکولوں، صحت مراکز، روزگار کے ذرائع سے متعلق پروگراموں، گاؤوں، قصبوں اور اضلاع میں ہوتا ہے، جہاں ان فیصلوں سے لوگوں کی زندگیوں پر اثر پڑتا ہے۔‘‘ انہوں نے بتایا کہ قومی سی ایس آر نمائش کو محض منصوبوں کی نمائش کے لیے نہیں، بلکہ ان کے نتائج کو نمایاں کرنے اور سیکھنے، کامیاب تجربات کو دوسری جگہوں پر اپنانے اور شراکت داری کو فروغ دینے کے ایک پلیٹ فارم کے طور پر تیار کیا گیا ہے۔
افتتاحی اجلاس کے بعد ’’سوشل اسٹاک ایکسچینج: مقصد، سرمایہ اور اثرات‘‘ کے موضوع پر ایک خصوصی غیر رسمی مکالمہ منعقد ہوا۔ اس میں نیشنل اسٹاک ایکسچینج کے پالیسی امور کے سینئر مشیر جناب شیلش کے پاٹھک اور پروفیسر گریما ددھیچ نے شرکت کی۔ اس مباحثے میں سماجی مقاصد کو سرمایہ سے جوڑنے میں سوشل اسٹاک ایکسچینج کے کردار کا جائزہ لیا گیا۔ اس کے ساتھ ہی سماجی شعبے میں مالی وسائل کی فراہمی کے نظام کو مضبوط بنانے کے لیے اثرات کی قابلِ اعتماد پیمائش، شفافیت اور ادارہ جاتی اعتماد کی اہمیت پر بھی غور کیا گیا۔
دوپہر کے کھانے کے بعد کے اجلاس میں حکومتِ ہند کی وزارتِ کارپوریٹ امور کے ایڈیشنل سکریٹری جناب انشومن پٹنائک نے کلیدی خطاب کیا۔ انہوں نے سی ایس آر کو کارپوریٹ گورننس کے وسیع تر تناظر میں پیش کرتے ہوئے ، اس بات پر زور دیا کہ کمپنیوں کو سی ایس آر کو ذمہ دارانہ کارپوریٹ طرزِ عمل اور ادارہ جاتی فیصلہ سازی کا ایک لازمی حصہ سمجھنا چاہیے۔ انہوں نے کمپنیوں سے سی ایس آر ایکسچینج پورٹل پر رجسٹریشن کرانے کی بھی اپیل کی اور اس بات کو اجاگر کیا کہ یہ پورٹل سی ایس آر سے وابستہ متعلقہ فریقوں کو آپس میں جوڑنے اور بامقصد اشتراک و تعاون کو آسان بنانے کا ایک اہم ذریعہ ہے۔

کلیدی خطاب کے بعد ’’ سی ایس آر میں بورڈ کی حکمرانی اور حکمتِ عملی سے متعلق عہد و وابستگی‘‘ کے موضوع پر اعلیٰ سطحی پینل مباحثہ منعقد ہوا۔ اس مباحثے میں سی ایس آر کے لیے حکمتِ عملی کے تحت نگرانی یقینی بنانے میں کمپنیوں کے بورڈز اور اعلیٰ انتظامیہ کے کردار، اخراجات کو واضح طور پر متعین ضروریات اور نتائج سے جوڑنے کی اہمیت، اور مؤثر نگرانی و جواب دہی کے نظام کی ضرورت پر غور کیا گیا۔
اس پینل میں ڈالمیا بھارت فاؤنڈیشن کے چیف ایگزیکٹو آفیسر اور مسابقتی کمیشن آف انڈیا و نیشنل فنانشل رپورٹنگ اتھارٹی کے سابق چیئرپرسن جناب اشوک کمار گپتا ( ریٹائرڈ ) ، امرتا وشو ودیا پیٹھم کی پرو وائس چانسلر پروفیسر منیشا وی رمیش، او این جی سی کے ڈائریکٹر ( پروڈکشن ) جناب بھاسکر چودھری نیٹم، گیل ( انڈیا) لمیٹڈ کے ڈائریکٹر ( انسانی وسائل) جناب آیوش گپتا، انڈین آئل کارپوریشن لمیٹڈ کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر (کوآرڈینیشن اینڈ سی ایس آر ) جناب ببھوتی رنجن پردھان، مہندرا ایگری سولیوشنز لمیٹڈ کی انڈیپنڈنٹ ڈائریکٹر ڈاکٹر پوروی مہتہ اور ایچ سی ایل ٹیک کی نائب صدر محترمہ روچی سادھنا شامل تھیں۔
مباحثے میں اس بات پر زور دیا گیا کہ بورڈ کی جانب سے زیادہ مؤثر شمولیت سی ایس آر سے متعلق فیصلہ سازی کے معیار کو بہتر بنا سکتی ہے۔ اس سے منصوبوں کی موزونیت، ان پر عمل درآمد کی صلاحیت، جغرافیائی اور موضوعاتی ضروریات، نگرانی، جائزے اور پائیداری پر زیادہ توجہ یقینی بنائی جا سکتی ہے۔ پینل نے یہ بھی واضح کیا کہ شراکت داریوں اور پیشہ ورانہ ادارہ جاتی نظام کی مدد سے سی ایس آر کے وعدوں کو دیرپا ترقیاتی نتائج میں تبدیل کیا جا سکتا ہے۔
’’پائیدار ترقیاتی اہداف ( ایس ڈی جیز ) کی ترجیحات سے ہم آہنگ سی ایس آر کے لیے شعبہ جاتی طریقۂ کار‘‘ کے موضوع پر دوسرے پینل مباحثے میں سی ایس آر کے تحت اقدامات، مختلف شعبوں کی ترقیاتی ترجیحات اور پائیدار ترقیاتی اہداف کے درمیان زیادہ قریبی ہم آہنگی کی ضرورت کا جائزہ لیا گیا۔ اس اجلاس کی صدارت حکومتِ ہند کی وزارتِ کارپوریٹ امور کی جوائنٹ سکریٹری محترمہ انیتا شاہ اکیلا نے کی۔ اپنے کلیدی خطاب میں انہوں نے شعبہ جاتی طریقۂ کار اپنانے کی ضرورت پر زور دیا، جو ترقیاتی چیلنجوں، ادارہ جاتی صلاحیتوں اور مقامی ترجیحات میں پائے جانے والے فرق کو مدنظر رکھتا ہو۔
اس پینل میں حکومتِ ہند کے ٔ سرکاری اداروں کے محکمے کے جوائنٹ سکریٹری جناب لوکاس ایل کامسوان، وزارتِ بجلی کی اقتصادی مشیر محترمہ ریتو جین، وزارتِ کوئلہ کی ڈپٹی ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر چیتنا شکلا، شماریات و پروگرام نفاذ کی وزارت کے سماجی شماریات ڈویژن کی ڈپٹی ڈائریکٹر جنرل محترمہ روچیکا گپتا، وزارتِ پیٹرولیم و قدرتی گیس کے ڈپٹی ڈائریکٹر جنرل ( ڈیٹا و مینجمنٹ ) جناب راجیو کمار اور آئی ٹی سی کے ایگزیکٹو نائب صدر اور سماجی سرمایہ کاری کے سربراہ جناب پربھاکر ایل شامل تھے۔ واکھلُو ایڈوائزری کے بانی اور صدر جناب بھارت واکھلُو نے اجلاس کی نظامت کی۔

پینل میں سی ایس آر کے لیے یکساں طریقۂ کار سے آگے بڑھنے اور مختلف شعبوں کے مخصوص ترقیاتی حالات، عملی دائرۂ کار اور متعلقہ فریقوں کی ضروریات کو تسلیم کرنے کی ضرورت پر غور کیا گیا۔ اس سلسلے میں وزارتِ کوئلہ اور کول انڈیا لمیٹڈ کے لیے آئی آئی سی اے کی جانب سے تیار کردہ شعبہ جاتی سی ایس آر فریم ورک کی اہمیت کو اجاگر کیا گیا، جو متعلقہ شعبوں کی ترقیاتی ترجیحات اور مقامی برادریوں کی ضروریات کو پورا کرنے میں معاون ثابت ہو سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ، پائیدار ترقیاتی اہداف ( ایس ڈی جیز ) کے ساتھ ہم آہنگی پیدا کرکے سی ایس آر رپورٹنگ کو مضبوط بنانے کی ضرورت پر زور دیا گیا، تاکہ قومی اور عالمی ترقیاتی ترجیحات میں کارپوریٹ اداروں کے تعاون کا منظم انداز میں جائزہ لیا جا سکے۔
پہلے دن کے اجلاس اس وسیع اتفاقِ رائے کے ساتھ اختتام پذیر ہوئے کہ سی ایس آر کے ادارہ جاتی معیار کو مزید مضبوط بنانے کی ضرورت ہے۔ اس میں بورڈ کی سطح پر نگرانی، شواہد پر مبنی منصوبوں کا انتخاب، شعبہ جاتی ترجیحات سے ہم آہنگی، مختلف فریقوں کے درمیان تال میل، نگرانی اور نتائج کا جائزہ شامل ہیں۔ کانفرنس کی کارروائیوں میں اس کے موضوع کی عکاسی کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا گیا کہ سی ایس آر کو محض ضابطوں کی پابندی تک محدود رکھنے کے بجائے جامع اور قابلِ پیمائش ترقی کے لیے کارپوریٹ اداروں کی مستقل عہد و وابستگی کی جانب بڑھنا چاہیے۔
اس کانفرنس میں حکومتِ ہند، سرکاری شعبے کے اداروں، نجی کمپنیوں، بین الاقوامی تنظیموں، تعلیمی اداروں اور سول سوسائٹی کے سینئر نمائندوں نے شرکت کی۔ اس کا مقصد قومی ترقیاتی ترجیحات کی تکمیل میں کارپوریٹ سماجی ذمہ داری کے بدلتے ہوئے کردار پر تبادلۂ خیال کرنا تھا۔ مباحثوں میں اس بات پر زور دیا گیا کہ سی ایس آر کے تحت اقدامات ادارہ جاتی ذمہ داری، مقامی ترقیاتی ضروریات، قابلِ پیمائش نتائج اور متعلقہ فریقوں کے درمیان مؤثر تال میل کی بنیاد پر کیے جانے چاہئیں۔
این سی سی ایس آر 2026 کا انعقاد آئی آئی سی اے کے اسکول آف بزنس انوائرنمنٹ کے زیرِ اہتمام کیا جا رہا ہے، جس میں حکومت، سرکاری شعبے کے اداروں، کارپوریٹ تنظیموں، بین الاقوامی اداروں، تعلیمی شعبے اور سول سوسائٹی کے نمائندے شرکت کر رہے ہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔ ۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔ ۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
( ش ح ۔ ا ع خ ۔ ر ا )
U.No. 4956
(ریلیز آئی ڈی: 2321794)
وزیٹر کاؤنٹر : 12