وزارت دفاع
رکشا منتری نے جودھپور میں ایکسرسائز ترنگ شکتی 2026کے شرکاء سے کیا خطاب، دفاع اور بین الاقوامی تعاون میں خود انحصاری پر دیا زور
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
10 OCT 2026 2:27PM by PIB Delhi
’’مختلف ممالک، مختلف طیارے، مختلف تجربات، لیکن ایک آسمان۔ یہی ترنگ شکتی کا پیغام ہے‘‘ - جناب راجناتھ سنگھ
’’مستقبل کی فوجی طاقت کا تعین بھانپنے ، سمجھنے، فیصلہ کرنے اور کارروائی کرنے کی رفتار سے ہوگا‘‘ – رکشا منتری
رکشا منتری نے کہا کہ ’’ مستقبل کے دفاعی تعلقات صرف پلیٹ فارموں کے بارے میں نہیں بلکہ ٹیکنالوجی اور اعتماد کے بارے میں ہوں گے‘‘۔
رکشا منتری جناب راجناتھ سنگھ نے 10 اکتوبر 2026 کو ایئر فورس اسٹیشن جودھپور میں ایکسرسائز ترنگ شکتی 2026 کے دوسرے ایڈیشن کے شرکاء سے خطاب کیا۔ بھارتی فضائیہ کے زیر اہتمام 26 ستمبر سے 12 اکتوبر 2026 تک جاری رہنے والی اس کثیر ملکی فضائی مشق میں 7 دوست ممالک ( ایف ایف سی) بشمول آسٹریلیا، بنگلہ دیش، فرانس، جرمنی، سری لنکا، متحدہ عرب امارات اور ریاستہائے متحدہ امریکہ کی فضائی افواج نے 32 مبصر ممالک کے ساتھ شرکت کی۔
مشق کے کامیاب انعقاد پر بھارتی فضائیہ اور اس میں شامل تمام تنظیموں اور اہلکاروں کو مبارکباد دیتے ہوئے رکشا منتری نے شریک ممالک کا خیرمقدم کیا اور پیشہ ورانہ افہام و تفہیم اور آپریشنل تعاون کو مضبوط بنانے میں ان کے تعاون کو سراہا۔ انہوں نے کہا کہ شریک فضائی افواج کی موجودگی نے مشق میں نمایاں اہمیت کا اضافہ کیا ہے اور امید ظاہر کی کہ یہ وفود قیمتی پیشہ ورانہ بصیرت اور بھارت کی صلاحیتوں اور نقطہ نظر کی گہری سمجھ کے ساتھ واپس لوٹیں گے۔ انہوں نے جدید جنگ کے ابھرتے ہوئے چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے دفاعی شعبے میں خود انحصاری، تکنیکی جدت طرازی اور بین الاقوامی شراکت داری کی اہمیت پر روشنی ڈالی۔

اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے جناب راجناتھ سنگھ نے کہا کہ جدید جنگ ایک گہری تبدیلی سے گزر رہی ہے، جو زمین، سمندر اور فضا کے روایتی شعبوں سے آگے بڑھ کر خلا ، سائبر، برقی مقناطیسی ا سپیکٹرم اور معلوماتی شعبے تک پھیل چکی ہے۔ انہوں نے معاصر فوجی کارروائیوں کی تشکیل میں بغیر پائلٹ کے نظاموں ، ڈرون، مصنوعی ذہانت ، الیکٹرانک وارفیئر اور طویل فاصلے تک درستگی کے ساتھ مار کرنے والے ہتھیاروں کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ پر روشنی ڈالی۔
انہوں نے کہا کہ ’’ مستقبل کی فوجی طاقت کا تعین اس بات سے کم ہوگا کہ ہمارے پاس کتنے پلیٹ فارم موجود ہیں ۔ بلکہ اس کا تعین بھانپنے، سمجھنے، فیصلہ کرنے اور کارروائی کرنے کی رفتار سے ہوگا‘‘۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ رفتار، درستگی، معلومات اور انضمام فوجی صلاحیت کی بنیادی خصوصیات بن کر ابھرے ہیں۔ انہوں نے تیزی سے بدلتے ہوئے جغرافیائی سیاسی ماحول اور دفاعی شعبے میں تکنیکی ترقی سے وابستہ غیر یقینی صورتحال کے پیش نظر مسلسل چوکسی کی ضرورت پر بھی زور دیا۔

رکشا منتری نے کہا کہ بھارت نے وزیر اعظم جناب نریندر مودی کی قیادت میں ابھرتے ہوئے سیکورٹی چیلنجوں کے خلاف قومی لچک کو مضبوط بنانے کی اہمیت کو تسلیم کیا ہے اور دفاع میں آتم نربھرتا کو ایک قومی پالیسی کے طور پر اپنایا ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ طویل عرصے تک جاری رہنے والے تنازعات اور غیر یقینی صورتحال کے ادوار میں خود کو برقرار رکھنے کے لیے ایک ملک کے پاس اپنے ہتھیار اور اہم ٹیکنالوجیز بنانے کی صلاحیت ہونی چاہیے۔
بھارتی دفاعی افواج کی تبدیلی پر روشنی ڈالتے ہوئے رکشا منتری نے کہا کہ بھارتی فضائیہ آزادی کے وقت محدود وسائل کے ساتھ کام کرنے والی فورس سے بدل کر اب ایک جدید ایرو اسپیس پاور بن چکی ہے، جو جدید ترین طیاروں، درست ہتھیاروں، جدید ترین سینسرز، مربوط نیٹ ورکس اور تیزی سے بڑھتی ہوئی جدید ترین ملکی ٹیکنالوجیز سے لیس ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ آتم نربھر بھارت کا مطلب دنیا سے الگ تھلگ ہونا نہیں ہے، بلکہ اہم دفاعی ٹیکنالوجیز کو ڈیزائن، تیار کرنے، مینوفیکچرنگ کرنے، برقرار رکھنے اور اپ گریڈ کرنے کے لیے ملکی صلاحیتوں کو فروغ دینا ہے۔
بھارت کے بڑھتے ہوئے ایرو اسپیس اور دفاعی مینوفیکچرنگ ایکو سسٹم کا حوالہ دیتے ہوئے رکشا منتری نے مقامی پروگراموں اور نظاموں پر روشنی ڈالی، جن میں تیجَس جنگی طیارے، دھروو، رودرا ، پرچنڈ اور لائٹ یوٹیلیٹی ہیلی کاپٹر ( ایل یو ایچ)، آکاش ایئر ڈیفنس سسٹم، اے ای ایس اے راڈار، الیکٹرانک سسٹمز اور ایرو اسپیس ٹیکنالوجیز شامل ہیں۔ رکشا منتری نے ایڈوانسڈ میڈیم کامبیٹ ایئر کرافٹ ( اے ایم سی اے) پروگرام کا حوالہ بھی پانچویں نسل کے اسٹیلتھ فائٹر ٹیکنالوجی میں مہارت حاصل کرنے کی طرف ایک اہم قدم کے طور پر دیا اور جدید ایرو انجن کی ترقی اور مشترکہ پروڈکشن کی اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ بھارت ریسرچ، مشترکہ ترقی، مشترکہ پروڈکشن ، دیکھ بھال، ٹریننگ اور جدت طرازی میں ہم خیال ممالک کے ساتھ تعاون کے راستے تلاش کرنے کا خواہش مند ہے۔ قابل اعتماد شراکت داری اور مستحکم سپلائی چین کی بڑھتی ہوئی اہمیت پر زور دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مستقبل کے دفاعی تعلقات صرف پلیٹ فارموں کے بارے میں نہیں بلکہ ٹیکنالوجی اور اعتماد کے بارے میں ہوں گے۔
رکشا منتری نے کہا کہ اندرون ملک مضبوط صلاحیتوں کی تعمیر قابل اعتماد شراکت داروں کے ساتھ بامعنی تعاون کے ساتھ ساتھ چلنی چاہیے۔ انہوں نے تاکید کی کہ بھارت کو ضرورت پڑنے پر آزادانہ طور پر کام کرنے میں اہل ہونا چاہیے جبکہ دیگر ممالک کے ساتھ بھی مؤثر طریقے سے کام کرنا چاہیے جب ان کے مفادات اور ذمہ داریاں ہم آہنگ ہوں ۔

اس تناظر میں، رکشا منتری نے صلاحیت، ٹیکنالوجی، انٹر آپریبلیٹی اور اعتماد کے اصولوں کو آپریشنل تجربے میں تبدیل کرنے کے حوالے سے ایکسرسائز ترنگ شکتی کی اہمیت پر روشنی ڈالی۔ اس مشق نے شریک فضائی افواج کو ایک دوسرے کے ساتھ مل کر کام کرنے، آپریشنل معلومات کا تبادلہ کرنے، طریقہ کار کا جائزہ لینے اور مشن کی منصوبہ بندی کے لیے مختلف پلیٹ فارموں ، نظریات اور طریقوں کو سمجھنے کا موقع فراہم کیا۔ انہوں نے کہا کہ کثیر ملکی مشقیں ہوابازوں اور کمانڈروں کو ایک دوسرے سے سیکھنے، موجودہ مفروضوں کا جائزہ لینے اور اپنے نظام و طریقہ کار کو بہتر بنانے کے مواقع تلاش کرنے کے قابل بناتی ہیں۔

مشق کے جذبے کو بیان کرتے ہوئے جناب راجناتھ سنگھ نے کہا کہ ’’مختلف ممالک۔ مختلف طیارے۔ مختلف تجربات۔ لیکن ایک آسمان۔ یہی ترنگ شکتی کا پیغام ہے‘‘۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اس مشق کی اہمیت صرف پروازوں اور مشق کیے گئے منظرناموں تک محدود نہیں ہے، بلکہ اس میں شراکت دار افواج کے ساتھ مؤثر طریقے سے بات چیت، ہم آہنگی اور کام کرنے کی صلاحیت بھی شامل ہے۔ رکشا منتری نے بھارتی فضائیہ پر زور دیا کہ وہ اس مشق کے اسباق کو اپنی ٹریننگ ، تدابیر ، ٹیکنالوجی، نظریے اور مستقبل کی صلاحیتوں کی ترقی میں شامل کرے۔ انہوں نے یقین ظاہر کیا کہ شریک ممالک اس مشق کے دوران قائم ہونے والے پیشہ ورانہ تعلقات اور باہمی افہام و تفہیم کو آگے بڑھائیں گے تاکہ ایرو اسپیس اور دفاعی تعاون کی نئی راہیں تلاش کی جا سکیں۔
مشق ترنگ شکتی کا یہ دوسرا ایڈیشن 2024 میں اس کے افتتاحی ایڈیشن کی کامیابی پر مبنی ہے اور تعمیری دفاعی روابط اور بین الاقوامی تعاون کے لیے بھارت کے عزم کو مزید مضبوط کرتا ہے۔ یہ مشق مختلف جنگی، ٹرانسپورٹ، نگرانی اور فضا سے فضا میں ایندھن بھرنے کی صلاحیتوں کو ایک جگہ لائی، جس نے مشترکہ مشن کی منصوبہ بندی، آپریشنل لرننگ اور بہتر باہمی تعاون کے مواقع فراہم کیے۔
اس فوجی مشق کی معاصر مطابقت آپریشن سندور میں فضائی طاقت کے فیصلہ کن کردار سے اجاگر ہوتی ہے، جس نے قومی سلامتی کے مقاصد کو تقویت بہم پہنچانے میں درست ، نپے تلے اور مؤثر آپریشنز کرنے کی بھارتی فضائیہ کی صلاحیت کا مظاہرہ کیا۔ اس آپریشن نے آپریشنل تیاری، مربوط منصوبہ بندی، معتبر ڈیٹرنس اور ایک پیچیدہ سیکیورٹی ماحول میں فضائی طاقت کے مؤثر استعمال کی اہمیت کو اجاگر کیا۔
فلائنگ آپریشنز کے علاوہ ، اس مشق میں پیشہ ورانہ مصروفیات، صنعتی دورے اور ثقافتی سرگرمیاں شامل تھیں، جن میں یوگا سیشن، ورثے کے حامل مقامات کے دورے اور شریک ممالک کی روایات کو منانے کے لیے ایک انٹرنیشنل نائٹ کا انعقاد شامل تھا۔ چیف آف ڈیفنس اسٹاف جنرل این ایس راجہ سبرامنی، چیف آف دی ایئر اسٹاف ایئر چیف مارشل اے پی سنگھ، چیف آف دی نیول اسٹاف ایڈمرل کرشنا سوامی ناتھن، دیگر معززین، وزارتِ دفاع اور شریک ممالک کے حکام نے اس تقریب میں شرکت کی۔
*****
(ش ح- ن ا)
U.N:4951
(ریلیز آئی ڈی: 2321735)
وزیٹر کاؤنٹر : 27