قبائلی امور کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

کولکاتہ میں جنگلات کے حقوق کے ایکٹ پر عملدرآمد سے متعلق  دوسری علاقائی جائزہ کانفرنس کا انعقاد

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 10 OCT 2026 12:31PM by PIB Delhi

آٹھ  صوبوں  نے زیر التوا دعوؤں ، ریکارڈ میں  اندراج  ، کمیونٹی فاریسٹ ریسورس رائٹس  اور پی وی ٹی جی  ہیبی ٹیٹ رائٹس  پر پیش رفت کا جائزہ لیا؛ ضلع  کے لحاظ سے ٹائم باؤنڈ ایکشن پلان کا مطالبہ

قبائلی امور کی وزارت ( ایم او ٹی اے) ، حکومتِ ہند نے 9 اکتوبر 2026 کو  مغربی بنگال کے کولکاتہ میں  شیڈولڈ ٹرائبس  اینڈ اَدر ٹریڈیشنل فارسٹ ڈویلرز (ریکگنیشن آف فاریسٹ رائٹس) ایکٹ، 2006( ایف آر اے) کے  نفاذ پر دوسری علاقائی جائزہ کانفرنس منعقد کی۔ اس کانفرنس میں آٹھ ریاستوں یعنی مغربی بنگال، آسام، تریپورہ، جھارکھنڈ، اڈیشہ، بہار، مدھیہ پردیش اور چھتیس گڑھ کے قبائلی بہبود،  محصولات اور محکمہ   جنگلات کے علاوہ قبائلی تحقیقی اداروں کے سینئر عہدیداروں نے شرکت کی۔ مزید برآں، آندھرا پردیش کے سینئر حکام کو بھی مدعو کیا گیا تھا تاکہ وہ ڈیجیٹلائزیشن، سرکاری ریکارڈ میں ایف آر اے ٹائٹلز کو شامل کرنے  اور ایف آر اے ٹائٹل ہولڈرز کے ساتھ روزگار کی اسکیموں کے انضمام اور حق داروں کو قرض کی سہولیات فراہم کرنے کے سلسلے میں ریاست کی جانب سے کیے گئے بہترین اقدامات  کو ساجھا کر  سکیں۔ اس کے علاوہ،  ایف آر اے دعوؤں کے   بڑے پیمانے پر زیر التوا  والے اضلاع  کے ضلعی حکام— کلیکٹرز، سب کلیکٹرز اور آئی ٹی ڈی پی/ آئی ٹی ڈی اے پروجیکٹ افسران نے بھی شرکت کی  ، تاکہ نفاذ کی صورتحال کا جائزہ لیا جا سکے اور مربوط انداز میں آگے بڑھنے کے راستے پر غور کیا جا سکے۔ یہ کانفرنس 10 ستمبر 2026 کو بنگلورو میں جنوبی ریاستوں کے لیے منعقدہ پہلی علاقائی جائزہ کانفرنس کے تسلسل میں ہے۔

تقریب کی کارروائی کا آغاز پرنسپل سکریٹری، محکمہ قبائلی ترقی، حکومتِ مغربی بنگال کے استقبالیہ خطاب سے ہوا، جنہوں نے حاضرین کو کانفرنس کے مقاصد سے آگاہ کیا اور معززین و مندوبین کا رسمی خیرمقدم کیا۔ اس کے بعد جوائنٹ سکریٹری، ایم او ٹی اے کا کلیدی خطاب اور سکریٹری، ایم او ٹی اے کا خصوصی خطاب ہوا۔

جوائنٹ سکریٹری نے اپنے کلیدی خطاب میں کہا  کہ 31 اگست 2026 تک قومی سطح پر 54 لاکھ سے زیادہ دعوے موصول ہو چکے ہیں  اور تقریباً 25 لاکھ ٹائٹلز (حقوق کی دستاویزات) تقسیم کی جا چکی ہیں۔ مختلف مراحل پر اب بھی تقریباً 11 لاکھ دعوے زیر التوا ہیں، جبکہ 18 لاکھ سے زیادہ دعوے مسترد کیے جا چکے ہیں۔ انہوں نے  کہا  کہ مدھیہ پردیش، اڈیشہ اور آسام  کے مخصوص اضلاع میں بڑے پیمانے پر دعوے زیر التوا ہیں۔ انہوں نے اس بات پر روشنی ڈالی کہ علاقائی کانفرنس درج ذیل اہم ترجیحات پر توجہ مرکوز کرتی ہے جیسے کہ زیر التوا دعووں کا بروقت تصفیہ اور ایکٹ اور ضوابط  کے مطابق مسترد شدہ دعووں کا جائزہ، ایف آر اے ڈیٹا کی مطابقت، ایف آر اے کیس ریکارڈز کی ڈیجیٹلائزیشن، تسلیم شدہ حقوق کا ریونیو اور فاریسٹ   ریکارڈ میں اندراج، کمیونٹی فاریسٹ ریسورس رائٹس  کو تسلیم کرنے کے عمل کو تیز کرنا اور پی وی ٹی جی کے لیے ہیبی ٹیٹ حقوق   کی شناخت۔

اپنے خصوصی خطاب میں، ایم او ٹی اے کے سکریٹری نے کہا کہ ایف آر اے جنگلات میں رہنے والی برادریوں کے حقوق، وقار اورامنگوں  کو جامع اور پائیدار ترقی کے مرکز میں رکھتا ہے۔ انہوں نے  دعوے کے بعد کی امداد  حاصل کرنے کے لیے ایف آر اے ٹائٹل ہولڈرز کے حقوق کے ریکارڈ کی تیاری اور ڈیجیٹلائزیشن میں آندھرا پردیش کے تجربے کو سراہا  اور پی وی ٹی جی ہیبی ٹیٹ حقوق کی شناخت کی شروعات کرنے اور سب سے زیادہ تعداد میں آئی ایف آر  دعووں کو تسلیم کرنے پر اڈیشہ اور چھتیس گڑھ کی تعریف کی۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ کمیونٹی فارسٹ ریسورس رائٹس ( سی ایف آر آر) کی شناخت ان پر عمل درآمد کی صلاحیت کے مطابق ہونی چاہیے۔ گرام سبھاؤں کو کمیونٹی فارسٹ ریسورس مینجمنٹ پلان  تیار کرنے اور ان پر عمل درآمد کرنے کے لیے مدد کی ضرورت ہے  اور ریاستوں کو ایم او ٹی اے اور وزارتِ ماحولیات، جنگلات اور موسمیاتی تبدیلی کی مشترکہ ایڈوائزری کو فعال کرنا چاہیے۔ یہ ایڈوائزری گرام سبھا کے اختیار کو مرکزی حیثیت دیتے ہوئے ان منصوبوں کو محکمہ   جنگلات کے ورکنگ اور مینجمنٹ پلان  کے ساتھ جوڑنے میں اہل  بناتی ہے۔  انہوں نے مزید کہا کہ ڈی اے-جے جی یو اے کے تحت گرام سبھا کی صلاحیت سازی کے لیے مالی امداد دستیاب ہے تاکہ وہ اس طرح کے سی ایف آر  مینجمنٹ پلان تیار اور نافذ کر سکیں۔ انہوں نے ہیبی ٹیٹ  رائٹس  کے لیے پی وی ٹی جی کے لحاظ سے روڈ میپ  تیار کرنے کا بھی مطالبہ کیا جنہیں حساسیت اور متعلقہ تمام گاؤں  کے روایتی اداروں اور گرام سبھاؤں کی فعال شرکت کے ساتھ تیار کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے مزید  کہا   کہ تسلیم شدہ حقوق کو درست نقشوں کے ساتھ ریونیو اور فارسٹ ریکارڈ میں شامل کیا جانا چاہیے  اور پیداواری زمین کے استعمال، رہائش اور روزگار کے پروگراموں کے ساتھ انضمام نفاذ کا ایک باقاعدہ حصہ بننا چاہیے۔

ڈائریکٹر ایف آر اے، ایم او ٹی اے نے قومی منظر نامہ پیش کیا، جس میں زیادہ زیر التوا والے دعووں کی حامل ریاستیں اور ترجیحی اضلاع شامل تھے۔ ان کی پریزنٹیشن میں وزارت کی 24 جون 2026 کی ایڈوائزری کے مطابق ریونیو اور فارسٹ ریکارڈ میں جنگلاتی حقوق کے ریکارڈ کو شامل کرنے اور وزارت کی 5 جنوری 2026 کے رہنما خطوط  کے تحت ہیبی ٹیٹ حقوق کی اہمیت پر بھی روشنی ڈالی گئی۔ انہوں نے ریاستوں کی طرف سے اس طرح کے اقدامات کو آگے بڑھانے کے لیے ایم او ٹی اے سے دستیاب مالی مدد کا خاکہ بھی پیش کیا۔ مزید برآں، ریاستوں سے ڈیٹا کے تضادات اور ماہانہ پیش رفت رپورٹس میں تاخیر کو دور کرنے کے لیے بھی کہا گیا۔  اس کے علاوہ، ریاستوں کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ ایف آر اے حقوق کے بارے میں بیداری پیدا کرنے، دعوے کے بعد کی مدد  اور ترجیحی بنیادوں پر سی ایف آر مینجمنٹ پلان تیار کرنے کے لیے گرام سبھاؤں کو مضبوط بنانے کا ایکشن پلان تیار کریں۔ ڈپٹی سکریٹری، ٹی آر آئی اینڈ آئی ٹی، ایم او ٹی اے  نے ایف آر اے ریکارڈز کی ڈیجیٹلائزیشن پر بات کی اور قومی سطح کے ایف آر اے پورٹل اور ایف آر اے موبائل ایپ کا  مظاہرہ کیا جو ایف آر اے گورننس کے لیے ڈیجیٹلائزیشن، جیو اسپیشیل  انٹیگریشن اور فیصلہ  سپورٹ سسٹم کو آگے بڑھانے میں مفید ثابت ہو سکتے ہیں۔ انہوں نے ریاستوں پر یہ زور بھی دیا کہ وہ ایپلی کیشن پروگرامنگ انٹرفیس ( اے پی آئی ) کے ذریعے اپنے موجودہ ایف آر اے ریکارڈز کو مربوط کریں۔

ریاستوں کے لحاظ سے  پریزنٹیشن

آٹھوں ریاستوں کے افسران نے اپنی اپنی ریاستوں میں ایف آر اے کے نفاذ کی صورتحال پیش کی، جس میں دعووں کے زیر التوا ہونے، ریکارڈ کے اندراج، کمیونٹی فارسٹ ریسورس رائٹس ، پی وی ٹی جی کے ہیبی ٹیٹ حقوق اور ایف آر اے ریکارڈز کی ڈیجیٹلائزیشن کا احاطہ کیا گیا۔ ریاستوں نے زیر التوا دعووں کے بروقت تصفیے، مسترد شدہ دعووں کے جائزے، ایک مقررہ وقت میں سی ایف آر آر اور ہیبی ٹیٹ حقوق کو تسلیم کرنے اور انضمام کو مضبوط بنانے کا ایکشن پلان بھی پیش کیا تاکہ اہل حق داروں کو روزگار اور ترقیاتی  مدد  مل سکے۔

کانفرنس  جوائنٹ سکریٹری، ایم او ٹی اے کے الوداعی خطاب اور ڈائریکٹر، ایف آر اے، ایم او ٹی اے  کے  کلمات تشکر  کے ساتھ اختتام پذیر  ہوا۔

*****

(ش ح- ن  ا)

U.N:4948

 

 


(ریلیز آئی ڈی: 2321702) وزیٹر کاؤنٹر : 13