مواصلات اور اطلاعاتی ٹیکنالوجی کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

مرکزی وزیر جناب جیوتی رادتیہ ایم۔ سندھیا کے ہاتھوں انڈیا موبائل کانگریس 2026 میں ’’اے آئی فار گڈ لیب‘‘ورکشاپ کا افتتاح


’’مصنوعی ذہانت کی حقیقی کامیابی کا پیمانہ ماڈل کا حجم نہیں بلکہ ان زندگیوں کی تعداد ہے جن میں یہ بہتری لاتی ہے‘‘: مرکزی وزیر جناب سندھیا

عالمی جنوب میں مصنوعی ذہانت کی حکمتِ عملی اور عملی اثرات کے درمیان خلیج کو پاٹنے کے لیے ہندوستان نے بین الاقوامی ٹیلی مواصلاتی یونین کے ساتھ آزمائشی ملک کے طور پر شراکت داری کی

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 09 OCT 2026 6:17PM by PIB Delhi

مواصلات اور شمال مشرقی خطے کی ترقی کے مرکزی وزیر، جناب جیوتی رادتیہ ایم۔ سندھیا نے نئی دہلی میں انڈیا موبائل کانگریس (آئی ایم سی) 2026 کے دوران ’’اے آئی فار گڈ لیب ورکشاپ: حکمتِ عملی سے عملی اثرات تک‘‘ کا افتتاح کیا۔ اس ورکشاپ کا مشترکہ اہتمام محکمۂ مواصلات (ڈی او ٹی)، وزارتِ مواصلات اور بین الاقوامی ٹیلی مواصلاتی یونین (آئی ٹی یو) نے کیا۔

یہ اہم تقریب مصنوعی ذہانت سے متعلق عالمی سطح پر حکمتِ عملی کے مباحث کو عملی نفاذ، مقامی حل اور انسانی ضروریات پر مبنی وسیع پیمانے پر استعمال میں تبدیل کرنے کی سمت ایک اہم سنگِ میل ثابت ہوئی۔ اس ورکشاپ میں بین الاقوامی سطح کی اہم شخصیات نے شرکت کی، جن میں بین الاقوامی ٹیلی مواصلاتی یونین کے ٹیلی مواصلاتی معیار بندی بیورو کے نائب ڈائریکٹر، ڈاکٹر بلال جاموسی، محکمۂ مواصلات کے سکریٹری، جناب امیت اگروال، نیز ممتاز محققین، اختراع کار، صنعت کے قائدین اور پالیسی ماہرین شامل تھے۔

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/2026/oct/image001_20261009181911_dee44d.jpg

اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے مرکزی وزیر جناب سندھیا نے کہا: ’’جنیوا سے نئی دہلی تک اے آئی فار گڈ لیب کا سفر، خود مصنوعی ذہانت کے اُس سفر کی عکاسی کرتا ہے جو اسے طے کرنا چاہیے—عالمی مباحث سے مقامی حل تک، تکنیکی امکانات سے انسانی زندگیوں پر اثرات تک اور حکمتِ عملی سے وسیع پیمانے پر نفاذ تک۔ مصنوعی ذہانت کے عزائم اور اس کے عملی اثرات کے درمیان فاصلے کو ہنر، کمپیوٹنگ کی صلاحیت، اعداد و شمار، اداروں اور رابطے کی سہولتوں کے ذریعے کم کیا جا سکتا ہے۔ بالآخر، مصنوعی ذہانت کی حقیقی کامیابی کا پیمانہ نہ تو اس کے ماڈلز کا حجم ہوگا اور نہ ہی اس کے الگورتھم کی پیچیدگی، بلکہ اُن انسانی زندگیوں کی تعداد ہوگی جن میں یہ بہتری لاتی ہے۔‘‘

مرکزی وزیر نے ہندوستان کے رہنما اصول ’’سروجن ہتائے، سروجن سکھائے‘‘ (سب کی بھلائی، سب کی خوشی کے لیے) کے فلسفے کا اعادہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ دنیا بھر میں تقریباً 2.2 ارب افراد اب بھی انٹرنیٹ سے محروم ہیں، اس لیے ٹیکنالوجی کو انسانی مواقع میں اضافے کا ذریعہ بننا چاہیے، نہ کہ ان مواقع کو چند لوگوں تک محدود کرنے کا۔ اس بات کو یقینی بنانا ضروری ہے کہ ڈیجیٹل خلیج بڑھ کر مصنوعی ذہانت کی خلیج میں تبدیل نہ ہو جائے۔

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/2026/oct/image002_20261009181918_3a2eab.jpg

وزیر موصوف نے اپنے خطاب کے دوران 10,000 کروڑ روپے سے زیادہ کے انڈیا اے آئی مشن کے تحت ہندوستان کی مقامی مصنوعی ذہانت کی صلاحیتوں اور ڈیجیٹل بنیادی ڈھانچے کو فروغ دینے والے اہم سنگِ میلوں کی تفصیلات پیش کیں۔ کمپیوٹنگ کے بنیادی ڈھانچے کے حوالے سے انہوں نے بتایا کہ عالمی اوسط لاگت کے تقریباً ایک تہائی حصے پر 38,000 سے زیادہ اعلیٰ صلاحیت والے جی پی یوز (گرافکس پروسیسنگ یونٹس) کو اس نظام میں شامل کیا گیا ہے، جبکہ مزید 20,000 جی پی یوز شامل کیے جا رہے ہیں۔ کھلے اعداد و شمار اور ہنرمند افرادی قوت کے شعبے میں اے آئی کوش پلیٹ فارم زراعت، صحت اور تعلیم کے شعبوں سے متعلق اعداد و شمار کے مجموعوں اور خودمختار ماڈلز تک رسائی فراہم کر رہا ہے۔ اس وقت مصنوعی ذہانت کی مہارتوں کے تناسب کے لحاظ سے ہندوستان دنیا میں پہلے مقام پر ہے۔ ہندوستانی ڈیولپرز، گٹ ہب پر کم از کم 10 ستارے حاصل کرنے والے اوپن سورس مصنوعی ذہانت کے منصوبوں میں تقریباً 5.2 فیصد حصہ ڈال رہے ہیں۔ اس کے علاوہ، ٹیلی مواصلاتی شعبے میں اختراعات کے ساتھ اعتماد کو یقینی بنانے کے لیے سنچار ساتھی جیسے مصنوعی ذہانت اور اعداد و شمار کے تجزیے پر مبنی آلات استعمال کیے جا رہے ہیں۔ اس پلیٹ فارم کی مدد سے 7.14 کروڑ سے زیادہ جعلی موبائل کنکشن منقطع کیے گئے، 35 لاکھ سے زیادہ گم شدہ ہینڈ سیٹس کا سراغ لگایا گیا اور 5,000 کروڑ روپے سے زیادہ کے ممکنہ مالی دھوکے کو روکا گیا۔معیار بندی کے شعبے میں ہندوستان کے ٹیلی کمیونیکیشن انجینئرنگ سینٹر (ٹی ای سی) نے مصنوعی ذہانت میں غیر جانب داری، مضبوطی اور واقعات کی رپورٹنگ سے متعلق قومی معیارات وضع کیے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی بین الاقوامی ٹیلی مواصلاتی یونین کے ٹیلی مواصلاتی معیار بندی شعبے (آئی ٹی یو-ٹی) کے عالمی معیارات سے ہم آہنگی کے لیے مصنوعی ذہانت کی معیار بندی پر ایک قومی ورکنگ گروپ بھی قائم کیا گیا ہے۔

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/2026/oct/image003_20261009181925_3ca2f8.jpg

اس ورکشاپ میں ’’اے آئی فار گڈ لیب‘‘ کا خاکہ پیش کیا گیا، جس کا مقصد تین باہم مربوط ستونوں کے ذریعے محدود مہارتوں، اختراعی سرگرمیوں میں عدم ربط اور بنیادی ڈھانچے کی کمی سے متعلق ممالک کے مسائل پر قابو پانے میں مدد دینا ہے۔ اول: مصنوعی ذہانت کے لیے تیاری اور پالیسی کے ستون کے تحت پالیسی میں موجود خامیوں کا جائزہ لیا جاتا ہے اور عملی طرزِ حکمرانی کے ڈھانچے قائم کیے جاتے ہیں۔ دوم: مصنوعی ذہانت کی مہارتوں کی ترقی کے ستون کا مقصد قومی سطح پر مصنوعی ذہانت کے ماہرین کی تعداد بڑھانا، صلاحیت سازی اور تربیتی اقدامات کو وسعت دینا ہے۔ سوم: عوامی مصنوعی ذہانت کے بنیادی ڈھانچے کے ستون کے تحت معیارات پر مبنی باہم مربوط مصنوعی ذہانت کے آزمائشی ماحول قائم کیے جاتے ہیں تاکہ مقامی ضروریات سے مطابقت رکھنے والے مصنوعی ذہانت کے حل کی جانچ، توثیق، توسیع اور دوبارہ استعمال ممکن ہو سکے۔ افریقہ، ایشیا، لاطینی امریکہ اور خلیجی خطے کے شراکت داروں کے ساتھ دس آزمائشی ممالک میں شامل ہندوستان، مشترکہ کمپیوٹنگ وسائل، کھلے اعداد و شمار کے مجموعوں اور ڈیجیٹل عوامی بنیادی ڈھانچے (ڈی پی آئی) پر مبنی اپنا نمونہ پیش کر رہا ہے تاکہ عالمی جنوب کے ممالک میں مختلف خطوں کے درمیان تجربات کے تبادلے اور تکنیکی تعاون کو فروغ دیا جا سکے۔

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/2026/oct/image004_20261009181932_79fe7c.jpg

ان اجلاسوں میں ادارہ جاتی شراکت داری، ترجیحی شعبوں میں مصنوعی ذہانت کے استعمال اور عالمی جنوب کے ممالک کے درمیان علم و تجربات کے تبادلے کے لیے ایک واضح لائحۂ عمل وضع کرنے پر منظم انداز میں غور و خوض کیا گیا۔ متعلقہ فریقوں نے مصنوعی ذہانت کے آزمائشی ماحول (اے آئی سینڈ باکس) کی ضروریات پر اتفاقِ رائے قائم کیا تاکہ حل کو وسیع پیمانے پر نافذ کرنے اور آخری شہری تک پہنچانے سے پہلے ان کی تجرباتی جانچ کی جا سکے اور ان میں غیر جانب داری، مضبوطی اور حفاظت کو یقینی بنایا جا سکے۔

ورکشاپ کا اختتام ڈاکٹر بلال جاموسی کے خلاصۂ مباحثہ کے ساتھ ہوا۔ اس کے بعد محکمۂ مواصلات کے مصنوعی ذہانت اور ڈیجیٹل انٹیلی جنس یونٹ کے ڈپٹی ڈائریکٹر جنرل، جناب سنجیو کمار شرما نے آئندہ اقدامات کے لیے تجاویز پیش کیں، جبکہ ٹیلی کمیونیکیشن انجینئرنگ سینٹر (ٹی ای سی) کے سینئر ڈپٹی ڈائریکٹر جنرل، جناب ایس۔ ٹی۔ عباس نے خصوصی خطاب کیا۔

ورکشاپ میں اس بات پر زور دیا گیا کہ ایک ایسے مصنوعی ذہانت کے نظام کی تشکیل کے لیے حکومت، صنعت، تعلیمی اداروں، نئے کاروباری اداروں، سول سوسائٹی اور بین الاقوامی تنظیموں کے درمیان مسلسل تعاون ضروری ہے، جو اختراعی، سب کو ساتھ لے کر چلنے والا، محفوظ، قابلِ اعتماد اور سب کے لیے مفید ہو۔ مباحثوں نے بات چیت سے عملی نفاذ، تصور سے عمل اور الگ تھلگ اقدامات سے ’’سب کی بھلائی کے لیے مصنوعی ذہانت‘‘ اور ’’سب کے لیے مصنوعی ذہانت‘‘ کی مشترکہ تحریک کی جانب پیش رفت کے لیے ایک مضبوط بنیاد فراہم کی۔

مزید معلومات کے لیے محکمۂ مواصلات کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس کو فالو کریں:

X - https://x.com/DoT_India

Insta- https://www.instagram.com/department_of_telecom?igsh=MXUxbHFjd3llZTU0YQ==

Fb - https://www.facebook.com/DoTIndia

Youtube: https://youtube.com/@departmentoftelecom?si=DALnhYkt89U5jAaa

******

ش ح۔ ش ا ر۔ ول

Uno-4927


(ریلیز آئی ڈی: 2321544) وزیٹر کاؤنٹر : 7