ادویات سازی کا محکمہ
حکومت نے کینسر کی ادویات کی قیمتوں پر کنٹرول کا دائرہ وسیع کیا؛ سرطان کے مریضوں کو سالانہ 2,500 کروڑ روپے کی بچت متوقع
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
08 OCT 2026 10:04PM by PIB Delhi
1:سرطان کی مزید ادویات کو قیمتوں کے تحفظ کے دائرے میں لانا
حکومت نے مقررہ فہرست میں شامل نہ ہونے والی سرطان کی ادویات کی فراہمی اور فروخت پر عائد کیے جانے والے منافع کی شرح کی حد مقرر کرنے کی منظوری دے دی ہے۔
یہ منافع زیادہ سے زیادہ خوردہ قیمت (ایم آر پی) کے 30 فیصد تک محدود ہوگا۔ اس اقدام سے ادویات کی قیمتوں میں70 فیصد تک کمی آنے کی توقع ہے۔ اس سے کینسر کے مریضوں کو سالانہ 2,500 کروڑ روپے کی بچت ہوگی اور انہیں اپنی جیب سے خرچ کی جانے والی رقم میں نمایاں کمی کرنے میں مدد ملے گی۔
مقررہ فہرست میں شامل سرطان کی ضروری ادویات کی قیمتیں پہلے ہی حکومت کی جانب سے سختی کے ساتھ مقرر کردہ زیادہ سے زیادہ حد کے تابع ہیں۔ اس نئے فیصلے کے تحت مقررہ فہرست سے باہر کی کینسر کی ادویات کو بھی قیمتوں کے تحفظ کے دائرے میں لایا جائے گا، جس کے ذریعے مریضوں تک پہنچنے سے پہلے ان کی قیمتوں میں شامل کیے جانے والے منافع کی شرح محدود کر دی جائے گی۔
صحت خدمات کے ڈائریکٹوریٹ جنرل (ڈی جی ایچ ایس)کے تحت قائم ایک ماہرین کی کمیٹی ان ادویات کی فہرست کو حتمی شکل دے گی جن پر یہ ضابطہ لاگو ہوگا۔ اس کے بعد قومی ادویاتی قیمتوں کے تعین کی اتھارٹی (این پی پی اے) فیصلہ لے کر باضابطہ اطلاع جاری کرے گی۔
2: کینسر کے علاج کے بھاری اخراجات میں کمی
ہندوستان میں سرطان کے مریضوں کی تعداد بڑھ رہی ہے اور تقریباً ہر ایک لاکھ آبادی میں سے 60 افراد اس مرض سے متاثر ہیں۔ اس کا علاج مریضوں اور ان کے اہل خانہ پر بھاری مالی بوجھ ڈالتا ہے، جنہیں اکثر اپنی جیب سے بڑی رقم خرچ کرنی پڑتی ہے۔
قومی ادویاتی قیمتوں کے تعین کی اتھارٹی (این پی پی اے) کے بازار سے متعلق اعداد و شمار کے تجزیے سے معلوم ہوا کہ مقررہ فہرست میں شامل نہ ہونے والی سرطان کی ادویات کی قیمتوں میں اوسطاً تقریباً 170 فیصد اضافہ ہوتا ہے، جبکہ بعض معاملات میں یہ اضافہ 700 فیصد یا اس سے بھی زیادہ ہو جاتا ہے۔ آسان الفاظ میں، دوا مریض تک پہنچنے سے پہلے ترسیل کے سلسلے کے مختلف مراحل سے گزرتی ہے اور اس کی قیمت میں نمایاں اضافہ ہو جاتا ہے۔
اس کے علاوہ، دوا کی قیمت اس بات کے لحاظ سے بھی کافی مختلف ہوتی ہے کہ اسے عام دوا فروش دکان، اسپتال کی دوا فروش دکان یا آن لائن دوا فروش دکان سے خریدا جا رہا ہے۔
مہاراشٹر، راجستھان اور کرناٹک سمیت مختلف ریاستوں کے حکام، مریضوں اور شہری سماجی تنظیموں نے ادویات کی ضرورت سے زیادہ قیمتوں پر شدید تشویش ظاہر کی ہے۔ عوامی پلیٹ فارموں پر بھی یہ تشویش سامنے آئی ہے، بالخصوص ادویات کی خریداری کی قیمت اور صارفین سے وصول کی جانے والی زیادہ سے زیادہ خوردہ قیمت کے درمیان بڑے فرق کے حوالے سے۔
خصوصاً مہنگی سرطان مخالف ادویات پر منافع کی اتنی زیادہ شرح مریضوں کے علاج کے اخراجات میں نمایاں اضافہ کرتی ہے۔ منافع کی شرح پر نئی حد سے زیادہ منافع خوری پر روک لگے گی، بازار میں قیمتوں کے غیر منصفانہ طریقوں کی حوصلہ شکنی ہوگی اور مریضوں کو ادویات مناسب قیمتوں پر دستیاب کرانے میں مدد ملے گی۔
3:سال2019 کے فیصلے سے ملنے والی راحت کی بنیاد پر مزید اقدامات
حکومت کی جانب سے پہلے کی گئی مداخلت سے ظاہر ہوتا ہے کہ منافع کی شرح محدود کرنے سے مریضوں کو بڑی راحت فراہم کی جا سکتی ہے۔
فروری 2019 میں حکومت کی ہدایت پر این پی پی اےنے ادویات (قیمتوں کے کنٹرول) کے حکم نامے، 2013 کے پیراگراف 19 کے تحت مقررہ فہرست میں شامل نہ ہونے والی سرطان کی 42 منتخب ادویات پر تجارتی منافع کی شرح کی حد مقرر کی تھی۔
اس فیصلے کے نتیجے میں زیادہ سے زیادہ خوردہ قیمتوں میں91 فیصد تک کمی آئی تھی۔ اس سے 526 برانڈز پر سالانہ 984 کروڑ روپے کی بچت ہونے کی اطلاع دی گئی تھی۔ اس اقدام سے سرطان کے مریضوں پر مالی بوجھ نمایاں طور پر کم ہوا اور ان کے لیے زندگی گزارنا آسان ہوا۔
اسی تجربے کو آگے بڑھاتے ہوئے اور ترسیل کے سلسلے میں سامنے آنے والے قیمتوں سے متعلق مسائل کو حل کرنے کے لیے حکومت نے اب منافع کی شرح پر وسیع تر حد مقرر کرنے کی منظوری دے دی ہے۔ اس اقدام سے سالانہ 2,500 کروڑ روپے کی متوقع بچت سرطان کا علاج کرانے والے مریضوں کو مزید راحت فراہم کرے گی۔
4: پیداوار برقرار رکھنا اور ادویات کی مسلسل دستیابی یقینی بنانا
جان بچانے والی ان ادویات کی دستیابی برقرار رکھنے کو یقینی بنانے کے لیے مقررہ فہرست میں شامل نہ ہونے والی سرطان کی ادویات کے تیار کنندگان کے لیے موجودہ سطح پر پیداوار برقرار رکھنا لازمی ہوگا۔
اس اقدام کا دائرہ مقررہ فہرست میں شامل نہ ہونے والی سرطان کی تمام اقسام کی ادویات تک وسیع ہوگا، جن میں برانڈ کے نام سے فروخت ہونے والی اور عام ادویات، ملک میں تیار کی جانے والی اور درآمد شدہ ادویات، نیز پیٹنٹ شدہ اور پیٹنٹ سے مستثنیٰ ادویات شامل ہیں۔ اس سے ادویات کی مسلسل دستیابی یقینی بنانے کے ساتھ ساتھ مریضوں کو کم قیمتوں کا خاطر خواہ فائدہ پہنچانے میں مدد ملے گی۔
*******
) ش ح – رک )
U.NO- 4896
(ریلیز آئی ڈی: 2321221)
وزیٹر کاؤنٹر : 3