بہت چھوٹی، چھوٹی اور درمیانی درجے کی صنعتوں کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

کھادی اور دیہی صنعتیں: شمولیت پر مبنی اور پائیدار ہندوستان کا تانا بانا بُننا


کھادی پائیدار روزگار، خواتین کو بااختیار بنانے اور ہندوستان کی مالا مال ثقافتی وراثت کی علامت بن کر ابھری

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 09 OCT 2026 12:02PM by PIB Delhi

کھادی اور دیہی صنعتیں (کے وی آئی) دیہی روزگار کو فروغ دینے، روزگار کے مواقع پیدا کرنے اور آتم نربھر بھارت کے وژن  کو فروغ دینے میں مسلسل اہم کردار ادا کر رہی ہیں۔ ہندوستان کی مالا مال ثقافتی وراثت کی جڑوں میں پیوست کھادی،روایتی دستکاری کو پائیدار پیداواری طریقوں سے ہم آہنگ کرتی ہے اور خاص طور پر دیہی علاقوں میں لوگوں کے لیے روزگار کے مواقع فراہم کرتی ہے۔

ہاتھ سے کاتے گئے سوت اور ہاتھ سے بُنے گئے کپڑے پر مشتمل کھادی کو قدرتی ریشوں اور مقامی پیداواری نظام کو بروئے کار لاتے ہوئے تیار کیا جاتا ہے۔ اس کی محنت پر مبنی اور غیر مرکزی نوعیت مختلف ہنر رکھنے والے افراد کے لیے روزگار کے مواقع فراہم کرتی ہے اور دیہی ترقی کو پائیدار بنانے میں مدد فراہم کرتی ہے۔ یہ شعبہ پائیدار ترقی کے اہداف میں سے ہدف اول (غربت کا خاتمہ) اور ہدف آٹھ (معقول روزگار اور معاشی ترقی) کے حصول میں بھی معاون ہے۔

کھادی اور عام  ہینڈلوم کے کپڑے کے درمیان بنیادی فرق ہاتھ سےسوت کاتنا ہے۔ گزشتہ برسوں کے دوران کھادی اور دیہی صنعتوں کے کمیشن (کے وی آئی سی) نے ہنر مندی کی ترقی، صلاحیت سازی اور ہنر کو مزید نکھارنے کے اقدامات کے ذریعے کھادی اداروں کی مدد کی ہے۔ اپریل 2025 سے سوت کاتنے اور کپڑا بُننے کی اجرت میں اضافہ، بہتر آلات اور بنیادی سہولتوں کی فراہمی میں معاونت اور مصنوعات کی تشہیر و فروخت کے لیے مؤثر اقدامات نے دستکاروں کی آمدنی بڑھانے اور روایتی روزی روٹی کےذرائع کو معاشی طور پر پائیدار بنانے میں مزید مدد کی ہے۔

کھادی اب جدید دور کے فیشن اور طرز زندگی کے انتخاب کے طور پر بھی اپنی پہچان بنا چکی ہے۔ کھادی ڈینم، ڈیزائنر ساڑھیوں، دلہن کے ملبوسات، جدید قمیصوں اور پتلونوں جیسی نئی مصنوعات نے نئی نسل کے صارفین میں اس کی مقبولیت بڑھائی ہے۔ دہلی میں واقع نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف فیشن ٹیکنالوجی (این آئی ایف ٹی) کے کھادی  کے سینٹر آف ایکسی لینس  نے مختلف زمروں میں کھادی کے 2,129 ڈیزائن کے کلیکشن تیار کیے ہیں۔ 710 نئی مصنوعات پر مشتمل ‘نویگ کھادی’ کی شروعات اور تندرستی و یوگا کے لیے ملبوسات کے  کلیکشن‘سودھا’ نے بھی کھادی کو جدید دور کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔

حکومت کھادی اور دیہی صنعتوں کے شعبے میں روزگار کے مواقع پیدا کرنے کے لیے کھادی وکاس یوجنا، گرام ادیوگ وکاس یوجنا اور پی ایم ای جی پی سمیت مختلف اسکیموں کے ذریعے مدد فراہم کر رہی ہے۔ اس کے تحت مالی امداد، کاروبار چلانے کے لیے درکار سرمایہ، معیاری خام مال، تربیت، آلات کی کٹ، اجرت میں معاونت، مصنوعات کی تشہیر و فروخت کے اقدامات، رقم کی ادائیگیوں کے فروغ اور سماجی تحفظ کی سہولتیں فراہم کی جاتی ہیں۔ احمد آباد کے ای ڈی آئی آئی کی جانب سے کی گئی ایک جائزہ تحقیق کے مطابق، ان اقدامات کے بعد مختلف اسکیموں سے وابستہ 75 فیصد سے زیادہ دستکاروں کی آمدنی میں قابل پیمائش اضافہ درج کیا گیا۔

کھادی خواتین کو معاشی طور پر بااختیار بنانے اور جامع ترقی کے فروغ کا بھی ایک اہم ذریعہ بن کر ابھری ہے۔ کھادی کے تقریباً پانچ لاکھ دستکاروں میں لگ بھگ 80 فیصد خواتین ہیں۔ اگربتی سازی، ہاتھ سے کاغذ بنانے، شہد مشن اور خدمات کے شعبوں میں خواتین کی شرکت خاص طور پر نمایاں رہی ہے، جس سے انہیں مالی خود مختاری حاصل کرنے اور پائیدار ذرائع معاش اپنانے کے زیادہ مواقع مل رہے ہیں۔

ہاتھ سے بنی، ان کے قابل شناخت اصل ذرائع ، قدرتی اور ماحول دوست مصنوعات کی عالمی مانگ میں اضافے کے ساتھ کھادی اور ہاتھ سے تیار کردہ مصنوعات کی برآمدات کے امکانات بھی نمایاں طور پر بڑھے ہیں۔ کھادی اور دیہی صنعتوں کے کمیشن (کے وی آئی سی) نے نیویارک میں ہندوستان کے قونصل جنرل کے تجارتی پورٹل پر برآمدات کے فروغ کی کونسل (ای پی سی) کے طور پر اندراج کرایا ہے اور کھادی اداروں کو بین الاقوامی سطح پر زیادہ مواقع اور شناخت دلانے کے لیے اقدامات شروع کیے ہیں۔

حکومت نے کھادی مصنوعات کی تشہیر، برانڈ کی شناخت اور منڈی میں ان کی حیثیت مستحکم کرنے کے لیے بھی اقدامات کیے ہیں۔ پونڈورو کھادی کو جغرافیائی شناخت (جی آئی) کا نشان ملنے سے اس کی مخصوص سوتی مصنوعات اور سوت کاتنے اور کپڑا بُننے کے روایتی طریقوں کی بہتر قیمت ملنے کی توقع ہے۔ پونڈورو کھادی، بھارت کستوری کاٹن، بنگال ململ اور قدرتی رنگوں والے سوتی کپڑوں کو آگرہ میں منعقدہ برکس کے  افتتاحی ایم ایس ایم ای فورم میں بھی نمائش کی گئی۔

روایتی طریقوں کو محفوظ رکھنے کے ساتھ ساتھ ٹیکنالوجی کو جدید بنانے اور معیار بہتر کرنے پر بھی توجہ دی جا رہی ہے۔ کے وی آئی سی کے سینٹرل سلیور پلانٹس کو جدید بنایا جا رہا ہے۔ کرناٹک کے چت درگ اور کیرالہ کے کٹّور میں واقع پلانٹس کو جدید بنانے کا کام مکمل ہو چکا ہے اور وہ کام کرنے لگے ہیں۔ چت درگ پلانٹ اپنی توانائی کی 50 فیصد ضرورت شمسی توانائی سے پوری کرتا ہے، جبکہ ماحول دوست کو مزید فروغ دینے کے لیے ہوا سے بجلی پیدا کرنے کے امکانات بھی تلاش کیے جا رہے ہیں۔ اس کے علاوہ، کھادی اداروں میں جدید ٹیکنالوجی متعارف کرانے اور دیہی صنعتوں کے گروپوں کو مضبوط بنانے کے لیے ٹیکنالوجی پر مبنی مشترکہ سہولت مراکز قائم کرنے کی بھی تجویز ہے۔

کھادی کی فطری  طور پر ماحول دوست خصوصیت،موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے اور ذمہ دارانہ طرزِ استعمال کے تناظر میں اس کی اہمیت کو مزید بڑھاتی ہے۔ قدرتی ریشوں اور رنگوں پر مبنی اس کی تیاری کا عمل توانائی اور پانی کی کم کھپت کے باعث ماحول پر نسبتاً کم منفی اثرات مرتب کرتا ہے۔ کھادی اور دیہی صنعتوں کا کمیشن (کے وی آئی سی)، بھارتی زرعی تحقیقاتی کونسل کے تحت مرکزی کپاس تکنیکی تحقیقاتی ادارے (آئی سی اے آر-سی آئی آر سی او ٹی ) کے اشتراک سے قدرتی رنگوں والی کپاس کی اقسام تیار کرنے کے امکانات تلاش کر رہا ہے۔ اس اقدام کا مقصد روایتی طریقوں سے کپڑوں کو رنگنے کے عمل میں پانی کے استعمال، کیمیائی آلودگی اور توانائی کی کھپت کو کم کرنا ہے۔

کھادی میں ہاتھ سے سوت کاتنے کے ذریعے ریشوں اور باریک تاروں کو دوبارہ استعمال کے قابل بنانے اور ان سے نئی مصنوعات تیار کرنے کے بھی امکانات موجود ہیں، خصوصاً ایسے ریشوں اور تاروں کے لیے جو مشینی طریقے سے سوت کاتنے کے موزوں نہیں ہوتے۔ ان اقدامات سے روزگار کے اضافی مواقع پیدا ہونے کے ساتھ پائیدار ترقی کے ہدف 12 (ذمہ دارانہ کھپت اور پیداوار) اور ہدف 13 (موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کے لیے اقدامات) کے حصول میں بھی مدد مل سکتی ہے۔

سودیشی اور تحریک آزادی کی علامت سے لے کر جدید دور کے فیشن اور طرز زندگی کے انتخاب تک کھادی کا سفر بدلتی ہوئی صارفین کی پسند کے مطابق خود کو ڈھالنے کی اس کی صلاحیت کو ظاہر کرتا ہے، جبکہ اس کی روایتی شناخت بھی برقرار ہے۔ وراثت اور اختراع ، روزگار اور صنعت کاری، خواتین کو بااختیار بنانے اور سماجی شمولیت، نیز معاشی سرگرمیوں اور ماحولیاتی ذمہ داری کو یکجا کرکے کھادی جامع اور پائیدار ترقی کے وسیع تر تصور کو آگے بڑھانے میں مسلسل اپنا کردار ادا کر رہی ہے۔

کھادی کا مسلسل بدلتا ہوا سفر اس بات کو ظاہر کرتا ہے کہ پائیدار حل صرف جدید ٹیکنالوجی ہی سے نہیں، بلکہ ان روایتی طریقوں سے بھی سامنے آ سکتے ہیں جنہیں نسل در نسل محفوظ رکھا گیا اور بہتر بنایا گیا ہے۔ اپنے دستکاروں، سوت کاتنے والوں اور دیہی صنعت کاروں کے ذریعے کھادی جامع ترقی، پائیدار ذرائع معاش اور ذمہ دارانہ پیداوار کے ایک منفرد مثال کی نمائندگی کر رہی ہے۔

******

 

ش ح۔ م  ش۔ش ت

48955U-No.


(ریلیز آئی ڈی: 2321219) وزیٹر کاؤنٹر : 15