کامرس اور صنعت کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

جب دنیا دیواریں کھڑی کر رہی تھی، ہندوستان پل تعمیر کر رہا تھا: تجارت و صنعت کے مرکزی وزیر جناب پیوش گوئل


ہندوستان کو ایک ٹریلین امریکی ڈالر کے برآمدی ہدف کے حصول اور 7 فیصد سے زائد شرح نمو برقرار رکھنے کا یقین ہے: جناب پیوش گوئل

جناب پیوش گوئل نے وزیر اعظم جناب نریندر مودی کی 25 سالہ بلا تعطل عوامی خدمت کو اجاگر کیا

ہندوستان کے آزاد تجارتی معاہدے(ایف ٹی اے) حساس شعبوں کا تحفظ کرتے ہوئے برآمدات اور سرمایہ کاری کے مواقع فراہم کرتے ہیں: جناب پیوش گوئل

ٹیکنالوجی پر مبنی ترقی اور گورننس کے ذریعے آندھرا پردیش ایک ابھرتی ہوئی ریاست کے طور پر سامنے آ رہا ہے: جناب پیوش گوئل

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 08 OCT 2026 2:34PM by PIB Delhi

تجارت و صنعت کے مرکزی وزیر جناب پیوش گوئل نے آج نئی دہلی میں 31ویں سی آئی آئی شراکت داری سربراہی اجلاس کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ’’جب دنیا دیواریں کھڑی کر رہی تھی، ہندوستان پل تعمیر کر رہا تھا۔‘‘ انہوں نے کہا کہ ہندوستان نے گزشتہ سال 863 ارب امریکی ڈالر کی برآمدات ریکارڈ کیں اور رواں سال ایک ٹریلین امریکی ڈالر کی برآمدات کا ہدف مقرر کیا ہے۔ یہ ایسے سال میں تقریباً 16 فیصد نمو کی نمائندگی کرے گا، جب بین الاقوامی تجارت میں صرف تقریباً 2.5 سے 3 فیصد اضافے کی توقع ہے، جبکہ عالمی معیشت بدستور مختلف جھٹکوں کے خطرے سے دوچار ہے اور عالمی شرح نمو 3 فیصد سے نیچے رہنے کی توقع ہے۔

جناب گوئل نے ایک ٹریلین امریکی ڈالر کے برآمدی ہدف کے حصول پر اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ ہدف صرف حکومت نے مقرر نہیں کیا ہے، بلکہ ہندوستان کے عوام اور کاروباری برادری نے بھی اسے اپنا ہدف بنایا ہے، جس میں 6.3 کروڑ ایم ایس ایم ایز، بڑی اور چھوٹی صنعتیں، عالمی صلاحیت کے مراکز اور تقریباً 2.5 لاکھ اسٹارٹ اپس شامل ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ریزرو بینک آف انڈیا نے رواں سال کے لیے ایک بار پھر شرح نمو کے اپنے تخمینوں میں اضافہ کیا ہے اور اعتماد ظاہر کیا کہ ہندوستان 7 فیصد سے زائد کی شرح نمو کے ساتھ ترقی کا سلسلہ جاری رکھے گا اور بڑی معیشتوں میں سب سے تیزی سے ترقی کرنے والی معیشت برقرار رہے گا۔

وزیر موصوف نے آندھرا پردیش کے وزیر اعلیٰ جناب چندرا بابو نائیڈو کے ہمراہ اس افتتاحی تقریب میں شرکت کی۔ شراکت داری سربراہی اجلاس 12 اور 13 نومبر کو وشاکھاپٹنم میں منعقد ہوگا۔

ممالک سے سربراہی اجلاس میں شرکت کی اپیل کرتے ہوئے جناب گوئل نے کہا کہ یہ تقریب ترقی، مواقع اور شراکت داری کے نقطۂ نظر سے ہندوستان کی داستانِ ترقی کو سمجھنے کا موقع فراہم کرے گی۔ انہوں نے معزز مہمانوں سے اپیل کی کہ وہ اس بات کو یقینی بنائیں کہ ان کے ممالک وشاکھاپٹنم میں مضبوط وفود بھیجیں اور شراکت داری سربراہی اجلاس کے تحت منعقد ہونے والے مختلف پروگراموں، پینل مباحثوں، تبادلۂ خیال اور رسمی و غیر رسمی روابط کے مواقع میں شرکت کریں۔

انہوں نے سی آئی آئی پر زور دیا کہ وہ ہر ریاستی کونسل میں آزاد تجارتی معاہدوں کے استفادے سے متعلق ڈیسک قائم کرے، تاکہ ایم ایس ایم ایز آزاد تجارتی معاہدوں سے مؤثر طور پر فائدہ اٹھا سکیں، نئی منڈیوں تک رسائی کے مواقع اور اصلِ پیداوار کے ضوابط کو سمجھ سکیں، وفود میں شامل ہوسکیں، نمائشوں اور کانفرنسوں میں شرکت کرسکیں اور عالمی منڈیوں میں اپنی مصنوعات، ٹیکنالوجیز اور دیگر پیشکشوں کو متعارف کراسکیں۔

وزیر موصوف نے وزیر اعظم جناب نریندر مودی کے حکومت کے سربراہ (ہیڈ آف گورنمنٹ )کی حیثیت سے 25 سال مکمل کرنے کے سنگِ میل کو بھی اجاگر کیا۔ ان کا یہ سفر 7 اکتوبر 2001 کو گجرات کے وزیر اعلیٰ کی حیثیت سے شروع ہوا اور 26 مئی 2014 سے ہندوستان کے وزیر اعظم کی حیثیت سے جاری ہے۔ انہوں نے اسے 25 سالہ بلا تعطل عوامی خدمت اور بے داغ ریکارڈ قرار دیا، جس کا مقصد ہندوستان کو ایک حقیقی طاقتور ملک بنانا، ہندوستان کو اس کا وہ وقار دوبارہ دلانا ہے جو اسے کبھی حاصل تھا، اور 2047 تک ہندوستان کو ایک ترقی یافتہ ملک بنانا ہے۔

جناب گوئل نے کہا کہ 140 کروڑ ہندوستانیوں کے اجتماعی عزم کو وزیر اعظم 2047 تک ہندوستان کو ایک ترقی یافتہ ملک بنانے کے مشن کی جانب آگے لے کر بڑھ رہے ہیں اور ملک میں پیدا ہونے والے ہر بچے کے خوابوں اور امنگوں کو پورا کرنے کے لیے کام کر رہے ہیں۔

بھگود گیتا کے باب 3، شلوک 21 کا حوالہ دیتے ہوئے جناب گوئل نے کہاکہ’’ایک عظیم رہنما جو کچھ کرتا ہے، دوسرے لوگ بھی اسی کی پیروی کرتے ہیں۔ وہ جو معیار قائم کرتا ہے، دنیا اسی کو اپناتی ہے۔‘‘ انہوں نے کہا کہ ملک کو وزیر اعظم کی قیادت میں سامنے سے کی جانے والی 25 سالہ سیوا یعنی خدمت پر فخر ہے۔

انہوں نے فلاحی اقدامات اور بہتر حکمرانی کے ثمرات آخری فرد تک پہنچانے پر وزیر اعظم کی توجہ کو اجاگر کیا۔ اس سلسلے میں انہوں نے گجرات کی جیوتی گرام یوجنا کا حوالہ دیا، جس کے بارے میں انہوں نے کہا کہ اس وقت یہ ہر گھر اور ہر کھیت تک بجلی پہنچانے اور صنعت کاری کے فروغ کے لیے صنعتوں کو 24 گھنٹے بلارکاوٹ بجلی کی فراہمی یقینی بنانے کی پہلی کوشش تھی۔

جناب گوئل نے جن دھن، آدھار اور موبائل پر مشتمل جے اے ایم تثلیث کا بھی حوالہ دیا، جس کے ذریعے ہندوستان نے عوام اور حکومت کے درمیان رابطے کو مضبوط کیا، اور ڈیجیٹل انڈیا کا بھی ذکر کیا، جس نے ہندوستان کے طول و عرض میں ڈیجیٹل ٹیکنالوجی اور ڈیجیٹل رابطے کو ممکن بنایا۔

انڈیا موبائل کانگریس کے 10ویں ایڈیشن کا حوالہ دیتے ہوئے جناب گوئل نے کہا کہ وزیر اعظم جناب نریندر مودی نے یاد دلایا کہ ڈیجیٹل انڈیا تحریک کے نتیجے میں گزشتہ 12 برسوں کے دوران ملک کے 5 لاکھ کروڑ روپے سے زیادہ، یعنی 55 ارب امریکی ڈالر سے زیادہ کی بچت ہوئی ہے۔

وزیر موصوف نے کہا کہ وزیر اعظم نے ہمیشہ آسان راستہ اختیار کرنے کے بجائے اصلاحات کو ترجیح دی ہے۔ انہوں نے ملک میں مختلف ٹیکس نظاموں کو ایک ہی نظام کے تحت لانے کے لیے جی ایس ٹی متعارف کرانے اور علاقائی بجلی کے گرڈز کو ایک قومی گرڈ میں مربوط کرنے کو اس طریقۂ کار کی مثالوں کے طور پر پیش کیا۔

انہوں نے کہا کہ کووڈ-19 سے پیدا ہونے والے چیلنجوں اور ان دو جنگوں کے باوجود جن سے دنیا اس وقت دوچار ہے، ہندوستان دنیا کی تیزی سے ترقی کرنے والی بڑی معیشت بنا ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم مودی نے ٹیکنالوجی کی اہمیت کو سمجھا ہے اور یہ ثابت کیا ہے کہ ٹیکنالوجی کس طرح بڑے پیمانے پر لوگوں کی خدمت کرسکتی ہے۔ گزشتہ 25 برسوں کے دوران جدید ٹیکنالوجی کو اپنانا ان کے کام کا بنیادی ستون اور ریڑھ کی ہڈی رہا ہے۔

جناب گوئل نے کہا کہ ماضی میں ہندوستان کا نقطۂ نظر دفاعی نوعیت کا تھا اور وہ ترقی یافتہ دنیا کے ساتھ روابط قائم کرنے میں ہچکچاتا تھا۔ یہاں تک کہ ملک کے آٹوموبائل شعبے اور ہندوستان کو نئی ٹیکنالوجیز کے لیے کھولنے سے بھی گریز کیا جاتا تھا۔ آج ہندوستان دنیا کے ساتھ ایک تیزی سے آگے بڑھتی ہوئی قوم کے خوداعتماد کے ساتھ روابط قائم کرتا ہے اور اپنی ٹیکنالوجی، باصلاحیت کام کرنے والے افراد، مسابقتی صلاحیت اور اپنی اشیا و خدمات کے لیے وسیع تر مارکیٹوں  تک رسائی کو دنیا کے سامنے پیش کرتا ہے۔

انہوں نے یقین دلایا کہ ہندوستان کی جانب سے کیے گئے ہر آزاد تجارتی معاہدے اور دیگر معاہدوں میں حساس شعبوں، بالخصوص ہندوستانی زراعت، ماہی گیروں اور ایم ایس ایم ایز کے مفادات کا تحفظ کیا گیا ہے، جبکہ زرعی مصنوعات، ماہی گیری اور سمندری مصنوعات، ہائی پریسیژن آئٹمز انجینئرنگ مصنوعات اور ایم ایس ایم ایز کی تیار کردہ الیکٹرانک مصنوعات کی برآمدات کے مواقع بھی فراہم کیے گئے ہیں۔ ان معاہدوں کے ذریعے مختلف ممالک اور کمپنیوں کے لیے سرمایہ کاری کے مواقع بھی پیدا ہوئے ہیں، تاکہ وہ ہندوستان آکر دنیا کی سب سے بڑی منڈی کی ترقی میں حصہ لے سکیں۔

جناب گوئل نے کہا کہ ہندوستان کی معیشت، جو اس وقت تقریباً 4 ٹریلین امریکی ڈالر کی ہے، 2047 تک 30 ٹریلین امریکی ڈالر کی معیشت بننے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ انہوں نے ہندوستان کی نوجوان اور بلند عزائم رکھنے والی آبادی اور اپنے اور اپنے خاندانوں کے لیے بہتر معیارِ زندگی کی خواہش کو اجاگر کیا۔

ٹیکنالوجی کے حوالے سے وزیر موصوف نے کہا کہ ہندوستان نئی دور کی ٹیکنالوجیز سے گریز نہیں کرتا بلکہ دنیا بھر میں ہونے والی بہترین اور جدید ترین تکنیکی پیش رفت کو اپناتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک اب ان خدشات سے آگے بڑھ چکا ہے کہ نئی ٹیکنالوجیز روزگار کے مواقع کم کرسکتی ہیں اور اب اسے پورا یقین ہے کہ یہ ٹیکنالوجیز ہندوستان کے باصلاحیت نوجوانوں کے لیے نئے مواقع پیدا کریں گی۔

انہوں نے کہا کہ ہندوستان نئی ٹیکنالوجیز سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنی باصلاحیت کام کرنے والے افراد اور مہارتیں دنیا کے سامنے پیش کرے گا، کارکردگی اور پیداواری صلاحیت میں بہتری لائے گا، ہندوستانی اشیا اور خدمات کو عالمی سطح پر مزید مسابقتی بنائے گا اور سائبر سیکوریٹی سمیت ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز پر مبنی ایپلی کیشنز کے شعبوں میں نوجوانوں کے لیے نئے مواقع پیدا کرے گا۔ انہوں نے اعتماد کا اظہار کیا کہ ہندوستانی صنعت اور ملک کے عوام ٹیکنالوجی کی ترقی سے فائدہ اٹھاتے ہوئے 140 کروڑ ہندوستانیوں کے مفاد میں روزگار، کاروبار اور صنعت کاری کے نئے مواقع پیدا کریں گے۔

وزیر موصوف نے اس بات پر زور دیا کہ دنیا کے ساتھ ہندوستان کے تعلقات میں اعتماد ایک بنیادی عنصر ہے۔ انہوں نے کہا کہ کووڈ-19 وبا کے دوران، جب عالمی معیشت شدید متاثر ہوئی تھی، ہندوستان نے سامان کی فراہمی ہو یا خدمات کی فراہمی، ہر بین الاقوامی عہد کو وقت پر پورا کیا۔ یہاں تک کہ سخت ترین لاک ڈاؤن کے دوران بھی برآمدات پر مبنی یونٹس نے سماجی ضوابط اور احتیاطی تدابیر پر عمل کرتے ہوئے صارفین کی خدمت جاری رکھی، جبکہ خدمات متاثر نہ ہوں، اس کے لیے براڈ بینڈ خدمات کو لوگوں کے گھروں تک پہنچایا گیا۔ عالمی کمپنیوں کے ساتھ کیے گئے خدمات کی سطح سے متعلق معاہدوں  کی بھی پاسداری کی گئی اور  ان کی شرائط پوری کی گئیں۔

2022 میں روم میں منعقدہ جی20 سربراہی اجلاس کو یاد کرتے ہوئے جناب گوئل نے کہا کہ عالمی رہنماؤں نے وزیر اعظم جناب نریندر مودی کی تعریف کرتے ہوئے ہندوستان کو دنیا کے ایک قابلِ اعتماد شراکت دار کے طور پر بیان کیا تھا۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ حال ہی میں کئی کریڈٹ ریٹنگ ایجنسیوں نے ہندوستان کی کریڈٹ ریٹنگ میں بہتری کی ہے۔

وزیر موصوف نے کہا کہ ہندوستانی صنعت جدید ترین ٹیکنالوجی کے ذریعے سبقت برقرار رکھنے، پائیداری کے اہداف کے حصول کے لیے کاربن کے اخراج میں کمی کی سمت پیش رفت کرنے اور ایسی مزدور اصلاحات سے فائدہ اٹھانے پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہے جو صنعت کو ترقی کرنے کے قابل بناتے ہوئے ہندوستانی مزدوروں کو سماجی تحفظ، بہتر تنخواہیں، اجرت اور بہتر طرزِ زندگی کے لیے ضروری سہولیات فراہم کرتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کاروبار کرنے میں آسانی سے متعلق اقدامات، بہتر حکمرانی اور صنعت و حکومت کے درمیان بات چیت کے فروغ کے لیے مسلسل کام کر رہی ہے، تاکہ صنعت کی امنگوں اور ضروریات کے ساتھ ساتھ ان سخت عالمی معیارات پر بھی پورا اترا جا سکے جنہیں ہندوستان اب اپنانے اور ان کے ساتھ ہم آہنگ ہونے کے لیے تیار ہے۔

شراکت داری سربراہی اجلاس(پارٹنرشپ سمٹ) کے موضوع کا حوالہ دیتے ہوئے جناب گوئل نے کہا کہ یہ موضوع ان پانچ ’’ٹی‘‘ سے گہرا تعلق رکھتا ہے، جن کا انہوں نے وشاکھاپٹنم میں 2025 کے سربراہی اجلاس کے دوران ذکر کیا تھا: ٹیکنالوجی، اعتماد، تجارت، صلاحیت اور روایت۔ انہوں نے کہا کہ یہ پانچ ’’ٹی‘‘ مضبوط شراکت داری کی عکاسی کرتے ہیں اور تجارت، ٹیکنالوجی، اعتماد اور فکری قیادت ہندوستان کی ترقی کی داستان کی نمایاں خصوصیات اور بنیادی عناصر بنتے جا رہے ہیں۔

جناب گوئل نے شراکت داری سربراہی اجلاس کی اہمیت کو بھی اجاگر کیا اور کہا کہ یہ ہندوستان کی کامیابیوں کا جشن منانے، ہندوستان کی ترقی کی داستان دنیا کے سامنے پیش کرنے اور دنیا بھر کے ممالک اور وفود کے ساتھ مضبوط روابط قائم کرنے کا ایک اہم موقع ہے۔

وزیر موصوف نے کہا کہ ہندوستان آزمائش اور مشکل وقت میں اپنے دوستوں کے ساتھ مضبوطی سے کھڑا رہے گا۔ یہ ہندوستانی تہذیب و اقدار کے ’’وسودھیو کٹمبکم‘‘ کے جذبے کی عکاسی کرتا ہے، جس کے تحت پوری دنیا کو ایک خاندان سمجھا جاتا ہے۔

جناب گوئل نے آندھرا پردیش میں ٹیکنالوجی پر مبنی ترقی اور حکمرانی کے لیے آندھرا پردیش کے وزیر اعلیٰ جناب این۔ چندرا بابو نائیڈو کی بھی ستائش کی۔ انہوں نے آندھرا پردیش کو ملک کی ’’سن رائز اسٹیٹ ‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ جب مرکزی اور ریاستی حکومتیں شراکت داروں کی حیثیت سے مل کر کام کرتی ہیں تو عوام ترقی کرتے ہیں اور آندھرا پردیش کے عوام کی خوشحالی میں اضافہ ہوتا ہے۔

جناب گوئل نے کہا کہ گوگل کا پہلا مصنوعی ذہانت(اے آئی ) مرکز وشاکھاپٹنم میں قائم کیا جا رہا ہے، جہاں شراکت داری سربراہی اجلاس(پارٹنرشپ سمٹ)  منعقد ہوگا، جبکہ امراوتی ایک کوانٹم وادی (ویلی )کے طور پر ابھر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جناب چندرا بابو نائیڈو آندھرا پردیش میں سرمایہ کاری اور ترقی کو فروغ دینے، کاروبار کرنے میں آسانی کو یقینی بنانے اور ریاست کے ہر فرد کی بہبود و فلاح پر مسلسل توجہ مرکوز کیے ہوئے ہیں۔

انہوں نے اسے ’’ٹیم انڈیا کی بہترین کارکردگی‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ مرکز اور ریاست مل کر کام کر رہے ہیں، مرکزی حکومت آزاد تجارتی معاہدوں اور دیگر مواقع کے ذریعے عالمی مارکیٹوں  کے دروازے کھول رہی ہے اور آندھرا پردیش ان مواقع کو کارخانوں، ڈیٹا مراکز اور روزگار کے مواقع میں تبدیل کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آندھرا پردیش اور اس کے عوام نے ملک کے اندر اور دنیا بھر میں اپنی کامیابیوں کے ذریعے ہندوستان کا سر فخر سے بلند کیا ہے۔ مصنوعی ذہانت، کوانٹم کمپیوٹنگ اور ٹیکنالوجی کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ پر ہونے والی گفتگو کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے دنیا بھر میں اپنی منتخب پیشہ ورانہ شعبوں میں آندھرا پردیش کے لوگوں کی خدمات اور اعداد و شمار، سائنس، ٹیکنالوجی اور ریاضی کے شعبوں میں ان کی صلاحیتوں کو اجاگر کیا۔

جناب گوئل نے اپنی بات کا اختتام کرتے ہوئے کہا کہ آج ہندوستان بلند عزائم رکھنے والا ملک ہے، ہندوستانی کاروباری طبقہ پُراعتماد ہے اور ملک دنیا بھر میں وقار حاصل کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ 140 کروڑ عوام کا عزم ہندوستان کو آگے بڑھا رہا ہے اور اعتماد ظاہر کیا کہ پارٹنرشپ سمٹ کا 31واں ایڈیشن ہندوستان اور ہندوستانی صنعت کی ترقی کی داستان میں ایک اور سنگ میل ثابت ہوگا، کیونکہ ملک 30 ٹریلین امریکی ڈالر کی معیشت والا ترقی یافتہ ملک بننے کی جانب تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے۔

.......................

) ش ح –    ش آ-   ن ع)

U.No. 4836


(ریلیز آئی ڈی: 2320821) وزیٹر کاؤنٹر : 4
یہ ریلیز پڑھیں: English , हिन्दी , Gujarati