کامرس اور صنعت کی وزارتہ
کامرس سکریٹری راجیش اگروال نے بھارت-ای ایف ٹی اے ٹی ای پی اے کے مواقع سے بھرپور فائدہ اٹھانے پر زوردیا
بھارت-ای ایف ٹی اے ٹی ای پی اے سے وسیع تر منڈیوں تک رسائی، بھارت کی99.6 فیصد برآمدات اس کے دائرے میں شامل: کامرس سکریٹری
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
07 OCT 2026 4:07PM by PIB Delhi
کامرس سکریٹری جناب راجیش اگروال نے آج نئی دہلی میں بھارت-یورپی آزاد تجارتی ایسوسی ایشن (ای ایف ٹی اے) تجارتی اور اقتصادی شراکت داری معاہدے (ٹی ای پی اے) کے تحت دستیاب مواقع سے فائدہ اٹھانے کی حوصلہ افزائی کے لیے بڑے برآمد کنندگان کے لیے منعقدہ آگاہی تقریب میں برآمدات کے فروغ سے متعلق کونسلوں، صنعتی تنظیموں اور برآمد کنندگان کے ساتھ ساتھ ای ایف ٹی اے رکن ممالک سے تعلق رکھنے والے کاروباری نمائندگان سے خطاب کیا۔ یہ تقریب دوسری بھارت-ای ایف ٹی اے خوشحالی سربراہ کانفرنس 2026 کا حصہ تھی اور اس کا انعقاد کامرس محکمہ نے کیا تھا۔
ٹی ای پی اےیکم اکتوبر 2025 کو نافذ ہوا تھا۔ جناب اگروال نے کہا کہ معاہدے کے پہلے سال کی تکمیل کے موقع پر تمام چار ای ایف ٹی اے رکن ممالک،آئس لینڈ،لِختِنشٹائن، ناروے اور سوئزرلینڈکے رہنما نئی دہلی میں موجود ہیں اور آئندہ کا لائحۂ عمل طے کرنے میں رہنمائی کریں گے۔
جناب اگروال نے کہا کہ بھارت اور ای ایف ٹی اے رکن ممالک نے ایک دوسرے کے لیے اپنی منڈیاں کھول دی ہیں۔ ای ایف ٹی اے کی جانب سے 92.2 فیصد محصولات کی مدوں کا احاطہ کیا گیا ہے، جو بھارت کی 99.6 فیصد برآمدات پر محیط ہیں، جبکہ غیر زرعی مصنوعات کا مکمل احاطہ کیا گیا ہے۔ بھارت کی جانب سے 82.7 فیصد محصولات کی مدوں کا احاطہ کیا گیا ہے، جو ای ایف ٹی اے کی 95.3 فیصد برآمدات پر محیط ہیں۔
کامرس سکریٹری نے کہا کہ یہ معاہدہ صرف محصولات تک محدود نہیں ہے۔ کاروباری شعبے کے لیے اس کا سب سے اہم پہلو مستقبل کے حوالے سے یقین دہانی ہے۔ محصولات مستقبل قریب میں مستحکم رہیں گے اور اچانک کسی تبدیلی کا سامنا نہیں ہوگا۔ اس طرح کاروباری ادارے اعتماد کے ساتھ سرمایہ کاری کر سکتے ہیں، سپلائی چین قائم کر سکتے ہیں اور مستقبل کے لیے منصوبہ بندی کر سکتے ہیں۔ انہوں نے بھارتی کمپنیوں پر زور دیا کہ وہ ای ایف ٹی اے رکن ممالک کے کاروباری اداروں کے ساتھ شراکت داری کریں اور خام مال سے لے کر تیار مصنوعات تک مشترکہ طور پر قدر کی زنجیریں تشکیل دیں، تاکہ دونوں جانب قابلِ اعتماد کاروباری نظام کو مزید مضبوط بنایا جا سکے۔
جناب اگروال نے کہا کہ ای ایف ٹی اے رکن ممالک زیادہ آمدنی والی منڈیاں ہیں، جہاں معیار کا تقاضا بھی ہے اور اسے قدر کی نگاہ سے بھی دیکھا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا،‘‘اگر آپ اس منڈی کے لیے معیاری مصنوعات تیار کرنے کے قابل ہیں تو آپ کسی بھی دوسری منڈی کے لیے بھی تیار ہیں۔’’ ان منڈیوں میں حاصل کیا گیا معیار ہر دوسری منڈی میں بھی سراہا اور قدر کی نگاہ سے دیکھا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ ان زیادہ کھپت والی منڈیوں میں زرعی شعبے کے لیے بھی برآمدات کے وسیع مواقع موجود ہیں، جہاں بہت سی مصنوعات پر محصولات کم ہو کر صفر ہو گئے ہیں۔ برآمد کنندگان کو چاہیے کہ وہ ایسی مصنوعات کی شناخت کریں اور ای ایف ٹی اے رکن ممالک کو طویل مدتی بنیاد پر ان کی فراہمی کا انتظام کریں۔
کامرس سکریٹری نے کہا کہ ای ایف ٹی اے رکن ممالک مجموعی طور پر ہر سال نصف ٹریلین امریکی ڈالر سے زائد مال اور خدمات درآمد کرتے ہیں، جو بھارت کی برآمدات کے لیے ایک اہم منڈی فراہم کرتا ہے۔
جناب اگروال نے برآمدات کے فروغ سے متعلق کونسلوں، صنعتی تنظیموں اور ریاستی حکومتوں پر زور دیا کہ وہ معاہدے سے پیدا ہونے والے مواقع کو ملک کے ہر حصے کے کاروباری اداروں تک پہنچائیں، تاکہ وہ یہ سمجھ سکیں کہ آزاد تجارتی معاہدہ کیا مواقع فراہم کرتا ہے۔ انہوں نے ان سے کہا کہ آئندہ پانچ برسوں کے لیے ہر منڈی میں ہر شراکت دار ملک کے ساتھ ایک عملی منصوبہ تیار کیا جائے، جس میں یہ واضح ہو کہ بھارت ہر منڈی میں کس طرح اپنی موجودگی اور کاروبار کو وسعت دے گا اور کن غیر محصولاتی مسائل کو حل کرنے کی ضرورت ہوگی۔
انہوں نے کہا،‘‘مقصد یہ نہیں ہے کہ ای ایف ٹی اے ممالک کے کاروباری ادارے صرف بھارت کو اپنی منڈی کی توسیع کے طور پر دیکھیں۔ مقصد یہ بھی ہے کہ بھارت کے کاروباری ادارے ای ایف ٹی اے ممالک کی منڈی کو اپنی منڈی کی توسیع کے طور پر دیکھیں۔’’
کامرس سکریٹری نے کہا کہ ایک اہم خصوصیت جو ٹی ای پی اے کو دیگر معاہدوں سے ممتاز کرتی ہے، وہ اس میں شامل سرمایہ کاری کا عزم ہے۔ معاہدے کے آرٹیکل 7.1 کے تحت، ‘‘ای ایف ٹی اے رکن ممالک کا مقصد ہے کہ اس معاہدے کے نافذ ہونے کی تاریخ سے 10 برس کے اندر ای ایف ٹی اے رکن ممالک کے سرمایہ کاروں کی جانب سے بھارت میں براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری میں 50 ارب امریکی ڈالر کا اضافہ کیا جائے اور اس کے بعد مزید 5 برسوں میں مزید50 ارب امریکی ڈالر کی سرمایہ کاری کی جائے’’، اور‘‘بھارت میں 15 برس کے اندر 10 لاکھ روزگار کے مواقع پیدا کرنے میں سہولت فراہم کرنے کا ہدف رکھا جائے’’۔
جناب اگروال نے کہا کہ بھارت ایک تیزی سے بڑھتی ہوئی منڈی ہے، جہاں مختلف شعبوں میں سرمایہ کاری کے وسیع مواقع موجود ہیں، اور دونوں جانب مزید گہری کاروباری شراکت داری کے ذریعے سرمایہ کاری کو اس سطح سے بھی آگے لے جایا جا سکتا ہے۔
*******
) ش ح – رک )
U.NO- 4776
(ریلیز آئی ڈی: 2320212)
وزیٹر کاؤنٹر : 14