ماحولیات، جنگلات اور موسمیاتی تبدیلی کی وزارت
پری-کوپ 31 میں بھارت کا موافقت، تخفیف اور عمل درآمد کے ذرائع پر یکساں توجہ دینے پر زور
’ایک ہی طریقہ سب کے لیے موزوں‘ نہیں ہو سکتا؛ بامعنی اور پائیدار ماحولیاتی اقدام کے لیے مساوات اور سی بی ڈی آر-آر سی ناگزیر: جناب بھوپیندر یادو
بھارت نے بحرالکاہل کے شراکت دار ممالک کے ساتھ ساحلی مضبوطی اور خلائی ٹیکنالوجی سے متعلق اپنی مہارت شیئر کرنے کی پیشکش کی
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
06 OCT 2026 4:22PM by PIB Delhi
مرکزی وزیر برائے ماحولیات، جنگلات اور موسمیاتی تبدیلی جناب بھوپیندر یادو آسٹریلیا، فجی اور تووالو کی مشترکہ میزبانی میں منعقد ہونے والےیو این ایف سی سی سی کے پری-کوپ 31 اجلاسوں میں بھارتی وفد کی قیادت کر رہے ہیں۔

فجی میں قائدین کے مکمل اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے مرکزی وزیر نے آج دنیا کے کوپ 31 کی جانب بڑھنے کے دوران موافقت، تخفیف اور عمل درآمد کے ذرائع پر یکساں توجہ دینے پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ مختلف ممالک میں بامعنی اور پائیدار موسمیاتی اقدامات کے لیے مساوات اور مشترکہ مگر مختلف ذمہ داریوں اور متعلقہ صلاحیتوں (سی بی ڈی آر-آر سی) کے اصولوں کو ان کی روح اور الفاظ کے مطابق برقرار رکھنا ضروری ہے۔
جناب یادو نے زور دے کر کہا کہ موسمیاتی اقدامات کے لیے ’ایک ہی طریقہ سب کے لیے موزوں‘ نہیں ہو سکتا۔ انہوں نے کہا کہ ابھرتے ہوئے علاقائی چیلنجوں کے حل تلاش کرنے کے لیے مقامی مطالعات اور جائزے اہم ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہی حل درکار تخفیف اور موافقت کے اقدامات اور ان کے لیے متناسب وسائل کی ضرورت کی نشاندہی کرتے ہیں۔
مرکزی وزیر نے کہا کہ بھارت اپنی وسیع ساحلی پٹی اور جزائر کے باعث بحرالکاہل کے جزائر پر مشتمل ممالک کو درپیش چیلنجوں کو بخوبی سمجھتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ بھارت نے اپنی ممتاز تنظیموں اور اداروں، جن میں بھارتی خلائی تحقیق تنظیم(اسرو) ، نیشنل سینٹر فار سسٹین ایبل کوسٹل مینجمنٹ(این سی ایس سی ایم) اور نیشنل سینٹر فار کوسٹل ریسرچ (این سی سی آر) شامل ہیں، ان کے ذریعے سمندری سائنس کے شعبے میں وسیع معلوماتی بنیاد اور مہارت تیار کی ہے۔

جناب یادو نے کہا کہ بھارت نے ساحلی علاقوں کی خطرات سے دوچار ہونے کی کیفیت کے جائزے، ساحلی خطِ آب میں تبدیلیوں کی نقشہ سازی، سمندری حدود کے استعمال سے متعلق منصوبوں کی تیاری، ساحلی علاقوں کے مربوط انتظامی منصوبوں اور بلیو اکانومی کی صلاحیتوں سے استفادہ کرنے کے شعبوں میں علم اور مہارت حاصل کی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ بھارت ساحلی خطِ آب کی نگرانی، زیرِ آب آنے والے علاقوں کے جائزے، سمندری طوفانوں اور شدید موسمی حالات کی پیشگی وارننگ اور موسمیاتی خطرات کے جائزے کے لیے اپنے خلائی ماحولیاتی نظام، زمین کے مشاہدے کی صلاحیتوں اور خلائی بنیاد پر ایپلی کیشنز کا بھی استعمال کر رہا ہے۔ انہوں نے بحرالکاہل کے شراکت دار ممالک کے ساتھ یہ علم اور مہارت بانٹنے کی پیشکش کی۔
وزیرموصوف نے کہا کہ بھارت ہمیشہ اپنے بحرالکاہل کے شراکت دار ممالک کے ساتھ مضبوطی سے کھڑا رہا ہے اور صحت و بہبود، قابل تجدید توانائی، لچکدار بنیادی ڈھانچے، پیشگی وارننگ، آئی ٹی، زراعت اور صلاحیت سازی سمیت مختلف شعبوں میں ان کے ساتھ قریبی تعاون کر رہا ہے۔ جناب یادو نے تووالو کے اپنے دورے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ’تووالو کوسٹل اڈاپٹیشن پروجیکٹ‘ اس امر کی واضح مثال ہے کہ بین الاقوامی تعاون، بالخصوص عمل درآمد کے ذرائع کی فراہمی، کس طرح زمینی سطح پر عملی طور پر لچک پیدا کر سکتی ہے۔ وزیر موصوف نے اس بات کا اعادہ کیا کہ اس تجربے نے ابھرتے ہوئے موسمیاتی چیلنجوں کے لیے مقامی حل تلاش کرنے کی اہمیت کو مزید اجاگر کیا ہے۔

پری-کوپ ایک تیاری اجلاس ہے، جو اقوام متحدہ کی موسمیاتی تبدیلی سے متعلق سالانہ کانفرنس سے چند ہفتے قبل منعقد کیا جاتا ہے۔ اس سال یہ کانفرنس نومبر میں انطالیہ، ترکیہ میں منعقد ہوگی۔
*****
ش ح۔ ا ع خ ۔ ج
uno-4712
(ریلیز آئی ڈی: 2319708)
وزیٹر کاؤنٹر : 7