وزیراعظم کا دفتر
azadi ka amrit mahotsav

وزیراعظم کا سوئٹزرلینڈ کے صدر کے ساتھ مشترکہ پریس بیان کے دوران دیئے گئےخطاب کا متن

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 05 OCT 2026 2:26PM by PIB Delhi

جناب صدر محترم،

دونوں ممالک کے معزز وفود،

میڈیا کے ساتھیو،

نمسکار!

مجھے سوئٹزرلینڈ کے صدر محترم کا بھارت میں پرتپاک خیرمقدم کرتے ہوئے بے حد خوشی ہو رہی ہے۔

سب سے پہلے، میں بھارت-سوئٹزرلینڈ تعلقات کے  لئے ان کے عزم کی ستائش کرتا ہوں۔ گزشتہ سال اکتوبر میں، ان کی ذاتی حمایت سے، ہم نے بھارت اور یورپین فری ٹریڈ ایسوسی ایشن، یعنی ای ایف ٹی اے ممالک کے درمیان ایک تاریخی تجارتی اور اقتصادی شراکت داری معاہدہ نافذ کیا۔ یہ یوروپ کے کسی بھی اقتصادی بلاک کے ساتھ بھارت کا پہلا آزاد تجارتی معاہدہ (ایف ٹی اے) ہے۔

یہ سرمایہ کاری، جدت، روزگار اور مشترکہ خوشحالی کا ایک پُرعزم منصوبہ بھی ہے۔ اس کے ذریعے ہم اگلے 15 برس میں بھارت میں 100 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری اور 10 لاکھ براہِ راست ملازمتوں کے اہداف کو عملی جامہ پہنائیں گے۔

دوستو،

بھارت اور سوئٹزرلینڈ کی دوستی صدیوں پرانی ہے۔ انیسویں صدی میں سوامی وویکانند نے سوئس الپس میں ہمالیہ کی جھلک دیکھی تھی۔ مہاتما گاندھی نے بھی سوئٹزرلینڈ میں وقت گزارا اور وہاں کے لوگوں سے مکالمہ کیا۔ ان تاریخی سفر کی یادیں آج بھی ہماری دوستی میں گونجتی ہیں۔

آج جدت، بنیادی ڈھانچہ اور جدید ٹیکنالوجی ہماری شراکت داری کے مضبوط ستون ہیں۔ اور آج کی اس سربراہ ملاقات کے ذریعے ہم اپنی شراکت داری کو ایک نئی رفتار اور نئی بلندی دینے جا رہے ہیں۔

دوستو،

ہم نے سوئٹزرلینڈ میں بھارتی برآمدات کے لئے مارکیٹ تک رسائی بڑھانے اور دونوں ممالک کے درمیان سرمایہ کاری کو مزید آسان بنانے کے لئے کئی اہم فیصلے کئے ہیں۔

اس سے سوئٹزرلینڈ کو بھارت کی زرعی مصنوعات، ادویات، ٹیکسٹائل اور انجینئرنگ مصنوعات کی برآمدات میں اضافہ ہوگا۔ اس کے ساتھ ساتھ، بھارت کے بایوٹیک، لائف سائنسز، بینکاری، انشورنس، فوڈ پروسیسنگ اور پائیداری جیسے اہم شعبوں میں ہم نئی سوئس سرمایہ کاری کو راغب کریں گے۔

ان اقدامات کے ذریعے ہم مل کر پوری دنیا کے لئے قابل اعتماد سپلائی چینز اور قابل بھروسہ حل تیار کریں گے۔

دوستو،

آج ہم نے فوجی تبادلوں اور دفاعی پیداوار کے شعبے میں تعاون کے نئے امکانات کی نشاندہی کی۔ جوہری توانائی کے شعبے میں تعاون کو مزید مضبوط بنانے پر بھی اتفاق ہوا۔

وارانسی کا روپ وے، نوئیڈا کا جیور ایئرپورٹ اور پہاڑی علاقوں میں ریلوے اور سرنگ سازی کے منصوبے، ہمارے بنیادی ڈھانچے کے تعاون کی روشن مثالیں ہیں۔ اس تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے لیے آج ہم نے ٹرانسپورٹ، نقل و حمل اور بنیادی ڈھانچے کے شعبوں میں ایک معاہدہ کیا ہے۔

ہم سوئٹزرلینڈ کی بنیادی ڈھانچے سے متعلق کمپنیوں کو بھارت میں بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کرنے اور صلاحیت سازی، ڈیزائن اور مینوفیکچرنگ میں شراکت داری کے لئے مدعو کرتے ہیں۔

دوستو،

سائنس اور ٹیکنالوجی میں تعاون بھی ہماری شراکت داری کا ایک مضبوط ستون ہے۔ مجھے بہت خوشی ہے کہ ہم جلد ہی صحت، صاف توانائی اور خلائی تحقیق جیسے ترجیحی شعبوں میں نئے مشترکہ تحقیقی منصوبے شروع کرنے جا رہے ہیں۔ ہم بھارتی سائنس اسٹارٹ اَپس کی استعداد سازی کے لئے زیورخ یونیورسٹی کے ساتھ ہونے والے معاہدے کا بھی خیرمقدم کرتے ہیں۔

سوئٹزرلینڈ میں یوگ اور آیوروید کی بڑھتی ہوئی مقبولیت کے پیشِ نظر، آج ہم نے ان شعبوں میں تعاون کو مزید مضبوط بنانے پر بھی بامعنی تبادلۂ خیال کیا۔

دوستو،

عوامی سطح پر باہمی روابط ہماری شراکت داری کی سب سے بڑی طاقت ہیں۔ آج طے پانے والے مائیگریشن اور موبیلیٹی پارٹنرشپ معاہدے اور نوجوان پیشہ ور افراد کے معاہدے سے بھارت کے طلبہ، محققین، پیشہ ور افراد اور نوجوانوں کے لئے سوئٹزرلینڈ میں کئی نئے مواقع پیدا ہوں گے۔

دوستو،

بھارت اور سوئٹزرلینڈ، دونوں جمہوری اقدار، قانون کی حکمرانی، مکالمے اور سفارت کاری پر یقین رکھتے ہیں۔ ہم امن عالم اور استحکام کے لئے مل کر کام کرتے رہیں گے۔

چاہے یوکرین ہو یا مغربی ایشیا، بھارت امن کے لیے کی جانے والی ہر بامعنی کوشش کی حمایت کرتا رہا ہے۔

ہم اس بات پر بھی متفق ہیں کہ بڑھتے ہوئے عالمی چیلنجز کے حل کے لیے عالمی اداروں میں اصلاحات ناگزیر ہیں۔

دوستو،

میں سوئٹزرلینڈ کے صدر کا شکر گزار ہوں کہ وہ ایک بڑے کاروباری وفد کے ساتھ بھارت آئے ہیں۔ 7 اکتوبر کو ہم ان کی موجودگی میں بھارت اور ای ایف ٹی اے کے کاروباری رہنماؤں کے ساتھ پراسپیریٹی سمٹ منعقد کرنے جا رہے ہیں۔ یہ سربراہ اجلاس ہماری تجارت اور سرمایہ کاری کی شراکت داری کے وعدوں کو ٹھوس نتائج میں تبدیل کرنے کے لیے ایک اہم پلیٹ فارم ثابت ہوگا۔ میں اس سربراہ اجلاس میں شرکت کرنے والے تمام کاروباری رہنماؤں کے لئے بھی نیک خواہشات کا اظہار کرتا ہوں۔

جناب صدرمحترم،

اس سال فروری میں بھارت نے دنیا کی سب سے بڑی مصنوعی ذہانت (اے آئی) سربراہ کانفرنس کا انعقاد کیا۔ اگلے سال سوئٹزرلینڈ جنیوا اے آئی سمٹ کے ذریعے اس سفر کو آگے بڑھائے گا۔ جنیوا اے آئی سمٹ کی کامیابی کے لئے میں سوئٹزرلینڈ کو دلی طور پر نیک خواہشات پیش کرتا ہوں۔ مجھے یقین ہے کہ ہم مل کر اے آئی کو ذمہ دار، جامع اور انسان مرکوز بنانے کی سمت میں آگے بڑھتے رہیں گے۔

ایک بار پھر، بھارت کے اس دورے کے لئے اور بھارت-سوئٹزرلینڈ تعلقات کے مضبوط حامی رہنے کے لیے، آپ کا بہت بہت شکریہ۔

***

ش ح۔ ک ا۔ ن ع

U.NO.4642


(ریلیز آئی ڈی: 2319175) وزیٹر کاؤنٹر : 10