سٹرک ٹرانسپورٹ اور شاہراہوں کی وزارت
مرکزی وزیر جناب نتن گڈکری نے ‘چِنتن شِور 2026’ کا افتتاح کیا، مستقبل کے لیے تیار شاہراہوں سے منسلک بنیادی ڈھانچے کا ایجنڈا طے کیا
‘گتی شکتی سے پرگتی’ کے موضوع پر دو روزہ قومی کنکلیو؛ مربوط منصوبہ بندی، محفوظ اور ماحول دوست شاہراہوں، سڑکوں کی حفاظت، ٹول نظام میں اصلاحات اور معیاری منصوبوں کی تکمیل پر خصوصی توجہ
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
05 OCT 2026 2:19PM by PIB Delhi
سڑک نقل و حمل اور شاہراہوں کے مرکزی وزیر جناب نتن گڈکری نے آج گجرات کے نرمدا ضلع کے ایکتا نگر میں واقع ٹینٹ سٹی 2 میں ‘‘چنتن شِور 2026- شاہراہوں سے منسلک بنیادی ڈھانچے سے متعلق قومی کنکلیو’’ کا افتتاح کیا۔ اس کے ساتھ ہی بھارت کے شاہراہوں سے منسلک بنیادی ڈھانچے کو مزید مضبوط بنانے کے لیے دو روزہ خصوصی غور و خوض کے اجلاس کی سمت طے ہوئی۔ ‘گتی شکتی سے پرگتی’ کے نعرے کے تحت منعقد ہونے والے اس چنتن شِور میں ریاستوں کے ٹرانسپورٹ اور تعمیراتِ عامہ کے وزراء، ریاستی تعمیراتِ عامہ کے محکموں کے اعلیٰ افسران، عمل درآمد کرنے والی ایجنسیاں اور دیگر متعلقہ فریق شرکت کر رہے ہیں۔ اجلاس (کنکلیو)میں شاہراہوں کی ترقی، منصوبوں کے نفاذ اور بنیادی ڈھانچے کی تکمیل سے متعلق اہم امور پر غور و خوض کیا جا رہا ہے۔ سڑک نقل و حمل اور شاہراہوں کے وزیر مملکت جناب ہرش ملہوترا نے بھی افتتاحی اجلاس سے خطاب کیا۔

افتتاحی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے جناب گڈکری نے کہا کہ چنتن شِور مرکز اور ریاستوں کو مل کر غور و فکر کرنے، زمینی سطح کے تجربات کا تبادلہ کرنے اور شاہراہوں کی ترقی کے شعبے میں ابھرتے ہوئے چیلنجوں کے عملی حل تلاش کرنے کے لیے مشترکہ طور پر کام کرنے کا ایک اہم پلیٹ فارم فراہم کرتا ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ مختلف ریاستوں میں اپنائے گئے کامیاب طریقۂ کار کو باہم شیئر کیا جانا، ان کا جائزہ لیا جانا اور جہاں مناسب ہو، انہیں دوسری جگہوں پر بھی اختیار کیا جانا چاہیے، تاکہ پورے ملک میں منصوبوں کے بہتر نفاذ اور بنیادی ڈھانچے کے بہتر نتائج کو یقینی بنایا جا سکے۔


وزیر موصوف نے زور دے کر کہا کہ شاہراہوں کی ترقی میں معیار، تحفظ، رفتار اور عالمی معیار کے اصولوں کو ترجیح دی جانی چاہیے۔ انہوں نے تفصیلی منصوبہ رپورٹ (ڈی پی آر) کے مرحلے پر پیشگی منصوبہ بندی اور مکمل تیاری پر زیادہ توجہ دینے پر زور دیا، جس میں مناسب سروے، سڑک کی سمت کا تعین، اراضی کا حصول، یوٹیلیٹی خدمات کی منتقلی اور بروقت قانونی منظوری حاصل کرنا شامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ ابتدائی مرحلے میں بہتر تیاری سے تاخیر کو کم کرنے، لاگت میں اضافے سے بچنے اور شاہراہوں سے منسلک منصوبوں کی کارکردگی بہتر بنانے میں مدد مل سکتی ہے۔
جناب گڈکری نے اس بات پر زور دیا کہ شاہراہوں کی منصوبہ بندی اور منصوبوں کے ڈیزائن میں ابتدا ہی سے سڑکوں کے تحفظ کو شامل کیا جانا چاہیے۔ حادثات کے زیادہ خطرے والے مقامات کی نشاندہی اور منصوبہ بندی و تعمیر کے مراحل کے دوران مناسب حفاظتی اقدامات شامل کرنے سے شاہراہوں کو مزید محفوظ بنانے اور سڑک حادثات میں کمی لانے میں مدد مل سکتی ہے۔


قومی اقتصادی ترقی کے لیے شاہراہوں سے منسلک بنیادی ڈھانچے کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے وزیر موصوف نے کہا کہ جدید شاہراہوں کو شہروں، قصبوں، بندرگاہوں، بازاروں اور صنعتی مراکز کے درمیان بلارکاوٹ رابطہ فراہم کرنا چاہیے۔ بہتر رابطے سے تجارت، سرمایہ کاری، روزگار اور مجموعی اقتصادی سرگرمیوں کو فروغ ملتا ہے۔ انہوں نے ملک کی بڑھتی ہوئی ترقیاتی اور آمدورفت کی ضروریات کے مطابق بنیادی ڈھانچے کی بروقت تکمیل کو یقینی بنانے کے لیے مرکز، ریاستوں اور عمل درآمد کرنے والی ایجنسیوں کے درمیان مربوط کوششوں پر زور دیا۔

دو روزہ چنتن شِور میں مختلف اہم موضوعات پر اجلاس منعقد ہوں گے، جن میں پی ایم گتی شکتی اور مربوط بنیادی ڈھانچے کی منصوبہ بندی، اراضی کا حصول اور بھومی راشی، ماڈل رعایتی معاہدے اور درجہ بندی، محفوظ اور ماحول دوست شاہراہوں کی ڈیزائننگ، سڑکوں کا تحفظ اور ٹول نظام میں اصلاحات، نیز معیار کی یقین دہانی اور منصوبوں کی نگرانی شامل ہیں۔ ان اجلاسوں کا مقصد منصوبوں کے نفاذ میں درپیش چیلنجوں سے نمٹنا، بہترین طریقۂ کار کا تبادلہ کرنا اور شاہراہوں کی ترقی کو مزید مؤثر بنانے کے لیے ایسے عملی اور قابلِ تکرار (ریپلی کیبل)حل تلاش کرنا ہے جنہیں مختلف مقامات پر اختیار کیا جا سکے۔
وزیر موصوف نے معیار کو بہتر بنانے اور تعمیر و دیکھ بھال کی لاگت کم کرنے کے لیے نئی ٹیکنالوجیز، جدید تعمیراتی طریقوں اور کم لاگت والے تعمیراتی مواد کو وسیع پیمانے پر اپنانے پر بھی زور دیا۔ انہوں نے ریاستوں اور عمل درآمد کرنے والی ایجنسیوں کی حوصلہ افزائی کی کہ وہ اختراعات اور زمینی سطح پر اختیار کیے جانے والے حل ایک دوسرے کے ساتھ شیئر کریں۔ انہوں نے شاہراہوں کی تعمیر اور دیکھ بھال میں تحقیق، ٹیکنالوجی اور مسلسل بہتری کی اہمیت پر بھی زور دیا۔
پائیداری اور ماحولیاتی ذمہ داری چنتن شِور کے ایجنڈے کا ایک اہم حصہ ہیں۔ جناب گڈکری نے ماحول دوست تعمیراتی طریقوں کو فروغ دینے اور جدید و ری سائیکل شدہ مواد کے زیادہ سے زیادہ استعمال کی ضرورت پر زور دیا، ساتھ ہی ماحولیات اور جنگلی حیات کے تحفظ کے لیے مناسب اقدامات یقینی بنانے کی بات کہی۔ اسی سلسلے میں افتتاحی اجلاس کے دوران ’ماحولیاتی و جنگلی حیات کے تحفظ کے لیے تلافیاتی اقدامات‘ (میٹی گیشن میزرس)سے متعلق ایک دستاویز بھی جاری کی گئی۔

اجلاس کے دوران پائیدار نقل و حمل کے بارے میں نقطۂ نظر سے متعلق ’برکس کمپینڈیم‘ بھی جاری کیا گیا۔ اس میں نقل و حمل کے شعبے میں پائیدار طریقۂ کار سے متعلق مختلف نقطۂ نظر کو یکجا کیا گیا ہے، جس سے مستقبل کی ضروریات کے مطابق بنیادی ڈھانچے پر ہونے والے غور و خوض کو بین الاقوامی تناظر بھی حاصل ہوا ہے۔
جناب گڈکری نے شاہراہوں پر سفر کو زیادہ مؤثر اور سہل بنانے کے لیے ٹیکنالوجی پر مبنی اصلاحات کو بھی اجاگر کیا، جن میں فاسٹ ٹیگ سالانہ پاس اور ملٹی- لین فری فلو(ایم ایل ایف ایف) شامل ہیں۔ یہ اقدامات ٹول وصولی کے نظام کو جدید بنانے، ٹریفک کی روانی بہتر کرنے اور شاہراہ استعمال کرنے والوں کے مجموعی سفری تجربے کو بہتر بنانے پر وزارت کی مسلسل توجہ کی عکاسی کرتے ہیں۔

افتتاحی اجلاس میں آئندہ ہونے والے غور و خوض کے لیے وسیع تر سمت متعین کی گئی۔ چنتن شِور مرکز اور ریاستوں کے درمیان بات چیت، تجربات اور بہترین طریقۂ کار کے تبادلے اور اختراعی و قابلِ تکرار حل تلاش کرنے کے لیے ایک پلیٹ فارم فراہم کر رہا ہے۔ دو روزہ اجلاس کے دوران ہونے والے مباحث میں منصوبوں کی بہتر منصوبہ بندی اور نگرانی، شاہراہوں کے معیار اور تحفظ میں بہتری، پائیدار بنیادی ڈھانچے کو فروغ دینے اور مستقبل کی ضروریات کے مطابق شاہراہوں سے منسلک بنیادی ڈھانچے کی تکمیل میں تیزی لانے پر توجہ دی جائے گی۔
جناب گڈکری نے تمام متعلقہ فریقوں سے اپیل کی کہ وہ مل کر محفوظ، معیاری اور مستقبل کی ضروریات کے مطابق شاہراہوں سے منسلک بنیادی ڈھانچہ تیار کرنے کی سمت میں کام کریں، تاکہ وِکسِت بھارت کے ویژن کے مطابق تیز تر اقتصادی ترقی اور بہتر رابطے کو فروغ دیا جا سکے۔
***
ش ح۔م م ۔ ع د
U-NO-4643
(ریلیز آئی ڈی: 2319137)
وزیٹر کاؤنٹر : 13