وزارت خزانہ
نئی دہلی میں 3 سے 5 اکتوبر 2026کے دوران’’تغیر کے دور میں لچک پذیری‘‘کے عنوان کے تحت 5ویں کوٹلیہ اقتصادی کانکلیو کا انعقاد ہوگا
بھارت کے نائب صدر جمہوریہ جناب سی پی رادھاکرشنن افتتاحی تقریب سے خطاب کریں گے
خزانہ و کارپوریٹ امور کی مرکزی وزیر محترمہ نرملا سیتارمن کے ای سی 2026 میں ‘بھارت کی اقتصادی ترجیحات’ کے موضوع پر خصوصی اجلاس سے خطاب کریں گی
مرکزی وزیر خارجہ ڈاکٹر ایس جے شنکر ‘بھارت اور دنیا: حالات کے مطابق خود کو ڈھالنے کی صلاحیت’ کے موضوع پر خصوصی اختتامی خطاب کریں گے
مرکزی وزیر مواصلات اور شمال مشرقی خطے کی ترقی کے وزیر جناب جیوتیرادتیہ ایم سندھیا ’کنیکٹیویٹی سے مصنوعی ذہانت تک: ڈیجیٹل معیشت کا نیا ڈھانچہ’ کے موضوع پر کلیدی خطاب کریں گے
مرکزی کابینہ وزیر برائے ثقافت و سیاحت جناب گجیندر سنگھ شیخاوت ‘ثقافت بطورسرمایہ: ورثے سے نئے افق تک’کے موضوع پر کلیدی خطاب کریں گے
تقریباً 30 ممالک سے 200 سے زائد بھارتی اور بین الاقوامی شرکا ،لچک پذیری، عالمی تقسیم، ٹیکنالوجی، تجارت، مالیات اور بھارت کی اقتصادی ترجیحات پر تبادلۂ خیال کریں گے
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
01 OCT 2026 2:31PM by PIB Delhi
نئی دہلی میں 3 سے 5 اکتوبر 2026کے دوران’’تغیر کے دور میں لچک پذیری‘‘کے عنوان کے تحت 5ویں کوٹلیہ اقتصادی کانکلیو کا انعقاد ہوگا ۔ تین روزہ اس تقریب میں اعلیٰ سطح کے پالیسی ساز، ماہرین اقتصادیات، ماہرین تعلیم، مالیاتی ماہرین اور بین الاقوامی مفکرین شرکت کریں گے۔
کوٹلیہ اقتصادی کانکلیو کے 5ویں ایڈیشن میں 180 سے زائد پالیسی ساز، ماہرین اقتصادیات، ماہرین تعلیم، مالیاتی ماہرین اور بین الاقوامی مفکرین شرکت کریں گے، جن میں تقریباً 30 ممالک سے 80 سے زائد بین الاقوامی شرکا شامل ہوں گے۔ یہ شرکا کانکلیو کے مکمل اجلاسوں، باہمی تبادلۂ خیال اور موضوعاتی گول میز اجلاسوں میں اپنے خیالات پیش کریں گے۔
انسٹی ٹیوٹ آف اکنامک گروتھ (آئی ای جی) کی بنیاد 1952 میں پروفیسر وی کے آر وی راؤ نے رکھی تھی۔ اس وقت جناب این کے سنگھ آئی ای جی کے بورڈ آف ٹرسٹیز کے صدر ہیں۔ ڈاکٹر مائیکل دیببرتا پاترا بورڈ آف گورنرز کے چیئرمین اور پروفیسر سبیا ساچی کار ادارے کے ڈائریکٹر ہیں۔
کوٹلیہ اقتصادی کانکلیو، انسٹی ٹیوٹ آف اکنامک گروتھ (آئی ای جی) کی ایک پہل ہے، جس کا انعقاد حکومت ہند کی وزارت خزانہ کے اشتراک سے کیا جاتا ہے۔ پہلی بار 2022 میں منعقد ہونے والے اس کانکلیو میں موجودہ اقتصادی اور پالیسی چیلنجز پر تبادلۂ خیال کے لیے ایک پلیٹ فارم فراہم کیا جاتا ہے۔
2022 میں آغاز کے بعد سے کوٹلیہ اقتصادی کانکلیو اقتصادی اور پالیسی چیلنجز پر مکالمے کے ایک اہم پلیٹ فارم کے طور پر ابھرا ہے۔ اس کے سابقہ ایڈیشن بالترتیب ’’مستقبل کی ازسرنو تشکیل‘‘ (2022)، ’’سلگتی دنیا میں راستہ تلاش کرنا‘‘ (2023)، ’’بھارتی عہد‘‘ (2024) اور ’’اتھل پتھل بھرے دور میں خوشحالی کی تلاش‘‘ (2025) کے موضوعات کے تحت منعقد ہوئے تھے۔
بھارت کے نائب صدر جناب سی پی رادھاکرشنن 3 اکتوبر 2026 کو افتتاحی خطاب کریں گے۔ افتتاحی اجلاس میں اس امر کا جائزہ لیا جائے گا کہ بار بار آنے والے عالمی جھٹکوں اور غیر یقینی صورتِ حال کے ماحول میں اقتصادی پالیسی کس طرح ترقی، کھلے پن یا ادارہ جاتی اعتبار کو متاثر کیے بغیر معیشت میں لچک پیدا کرسکتی ہے۔
’’تغیر کے دور میں لچک پذیری: بھارت کی اقتصادی ترجیحات‘‘ کے موضوع پر خصوصی مکمل اجلاس میں اس بات پر توجہ مرکوز کی جائے گی کہ عالمی تقسیم، تکنیکی تبدیلی اور بار بار آنے والے جھٹکوں کے درمیان بھارت کس طرح ترقی کی رفتار برقرار رکھ سکتا ہے، معاشی استحکام کو برقرار رکھ سکتا ہے اور سرمایہ کاری کو فروغ دے سکتا ہے۔ مرکزی وزیر خزانہ و کارپوریٹ امور محترمہ نرملا سیتارمن خصوصی خطاب کریں گی، جبکہ فرانس کی کور ڈیس کمپٹس کی صدر اور سابق وزیر برائے عوامی امور و حساب کتاب امیلی ڈی مونشالین تبصرہ نگار کے طور پر شرکت کریں گی۔
اختتامی اجلاس ‘‘’بھارت اور دنیا: مطابقت اختیار کرنے کی صلاحیت’’ کی صدارت انسٹی ٹیوٹ آف اکنامک گروتھ کے بورڈ آف ٹرسٹیز کے صدر جناب این کے سنگھ کریں گے۔ مرکزی وزیر خارجہ ڈاکٹر ایس جے شنکر خصوصی اختتامی خطاب کریں گے، جبکہ سنگاپور کے سابق وزیر خارجہ جناب جارج ییو تبصرہ نگار ہوں گے۔ اجلاس میں اس بات کا جائزہ لیا جائے گا کہ بھارت کس طرح بدلتے حالات کے مطابق خود کو ڈھالنے کی صلاحیت برقرار رکھتے ہوئے اپنی اسٹریٹجک خودمختاری محفوظ رکھ سکتا ہے، شراکت داریوں کو وسعت دے سکتا ہے اور زیادہ مسابقتی و غیر یقینی عالمی نظام میں لچکدار انداز میں ردعمل دے سکتا ہے۔
ٹیکنالوجی اور ڈیجیٹل معیشت کے موضوعات بھی کے ای سی 2026 کے اہم حصوں میں شامل ہوں گے۔ ‘‘ کنیکٹیویٹی سے مصنوعی ذہانت تک: ڈیجیٹل معیشت کا نیا ڈھانچہ’’ کے موضوع پر مکمل اجلاس میں مرکزی وزیر مواصلات اور شمال مشرقی خطے کی ترقی کے وزیر جناب جیوتیرادتیہ ایم. سندھیا کلیدی خطاب کریں گے۔ اجلاس میں اس بات کا جائزہ لیا جائے گا کہ ڈیجیٹل بنیادی ڈھانچہ، مصنوعی ذہانت اور مواصلات کے نئے نیٹ ورک کس طرح مسابقت اور اعتماد کو برقرار رکھتے ہوئے پیداواری صلاحیت میں اضافہ کرسکتے ہیں۔
مرکزی کابینہ وزیر ثقافت و سیاحت جناب گجیندر سنگھ شیخاوت کانکلیو کے آخری دن سے ایک روز قبل ‘‘سرمائے کے طور پر ثقافت: ورثے سے نئے افق تک’’کے موضوع پر کلیدی خطاب کریں گے۔
افتتاحی مکمل اجلاس ‘‘خطرات کے مطابق قیمت متعین کرتی دنیا’’ کے موضوع پر ہوگا۔ اس میں جائزہ لیا جائے گا کہ توانائی کے شعبے میں جھٹکے، سپلائی چین میں رکاوٹیں اور تجارت و اقتصادی رسائی کو دباؤ کے ایک ذریعے کے طور پر استعمال کرنے کے رجحانات، معاشی انتظام، سرمایہ کاری اور لچک پذیری کے لیے کس طرح نئے چیلنجز پیدا کر رہے ہیں۔ اجلاس کی صدارت لارڈ نکولس اسٹرن کریں گے۔ وزیراعظم کے پرنسپل سکریٹری جناب پی کے مشرا کلیدی خطاب کریں گے، جبکہ یونیورسٹی آف شکاگو کے پروفیسر مائیکل گرین اسٹون تبصرہ نگار ہوں گے۔
کانکلیو میں‘‘کوٹلیہ اور ابھرتا ہوا بھارت: ابھرتی ہوئی معیشتوں کے لیے سبق’’ کے موضوع پر مکمل اجلاس میں وزیراعظم کے پرنسپل سکریٹری-2 اور بھارتی ریزرو بینک کے سابق گورنر جناب شکتی کانت داس کلیدی مقرر ہوں گے۔ اس اجلاس میں ان اسباق کا جائزہ لیا جائے گا جو بھارت کا اقتصادی تجربہ ابھرتی ہوئی معیشتوں کو فراہم کرسکتا ہے۔ اجلاس میں چلی کے مرکزی بینک کے سابق صدر ہوزے ڈی گریگوریو اور انڈونیشیا کے سابق وزیر خزانہ محمد چاتب بصری بھی شرکت کریں گے۔
کانکلیو میں زیادہ اتار چڑھاؤ والے عالمی ماحول سے نمٹنے میں مرکزی بینکوں کے کردار پر بھی خصوصی توجہ دی جائے گی۔ ‘‘تغیر کے دور میں مرکزی بینکاری‘‘ کے موضوع پر مکمل اجلاس میں بھارتی ریزرو بینک کے گورنر جناب سنجے ملہوترا خصوصی خطاب کریں گے۔ یورپی مرکزی بینک کے سابق صدر اور بینک آف فرانس کے سابق گورنر ژاں کلود تریشے اجلاس کی صدارت کریں گے۔ اجلاس میں اس بات پر غور کیا جائے گا کہ مسلسل عالمی جھٹکوں کے دوران مرکزی بینک افراطِ زر، مالیاتی کمزوری، سرمائے کی آمد و رفت اور اعتبار جیسے معاملات سے کس طرح نمٹ سکتے ہیں۔ گورنر ملہوترا کی شرکت تیزی سے بدلتی عالمی معیشت میں مالیاتی پالیسی اور مالیاتی استحکام کو درپیش چیلنجز کے بارے میں ایک اہم نقطۂ نظر پیش کرے گی۔
کانکلیو کے ایجنڈے میں ملکی اور عالمی اقتصادی امور کی ایک وسیع رینج شامل ہوگی، جن میں مالیاتی وفاقیت، صنعتی پالیسی، سرمایہ بازار کی ترقی، ضابطہ جاتی نگرانی، ترقیاتی مالیات اور طویل مدتی سرمایہ کاری کے لیے ملکی و غیر ملکی سرمائے کو متحرک کرنا شامل ہیں۔ اجلاسوں میں مرکز اور ریاستوں کے تعلقات کو منظم کرنے والے ادارہ جاتی اور مالیاتی اصولوں، ساختی تبدیلی میں صنعتی پالیسی کے کردار اور بھارت کے سرمایہ بازار کو مزید گہرا کرنے اور بچت کو پیداواری خطرے والے سرمائے میں منتقل کرنے کے لیے درکار حالات کا جائزہ لیا جائے گا۔
بین الاقوامی نقطۂ نظر بھی کانکلیو کا ایک اہم حصہ ہوگا۔ مختلف اجلاسوں میں یورپ کو درپیش ترقی اور مسابقت کے چیلنجز اور ایشیا کے ساتھ اس کے اقتصادی تعلقات، عالمی عدم توازن، قرض اور مالیاتی استحکام، چین میں ساختی تبدیلی اور ہند-بحرالکاہل خطے میں اقتصادی سلامتی، ٹیکنالوجی اور کنیکٹیویٹی کے حوالے سے جاپان کے کردار کا جائزہ لیا جائے گا۔
’’تغیر کے دور میں تضادات کے درمیان توازن’’ کے موضوع پر خصوصی مکمل اجلاس میں اس بات پر غور کیا جائے گا کہ بھارت کس طرح اسٹریٹجک خودمختاری، اپنے اقتصادی مفادات اور فیصلہ سازی کے لیے مطلوبہ گنجائش برقرار رکھتے ہوئے باہم متضاد اسٹریٹجک اور اقتصادی تعلقات کا انتظام کرسکتا ہے۔ اس بحث میں ایشیا، چین، تائیوان اور بھارت کے عالمی اقتصادی تعلقات کے ماہرین شرکت کریں گے۔
متوازی اجلاسوں میں ‘‘نیا تکنیکی نظام: طاقت، پلیٹ فارم، مصنوعی ذہانت اور ضابطہ جاتی مسابقت’’ اور ‘‘انسان اور مشینیں: مصنوعی ذہانت کے دور میں کام، ہنر اور تعلیم’’ جیسے موضوعات پر بھی تفصیلی تبادلۂ خیال ہوگا۔ ان مباحث میں اس بات پر توجہ دی جائے گی کہ مصنوعی ذہانت اور اسٹریٹجک ٹیکنالوجیز کس طرح اقتصادی طاقت، روزگار کے بازار، ہنر، تعلیم اور ضابطہ جاتی نظام کو تبدیل کر رہی ہیں۔
دیگر اجلاسوں میں موسمیاتی لچک پذیری، کثیر ملکی ترقیاتی بینکوں میں اصلاحات، صحت کی دیکھ بھال اور عالمی صحت سلامتی، شہری کاری، زراعت، آبادیاتی تبدیلی اور کام کے مستقبل جیسے موضوعات زیر بحث آئیں گے۔ ‘‘مستقبل کے لیے خوراک’’ کے موضوع پر مباحث میں موسمیاتی غیر یقینی صورتِ حال اور تجارتی رکاوٹوں کے درمیان زراعت اور غذائی نظام کی لچک پذیری کا جائزہ لیا جائے گا، جبکہ ‘‘آبادیاتی تبدیلی ایک اہم موڑ پر’’ کے موضوع پر عمر رسیدگی، شرح پیدائش، نقل مکانی اور آبادیاتی تبدیلی کے روزگار کے بازار اور پیداواری صلاحیت پر اثرات کا جائزہ لیا جائے گا۔
کانکلیو میں عالمی تجارت اور سرمایہ کاری کے نیٹ ورکس میں ہونے والی تبدیلیوں کا بھی جائزہ لیا جائے گا۔ ‘‘عالمگیریت سے تقسیم تک: تجارتی نیٹ ورکس کی ازسرنو تشکیل’’ کے موضوع پر مکمل اجلاس میں اس بات پر غور کیا جائے گا کہ اسٹریٹجک مسابقت، صنعتی پالیسی اور اقتصادی سلامتی کس طرح تجارت، سرمایہ کاری اور سپلائی چین کو نئی شکل دے رہے ہیں۔ ایک اور اجلاس ‘‘ترقی کی نئی راہداری: ایشیا-افریقہ اقتصادی شراکت داری کا ازسرنو تصور’’ کے موضوع پر ہوگا، جس میں ایشیا اور افریقہ کے درمیان تجارت، سرمایہ کاری، بنیادی ڈھانچے اور ترقیاتی شراکت داری کو مزید گہرا کرنے کے مواقع پر توجہ مرکوز کی جائے گی۔
تین روزہ کانکلیو میں مکمل اجلاس، باہمی تبادلے پر مبنی متوازی اجلاس اور صرف مدعو افراد کے لیے بند کمرے میں گول میز اجلاس منعقد ہوں گے۔ گول میز اجلاسوں میں براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری کو راغب کرنے اور طویل مدتی سرمایہ کاری کے لیے ملکی سرمائے کو متحرک کرنے سمیت مختلف امور پر توجہ دی جائے گی۔ ان اجلاسوں کے ذریعے پالیسی سازوں، ماہرین اقتصادیات، سرمایہ کاروں اور متعلقہ شعبے کے ماہرین کے درمیان زیادہ مرکوز تبادلۂ خیال کے مواقع فراہم ہوں گے۔ کانکلیو میں شرکت صرف دعوت نامے کے ذریعے ہوگی۔
*****
(ش ح ۔ ض ر۔م ذ)
UR.No. 4434
(ریلیز آئی ڈی: 2317630)
وزیٹر کاؤنٹر : 7