جل شکتی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

ڈی ڈی ڈبلیو ایس نے پی ایم-جن من اور ڈی اے-جے جی یو اے کے تحت قبائلی علاقوں میں پینے کے پانی کی فراہمی میں تیزی لانے کے لیے دوسری جائزہ میٹنگ منعقد کی


ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں سے اعداد و شمار کو یکجا کرنے، پانی سے محروم بستیوں کی نشاندہی کرنے اور تصدیق شدہ تجاویز مقررہ مدت میں پیش کرنے کی اپیل

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 01 OCT 2026 11:27AM by PIB Delhi

پینے کے پانی اور صفائی ستھرائی کے محکمے (ڈی ڈی ڈبلیو ایس)، وزارتِ جل شکتی نے کل پردھان منتری جن جاتی آدیواسی نیائے مہا ابھیان (پی ایم-جن من)اور دھرتی آبا جن جاتیہ گرام اتکرش ابھیان (ڈی اے-جے جی یو اے) کے تحت قبائلی علاقوں میں پینے کے پانی کی مکمل فراہمی کو تیز کرنے کے لیے دوسری فالو اَپ جائزہ اور تال میل میٹنگ منعقد کی۔ میٹنگ کی صدارت ڈی ڈی ڈبلیو ایس کے سکریٹری نے کی۔ اس میں قومی جل جیون مشن (این جے جے ایم)، قبائلی امور کی وزارت (ایم او ٹی اے)، ریاستی دیہی آبی فراہمی/عوامی صحت انجینئرنگ محکموں، ریاستی قبائلی بہبود محکموں اور دیگر متعلقہ فریقوں کے سینئر افسران نے شرکت کی۔

یہ میٹنگ محکمانہ سربراہی اجلاس کے بعد شروع کیے گئے فالو اَپ عمل کے تحت منعقد کی گئی، جس میں ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں نے پی ایم-جن من اور ڈی اے-جے جی یو اے کے تحت تمام اہل دیہات میں پینے کے پانی کی مکمل فراہمی یقینی بنانے کا عزم ظاہر کیا تھا۔ ان وعدوں پر ہونے والی پیش رفت کا جائزہ لیا گیا اور ریاستوں کو مشورہ دیا گیا کہ وہ آبی فراہمی/عوامی صحت انجینئرنگ اور قبائلی بہبود محکموں کے درمیان قریبی تال میل کے ذریعے ان وعدوں کو مقررہ مدت کے اندر عملی اقدامات میں تبدیل کریں، تاکہ کوئی بھی اہل قبائلی گاؤں یا بستی پینے کے پانی کی سہولت سے محروم نہ رہ جائے۔

جل جیون مشن 2.0 کے تحت پی ایم-جن من اور ڈی اے-جے جی یو اے کے دیہات میں پینے کے پانی کی فراہمی سے متعلق خلا کو دور کرنے کے لیے 5,000 کروڑ روپے کی خصوصی رقم مختص کی گئی ہے۔ اس تناظر میں جائزے کے دوران چار ترجیحی شعبوں پر توجہ مرکوز کی گئی: قبائلی بہبود محکموں اور جل جیون مشن کے اعداد و شمار کو یکجا کرنا، پانی کی سہولت سے محروم دیہات اور بستیوں کی نشاندہی کرنا، تکنیکی طور پر مضبوط تجاویز تیار کرنا اور پانی کی فراہمی کی کوریج کی مشترکہ طور پر تصدیق اور توثیق کرنا ہے۔ ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں پر زور دیا گیا کہ وہ ان سرگرمیوں کو جلد از جلد مکمل کریں اور غور کے لیے تصدیق شدہ تجاویز پیش کریں۔

شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے پینے کے پانی اور صفائی ستھرائی کے محکمے (ڈی ڈی ڈبلیو ایس)کے سکریٹری جناب اشوک کے کے مینا نے زور دیا کہ پی ایم-جن من اور ڈی اے-جے جی یو اے کے دیہات کا باقاعدگی سے جائزہ ضلع آبی اور صفائی مشن (ڈی ڈبلیو ایس ایم) کی میٹنگوں کے ذریعہ لیا جانا چاہیے۔ جن کی صدارت ڈپٹی کمشنر/ضلع مجسٹریٹ کریں۔ انہوں نے کہا کہ ڈی ڈبلیو ایس ایم کو مختلف محکموں کے درمیان تال میل، سروے کے نتائج کی توثیق اور ایسے حقیقی خلا کی نشاندہی کے لیے مرکزی پلیٹ فارم کے طور پر کام کرنا چاہیے، جہاں مزید اقدامات کی ضرورت ہو۔

قبائلی امور کی وزارت نے ریاست وار سروے سیتومہم شروع کی ہے۔ جس کے تحت گھریلو سطح پر فعال گھریلو نل کنکشن (ایف ایچ ٹی سی) کی صورت حال کی بھی تصدیق کی جا رہی ہے۔ ریاستوں کو مشورہ دیا گیا کہ وہ آبی فراہمی محکموں، قبائلی بہبود محکموں اور سروے کرنے والی ایجنسی کے نمائندوں کے ذریعے سروے سیتو کے نتائج ڈی ڈبلیو ایس ایم کے سامنے مشترکہ طور پر پیش کریں۔ اس دوران سامنے آنے والے کسی بھی تضاد کو باہمی مشاورت اور جہاں ضروری ہو موقع پر تصدیق کے ذریعہ دور کیا جائے۔ تاکہ ضلع سطح پر ایک حتمی اور تصدیق شدہ ڈیٹا بیس دستیاب ہو۔

میٹنگ میں اس بات کا اعادہ کیا گیا کہ مقصد صرف نئے بنیادی ڈھانچے کی تعمیر کرنا نہیں، بلکہ پی ایم-جن من اور ڈی اے-جے جی یو اے کے تحت تمام اہل دیہات میں پینے کے پانی کی مکمل فراہمی یقینی بنانا اور اس کی تصدیق کرنا ہے۔ اس لیے ریاستوں کو مشورہ دیا گیا کہ جن دیہات میں پہلے ہی مکمل فراہمی حاصل ہو چکی ہے، ان کی سرٹیفکیشن کو بھی یکساں ترجیح دی جائے اور تجاویز پیش کرنے سے قبل اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ تمام اہل بستیاں جل جیون مشن کے مربوط انتظامی معلوماتی نظام (جے جے ایم-آئی ایم آئی ایس) میں درست طور پر درج ہوں۔

ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کو مشورہ دیا گیا کہ سروے سیتو کے نتائج کی بنیاد پر پانی کی سہولت سے محروم رہ جانے والی بستیوں کی نشاندہی کریں اور ڈی ڈبلیو ایس ایم کے طریقۂ کار کے ذریعے ان کی تصدیق کریں۔ دیہی آبی فراہمی/عوامی صحت انجینئرنگ اور قبائلی بہبود محکموں سے کہا گیا کہ وہ مشترکہ طور پر ایسی تجاویز تیار کریں جن کے ساتھ متعلقہ مجاز حکام سے باقاعدہ طور پر تصدیق شدہ خود تشخیصی تفصیلی منصوبہ رپورٹ (ڈی پی آر) چیک لسٹ منسلک ہو۔ تجاویز میں شمولیت کی واضح وجوہات، کسی بھی طرح کی تکرار سے گریز، تصدیق شدہ ایل جی ڈی کوڈز اور مکمل تکنیکی و مالی تفصیلات شامل ہونی چاہئیں۔

قومی جل جیون مشن (این جے جے ایم) کے تکنیکی شعبے نے بھی ڈی پی آر جمع کرانے کے معیار اور تکمیل کو بہتر بنانے کی ضرورت پر زور دیا۔ ریاستوں کو مشورہ دیا گیا کہ وہ آبادی کے حقیقت پسندانہ تخمینے، مقررہ خدماتی معیار کی پابندی، پانی کے ذرائع کے پائیدار ہونے اور آبی تحفظ کے لیے مناسب انتظامات اور فی فعال گھریلو نل کنکشن (ایف ایچ ٹی سی)معقول لاگت کو یقینی بنائیں، جس کے لیے مناسب تکنیکی جواز بھی فراہم کیا جائے۔ ڈی پی آر چیک لسٹ کو درست طور پر مکمل کرنے اور تمام تصحیحات و ترامیم کی مناسب توثیق پر خصوصی توجہ دینے کی ہدایت کی گئی۔

قومی جل جیون مشن (این جے جے ایم) کے ایڈیشنل سکریٹری و مشن ڈائریکٹر جناب کمل کشور سوان نے کہا کہ ریاستی سطح پر مشترکہ ذمہ داری اور ملکیت کی اہمیت پر بھی زور دیا گیا۔ ریاستی دیہی آبی فراہمی/عوامی صحت انجینئرنگ اور قبائلی بہبود کے محکمے مشترکہ طور پر تجاویز تیار کریں گے اور انہیں مشترکہ کمیٹی کے سامنے پیش کریں گے۔ جس کی مشترکہ صدارت پینے کے پانی اور صفائی ستھرائی کے محکمے (ڈی ڈی ڈبلیو ایس) کے سکریٹری اور قبائلی امور کی وزارت کے سکریٹری کریں گے۔ ضلع سطح پر ڈپٹی کمشنر/ضلع مجسٹریٹ کی زیر صدارت ضلع آبی اور صفائی مشن (ڈی ڈبلیو ایس ایم) تصدیق اور فیصلہ سازی کے لیے اہم پلیٹ فارم کے طور پر کام کرے گا، جس میں سروے کرنے والی ایجنسی اور متعلقہ ریاستی محکموں کے نمائندے بھی شامل ہوں گے۔

میٹنگ کے دوران ریاست کے لحاظ سے پیش رفت اور پہلے سے موصول ہونے والی تجاویز پر دی گئی آراء کا جائزہ لیا گیا۔ آندھرا پردیش، مہاراشٹر، جھارکھنڈ، کیرالہ اور منی پور کو ایل جی ڈی کوڈ کی توثیق، ڈی پی آر سے متعلق دستاویزات، خدمات کی سطح اور فی فعال گھریلو نل کنکشن (ایف ایچ ٹی سی) لاگت سے متعلق مخصوص نکات کو دور کرنے کا مشورہ دیا گیا۔ بہار، تمل ناڈو اور آسام سے کہا گیا کہ وہ ڈی ڈی ڈبلیو ایس کی جانب سے پہلے ہی بتائے گئے نکات پر ضروری کارروائی کریں۔ کئی ریاستوں نے تجاویز پیش کرنے کے لیے اپنی مقررہ مدت بھی بتائی۔ لداخ، مدھیہ پردیش، اتر پردیش اور چھتیس گڑھ نے بتایا کہ پی ایم-جن من اور ڈی اے-جے جی یو اے کے تحت شناخت کیے گئے دیہات سے متعلق تجاویز اکتوبر 2026 کے دوران پیش کر دی جائیں گی۔

آئندہ کی کارروائی کے طور پر ریاستیں اور مرکز کے زیر انتظام علاقے پی ایم-جن من، ڈی اے-جے جی یو اے، سروے سیتو اور جے جے ایم-آئی ایم آئی ایس کے ریکارڈ کو یکجا کرکے ایک مشترکہ اور تصدیق شدہ ڈیٹا بیس تیار کریں گے۔ مشترکہ طور پر تصدیق شدہ تجاویز باقاعدہ طور پر دستخط شدہ ڈی پی آر چیک لسٹ اور ضروری منظوریوں کے ساتھ، مشترکہ کمیٹی کے غور کے لیے پیش کی جائیں گی، جس کی مشترکہ صدارت ڈی ڈی ڈبلیو ایس کے سکریٹری اور قبائلی امور کی وزارت کے سکریٹری کریں گے۔ ضلعی انتظامیہ کو بھی مشورہ دیا گیا کہ وہ ڈی ڈبلیو ایس ایم کی میٹنگوں کے ذریعے سروے سیتو کے نتائج کی تصدیق کریں اور ضلع سطح کی جانچ کے دوران سامنے آنے والی کسی بھی اضافی یا حذف شدہ بستی کی تفصیلات ریاستی حکومت اور ڈی ڈی ڈبلیو ایس کو فراہم کریں۔

میٹنگ میں ڈی ڈی ڈبلیو ایس، قبائلی امور کی وزارت، ریاستی آبی فراہمی/عوامی صحت انجینئرنگ محکموں، قبائلی بہبود محکموں اور ضلعی انتظامیہ کے اس مشترکہ عزم کا اعادہ کیا گیا کہ پی ایم-جن من اور ڈی اے-جے جی یو اے کے تحت تمام اہل دیہات میں فعال پینے کے پانی کی خدمات کی مکمل فراہمی یقینی بنائی جائے۔ اعداد و شمار کو یکجا کرنے، ضلع سطح پر تصدیق، مشترکہ منصوبہ بندی، تجاویز بروقت پیش کرنے اور مکمل فراہمی کی تصدیق کے ذریعے اس پہل کا مقصد یہ یقینی بنانا ہے کہ ہر اہل قبائلی گاؤں اور بستی کو قابلِ اعتماد اور پائیدار پینے کے پانی کی سہولت فراہم کی جائے۔

 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ش ح۔م ح۔ف ر

U- 4421


(ریلیز آئی ڈی: 2317491) وزیٹر کاؤنٹر : 9
یہ ریلیز پڑھیں: English , Gujarati , हिन्दी