عملے، عوامی شکایات اور پنشن کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

یو پی ایس سی کی صد سالہ تقریبات ’منتھن‘ مستقبل کے تقاضوں کے لیے تیار سول سروسز، اختراع اور آئینی اقدار  پر مرکوز


چیئرمین ڈاکٹر اجے کمار نے یوپی ایس سی کے 100 برس مکمل ہونے کے موقع پر اہلیت، انصاف اور مساوی موقع کے تئیں عزم کا اعادہ کیا

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 30 SEP 2026 8:53PM by PIB Delhi

یونین پبلک سروس کمیشن (یو پی ایس سی) نے آج بھارت منڈپم، نئی دہلی میں اپنے ادارہ جاتی سفر کے 100 سال مکمل ہونے کے موقع پر 'منتھن' کے عنوان سے اپنی دو روزہ صد سالہ تقریبات کا آغاز کیا۔ ان تقریبات میں سینئر سرکاری عہدیداروں اور نامور مقررین کو ایک جگہ جمع کیا گیا تاکہ سول سروسز کے بدلتے ہوئے کردار، پبلک ایڈمنسٹریشن میں اختراعات اور پبلک سروس کی بنیاد بننے والی ادارہ جاتی اقدار پر تبادلۂ خیال کیا جا سکے۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے، یو پی ایس سی کے چیئرمین ڈاکٹر اجے کمار نے 'بھروسہ، شفافیت اور ٹیکنالوجی' کے تین رہنما اصولوں کے ذریعے کمیشن کے سفر کے اگلے مرحلے کے وژن کی خاکہ کشی کی۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اداروں کو اپنے آئینی کردار کے لیے بنیادی حیثیت رکھنے والے اصولوں کو برقرار رکھتے ہوئے بدلتے ہوئے حالات کے مطابق خود کو ڈھالنا چاہیے۔

ڈاکٹر اجے کمار نے کہا کہ کمیشن کو ان چیزوں کو ضرور تبدیل کرنا چاہیے جن میں تبدیلی کی ضرورت ہے، تاکہ ان اصولوں کو محفوظ رکھا جا سکے جنہیں کبھی تبدیل نہیں ہونا چاہیے۔ اگرچہ ٹیکنالوجی اور امتحانات کے طریقوں میں جدت آ سکتی ہے، لیکن میرٹ، شفافیت اور مساوی مواقع کے بنیادی آئینی اصول ہمیشہ قائم رہیں گے۔

چیئرمین نے کمیشن کے کام کے دائرہ کار اور تنوع پر روشنی ڈالتے ہوئے بتایا کہ یو پی ایس سی ہر سال تقریباً 250 مختلف بھرتی کے عمل سرانجام دیتا ہے، جس میں انجینئرنگ، میڈیکل اور سائنسی شعبوں سے لے کر معاشیات اور دفاع تک کے مضامین شامل ہیں۔ انہوں نے اس بات پر بھی روشنی ڈالی کہ یو پی ایس سی کا امتحانی کیلنڈر 18 ماہ قبل تیار کر لیا جاتا ہے، جو اس کے بھرتی کے عمل کے لیے درکار وسیع منصوبہ بندی کی عکاسی کرتا ہے۔

مستقبل کی جانب دیکھتے ہوئے، ڈاکٹر اجے کمار نے بھرتی کے نظام کو مضبوط بنانے کے مقصد سے کئی اقدامات کا خاکہ پیش کیا۔ ان میں ایک 'سینٹر آف ایکسی لینس' کا مجوزہ قیام شامل ہے تاکہ ریاستوں کے پبلک سروس کمیشنوں کے ساتھ تعاون اور بہترین طریقوں کے تبادلے کو آسان بنایا جا سکے۔ انہوں نے 100 تاریخی عدالتی فیصلوں کا ایک مجموعہ تیار کرنے کے لیے 'نالسار'، حیدرآباد کے ساتھ شراکت داری کا بھی ذکر کیا۔

امتحانی اصلاحات پر بات کرتے ہوئے، چیئرمین نے اس بات پر زور دیا کہ امیدواروں کی جانچ پہلے سے طے شدہ یا کوچنگ کے ذریعے رٹائے گئے ماڈل جوابات کو دہرانے کی صلاحیت کے بجائے ان کی استدلال، بروقت فیصلہ سازی اور غیر واضح یا مبہم حالات میں درست فیصلہ کرنے جیسی خصوصیات کے لیے ہونی چاہیے۔ انہوں نے امتحانی شفافیت اور سالمیت کو مضبوط بنانے کے اقدامات کے طور پر ڈیجیٹل ای-ایڈمٹ کارڈز اور چہرے کی شناخت کے استعمال پر بھی روشنی ڈالی۔

صد سالہ غور و فکر کا پہلا سیشن یو پی ایس سی کی رکن، محترمہ سمن شرما کی صدارت میں 'وکست بھارت میں سول سروسز کا کردار' کے موضوع پر منعقد کیا گیا۔ اس سیشن میں چیف آف ڈیفنس اسٹاف جنرل این ایس راجہ سبرامنی، رکنِ پارلیمنٹ (راجیہ سبھا) اور سابق خارجہ سیکریٹری جناب ہرش وردھن شرنگلا، اور اتر پردیش پبلک سروس کمیشن کے چیئرمین جناب سنجے شرینیت نے شرکت کی۔

محترمہ سمن شرما نے نتائج پر مبنی انتظامیہ کی ضرورت پر زور دیا اور پالیسیوں کو زمینی سطح کے نتائج میں تبدیل کرنے کے لیے سول سرونٹس کے کلیدی کردار کو اجاگر کیا۔ انہوں نے ضابطہ اخلاق اور کاغذی کارروائی کے بہانوں سے نکل کر آگے بڑھ کر سہولت کاری کرنے پر زور دیا، اور کہا کہ انتظامیہ کی کارکردگی کو محض مالیاتی اخراجات سے ناپنے کے بجائے زمین پر نظر آنے والے انقلابی تبدیلی کے نتائج کے ذریعے جانچا جانا چاہیے۔

جنرل این ایس راجہ سبرامنی نے تیز رفتار اتھل پتھل اور بڑھتے ہوئے سول-ملٹری تال میل (اہ‏م ہم آہنگی) کے ماحول میں، محکمانہ تعصبات اور فاصلوں پر قابو پانے، دانشورانہ خطرات مول لینے اور فیصلہ کن صلاحیت کا مظاہرہ کرنے کی ضرورت پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے ایک چست، متحرک اور مسائل کو حل کرنے والی سول سروس کی ضرورت پر زور دیا۔

جناب ہرش وردھن شرنگلا نے زمرہ-2 اور زمرہ-3 کے شہروں اور ترقی کے خواہشمند اضلاع سے بھرتی کے دائرہ کار کو وسیع کرنے، اور اس کے ساتھ ہی کم عمر امیدواروں کو پبلک سروس میں لانے کی اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے 'انتودیہ' اور 'نشکام کرم' کے اصولوں کا حوالہ دیتے ہوئے، قطار میں کھڑے آخری فرد کی خدمت کرنے کی پبلک سرونٹس کی ذمہ داری پر زور دیا۔

جناب سنجے شرینیت نے اس بات پر زور دیا کہ اصلاحات کے ذریعے عوامی پروگراموں کو نافذ کرنے والے نچلی سطح کے انتظامی ڈھانچے کو بااختیار بنایا جانا چاہیے، کیونکہ انتظامیہ کی بھاری اکثریت 'گروپ اے' کی سطح سے نیچے کام کرتی ہے۔ انہوں نے اختیارات یا رعب و دبدبے کی جگہ احتساب کو ترجیح دینے کی وکالت کی اور اس بات پر روشنی ڈالی کہ ایڈمنسٹریٹرز کو حقیقی معنوں میں عوامی خادم یا 'سیوک' کے طور پر کام کرنا چاہیے۔

آئینی ادارے کے طور پر پبلک سروس کمیشنز کے پینل ڈسکشن میں کلیدی خطبہ پیش کرتے ہوئے، ڈاکٹر اشوک لاہری نے یو پی ایس سی کے صد سالہ سفر اور ملک سازی میں اس کے لازوال کردار پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے عوامی بھرتی کے عمل کے تاریخی ارتقاء کا احاطہ کیا کہ کس طرح یہ نظام ابتدائی سرپرستی کے نظام سے نکل کر میرٹ، مسابقتی امتحانات، انصاف اور شفافیت پر مبنی ایک غیر جانبدار آئینی ڈھانچے میں تبدیل ہوا۔ انہوں نے 1926 میں پبلک سروس کمیشن سے لے کر 1937 میں فیڈرل پبلک سروس کمیشن، اور بالآخر 1950 میں اس کی آئینی حیثیت تک کے سنگِ میل کا خاکہ پیش کیا۔ ڈاکٹر لاہری نے مساوات، انصاف اور عوامی اعتماد کو برقرار رکھنے میں کمیشن کے کلیدی آئینی دائرہ اختیار پر زور دیا، اور ساتھ ہی صرف بھرتیوں تک محدود رہنے کے بجائے ترقیوں، ملازمت کے قوانین اور تادیبی امور  پر مشتمل اس کی لازمی ذمہ داریوں کو بھی اجاگر کیا۔

دوسرے سیشن کی صدارت، جس کا عنوان 'پبلک سروس میں اختراعات'  تھا، یو پی ایس سی کے رکن، لیفٹیننٹ جنرل راج شکلا (سبکدوش) نے کی، جبکہ وزیر اعظم کے پرنسپل سکریٹری-2، جناب شکتیکانت داس نے کلیدی خطاب کیا۔

دوسرے سیشن میں کلیدی خطاب دیتے ہوئے، وزیر اعظم کے پرنسپل سکریٹری-2 جناب شکتی کانت داس نے یو پی ایس سی کو 'پبلک سروس کا داخلی دروازہ' قرار دیتے ہوئے اس کی تعریف کی، اور انتخاب کے عمل میں دیانت داری، شفافیت اور انتھک محنت کے تئیں کمیشن کے غیر متزلزل عزم کو سراہا۔ انہوں نے حکومت کی طرف سے شروع کیے گئے اہم انتظامی اقدامات اور اختراعات پر روشنی ڈالی، اور اس کے ساتھ ہی 'وکست بھارت' کے وژن کو آگے بڑھانے کے لیے ایک اسٹریٹجک روڈ میپ کا خاکہ پیش کیا۔

ان مباحثوں میں دفتری پیچیدگیوں کو کم کرنے اور خدمات کی فراہمی کو بہتر بنانے کے لیے آرٹیفیشل انٹیلیجنس، ڈیٹا اینالیٹکس اور ڈیجیٹل آرکیٹیکچرز کی صلاحیتوں پر روشنی ڈالی گئی۔ سیشن میں اس بات پر بھی زور دیا گیا کہ حکومتی نظاموں کو ایک پرعزم، ترقی کے خواہشمند اور ڈیجیٹل طور پر خواندہ آبادی کی ضروریات کے مطابق فوری اور حقیقی وقت میں ردعمل ظاہر کرنا چاہیے۔

ان مباحثوں میں دفتری خانوں کو ختم کرنے، بین المحکمانہ سیکھنے کے عمل کو فروغ دینے اور ابھرتے ہوئے چیلنجوں کا جواب دینے کے لیے ایک مستقبل کے تقاضوں کے مطابق تیار سول سروس کی تعمیر کی اہمیت پر مزید زور دیا گیا۔

صد سالہ مباحثوں میں کمیشن کی جانب سے ٹیکنالوجی کو مسلسل اپنانے کے عمل پر بھی روشنی ڈالی گئی۔ یو پی ایس سی کا ٹیکنالوجی کا سفر کئی دہائیوں پر محیط ہے، جس کا آغاز 1978 میں کمپیوٹرز متعارف کرانے سے ہوا تھا، جس کے بعد اس کے امتحانی اور بھرتی کے عمل میں یکے بعد دیگرے کئی تکنیکی جدتیں کی گئیں۔

مزید حالیہ اصلاحات میں 2025 میں یونیورسل رجسٹریشن نمبر کا تعارف، انٹرویو بورڈز کی بے ترتیب یا غیر متوقع الاٹمنٹ، 30 چینلز والے آئی پی کال سینٹر اور دو سطحی شکایات کے ازالے کے طریقہ کار کے ساتھ ایک مخصوص کینڈیڈیٹ ہیلپ ڈیسک کا قیام، اور امتحانی مراکز کی توسیع شامل ہیں۔

سال 2026 میں، سول سروسز (ابتدائی) امتحان کے لیے بھوبنیشور، کانپور اور میرٹھ میں، جبکہ این ڈی اے اور این اے (II) کے لیے الور، ہسار اور کنور میں نئے امتحانی مراکز متعارف کرائے گئے۔ کمیشن نے درست جوابات کی عارضی فہرست  اور کیو پی ریپ پورٹل سے متعلق اقدامات بھی متعارف کرائے۔

کمیشن اپنے ڈیجیٹل انفراسٹرکچر اور سائبر سیکیورٹی کی صلاحیتوں کو مضبوط بنا رہا ہے، جبکہ افسران کو آرٹیفیشل انٹیلیجنس سمیت جدید ترین ٹیکنالوجیز کی تربیت بھی دی جا رہی ہے۔ آئی ٹی انفراسٹرکچر اور سائبر سیکیورٹی سے متعلق ضروریات کے لیے ایک ہائی لیول نیٹ ورک کمیٹی بھی تشکیل دی گئی ہے۔

ایک اہم تکنیکی پہل قدمی آرٹیفیشل انٹیلیجنس پر مبنی چہرے کی شناخت کا تعارف رہی ہے۔ ستمبر 2025 میں این ڈی اے اور این اے (II) اور سی ڈی ایس (II) امتحانات کے دوران گروگرام کے چند منتخب مراکز پر پائلٹ پروجیکٹ کے بعد، اس نظام کو 24 مئی 2026 کو سول سروسز (ابتدائی) امتحان کے لیے بڑے پیمانے پر نافذ کیا گیا، جس کے تحت تقریباً 5.50 لاکھ امیدواروں کا احاطہ کیا گیا۔ یہ نظام چہرے کی شناخت کے لیے امتحانی نگرانوں کے موبائل فونز کا استعمال کرتا ہے، اور اس عمل میں فی امیدوار تقریباً چھ سے اٹھ سیکنڈ کا وقت لگتا ہے۔

یہ صد سالہ تقریب ایک صدی پر محیط ادارہ جاتی سفر کی بھی نشان دہی کرتی ہے جس کا آغاز یکم اکتوبر 1926 کو ہوا تھا، جب ہندوستان میں پہلے پبلک سروس کمیشن کو ایک مشاورتی ادارے کے طور پر تشکیل دیا گیا تھا۔ کئی دہائیوں کے دوران، یہ ادارہ بتدریج ایک خودمختار آئینی ادارے میں تبدیل ہو گیا۔

پبلک سروس کمیشنوں کے انتظام و انصرام کا آئینی ڈھانچہ آئین کے حصہ XIV  میں، آرٹیکلز 315 سے 323 کے تحت شامل ہے۔ یہ دفعات مرکز اور ریاستوں کے لیے پبلک سروس کمیشن قائم کرتی ہیں اور ان کے اراکین کے تقرر، مدتِ ملازمت اور عہدے سے ہٹائے جانے سے متعلق آئینی تحفظات فراہم کرتی ہیں۔

آئینی ڈھانچہ کمیشن کے فرائض کا بھی احاطہ کرتا ہے، جس میں یونین سروسزمیں بھرتی کے لیے امتحانات کا انعقاد اور بھرتی کے طریقوں، ترقیوں اور تادیبی امور پر مشاورت دینا شامل ہے۔ کمیشن کے اخراجات 'کنسولیڈیٹڈ فنڈ' سے پورے کیے جاتے ہیں، جبکہ کمیشن صدرِ مملکت کو ایک سالانہ رپورٹ پیش کرتا ہے، جس میں وہ معاملات بھی شامل ہوتے ہیں جہاں اس کی مشاورت کو تسلیم نہیں کیا گیا ہوتا۔

اپنے دائرہ اختیار کی انجام دہی کے دوران، یو پی ایس سی حکومت کو بھرتی کے قوانین، ڈپارٹمنٹل پروموشن کمیٹیوں کے ذریعے ترقیوں، آل انڈیا سروسز میں شمولیت اور تادیبی معاملات پر بھی مشاورت فراہم کرتا ہے۔ سال 25-2024 کے دوران، کمیشن نے ترقی کے لیے 24,581 افسران سے متعلق ریکارڈز پر کارروائی کی اور 532 افسران کو آل انڈیا سروسز میں شامل کیا گیا۔

**********

 (ش ح –ا ب ن)

U.No:4402


(ریلیز آئی ڈی: 2317380) وزیٹر کاؤنٹر : 8
یہ ریلیز پڑھیں: English , Gujarati , Marathi