بھاری صنعتوں کی وزارت
ہندوستان کی مقامی ٹیکنالوجی کے فروغ کو ملی رفتار، ایچ ڈی کماراسوامی نے ناویگیان 2026 میں ایم ایچ آئی انڈسٹری ایکسیلیریٹر کی اثراتی رپورٹ جاری کی
وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت میں بھارت کو ٹیکنالوجی کی ترقی سے آگے بڑھ کر عالمی سطح پر مینوفیکچرنگ کا مرکز بننے کی سمت میں پیش قدمی کرنی ہوگی: ایچ ڈی کماراسوامی
ایچ ڈی کماراسوامی نے ایم ایچ آئی انڈسٹری ایکسیلیریٹر کی اثراتی رپورٹ جاری کی اور منصوبوں سے وابستہ ارکان کو اعزاز سے نوازا
35.72 کروڑ روپے کی معاونت سے 10 ٹیکنالوجیز کو ٹی آر ایل-3 سے ٹی آر ایل-9 تک ترقی دینے میں مدد ملی: ایچ ڈی کماراسوامی
تصور سے نمونے تک، مصنوعات سے عالمی منڈی تک: ایچ ڈی کماراسوامی نے مقامی ٹیکنالوجی کے مضبوط ماحولیاتی نظام کی ضرورت پر زور دیا
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
30 SEP 2026 12:21PM by PIB Delhi
بھاری صنعتوں اور اسٹیل کے مرکزی وزیر ایچ ڈی کمارسوامی نے بدھ کے روز نئی دہلی میں نیویگیان 2026 میں بھاری صنعتوں کی وزارت (ایم ایچ آئی) انڈسٹری ایکسلریٹر پروجیکٹ کی امپیکٹ رپورٹ (اثراتی رپورٹ) کی نقاب کشائی اور ڈیجیٹل طور پر لانچ کیا ، جو ہندوستان کی نقل و حرکت اور مینوفیکچرنگ کے شعبوں کے لیے مقامی ٹیکنالوجیز کی پیش رفت اور ترقی میں ایک اہم سنگ میل ہے ۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ایچ ڈی کماراسوامی نے کہا کہ یہ تقریب ایم ایچ آئی انڈسٹری ایکسیلیریٹر پروجیکٹ کے اختتام کی علامت ہے اور اس موقع پر ملک میں تکنیکی اور مینوفیکچرنگ کی صلاحیتیں پیدا کرنے کی اہمیت کو اجاگر کیا گیا۔
انہوں نے کہا، ’’عزت مآب وزیر اعظم جناب نریندر مودی جی کی دوراندیش قیادت میں حکومتِ ہند نے ملک میں تکنیکی اور مینوفیکچرنگ کی صلاحیتیں پیدا کرنے پر خصوصی توجہ مرکوز کی ہے۔‘‘
وزیر موصوف نے کہا کہ آتم نربھر بھارت کے وژن کا تقاضا ہے کہ بھارت جدید ٹیکنالوجیز کے لیے محض ایک بڑی منڈی بننے سے آگے بڑھے اور ان ٹیکنالوجیز کو تیار کرنے اور برآمد کرنے کی صلاحیت پیدا کرے۔
کماراسوامی نے کہا، ’’آتم نربھر بھارت کا وژن ایسے بھارت کا متقاضی ہے جو نہ صرف جدید ٹیکنالوجیز کے لیے ایک بڑی منڈی ہو، بلکہ ان ٹیکنالوجیز کو تیار، پروڈیوس اور برآمد کرنے والا ملک بھی ہو۔‘‘

بھارتی کیپٹل گڈز سیکٹر کی مسابقتی صلاحیت میں اضافے کی اسکیم – مرحلہ دوم کے تحت فراہم کی جانے والی معاونت کے وسیع پیمانے کو اجاگر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس اسکیم کے لیے مجموعی طور پر 1,207 کروڑ روپے کی مالی رقم مختص کی گئی ہے اور اس کا مقصد مشترکہ ٹیکنالوجی کی ترقی اور خدمات کے بنیادی ڈھانچے کو فروغ دینا ہے۔ اس اسکیم کے تحت 33 منصوبوں کو منظوری دی گئی ہے۔
ایم ایچ آئی انڈسٹری ایکسیلیریٹر پروگرام بھی ان اقدامات میں شامل ہے، جس کے تحت 10 ٹیکنالوجیز کے لیے 35.72 کروڑ روپے کی مالی امداد فراہم کی گئی، جس کا مقصد ان ٹیکنالوجیز کو ٹیکنالوجی ریڈینس لیول 3 سے لیول 9 تک ترقی دینے میں معاونت کرنا ہے۔
کماراسوامی نے کہا کہ اس پروگرام کے تحت معاونت حاصل کرنے والی ٹیکنالوجیز مستقبل کی نقل و حرکت کے متعدد شعبوں کا احاطہ کرتی ہیں، جن میں برقی پاور ٹرین، ہائی وولٹیج موٹر کنٹرول اور توانائی ذخیرہ کرنے کی ٹیکنالوجیز شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس پروگرام کا ایک اہم نتیجہ یہ ہے کہ ٹیکنالوجیز ابتدائی مرحلے کے نمونوں سے آگے بڑھ کر تجارتی طور پر قابلِ عمل مصنوعات کی شکل اختیار کر رہی ہیں۔

ٹیکنالوجی کی ترقی میں باہمی تعاون کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے وزیر موصوف نے کہا کہ حکومت، صنعت، تحقیقی اداروں، تعلیمی شعبے، اسٹارٹ اپس اور اے آر اے آئی جیسے اداروں میں سے ہر ایک کا اختراعی ماحولیاتی نظام کو مضبوط بنانے میں اہم کردار ہے۔
انہوں نے کہا، ’’حکومت پالیسی کا ڈھانچہ اور ہدف بند معاونت فراہم کر سکتی ہے۔ صنعت مارکیٹ کی سمجھ اور مینوفیکچرنگ کی صلاحیت فراہم کرتی ہے۔ تحقیقی اور تعلیمی ادارے علم اور ٹیکنالوجی میں اپنا تعاون دیتے ہیں، جبکہ اسٹارٹ اپس نئے خیالات اور تیز رفتاری کے ساتھ کام کرنے کی صلاحیت لے کر آتے ہیں۔‘‘
انہوں نے مزید کہا کہ ٹیکنالوجی کی ترقی، اس کی توثیق اور صنعت میں اسے اختیار کرنے کے درمیان موجود خلا کو پُر کرنے میں اے آر اے آئی جیسے اداروں کا کردار بھی اہم ہے۔
کماراسوامی نے کہا کہ جیسے جیسے بھارت وِکسِت بھارت@2047 کی جانب آگے بڑھ رہا ہے، توجہ ملک کے اندر صلاحیتیں پیدا کرنے اور بھارتی ٹیکنالوجیز کو بین الاقوامی منڈیوں تک پہنچانے پر مرکوز رہنی چاہیے۔
انہوں نے کہا، ’’یہی وہ ماحولیاتی نظام ہے جسے ہمیں مزید مضبوط کرنے کی ضرورت ہے۔ وِکسِت بھارت@2047 کی جانب آگے بڑھتے ہوئے ہماری توجہ واضح ہونی چاہیے: بھارت میں تعلیم، اختراع، مینوفیکچرنگ اور ٹیکنالوجیز کا انضمام اور بھارتی ٹیکنالوجیز کو عالمی منڈیوں تک پہنچانا۔‘‘
وزیر موصوف نے اس بات پر بھی زور دیا کہ خود انحصاری کا دائرہ محض درآمدات کے متبادل تک محدود نہیں ہونا چاہیے، بلکہ بھارتی دانشورانہ ملکیت، مضبوط اور لچک دار سپلائی چین اور ہنرمند افرادی قوت کی ترقی پر بھی توجہ مرکوز ہونی چاہیے۔
کماراسوامی نے کہا، ’’خود انحصاری کا مقصد صرف درآمدات کا متبادل تیار کرنا نہیں ہے، بلکہ بھارتی دانشورانہ ملکیت، سپلائی چین اور ہنرمند افرادی قوت کو فروغ دینا ہے۔‘‘

انہوں نے ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجی کی ضروریات کی نشاندہی کرنے، صنعت اور تعلیمی اداروں کے درمیان تعاون کو مزید مضبوط بنانے اور مستقبل کی تکنیکی ضروریات کو پورا کرنے کی صلاحیت رکھنے والی باصلاحیت افرادی قوت تیار کرنے کے لیے مسلسل کوششیں جاری رکھنے پر زور دیا۔
اپنے خطاب کے اختتام پر کماراسوامی نے کہا کہ بھارت کو ایسا ماحولیاتی نظام تشکیل دینا ہوگا، جو اختراعات کو ترقی کے ہر مرحلے سے مؤثر انداز میں آگے بڑھنے کے قابل بنائے۔
انہوں نے کہا، ’’آئیے ہم ایسا ماحولیاتی نظام تشکیل دینے کا سلسلہ جاری رکھیں، جس میں بھارتی اختراع تصور سے نمونے، نمونے سے مصنوعات اور مصنوعات سے عالمی منڈی تک مؤثر انداز میں پہنچ سکے۔‘‘
وزیر موصوف نے ایم ایچ آئی انڈسٹری ایکسیلیریٹر پروجیکٹ سے وابستہ ارکان کو بھی ٹیکنالوجیز کو ترقی اور توثیق کے مراحل سے صنعتی استعمال اور تجارتی سطح تک پہنچانے میں ان کے تعاون کے لیے اعزاز سے نوازا۔ اے آر اے آئی-اے ایم ٹی آئی ایف کے ذریعے نافذ کیے گئے ایم ایچ آئی انڈسٹری ایکسیلیریٹر پروجیکٹ کے اختتامی پروگرام کے طور پر منعقدہ اس تقریب میں حکومت، صنعت، تعلیمی شعبے، تحقیق اور ٹیکنالوجی کے ماحولیاتی نظام سے وابستہ مختلف شراکت داروں نے شرکت کی۔

پروگرام کے دوران کماراسوامی نے اسٹارٹ اپ نمائش کا دورہ کیا اور ایکسیلیریٹر اقدام کے تحت معاونت حاصل کرنے والی اختراعات کا جائزہ لیا۔ نمائش میں پیش کی گئی ٹیکنالوجیز میں برقی نقل و حرکت، پاور الیکٹرانکس، ہائی وولٹیج نظام، توانائی ذخیرہ کرنے، پیشگی دیکھ بھال، سینسرز اور جدید سطحی انجینئرنگ جیسے شعبے شامل تھے۔
******
ش ح۔ ا ک۔ ر ب
U.NO.4353
(ریلیز آئی ڈی: 2317024)
وزیٹر کاؤنٹر : 11