امور داخلہ کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

راشٹریہ رکشا یونیورسٹی مالی اور اقتصادی سلامتی میں ماسٹرز کے دوسرے بیچ کا آغاز کرے گی

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 28 SEP 2026 8:44PM by PIB Delhi

حکومت ہند کی وزارت داخلہ کے تحت راشٹریہ رکشا یونیورسٹی (آر آر یو)، کارپوریٹ امور کی وزارت کے  انڈین انسٹی ٹیوٹ آف کارپوریٹ افیئرز (آئی آئی سی اے) کے ساتھ مل کر نومبر 2026 میں فائنانشیل اینڈ اکنامک سیکورٹی (ایم ایف ای ایس) میں ماسٹرز پروگرام کے دوسرے بیچ کا آغاز کرنے  کا فیصلہ کیا۔ یہ پروگرام اپنے پہلے بیچ کی کامیاب تکمیل کے بعد شروع کیا جا رہا ہے، جس میں بینکاری، قانون نافذ کرنے والے اداروں، تحقیق و تفتیش، تعلیم، کاروبار اور قانونی خدمات جیسے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے 40 سے زائد پیشہ ور افراد شامل تھے۔

خاص طور پر ملازمت پیشہ افراد کے لیے تیار کیا گیا یہ ایک سالہ کورس ہائبرڈ طریقہ کار کے تحت چلایا جاتا ہے، جس سے شرکا خصوصی تعلیم اور عملی مہارت حاصل کرنے کے ساتھ اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریاں بھی جاری رکھ سکتے ہیں۔ پروگرام میں عملی تعلیم، عملی تربیت اور مالی و اقتصادی سلامتی سے متعلق عصری چیلنجوں سے براہ راست واقفیت پر خصوصی توجہ دی گئی ہے۔

ابھرتے ہوئے مالی اور اقتصادی خطرات سے نمٹنےکی  صلاحیت میں اضافہ

ایک دوسرے سے مربوط عالمی معیشت میں مالی اور اقتصادی سالمیت کی اہمیت میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ مالی ٹیکنالوجی، ڈیجیٹل اثاثوں اور سرحد پار مالی سرگرمیوں میں تیزی سے ہونے والی پیش رفت نے مالی جرائم اور اقتصادی خلل کے لیے نئے راستے بھی پیدا کر دیے ہیں۔ اس لیے ایسے ماہر پیشہ ور افراد کی ایک خصوصی افرادی قوت تیار کرنے کی ضرورت میں اضافہ ہو رہاہے جو ابھرتے ہوئے مالی اور اقتصادی جرائم کو سمجھنے، ان کی روک تھام اور ان سے نمٹنے کی صلاحیت رکھتے ہوں، تاکہ  ہندوستان کی اقتصادی لچک کو مضبوط بنانے کے ساتھ ساتھ عالمی امن، استحکام اور سلامتی میں بھی اپنا کردار ادا کر سکیں۔

نیشنل اسٹاک ایکسچینج(این ایس ای)، ممبئی میں آر آر یو کے اسکول آف کریمنل لا اینڈ ملٹری لا کے ڈائریکٹر جناب سنیل کاویشور نے خطاب کرتے ہوئے مالی نظام کے تحفظ  اور لچک کو برقرار رکھنے کی بڑھتی ہوئی اہمیت پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ مالی جرائم مسلسل اپنی شکل بدل رہے ہیں اور روایتی طریقوں سے آگے بڑھ کر ورچوئل ڈیجیٹل اثاثوں، دہشت گردی کی مالی معاونت، پھیلاؤ کی مالی مدد اور ٹیکنالوجی کے ذریعے کیے جانے والے مالی جرائم جیسے ابھرتے ہوئے شعبوں تک پھیل رہے ہیں۔ جرائم پیشہ نیٹ ورکس کی جانب سے جدید ٹیکنالوجی کے بڑھتے ہوئے استعمال نے قانون نافذ کرنے والے اداروں، ضابطہ کار اداروں اور مالیاتی اداروں کے لیے مزید نئے چیلنجز پیدا کر دیے ہیں۔

جناب کاویشور نے بتایا کہ آر آر یو نے مالی اور اقتصادی تحفظ کے ابھرتے ہوئے شعبے میں استعداد کار بڑھانے، خصوصی تربیت اور علم کے تبادلے کے لیے ایک عالمی پلیٹ فارم تیار کرنے میں پیش قدمی کی ہے۔ یونیورسٹی اس شعبے سے متعلق مختلف شعبوں کے پیشہ ور افراد، ماہرین اور اداروں کو ایک پلیٹ فارم پر لانے کی سمت میں کام کر رہی ہے، تاکہ اس شعبے میں خصوصی فہم اور عملی صلاحیتوں کو مزید مضبوط کیا جا سکے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ ایم ایف ای ایس پروگرام میں نہ صرف ماہرین تعلیم بلکہ تجربہ کار ماہرین اور ملازمت پیشہ افراد بھی شامل ہیں، جو اپنے شعبے کا بہتر اور براہ راست تجربہ رکھتے ہیں اور پروگرام میں تدریسی عملے اور ماہرین کے طور پر اپنا تعاون دیں گے۔

آر آر یو کے ٹیچنگ کم ریسرچ آفیسر جناب ہرشت سنگھ نے ابھرتے ہوئے مالی اور اقتصادی تحفظ کے چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے خصوصی مہارت سے لیس پیشہ ور افراد کی ایک مخصوص افرادی قوت تیار کرنے کی اہمیت پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ ایسے تربیت یافتہ پیشہ ور افراد ہندوستان کی اقتصادی لچک کو مضبوط بنانے، پائیدار قومی ترقی میں معاونت کرنے اور عالمی مالی سلامتی اور استحکام میں ملک کے کردار کو مزید مؤثر بنانے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔

یہ پروگرام وزیر اعظم جناب نریندر مودی کے وسیع تر وژن وکست بھارت @2047 سے بھی ہم آہنگ ہے، کیونکہ یہ ایسے ہنرمند پیشہ ور افراد کی تیاری میں معاونت کرتا ہے جو مالی نظام کے تحفظ، ادارہ جاتی صلاحیت کو مضبوط بنانے اور ابھرتے ہوئے اقتصادی و سلامتی کے خطرات سے مؤثر طور پر نمٹنے کی صلاحیت رکھتے ہوں۔ ہندوستان کی معیشت عالمی مالیاتی نظام کے ساتھ تیزی سے مربوط ہو رہی ہے، ایسے میں اس شعبے میں خصوصی مہارت محفوظ، مضبوط اور پائیدار ترقی میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔

دوسرے بیچ میں قومی اور بین الاقوامی شرکا داخلہ لے سکتے ہیں، جس سے مختلف ممالک اور شعبوں سے تعلق رکھنے والے پیشہ ور افراد کو مالی اور اقتصادی سلامتی سے متعلق عصری امور کو سمجھنے اور ان پر تبادلہ خیال کرنے کا موقع ملے گا۔ انشورنس ریگولیٹری اینڈ ڈیولپمنٹ اتھارٹی آف انڈیا(آئی آر ڈی اے آئی) بھی اس پروگرام میں علمی شراکت دار ہے۔

خواہش مند  پیشہ ور افراد راشٹریہ رکشا یونیورسٹی کے سرکاری داخلہ پورٹل کے ذریعے رجسٹریشن کر سکتے ہیں۔ اس پروگرام کا مقصد شرکا کو تعلیمی تدریس، عملی تجربے اور متعلقہ شعبے کے ماہرین کے ساتھ تبادلے کے ذریعے مالی اور اقتصادی سلامتی کے بارے میں کثیر شعبہ جاتی سمجھ بوجھ فراہم کرانا ہے۔

مزید معلومات اور رجسٹریشن کے لیے راشٹریہ رکشا یونیورسٹی کی سرکاری ویب سائٹ  رابطہ کریں۔

********

ش ح۔   م ع ن۔ م ش

U-NO-4270


(ریلیز آئی ڈی: 2316350) وزیٹر کاؤنٹر : 4
یہ ریلیز پڑھیں: English , हिन्दी , Gujarati