وزارت آیوش
24 ہفتوں کے کلینیکل ٹرائل میں معیاری اشوگندھا کی جڑ کے عرق سے جگر یا گردے کے نقصان کا کوئی ثبوت نہیں ملا
ٹیکے لگوا چکے 1200نوجوانوں پر کئے گئے ایک ملٹی سینٹر بے ترتیب، پلیسبو کے زیر کنٹرول تجربےسے پتہ چلا کہ اشوگندھا کی جڑ کا عرق جسم کے لیے 24 ہفتوں تک محفوظ رہا۔ یہ مطالعہ حال ہی میں فرنٹیئرز ان میڈیسن میں شائع ہوا تھا
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
28 SEP 2026 3:15PM by PIB Delhi
حال ہی میں فرنٹیئرز اِن میڈیسن میں شائع ہونے والی ایک بڑی کثیر مرکزی طبی تحقیق میں پایا گیا ہے کہ معیاری اشوگندھا کی جڑ کے عرق کا روزانہ 24 ہفتوں تک استعمال اچھی طرح برداشت کیا گیا اور علاج سے متعلق جگر یا گردوں کو نقصان پہنچنے کے کوئی شواہد نہیں ملے۔
20 اگست 2026 کو شائع ہونے والی اس تحقیق(Front. Med., Vol 13, 20 August 2026. https://doi.org/10.3389/fmed.2026.1852954) کا عنوان ’’کووی شیلڈ ویکسینیشن کے بعد 24 ہفتوں تک اشوگندھا کے محفوظ طویل مدتی احتیاطی استعمال اور برداشت کی صلاحیت: کثیر مرکزی بے ترتیب، ڈبل بلائنڈ، پلیسیبو کے زیر کنٹرول آزمائش‘‘ہے۔ یہ تحقیق 9 اداروں کے کثیر شعبہ جاتی محققین کی ٹیم نے انجام دی۔ جن میں سینٹرل کونسل فار ریسرچ اِن آیورویدک سائنسز(سی سی آر اے ایس)، آل انڈیا انسٹی ٹیوٹ آف آیوروید، نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف آیورویدجے پور، آیوش سینٹر آف ایکسیلنس، ٹرانسلیشنل ہیلتھ سائنس اینڈ ٹیکنالوجی انسٹی ٹیوٹ، سینٹر فار کمپلیمنٹری اینڈ انٹیگریٹیو ہیلتھ اور ساوتری بائی پھولے پونے یونیورسٹی کا انٹر ڈسپلنری اسکول آف ہیلتھ سائنسز سمیت دیگر ادارے شامل تھے۔
یہ تحقیق9 اداروں کے 45 محققین پر مشتمل ایک کثیر شعبہ جاتی گروپ نے انجام دی۔ جس میں آیوروید، طبی علاج، ریمیٹولوجی، تکمیلی و مربوط صحت اور متعلقہ شعبوں کی مہارت کو یکجا کیا گیا۔ بے ترتیب، ڈبل بلائنڈ اور پلیسیبو کے زیر کنٹرول اس آزمائش میں18 سے 70 سال کی عمر کے 1200 بظاہر صحت مند بالغ افراد کو شامل کیا گیا جنہیں کووی شیلڈ ویکسین کی پہلی، دوسری یا بوسٹر خوراک دی جا چکی تھی۔ شرکا ءکو بے ترتیب طور پر دو گروپوں میں تقسیم کیا گیا۔ ایک گروپ کو روزانہ 500 ملی گرام معیاری آبی اشوگندھا کی جڑ کا عرق دیا گیا، جو کچی جڑ کے 4 گرام سفوف کے برابر تھا۔ جبکہ دوسرے گروپ کو اسی شکل کا پلیسیبو دیا گیا۔ یہ تحقیق ہندوستان میں سات مطالعاتی مراکز پر کی گئی۔ جس میں طبی، لیبارٹری اور مدافعتی نظام سے متعلق جائزے شامل تھے۔ اس آزمائش کا اندراج کلینیکل ٹرائلز رجسٹری۔انڈیا (CTRI/2021/06/034496) میں کیا گیا تھا۔(http://www.clinicaltrials.gov)
شرکاء کو 24 ہفتوں تک یہ طریقہ ٔعلاج دیا گیا اور 28ویں ہفتے تک ان کی نگرانی کی گئی۔ تحقیق میں شامل 1200 شرکا میں سے 1032یعنی 86 فیصد نے مطالعہ مکمل کیا۔
تحقیق میں24 ہفتوں کے دوران معیاری اشوگندھا کی جڑ کے عرق کے استعمال کو محفوظ اور قابل برداشت پایا گیا۔ جگر اور گردوں کے افعال سے متعلق اشاریے رپورٹ کردہ معمول کی حدود میں رہے۔ ان جائزوں میں جگر کے خامروں، بلی روبن، کریٹینین اور خون میں یوریا کی جانچ بھی شامل تھی، جن میں علاج سے متعلق جگر یا گردوں کو نقصان پہنچنے کے کوئی شواہد نہیں ملے۔
کسی بھی سنگین منفی اثر کو تحقیق میں استعمال کیے گئے طریقہ علاج سے متعلق نہیں سمجھا گیا اور کسی بھی شریک نے منفی اثرات کے باعث آزمائش سے دستبرداری اختیار نہیں کی۔
آیوش وزارت کے سکریٹری ویدیا راجیش کوٹیچا نے اس بات پر زور دیا کہ تحقیق کے نتائج معیاری آیورویدک طریقہ علاج کی حفاظت اور مناسب استعمال کی تائید میں مضبوط سائنسی شواہد فراہم کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا’’اعلیٰ معیار کی طبی تحقیق آیوروید کے سائنسی شواہد کی بنیاد کو مضبوط بناتی ہے اور موجودہ صحت کی دیکھ بھال کے نظام میں اس کی صلاحیتوں کو مزید گہرائی سے سمجھنے میں معاون ہوتی ہے۔ سخت سائنسی اصولوں کے تحت کی جانے والی طبی تحقیق سے حاصل ہونے والے بڑھتے ہوئے شواہد صحت اور فلاح و بہبود کے مختلف شعبوں میں آیوروید اور اس کے طریقہ علاج کے ذمہ دارانہ عالمی استعمال میں بھی معاون ثابت ہو رہے ہیں۔‘‘
پونے میں واقع سینٹر فار ریمیٹک ڈیزیزز کے آیوش ممتاز سائنس دان چیئر ڈائریکٹر اور چیف ریمیٹولوجسٹ اور تحقیق کے سرکردہ مصنف ڈاکٹر اروند چوپڑا نے ان نتائج کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے کہا، ’’یہ بڑی کثیر مرکزی بے ترتیب طبی آزمائش 24 ہفتوں کے دوران معیاری اشوگندھا کی حفاظت اور برداشت کی صلاحیت کے بارے میں اہم شواہد فراہم کرتی ہے۔ پوری تحقیق کے دوران جگر اور گردوں کے افعال سے متعلق اشاریے جسمانی معمول کی حدود میں رہے اور علاج سے متعلق جگر یا گردوں کو نقصان کا کوئی ثبوت نہیں ملا۔ تحقیق سے یہ بھی ظاہر ہوا کہ اشوگندھا نے ویکسین سے پیدا ہونے والی مدافعتی صلاحیت میں کوئی مداخلت نہیں کی اور اشوگندھا اور پلیسیبو دونوں گروپوں میں وائرس کو بے اثر کرنے کی سرگرمی کی بلند سطح برقرار رہی۔ یہ نتائج معیاری آیورویدک ادویاتی تیاریوں کا سخت اور باقاعدہ کنٹرول والی طبی تحقیق کے ذریعے جائزہ لینے کی اہمیت کو مزید تقویت دیتے ہیں۔‘‘
آیوش کے نیشنل پروفیسر اور تحقیق کے شریک مصنف پروفیسر بھوشن پٹوردھن نے آیوروید کے لیے اعلیٰ معیار کے سائنسی شواہد پیدا کرنے کی اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ’’یہ تحقیق اس بات کی ایک اہم مثال ہے کہ آیوروید کی روایتی بنیادوں کو مدنظر رکھتے ہوئے جدید اور مضبوط طبی تحقیق کے ذریعہ اس کا جائزہ کس طرح لیا جا سکتا ہے۔ 24 ہفتوں کے دوران حفاظت اور برداشت کی صلاحیت سے متعلق سازگار نتائج معیاری اشوگندھا کی تیاریوں کے بارے میں موجود طبی شواہد میں مزید اضافہ کرتے ہیں اور صحت کی دیکھ بھال کے نظام میں ان کے ذمہ دارانہ انضمام کے لیے شواہد پر مبنی طریقۂ کار کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہیں۔‘‘
سینٹرل کونسل فار ریسرچ اِن آیورویدک سائنسز (سی سی آر اے ایس) کے ڈائریکٹر جنرل پروفیسر(ویدیا)رابینارائن آچاریہ نے آیورویدک طریقہ علاج کے بارے میں مضبوط طبی شواہد پیدا کرنے کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا’’اس کثیر مرکزی طبی آزمائش کے نتائج 24 ہفتوں تک باقاعدہ اور کنٹرول شدہ حالات میں معیاری اشوگندھا کی جڑ کے عرق کے استعمال کی حفاظت اور برداشت کی صلاحیت کے بارے میں اہم شواہد فراہم کرتے ہیں۔ اس طرح کی منظم اور بہتر انداز میں تیار کی گئی طبی تحقیقات آیوروید کے سائنسی شواہد کی بنیاد کو مضبوط بنانے اور معیاری آیورویدک تیاریوں کے ذمہ دارانہ اور شواہد پر مبنی استعمال میں معاونت کے لیے اہم ہیں۔‘‘
تحقیق میں کووی شیلڈ ویکسینیشن کے بعد مدافعتی ردعمل پر معیاری آبی اشوگندھا کی جڑ کے عرق کے 24 ہفتوں تک استعمال کے اثرات کا بھی جائزہ لیا گیا۔ اشوگندھا اور پلیسیبو دونوں گروپوں میں وائرس کو بے اثر کرنے کی اہلیت85 فیصد سے زیادہ رہی اور دونوں گروپوں کے درمیان اعداد و شمار کے لحاظ سے کوئی نمایاں فرق نہیں پایا گیا۔
یہ نتائج معیاری اشوگندھا کی تیاریوں سے متعلق طبی شواہد میں اضافہ کرتے ہیں اور ان کے محفوظ اور شواہد پر مبنی استعمال کے لیے مضبوط طبی تحقیق کی اہمیت کو مزید اجاگر کرتے ہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔ ۔ ۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔ ۔ ۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
( ش ح ۔ م ح ۔ ع د )
U.No. 4220
(ریلیز آئی ڈی: 2316091)
وزیٹر کاؤنٹر : 8