PIB Backgrounder
بھارت کا میری ٹائم انشورنس پول
بھارت کی بحری خودمختاری کو مزید مستحکم کرنا
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
27 SEP 2026 11:35AM by PIB Delhi
|
بھارت کا بیشتر تجارتی مال اور توانائی کی سپلائی سمندری راستوں کے ذریعے منتقل ہوتی ہے، اس لیے ملک کی تجارت کا سمندری نقل و حمل پر بہت زیادہ انحصار ہے۔ بھارت میری ٹائم انشورنس پول (بی ایم آئی پی) ایسے جہازوں کے ہل اور مشینری سے متعلق خطرات کے لیے بحری بیمہ فراہم کرتا ہے جو بھارتی پرچم بردار ہوں، یا بھارتی اداروں کی ملکیت، انتظام یا کنٹرول میں ہوں، نیز ان مال بردار جہازوں کے لیے بھی بیمہ فراہم کرتا ہے جو بھارت آنے یا بھارت سے روانہ ہونے والے ہوں۔بی ایم آئی پی کا آغاز مئی 2026 میں کیا گیا اور اس کے تحت 13,906.50 کروڑ روپے (1.5 ارب امریکی ڈالر) تک کا بیمہ تحفظ فراہم کیا جاتا ہے۔ یہ ملک کے اندر ہی جہاز کے ڈھانچے (ہل)، مال برداری، تحفظ و معاوضہ (پی اینڈ آئی) اور جنگی خطرات کے لیے بیمہ تحفظ فراہم کرتا ہے۔بی ایم آئی پی غیر ملکی بیمہ کمپنیوں پر انحصار کم کرنے کے ساتھ ساتھ عالمی سطح پر پیدا ہونے والی رکاوٹوں کے دوران کفایتی اور بلاتعطل بیمہ تحفظ یقینی بناتا ہے۔ بیمہ پالیسیاں ملکی بیمہ کمپنیوں کی جانب سے جاری کی جاتی ہیں، جبکہ ارکان کی جانب سے کیے گئے وعدوں کی بنیاد پر خطرات کی اجتماعی طور پر دوبارہ بیمہ کاری کی جاتی ہے۔10 کروڑ امریکی ڈالر تک کے دعووں کی ادائیگی محفوظ فنڈز سے کی جاتی ہے، جبکہ اس سے بڑے دعووں کے لیے خودمختار ضمانتیں استعمال کی جاتی ہیں۔ آغاز کے بعد سے بی ایم آئی پی نے ساحلی جہازوں کے لیے جنگی خطرات اور پی اینڈ آئی سے متعلق بیمہ پالیسیاں جاری کی ہیں، بیمہ پریمیم میں کمی کی ہے اور بھارت کی بحری خودمختاری کو مزید مستحکم کیا ہے۔
|
جائزہ
بھارت دنیا کے اہم تجارتی ملکوں میں شمار ہوتا ہے اور اس کی بیشتر تجارت سمندری راستوں کے ذریعے ہوتی ہے۔ بھارت کے لیے سمندر محض نقل و حمل کا ذریعہ نہیں بلکہ تجارت کی ریڑھ کی ہڈی ہے۔ یہ توانائی کے تحفظ کو یقینی بنانے کے ساتھ ساتھ قومی معیشت کے مختلف شعبوں میں اقتصادی ترقی کو بھی فروغ دیتا ہے۔ خام تیل کی درآمد سے لے کر اشیائے تجارت کی برآمد تک، سمندری رابطہ بھارت کی معیشت کے تقریباً ہر شعبے کی بنیاد ہے۔ ساحلی جہاز رانی اور اندرون ملک آبی راستے اس اہم ذریعہ حیات کو مزید مضبوط بناتے ہیں اور تجارت میں استحکام اور کارکردگی کو یقینی بناتے ہیں۔
بھارت کی سمندری تجارت میں وسعت آئی ہے، لیکن سمندری بیمہ کی اہم خدمات کے لیے اب بھی بڑی حد تک غیر ملکی بیمہ فراہم کرنے والوں پر انحصار ہے۔ اس کے نتیجے میں تحفظ و معاوضہ (پی اینڈ آئی) بیمہ پریمیم کی مد میں سالانہ 4.5 کروڑ سے 6 کروڑ امریکی ڈالر بیرون ملک منتقل ہوتے ہیں، جبکہ بیرون ملک سمندری بیمے کی ادائیگیاں بھی زیادہ ہوتی ہیں۔
بھارت میری ٹائم انشورنس پول (بی ایم آئی پی) کو ملکی سمندری بیمہ کی صلاحیت میں اس اہم خلا کو پر کرنے کے لیے ایک خودمختار حل کے طور پر تشکیل دیا گیا ہے۔ 18 اپریل 2026 کو منظوری دیے جانے کے بعد 12 مئی 2026 کو باضابطہ طور پر شروع کیا گیا بی ایم آئی پی، 13,906.50 کروڑ روپے (1.5 ارب امریکی ڈالر) کا بھارت کا پہلا ملکی میری ٹائم انشورنس پول ہے۔ اسے 12,980 کروڑ روپے (1.4 ارب امریکی ڈالر) کی خودمختار سرکاری ضمانت حاصل ہے۔ پہلی مرتبہ بھارتی کمپنیاں زیادہ مالیت کے جہازوں کا بیمہ خود بھارتی جہازوں کے لیے آزادانہ طور پر کر رہی ہیں۔ اس کے تحت جہاز کے ڈھانچے اور مشینری (ہل اینڈ مشینری)، زیادہ خطرے والے علاقوں میں جنگی خطرات کے تناظر میں مال برداری اور تحفظ و معاوضہ (پی اینڈ آئی) کا بیمہ تحفظ فراہم کیا جاتا ہے۔
بھارت کا بحری شعبہ: سمندروں سے جڑی قوم
بھارت میں 12 بڑی اور 217 غیر بڑی بندرگاہیں کام کر رہی ہیں، جہاں ملک بھر میں مختلف اقسام کی اشیا کی نقل و حمل ہوتی ہے۔ مالی سال 2025-26 کے دوران بھارت کی بڑی اور غیر بڑی بندرگاہوں سے 1,668 ملین میٹرک ٹن مال کی نقل و حمل ہوئی، جس میں اقتصادی ترقی اور تجارت میں وسعت کے ساتھ مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔
- بھارت کی ساحلی پٹی تقریباً 11,098 کلومیٹر طویل ہے، جو دنیا کی طویل ترین ساحلی پٹیوں میں شمار ہوتی ہے اور اس میں قدرتی بندرگاہیں اور بندرگاہوں کے لیے موزوں مقامات موجود ہیں۔
- خصوصی اقتصادی خطہ 24 لاکھ مربع کلومیٹر پر محیط ہے، جس کے تحت سمندری وسائل اور ماہی گیری کی سرگرمیوں پر بھارت کو خودمختار حقوق حاصل ہیں۔
- اندرون ملک آبی راستے 14,500 کلومیٹر سے زیادہ طویل ہیں، جن میں دریا، نہریں اور بیک واٹرز شامل ہیں اور جو کم لاگت میں مال برداری کی سہولت فراہم کرتے ہیں۔
- ساحلی ریاستیں اور خطے سمندر سے متصل ہیں، جس کی وجہ سے یہاں کی آبادی اور صنعتیں سمندری تجارت سے فائدہ اٹھانے کی بہتر پوزیشن میں ہیں۔
- سمندری شعبے سے وابستہ روزگار 3 کروڑ سے زیادہ افراد کے معاش کا ذریعہ ہے، جن میں ماہی گیر، بندرگاہوں کے کارکن، بحری جہازوں کے عملے کے ارکان اور جہاز ساز شامل ہیں۔
بھارت میری ٹائم انشورنس(بی ایم آئی) پول کی ضرورت کیوں ہے؟
2026 کے وسط تک بھارتی پرچم بردار بحری بیڑے میں 1,609 جہاز شامل ہو چکے ہیں، جن کی مجموعی گنجائش 14.33 ملین جی ٹی ہے۔ 2015 کے مقابلے میں جہازوں کی مجموعی گنجائش میں تقریباً 36 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ بھارت کی تجارت کی مالیت کا 95 فیصد اور تجارتی حجم کا 70 فیصد سمندری راستوں کے ذریعے منتقل ہوتا ہے۔

- سمندری بیمہ: تجارت کی پوشیدہ لائف لائن
عالمی تجارت کے لیے سمندری بیمہ لازمی حیثیت کاحامل ہے۔ جہاز کے ڈھانچے اور مشینری کی بیمہ پالیسیاں جہازوں کو تحفظ فراہم کرتی ہیں، جبکہ مال برداری کا بیمہ سامان کو محفوظ بناتا ہے اور تحفظ و معاوضہ (پی اینڈ آئی) بیمہ، آلودگی یا عملے کے ارکان کو پہنچنے والے نقصان جیسی ذمہ داریوں کا احاطہ کرتا ہے۔ جنگی خطرات کا بیمہ بحری قزاقی اور مسلح تنازعات جیسے خطرات سے تحفظ فراہم کرتا ہے۔ یہ تمام بیمے مل کر بھارت کی بحری معیشت کے لیے قانونی اور تجارتی ضرورت کی حیثیت رکھتے ہیں۔
- غیر ملکی پی اینڈ آئی کلبوں پر حد سے زیادہ انحصار
|
تحفظ و معاوضہ کلبوں کا بین الاقوامی گروپ 13 بڑے کلبوں پر مشتمل ہے۔ یہ کلب مجموعی طور پر دنیا کے تقریباً 90 فیصد بڑے جہازوں کا بیمہ کرتے ہیں، جنہیں مال کے نقصان، آلودگی، تصادم اور عملے کے ارکان کو پہنچنے والے نقصان جیسے خطرات سے تحفظ حاصل ہوتا ہے۔
|
بھارت بیمے کی پوری ویلیوچین کے لیے غیر ملکی بیمہ کنندگان پر انحصار کرتا رہا ہے۔ بھارتی جہاز مالکان تقریباً مکمل طور پر 13 بین الاقوامی پی اینڈ آئی کلبوں پر انحصار کرتے ہیں، جن میں زیادہ تر مغربی ممالک میں قائم ہیں۔ یہ انحصار بھارت کو اچانک بیمہ تحفظ واپس لیے جانے یا سیاسی اثر و رسوخ سے متاثر فیصلوں کے خطرے سے دوچار کرتا ہے، جس سے ملک میں تیار کیے گئے متبادل کی اہمیت مزید واضح ہوتی ہے۔
- جغرافیائی سیاسی اتار چڑھاؤ اور تجارت میں خلل
بحیرہ احمر میں تنازعات اور آبنائے ہرمز کے قریب کشیدگی نے اہم بحری راستوں کو متاثر کیا ہے۔ بھارت اپنی ضرورت کا ایک بڑا حصہ خام تیل سمندری راستوں سے درآمد کرتا ہے، اس لیے اس کی توانائی سلامتی بلاتعطل بیمہ تحفظ پر منحصر ہے۔ اس عرصے کے دوران غیر ملکی بیمہ کنندگان نے بیمہ پریمیم میں اضافہ کر دیا یا بیمہ تحفظ فراہم کرنا بند کر دیا۔ اس سے جہاز مالکان کے اخراجات میں نمایاں اضافہ ہوا اور ملکی سطح پر ایک مضبوط حفاظتی انتظام کی ضرورت مزید بڑھ گئی۔
ماضی میں بھارت میں سمندری بیمے کے لیے خطرات کے تعین اور دعووں کے انتظام کے حوالے سے ادارہ جاتی سطح پر مطلوبہ مہارت موجود نہیں تھی۔ بی ایم آئی پی ملک کے اندر یہ مہارت پیدا کر رہا ہے، جس سے عالمی معیار کے ملکی بیمہ شعبے کی بنیاد رکھی جا رہی ہے اور لندن یا سوئٹزرلینڈ جیسے غیر ملکی مراکز پر انحصار کم ہو رہا ہے۔
بھارت میری ٹائم انشورنس پول (بی ایم آئی پی) جہازوں اور مال برداری کے لیے کفایتی اور خودمختار بیمہ تحفظ یقینی بناتا ہے، جس سے عالمی خطرات کے مقابلے میں بھارت کی پائیداری اور مضبوطی میں اضافہ ہوتا ہے۔
بی ایم آئی پول: ڈھانچہ، ساخت اور بیمہ تحفظ
- یہ پول تجارتی راستوں پر سفر کرنے والے جہازوں اور مال برداری کو تحفظ فراہم کرنے کے لیے سمندری بیمہ مہیا کرتا ہے۔ بڑے سمندری خطرات سے نمٹنے کے لیے یہ مختلف بیمہ کنندگان کی اجتماعی شرکت اور منظم انتظامی نظام کے تحت کام کرتا ہے۔
- خودمختار سرکاری ضمانت: حکومت کی جانب سے 12,980 کروڑ روپے (1.4 ارب امریکی ڈالر) کی مالی ضمانت فراہم کی گئی ہے، جو پول کو مالی طور پر مضبوط بناتی ہے۔ یہ ضمانت شدید نوعیت کے نقصانات کی صورت میں بھی مالی ذمہ داریوں کی ادائیگی کو یقینی بناتی ہے۔
- بیمہ کی گنجائش: پول 13,906.5 کروڑ روپے یعنی 1.5 ارب امریکی ڈالر تک کے خطرات کا بیمہ کرسکتا ہے۔ اسے خودمختار سرکاری ضمانت حاصل ہے، جس سے بڑے سمندری نقصانات کا احاطہ کرنے کی اس کی صلاحیت میں اضافہ ہوتا ہے۔
- خطرات کا بیمہ تحفظ: جہاز کاڈھانچہ اور مشینری، مال برداری، تحفظ و معاوضہ (پی اینڈ آئی) اور جنگی خطرات کو بیمہ تحفظ میں شامل کیا گیا ہے۔
- جہازوں کی اہلیت: وہ جہاز اس بیمہ کے اہل ہیں جو بھارتی پرچم بردار ہوں، یا بھارتی اداروں کی ملکیت، انتظام یا کنٹرول میں ہوں، نیز وہ مال بردار جہاز بھی اہل ہیں جو بھارت آنے یا بھارت سے روانہ ہونے والے ہوں۔
- مدت: پول کی مدت 10 سال ہے، جسے بڑھا کر زیادہ سے زیادہ 15 سال تک کیا جاسکتا ہے۔
- مشترکہ طور پر پالیسیوں کا اجرا: پالیسیاں پول کے رکن ملکی بیمہ کنندگان کی جانب سے جاری کی جائیں گی اور اس کے لیے ان کی مشترکہ بیمہ کاری صلاحیت استعمال کی جائے گی۔ ان پالیسیوں کے تحت بیمہ شدہ خطرات کی دوبارہ بیمہ کاری تمام پول ارکان کی جانب سے اجتماعی طور پر کی جائے گی، جس میں ہر رکن کی جانب سے فراہم کردہ بیمہ صلاحیت کے تناسب کو مدنظر رکھا جائے گا۔
- دعووں کا انتظام: 10 کروڑ امریکی ڈالر تک کے دعووں کی ادائیگی جمع شدہ محفوظ فنڈز اور دوبارہ بیمہ سے حاصل ہونے والی رقم سے کی جائے گی۔ اس سے بڑے دعووں کی صورت میں خودمختار سرکاری ضمانت اسی وقت فعال ہوگی جب پول کے تمام محفوظ فنڈز مکمل طور پر استعمال ہوچکے ہوں۔
- انتظامیہ: جنرل انشورنس کارپوریشن آف انڈیا پول کے منتظم کے طور پر روزمرہ امور کی نگرانی کرے گی۔ یہ کارکردگی سے متعلق رپورٹیں پیش کرنے کے ساتھ ساتھ پول کے مؤثر اور ہموار انتظام میں معاونت کرے گی۔
- انتظامی نگرانی: ایک نگرانی و انتظامی ادارہ پول کے امور کی نگرانی اور انضباط کرے گا، تاکہ ضابطوں کی پابندی اور کام کا ہموار انعقاد یقینی بنایا جاسکے۔
- بیمہ کاری میں احتیاط: انڈر رائٹنگ کمیٹی خطرات کے درست اور یکساں جائزے کو یقینی بنائے گی، جس سے طویل مدت میں پول کی مالی پائیداری برقرار رکھنے میں مدد ملے گی۔

- کوریج کی اقسام اور دائرہ کار:
بی ایم آئی پی کو سمندری خطرات کی تمام اہم اقسام کے لیے جامع بیمہ تحفظ فراہم کرنے کے مقصد سے تشکیل دیا گیا ہے۔ اس کے ذریعے یہ یقینی بنایا گیا ہے کہ بھارتی تجارت سے وابستہ کوئی بھی جہاز یا مال بردار، خواہ اس کا راستہ یا خطرے کی نوعیت کچھ بھی ہو، ملکی سطح پر بیمہ تحفظ سے محروم نہ رہے۔
- ہل اور مشینری کے جنگی خطرات کا بیمہ: یہ جہاز کے ڈھانچے (جہاز کے مرکزی حصے)، حرکی نظام (جہاز کو حرکت دینے والی مشینری) اور نصب شدہ آلات کو پہنچنے والے نقصان سے تحفظ فراہم کرتا ہے۔ اس سے بھارت کے تجارتی بحری بیڑے کی سرمایہ جاتی قدر محفوظ رہتی ہے اور اسے ملکی سطح پر بیمہ تحفظ حاصل ہوتا ہے۔
- مال برداری کے جنگی خطرات کا بیمہ: یہ بین الاقوامی سمندری راستوں سے منتقل کیے جانے والے سامان کو نقصان یا ضائع ہونے کے خطرے سے تحفظ فراہم کرتا ہے۔ اس سے بھارتی برآمد کنندگان اور درآمد کنندگان کو زیادہ خطرے والے یا تنازعات سے متاثرہ سمندری راستوں پر بھی بیمہ تحفظ حاصل ہوتا ہے۔
- تحفظ و معاوضہ کا بیمہ: اس کے تحت آلودگی، تیل سے ہونے والی آلودگی کی صفائی، تباہ شدہ جہاز کے ملبے کو ہٹانے، عملے کے ارکان کو پہنچنے والے نقصان اور مال برداری کو ہونے والے نقصان سمیت مختلف ذمہ داریوں کا احاطہ کیا جاتا ہے۔ بھارتی جہاز مالکان کو اب ایسے بیمہ تحفظ تک ملکی سطح پر رسائی حاصل ہے جو اس سے قبل صرف غیر ملکی کلبوں کے ذریعے دستیاب تھا۔
- جنگی خطرات کا بیمہ: یہ مسلح تنازعات، بحری قزاقی، دہشت گردی اور دشمن جہازوں کی جانب سے زبردستی قبضے کے نتیجے میں ہونے والے نقصانات کے خلاف بیمہ تحفظ فراہم کرتا ہے۔ یہ تحفظ بحیرہ احمر، آبنائے ہرمز اور دیگر زیادہ خطرے والے علاقوں جیسے حساس بحری راستوں سے گزرنے والی بھارتی تجارت کے لیے نہایت اہم ہے۔
نتائج اور اثرات
مئی 2026 میں بھارت میری ٹائم انشورنس پول کا آغاز بھارت کے سمندری بیمہ شعبے میں ایک اہم سنگ میل ہے۔ اپنی عملی سرگرمیوں کے آغاز کے بعد سے بی ایم آئی پی نے بھارتی بحری شعبے سے وابستہ فریقوں کے لیے جنگی خطرات کا بلاتعطل بیمہ تحفظ یقینی بنایا ہے۔ مغربی ایشیا کے تنازع کے عروج کے بعد سے جنگی خطرات کے بیمہ پریمیم میں تقریباً 35 سے 40 فیصد کمی آئی ہے۔ 7 ستمبر 2026 تک پول نے مال برداری کے جنگی خطرات کی 3,000، جہازوں کے جنگی خطرات کی 92 اور تحفظ و معاوضہ کی 3 بیمہ پالیسیاں جاری کی ہیں۔
- مضبوط آغاز: آغاز کے بعد حاصل ہونے والی پیش رفت
- بھارت کی پہلی پی اینڈ آئی پالیسی: 30 جولائی 2026 کو بی ایم آئی پی کے تحت بھارت کی پہلی تحفظ و معاوضہ بیمہ پالیسی شپنگ کارپوریشن آف انڈیا لمیٹڈ کے لیے جاری کی گئی۔ نیو انڈیا ایشورنس کمپنی لمیٹڈ کی جانب سے جاری کردہ یہ پالیسی تیسرے فریق کی ذمہ داریوں کے خلاف مالی تحفظ فراہم کرتی ہے۔
- جہاز کے ڈھانچے اور مشینری کے جنگی خطرات کی پہلی پالیسی: 12 مئی 2026 کو پول کی پہلی پالیسی ایسے جہاز کے لیے جاری کی گئی جو تنازع سے متاثرہ علاقوں سے گزر رہا تھا۔ نیو انڈیا ایشورنس نے میسرز ہوگَر آف شور اینڈ میرین پرائیویٹ لمیٹڈ کے لیے یہ میری ٹائم ہل اینڈ مشینری وار پالیسی جاری کی۔ سادہ الفاظ میں، اب ایک بھارتی جہاز کو جنگی خطرات کے خلاف ملکی سطح پر تیار کردہ بیمہ تحفظ حاصل ہے۔
- بھارت آنے والے مال کے لیے تحفظ: میسرز ویدانتا سٹرلائٹ کاپر لمیٹڈ کے لیے میری ٹائم کارگو وار پالیسی جاری کی گئی۔ یہ پالیسی کمپنی کی جانب سے بھارت درآمد کی جانے والی کیبل تاروں کو تحفظ فراہم کرتی ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ پول ملک کے بڑے صنعتی درآمد کنندگان کو بھی خدمات فراہم کرسکتا ہے۔ اس کے ذریعے بھارتی صنعت کو ضروری سامان فراہم کرنے والی سپلائی چین کو محفوظ بیمہ تحفظ حاصل رہتا ہے۔
- صرف جہاز رانی کمپنیوں تک محدود نہیں: بلرام پور چینی ملز لمیٹڈ کے لیے بھی ایک بیمہ پالیسی جاری کی گئی، جو چینی تیار کرنے والی کمپنی ہے۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ یہ پول صرف جہاز مالکان کے لیے نہیں ہے۔ سمندر کے ذریعے مال منتقل کرنے والے کسان، کارخانے اور اشیائے تجارت کے تاجر بھی بیمہ تحفظ حاصل کرسکتے ہیں۔ اس طرح یہ پول بھارتی معیشت کے وسیع تر شعبے کے لیے کام کرتا ہے۔
- انتظامی ڈھانچہ اور نافذنظام: آغاز کے وقت ہی گورننگ باڈی اور انڈر رائٹنگ کمیٹی قائم کردی گئی تھیں۔ جنرل انشورنس کارپوریشن آف انڈیا (جی آئی سی ری) نے پول کے مینیجر/منتظم کی ذمہ داری سنبھال لی ہے۔ بیمہ کاری، دعووں اور ضابطوں کی پابندی سے متعلق نظام بھی قائم کردیئے گئے ہیں۔ پول اب مکمل تجارتی پیمانے پر کام کر رہا ہے۔
آگے کا لائحہ عمل
بھارت میری ٹائم انشورنس پول بھارت کی بحری مالی خود کفالت کی جانب ایک اہم قدم ہے۔ اس کا مقصد متعلقہ فریقوں کے لیے قابل اعتماد نظام، مسابقتی شرحوں اور بیمہ دعووں کی قابل اعتماد ادائیگی کو یقینی بنانا ہے۔ درمیانی مدت میں توجہ افرادی قوت کو مضبوط بنانے، قانونی ڈھانچے کو مستحکم کرنے اور دوبارہ بیمہ کاری کے لیے شراکت داری کو فروغ دینے پر مرکوز رہے گی۔ ان کوششوں سے پائیداری اور مضبوطی میں اضافہ ہوگا اور ساتھ ہی خودمختار سرکاری ضمانت پر انحصار کو کم سے کم رکھنے میں مدد ملے گی۔
طویل مدت میں یہ پول بحر ہند کے خطے میں سمندری بیمے کے لیے ایک علاقائی مرکز کے طور پر ابھرے گا۔ بھارت کو مالی خدمات فراہم کرنے والے اور سمندری خطرات سے متعلق اصول و ضوابط کی تشکیل میں رول ادا کرنے والے ملک کے طور پر شناخت حاصل ہوگی۔ جیسے جیسے جہاز سازی کا شعبہ وسعت اختیار کرے گا اور بندرگاہوں سے گزرنے والے مال کی مقدار میں اضافہ ہوگا، یہ پول بھی بھارت کے بحری عزائم کے ساتھ ترقی کرے گا۔ اس کی بیمہ کاری کی صلاحیت اور دائرہ کار بھارت کے بحری بنیادی ڈھانچے کے ایک مستقل ستون کی حیثیت اختیار کریں گے۔
حوالہ جات:
بندرگاہوں، جہاز رانی اور آبی راستوں کی وزارت:
https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2253432®=3&lang=1
https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2260712®=3&lang=2
https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2244786®=3&lang=1
https://shipmin.gov.in/sites/default/files/Maritime%20Amrit%20Kaal%20Vision%202047%20%28MAKV%202047%29_compressed.pdf
https://sansad.in/getFile/lsapps/loksabhaquestions/annex/188/AU927_Q1ssYz.pdf?source=lsapps
وزارتِ خزانہ:
https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2260413®=3&lang=1
https://x.com/DFS_India/status/2045461170069594537
بحری جہاز رانی کے ڈائریکٹوریٹ جنرل:
https://dgma.gov.in/download/1781517244_6a2fcbbc219f8_bmip-note.pdf
https://dgma.gov.in/nautical-wing/insurance
Inland Waterways Authority of India:
https://iwai.nic.in/
مرکزی کابینہ:
https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2253242®=3&lang=1
Click here for hindi PDF file.
******
ش ح ۔ ش ب ۔ م ا
UR No-4215
(ریلیز آئی ڈی: 2316012)
وزیٹر کاؤنٹر : 6