بندرگاہوں، جہاز رانی اور آبی راستوں کی وزارت
بحری جہازوں کو سبز ایندھن کی پیداوار اور فراہمی کے لیے بھارت کی پہلی بندرگاہ پر مبنی ای-میٹھانول پروڈکشن فیشلیٹی
گرین میٹھانول پلانٹ ’’نیٹ زیرو 2070‘‘ کے ہدف میں مدد کرے گا کیونکہ گجرات اور آسام کے وزرائے اعلیٰ اور مرکزی وزیر نے کانڈلا میں اس کا رکھا سنگ بنیاد
کانڈلا میں 2,300 کروڑ روپے کی سرمایہ کاری سے 3,500 ملازمتیں پیدا ہوں گی
گجرات دنیا کے لیے بھارت کا گیٹ وے ہے؛ اب یہ دنیا کا گرین انرجی گیٹ وے بن رہا ہے: بھوپیندر پٹیل
بھارت دنیا کی ایک سرکردہ سمندری طاقت کے طور پر آگے بڑھ رہا ہے؛ اب یہ گرین انرجی کے ساتھ دنیا کے جہازوں کو توانائی فراہم کرے گا: سربانند سونووال
آسام نے تیل اور چائے کے ذریعے بھارت کو توانائی دی؛ اب یہ گرین انرجی کے ذریعے دنیا کو توانائی فراہم کرے گا: ڈاکٹر ہیمنت بسوا شرما
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
26 SEP 2026 6:13PM by PIB Delhi
بھارت نے سبز توانائی کا برآمد کنندہ بننے کی سمت میں ایک بڑا قدم اٹھایا کیونکہ گجرات کے وزیر اعلیٰ بھوپیندر پٹیل، بندرگاہوں، جہاز رانی اور آبی گزرگاہوں کے مرکزی وزیر ( ایم او پی ایس ڈبلیو) سربانند سونووال اور آسام کے وزیر اعلیٰ ڈاکٹر ہیمنت بسوا شرما نے آج گجرات کے گاندھی دھام واقع کانڈلا میں دین دیال پورٹ اتھارٹی ( ڈی پی اے) میں ملک کے پہلے بندرگاہ پر مبنی ای-میٹھانول پلانٹ کا سنگ بنیاد رکھا۔
یومیہ 150 ٹن کی صلاحیت والا یہ پلانٹ ای-میٹھانول پیدا کرنے کے لیے قابل تجدید توانائی، پانی اور بائیوجینک CO2 کا استعمال کرے گا۔ یہ ایک ایسا سبز ایندھن ہے جو صاف ستھری جہاز رانی کو ممکن بنائے گا اور اسے ایشیا-یوروپ انٹرنیشنل ٹریڈ کوریڈور (جو دنیا کے مصروف ترین تجارتی راستوں میں سے ایک ہے) پر چلنے والے بحری جہازوں کو فراہم کیا جائے گا۔ یہ پروجیکٹ بھارت کو عالمی جہاز رانی کے لیے سبز ایندھن کے برآمد کنندہ کے طور پر مستحکم کرتا ہے۔ یہ پلانٹ بھارت کو سبز ایندھن کی پیداوار اور فراہمی میں ایک عالمی رہنما کے طور پر قائم کرے گا اور سبز ایندھن پیدا کرنے والے دنیا کے دیگر ملکوں کے مقابلے میں بہت زیادہ مسابقتی شرح پر گرین میٹھانول تیار کرے گا، جو کہ عالمی سطح پر 1,300 امریکی ڈالر فی ٹن کے مقابلے میں محض 750 امریکی ڈالر فی ٹن ہو گی۔
2,300 کروڑ روپے کا یہ پلانٹ دین دیال پورٹ اتھارٹی (ڈی پی اے) اور نامروپ میں قائم آسام پیٹرو-کیمیکلز لمیٹڈ ( اے پی سی ایل ) کا ایک مشترکہ اقدام ہے اور اسے مرحلہ وار طریقے سے، توسیع پذیر ماڈیولز کے طور پر نصب کیا جائے گا۔ پروجیکٹ کے پہلے مرحلے میں 1,200 کروڑ روپے کی سرمایہ کاری سے یومیہ 50 ٹن کی صلاحیت کا اضافہ کیا جائے گا ، جسے جنوری 2027 تک مکمل کرنے کا ہدف ہے، جس کے بعد دوسرا مرحلہ آئے گا، جو 1,100 کروڑ روپے کی سرمایہ کاری سے روزانہ مزید 100 ٹن کی صلاحیت کا اضافہ کرے گا اور اسے مارچ 2027 تک مکمل کرنے کا ہدف ہے، جس سے مجموعی سرمایہ کاری 2,300 کروڑ روپے ہو جائے گی۔ دونوں شراکت داروں کے درمیان سرمائے کا تعاون ڈی پی اے اور اے پی سی ایل کے درمیان 76:24 کے تناسب سے ہے۔ اس پروجیکٹ میں ڈی پی اے کا حصہ 567.32 کروڑ روپے کا ایکویٹی کیپیٹل، 75 ایکڑ زمین، ڈی سیلینیٹڈ (نمک سے پاک) پانی اور گرین ہائیڈروجن کی شکل میں قابل تجدید توانائی شامل ہے۔ یہ بھارت میں ای-میٹھانول کی پیداوار کی سب سے بڑی سہولیات میں سے ایک ہو گی اور اس سے 3,500 سے زیادہ براہ راست اور بالواسطہ ملازمتیں پیدا ہوں گی۔ یہ کانڈلا اور اس کے مضافات میں سبز توانائی کی مکمل ویلیو چین کو متحرک کرے گا، جس میں ٹرانسپورٹیشن، اسٹوریج، سپلائی اور گرین مالیکیولز کی پیداوار میں شامل دیگر متعلقہ ذیلی شعبے شامل ہیں۔
یہ پروجیکٹ 2070 تک خالص صفر کاربن اخراج تک پہنچنے کے وزیر اعظم نریندر مودی کے عزم کی حمایت کرتا ہے اور توانائی کے شعبے میں وزیر اعظم کے ’آتم نربھرتا‘ کے مشن کے نفاذ کے ساتھ ساتھ ’میک ان انڈیا، میک فار دی ورلڈ‘ کو بھی سپورٹ کرے گا۔ یہ اقدام بھارت کے سمندری شعبے کو وسعت دینے کی ایک وسیع تر مہم کے درمیان سامنے آیا ہے۔ حکومت آئندہ پانچ برسوں میں ملک کے تجارتی بیڑے میں 100 نئے بحری جہازوں کو شامل کرنے کا منصوبہ رکھتی ہے اور اس کا ہدف 2047 تک بھارت کو دنیا کے سرفہرست پانچ جہاز کے مالکانہ حقوق رکھنے والے ممالک میں شامل کرنا ہے۔ عالمی جہاز رانی کی بڑی کمپنی مارسکر نے بھی بھارت میں تیار کردہ کنٹینرز کا آرڈر دینا شروع کر دیا ہے۔ دین دیال پورٹ اتھارٹی کی وسیع تر میگا پورٹ مہم کے ایک حصے کے طور پر، وادینار میں 1,520 کروڑ روپے کی مالیت کا ڈی پی اے - کوچن شپ یارڈ لمیٹڈ ( سی ایس ایل ) جہاز سازی کا پروجیکٹ بھی جاری ہے، جس کے ساتھ کوچھاڑی، پوربندر میں ایک مجوزہ گرین فیلڈ جہاز سازی اور مرمت کلسٹر بھی شامل ہے، جسے اصولی طور پر منظوری مل چکی ہے۔
لوک سبھا میں ڈیبروگڑھ کی نمائندگی کرنے والے سربانند سونووال نے واضح کیا کہ آسام پیٹرو-کیمیکلز ان کے حلقے کے نامروپ میں واقع ہے۔ آسام اور گجرات کے درمیان ثقافتی تعلقات کا بھی ذکر کرتے ہوئے انہوں نے دوارکا کے بھگوان کرشن اور شمال مشرق کی رکمنی ، تیز پور کی اوشا اور انیرودھ کی کہانی اور 15 ویں صدی کے آسامی سنت شری منت شنکر دیو کے کارناموں کا حوالہ دیا۔ اس پروجیکٹ کو ’ایک بھارت شریشٹھ بھارت ‘ کی ایک شاندار مثال کے طور پر بھی پیش کیا گیا، جو ملک کی خدمت میں آسام اور گجرات کی طاقتوں کو یکجا کرتا ہے۔
بھوپیندر پٹیل نے کہا، ’’ وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت میں بھارت پہلے سے کہیں زیادہ تیز رفتاری اور گرین انرجی کی سمت میں آگے بڑھ رہا ہے اور گجرات کو اس سفر کی قیادت کرنے پر فخر ہے‘‘۔ انہوں نے مزید کہا کہ کچھ اور گجرات کی طویل ساحلی پٹی اب کانڈلا کے ذریعے دنیا کے جہازوں کو توانائی فراہم کرے گی۔ یہ پلانٹ ہماری قابل تجدید صلاحیت کو برآمدات میں تبدیل کرتا ہے اور گجرات کے ساحل کو دنیا کے لیے بھارت کی سبز توانائی کا گیٹ وے بناتا ہے۔
سربانند سونووال نے کہا، ’’ وزیر اعظم نریندر مودی نے بھارت کو آگے بڑھنے کا اعتماد دیا ہے، نہ کہ کسی کے پیچھے چلنے کا۔ جس طرح بھارت اب اپنے بحری جہاز اور کنٹینرز خود بنا رہا ہے، اسی طرح وہ جلد ہی وہ صاف ستھرا ایندھن بھی بنائے گا جو عالمی تجارت کو توانائی فراہم کرتا ہے۔ آئندہ برسوں میں کانڈلا، سنگاپور-روٹرڈیم روٹ پر ایک گرین فیول ہب بن جائے گا اور یہ پلانٹ ملک کی ہر بڑی بندرگاہ کے لیے ایک ماڈل ہے۔ یہ ہمارے نوجوانوں کے لیے ہنر مندانہ کریئر کے راستے کھولے گا اور بھارت کو 2070 تک خالص صفر اور 2047 تک وکست بھارت کے اہداف حاصل کرنے کی طرف مضبوطی سے لے جائے گا‘‘۔
ڈاکٹر ہیمنت بسوا شرما نے کہا،’’ وزیر اعظم نریندر مودی نے شمال مشرق کو بھارت کی ترقی کی کہانی کے مرکز میں رکھا ہے اور آسام اس اعتماد کا حق کاروباری صلاحیت اور بلند حوصلے کے ساتھ ادا کر رہا ہے۔ ’’ طاقتور برہم پُتر، وافر دھوپ اور وسیع پن بجلی کی صلاحیت سے مالا مال آسام، گرین انرجی کا پاور ہاؤس بننے کے لیے تیار ہے۔ آج، آسام کی ایک کمپنی اس طاقت کو نامروپ سے کانڈلا لے کر آئی ہے، جو یہ ثابت کرتی ہے کہ شمال مشرق بھارت کی صاف ستھری توانائی کے مستقبل کو توانائی فراہم کرے گا‘‘۔
اس موقع پر کچھ کے لوک سبھا رکن پارلیمنٹ ونود چاوڑا، گاندھی دھام کی رکن اسمبلی مالتی بین کشور مہیشوری، حکومت آسام کے پولیٹیکل سکریٹری ترنگا گوگوئی، آسام پیٹرو-کیمیکلز کے چیئرمین بیکُل ڈیکا اور وائس چیئرمین ہیمنت گوگوئی، اور دین دیال پورٹ اتھارٹی کے چیئرمین سشیل کمار سنگھ کے علاوہ حکومت اور دونوں تنظیموں کی دیگر اہم شخصیات بھی موجود تھیں۔ یہ تقریب گاندھی دھام میں ڈی پی اے ایگزبیشن گراؤنڈ میں منعقد ہوئی۔



(ش ح- ن ا)
U.N:4158
(ریلیز آئی ڈی: 2315397)
وزیٹر کاؤنٹر : 6