ادویات سازی کا محکمہ
azadi ka amrit mahotsav

پیداوار سے منسلک ترغیبی اسکیموں نے ہندوستان کے دواسازی ، بلک ڈرگز اور طبی آلات کی تیاری کے ماحولیاتی نظام کو مضبوط کیا

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 25 SEP 2026 12:46PM by PIB Delhi

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/2026/sep/image001_20260925124730_18edfc.jpg

حکومت ہند نے دواسازی کے شعبے میں سرمایہ کاری بڑھانے، اہم ادویات کی تیاری میں استعمال ہونے والے اہم اے پی آئی کی فراہمی میں رکاوٹ کو روکنے اور پروڈکشن لنکڈ انسینٹو (پی ایل آئی) اسکیم کے تحت مالی معاونت فراہم کرکے طبی آلات کی صنعت کو فروغ دینے کے لیے وسیع پیمانے پر اقدامات کیے ہیں۔ اس اسکیم نے ملک میں پیداواری صلاحیت کو مضبوط بنانے، درآمدات پر انحصار کم کرنے اور ٹیکنالوجی کو اپنانے کی حوصلہ افزائی کی ہے، جس سے فارما اور میڈ ٹیک شعبے میں عالمی سطح پر مسابقتی مینوفیکچرنگ صلاحیتیں پیدا کرنے میں مدد ملی ہے۔

میک اِن انڈیا اور آتم نربھر بھارت کے وژن کے مطابق، کیمیکلز اور فرٹیلائزرز کی وزارت کے محکمہ دواسازی کی جانب سے نافذ کی گئی پی ایل آئی اسکیموں کے تحت اہم دواسازی اجزا، اعلی قدر والی ادویات اور جدید طبی آلات کی پیداواری صلاحیت بڑھانے میں مدد فراہم کی جا رہی ہے۔ ان اسکیموں میں: (الف) اہم کی اسٹارٹنگ میٹریلز(کے ایس ایمز) ، ڈرگ انٹرمیڈیٹس (ڈی آئی ایس) اور ایکٹو فارماسیوٹیکل انگریڈیئنٹس (اے پی آئی ایس)کی ملکی سطح پر پیداوار کو فروغ دینے کی پی ایل آئی اسکیم، جسے عام طور پر بلک ڈرگز (دوا بنانےمیں استعمال ہونےوالے اہم اجزا)کے لیے پی ایل آئی اسکیم کہا جاتا ہے؛ (ب) دواسازی کے لیے پی ایل آئی اسکیم؛ اور (ج) طبی آلات کی ملکی سطح پر پیداوار کو فروغ دینے کی پی ایل آئی اسکیم شامل ہیں۔

 

اے) بلک ڈرگس کے لیے پی ایل آئی اسکیم: اہم اے پی آئی کے معاملے میں خود انحصاری کو مضبوط بنانا

حکومت نے 2020 میں بلک ڈرگس (دواسازی کےلیے اہم اجزا)کے لیے پی ایل آئی اسکیم کی منظوری دی تھی، جس کے لیے مجموعی طور پر 6,940 کروڑ روپے کی مالی رقم مختص کی گئی ہے۔ اس اسکیم کا مقصد 41 شناخت شدہ اہم مصنوعات کی ملکی سطح پر پیداوار کو مضبوط بنانا اور درآمدات پر انحصار کم کرنا ہے، بالخصوص اے پی آئی اور دیگر ضروری دواسازی اجزا کے معاملے میں۔

 

اس اسکیم کو گرین فیلڈ مینوفیکچرنگ منصوبوں میں بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری راغب کرنے اور ہندوستان کی سپلائی چین کو مزید مضبوط اور لچکدار بنانے کے لیے تیار کیا گیا ہے۔ اس اسکیم کے تحت 48 منصوبوں کو منظوری دی گئی ہے۔ جون 2026 تک 5,210.74 کروڑ روپے کی سرمایہ کاری کی جا چکی ہے، جو 4,330 کروڑ روپے کی مقررہ سرمایہ کاری سے زیادہ ہے۔ 28 اے پی آئی/کے ایس ایم کی تیاری سے متعلق 39 منصوبے شروع ہو چکے ہیں۔

اس اسکیم کے ذریعے اب اہم خمیر پر مبنی مصنوعات، جیسے پینسلین-جی، کلاوولینک ایسڈ اور رفیمپیسن کی ملکی سطح پر پیداوار بھی ممکن ہوئی ہے، جن کے لیے پہلے بڑی حد تک درآمدات پر انحصار کیا جاتا تھا۔ جون 2026 تک پی ایل آئی اسکیم کے مستفید  ین نےفروخت سے  3,792.49 کروڑ روپے کی آمدنی حاصل کی، جس میں 560.16 کروڑ روپے کی برآمدات بھی شامل ہیں، جبکہ تقریباً 5,127 افراد کے لیے روزگار کے مواقع پیدا ہوئے ہیں۔

 

وشاکھاپٹنم، آندھرا پردیش سمیت مختلف مقامات پر نئی پیداواری یونٹس کے شروع ہونے سے دوا سازی کےلیے اہم خام مال  ملکی نظام  سےمزید مضبوط ہو رہا ہے۔ لائفئیس فارما، کنوان پرائیویٹ لمیٹڈ، آندھرا آرگینکس لمیٹڈ (اے او ایل)، میگھ مانی ایل ایل پی اور سینٹریئنٹ فارماسیوٹیکلز انڈیا پرائیویٹ لمیٹڈ جیسی کمپنیوں نے پینسلین جی، کلاوولینک ایسڈ، سلفاڈیازین، ایٹورواسٹیٹن اور پیرا امینو فینول (پی اے پی) جیسے اہم اے پی آئی/کے ایس ایم/ڈی آئی کی ملکی سطح پر پیداوار کو مضبوط بنانے میں تعاون کیا ہے۔

بی) دواسازی کے لیے پی ایل آئی اسکیم: اعلیٰ قدر والی دواسازی کی پیداوار کا فروغ

 

دواسازی کے لیے پی ایل آئی اسکیم کو 2021 میں منظوری دی گئی تھی، جس کے لیے مجموعی طور پر 15,000 کروڑ روپے کی مالی رقم مختص کی گئی ہے۔ اس اسکیم کا مقصد ہندوستان کی پیداواری صلاحیتوں میں اضافہ کرنا، سرمایہ کاری اور پیداوار میں اضافہ کرنا اور اعلیٰ قدر والی دواسازی مصنوعات کی تیاری کی جانب منتقلی کی حوصلہ افزائی کرنا ہے۔

 

اس اسکیم کے تحت بایوفارماسیوٹیکلز،  کمپلیکس جنیرک ادویات، پیٹنٹ شدہ اور پیٹنٹ کی مدت ختم ہوچکی ادویات، نادر بیماریوں کی ادویات، خودکار مدافعتی بیماریوں کی ادویات اور دیگر اعلی قدر والی دواسازی مصنوعات کے ساتھ ساتھ مخصوص اے پی آئی، ڈی آئی اور کے ایس ایم کی تیاری کو بھی فروغ دیا جا رہا ہے، جو بلک ڈرگز پی ایل آئی اسکیم کے تحت شامل نہیں ہیں۔

 

اس اسکیم کے تحت مجموعی طور پر 55 درخواست دہندگان کا انتخاب کیا گیا ہے، جن میں 20 ایم ایس ایم ایز بھی شامل ہیں۔ جون 2026 تک اس اسکیم کے ذریعے 46,744 کروڑ روپے کی حقیقی سرمایہ کاری ہوئی ہے، جو 17,275 کروڑ روپے کی مقررہ سرمایہ کاری سے نمایاں طور پر زیادہ ہے۔

 

اس اسکیم نے روزگار کے مواقع پیدا کرنے میں بھی اہم کردار ادا کیا ہے۔ جون 2026 تک 1,21,294 روزگار کے مواقع پیدا کیے جا چکے ہیں۔ مستفید کمپنیوں نے مالی سال23-2022 میں کارکردگی کی مدت شروع ہونے سے جون 2026 تک مجموعی طور پر 4,02,869 کروڑ روپے فروخت  سےحاصل کیے ، جس میں 2,57,370 کروڑ روپے کی برآمدات بھی شامل ہیں۔

سن فارماسیوٹیکل انڈسٹریز لمیٹڈ اوروبندو فارما لمیٹڈ، ڈاکٹر ریڈیز لیبارٹریز لمیٹڈ، لوپین لمیٹڈ، سِپلا لمیٹڈ، انٹاس فارماسیوٹیکلز لمیٹڈ اور ٹورینٹ فارماسیوٹیکلز لمیٹڈ جیسی کمپنیوں نے کمپلیکس جنیرک ادویات، بایوسمی لَرز، خودکار مدافعتی بیماریوں کی ادویات اور دیگر اعلی قدر والی دواسازی مصنوعات کی تیاری کے لیے اپنی پیداواری صلاحیتوں میں توسیع کی ہے۔

 

سی)طبی آلات کے لیے پی ایل آئی اسکیم: اعلیٰ درجے کی طبی ٹیکنالوجی کی ملکی سطح پر تیاری کو فروغ دینا

طبی آلات کی ملکی سطح پر پیداوار کو فروغ دینے کی پی ایل آئی اسکیم کو 2020 میں منظوری دی گئی تھی، جس کے لیے مجموعی طور پر 3,420 کروڑ روپے کی مالی رقم مختص کی گئی ہے۔ اس اسکیم کا مقصد طبی آلات کے شعبے میں ملکی پیداوار کو فروغ دینا اور بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری راغب کرنا ہے، خاص طور پر ان شعبوں میں جہاں ہندوستان  درآمدات پر نمایاں حد تک انحصار کرتا تھا۔

 

اس اسکیم کے تحت  ہندوستان میں تیار کیے جانے والے  اہم طبی آلات کی اضافی فروخت پر پانچ سال کی مدت کے لیے پانچ فیصد مراعات فراہم کی جاتی ہیں۔ اس میں چار بڑے شعبے شامل ہیں: کینسر کیئر/ریڈیوتھراپی کے طبی آلات؛ ریڈیالوجی اور امیجنگ آلات؛ اینستھیزیا، قلبی و تنفسی اور گردوں کی نگہداشت کے آلات؛ اور امپلانٹس، جن میں جسم میں نصب کیے جانے والے الیکٹرانک آلات بھی شامل ہیں۔

 

اس اسکیم کے ذریعے ایسے متعدد اعلیٰ درجے کے طبی آلات کی ملکی سطح پر تیاری کی صلاحیت قائم کرنے میں مدد ملی ہے، جو پہلے زیادہ تر درآمد کیے جاتے تھے۔ اس اسکیم کے تحت 57 منفرد طبی آلات کی پیداوار شروع ہو چکی ہے، جن میں ایم آر آئی مشینیں، سی ٹی اسکینر، کیتھ لیب، لینیئر ایکسیلیریٹرز، سی آرمز، میموگرافی مشینیں، الٹراساؤنڈ سسٹمز، اینستھیزیا مشینیں اور ہارٹ والوز شامل ہیں۔

 

اس اقدام سے معروف عالمی مینوفیکچررز بھی ہندوستان میں سرمایہ کاری کی جانب راغب ہوئے ہیں اور ٹیکنالوجی کی منتقلی اور جدید مینوفیکچرنگ صلاحیتوں کو فروغ ملا ہے۔ جی ای ہیلتھ کیئر، سیمنز، فلپس، ویریکس، نیپرو اور اومرون جیسی کمپنیوں نے ملک میں اپنی مینوفیکچرنگ سرگرمیاں قائم یا توسیع کی ہیں، جبکہ متعدد شریک کمپنیوں نے عالمی شراکت داروں کے ساتھ ٹیکنالوجی کی منتقلی کے معاہدے بھی کیے ہیں۔  ملک کے پیدا کنندگان نے امپلانٹ کے شعبے میں بھی اپنی پیداواری صلاحیتوں میں اضافہ کیا ہے، جس سے ملکی پیداوار اور برآمدی امکانات میں اضافہ ہوا ہے۔

تینوں پی ایل آئی اسکیمیں ہندوستان میں دواسازی اور طبی آلات کے مینوفیکچرنگ نظام کو مضبوط بنانے کے لیے ایک جامع طریقہ کار کی عکاسی کرتی ہیں، جس میں اہم خام مال اور اے پی آئی سے لے کر اعلیٰ قدر والی ادویات اور جدید طبی ٹیکنالوجی تک کے شعبے شامل ہیں۔

 

حقیقی پیداوار اور فروخت کو مراعات سے جوڑ کر پی ایل آئی کا نظام میک اِن انڈیا کے وژن کو عملی مینوفیکچرنگ صلاحیت میں تبدیل کرنے میں مدد دے رہا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ سپلائی چین کو مزید مضبوط بنانے اور دواسازی اور طبی آلات کے لیے ایک قابل اعتماد مینوفیکچرنگ مرکز کے طور پر ہندوستان کی حیثیت مستحکم کرنے میں بھی معاون ثابت ہو رہا ہے۔

*****

ش ح ۔م ع۔ خ م

U. No.4091


(ریلیز آئی ڈی: 2314929) وزیٹر کاؤنٹر : 11