سٹرک ٹرانسپورٹ اور شاہراہوں کی وزارت
قومی شاہراہوں کے ہائی اسپیڈ کوریڈور-4 کی تعمیر میں ٹیکنالوجی اور پائیداری کو فروغ دینے کے واسطے این ایچ اے آئی کی نئی ہدایات
نئی ہدایات بہتر منصوبہ بندی، جدید ٹیکنالوجی کے استعمال، آسانی سے ٹول وصولی، بہتر آبی اخراج اور سرسبز راہداریوں پر توجہ مرکوز کرنے والی ہیں
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
24 SEP 2026 4:27PM by PIB Delhi
عالمی معیار کا قومی شاہراہوں کا نیٹ ورک تیار کرنے کی جانب اہم قدم اٹھاتے ہوئے نیشنل ہائی ویز اتھارٹی آف انڈیا(این ایچ اے آئی) نے ایکسپریس وے کے علاوہ تیز رفتار اور محدود رسائی والی قومی شاہراہوں کی منصوبہ بندی اور ڈیزائن کے لیے جامع ہدایات جاری کی ہیں۔
نئی ہدایات کا مقصد یہ یقینی بنانا ہے کہ تیز رفتار قومی شاہراہوں کی منصوبہ بندی اور تعمیر بہتر انداز میں ہو، وہ زیادہ محفوظ اور ماحول کے موافق ہوں، اور مستقبل میں بڑھنے والی ٹریفک کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے تیار رہیں۔
یہ ہدایات آئندہ تعمیر ہونے والی تمام چار اور چھ لین والی گرین فیلڈ اور براؤن فیلڈ کی تیز رفتار، محدود رسائی والی قومی شاہراہوں پر لاگو ہوں گی۔
مستقبل کی ٹریفک کے لیے اعداد و شمار پر مبنی منصوبہ بندی
نئی ہدایات میں ٹریفک کا جامع جائزہ لینے اور مستقبل کی ضروریات کے مطابق منصوبہ بندی پر خاص زور دیا گیا ہے۔
ٹریفک کے تخمینے میں موجودہ ٹریفک کے ساتھ ہی متبادل راستوں سے ہونے والی ٹریفک اور معاشی و تجارتی سرگرمیوں کے نتیجے میں مستقبل میں بڑھنے والی مال بردار ی کو بھی مدنظر رکھا جائے گا۔
ٹریفک کے تخمینوں کو مزید درست بنانے کے واسطے ٹول وصولی کے اعداد و شمار اور دیگر قابلِ اعتماد ذرائع سے بھی استفادہ کیا جائے گا۔
ٹیکنالوجی سے لیس تعمیرات
تیز رفتار قومی شاہراہوں کی تعمیر کے دوران جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کو مزید فروغ دیا جائے گا، تاکہ تعمیراتی معیار، درستگی اور نگرانی کو بہتر بنایا جا سکے۔
نئی ہدایات میں سڑک کے تٹ بندی(ایمبینک مینٹ) اور شاہراہ کی سطح کی تعمیر کے لیے خودکار اور اسمارٹ مشینوں کی مدد سے تعمیراتی ٹیکنالوجی ( اے آئی- ایم سی) کے استعمال کی گنجائش رکھی گئی ہے۔ یہ کام سڑک ٹرانسپورٹ اور شاہراہوں کی وزارت(ایم او آر ٹی ایچ) کی متعلقہ ہدایات کے مطابق انجام دیا جائے گا۔
ان اقدامات سے قومی شاہراہوں کی تعمیر میں ٹیکنالوجی کے مؤثر استعمال کو فروغ ملے گا، جس کے نتیجے میں تعمیراتی معیار میں بہتری، یکسانیت اور بہتر نگرانی ممکن ہوگی۔
حکومتِ ہند کے منصوبے کے مطابق تیز رفتار کوریڈور پر ٹول وصولی کے لیے ملٹی لین فری فلو (ایم ایل ایف ایف ) نظام متعارف کرانے کی جانب بھی پیش رفت کی جائے گی۔ اس مقصد کے لیے شاہراہوں کی منصوبہ بندی اور تعمیر میں ایم ایل ایف ایف نظام کے نفاذ کے لیے ضروری بندوبست پہلے ہی شامل کیے جائیں گے۔
منصوبہ بندی کے مرحلے سے ہی شجرکاری اور ماحولیاتی اقدامات
شاہراہوں کے منصوبوں میں لینڈ اسکیپنگ اور شجرکاری کو باقاعدہ طور پر شامل کیا جائے گا۔ اس مقصد سے لوپ ایریا، فلائی اوورکے نیچے، ڈیوائیڈر اور دیگر موزوں مقامات پر شجرکاری اور تزئین کاری کے منصوبے بنائے جائیں گے۔
ان منصوبوں میں مقامی آب و ہوا، جغرافیائی ساخت اور ماحولیاتی حالات کو خاص طور پر مدنظر رکھا جائے گا۔
قومی شاہراہوں کے ڈیوائیڈر پر ڈرِپ اریگیشن کا نظام بھی نصب کیا جائے گا، تاکہ پانی کا مؤثر استعمال یقینی بنایا جا سکے اور شجرکاری کی دیکھ بھال آسان ہو۔
بہتر آبی اخراج اور پانی کا مؤثر انتظام
آبی اخراج (ڈرینیج) کی جامع منصوبہ بندی کو تفصیلی پروجیکٹ رپورٹ ( ڈی پی آر )کا لازمی حصہ بنایا جائے گا۔ منصوبہ بندی کے دوران یہ طے کیا جائے گا کہ بارش کے پانی کی نکاسی کہاں سے ہوگی اور قومی شاہراہ کے ساتھ ساتھ اردگرد کے علاقوں سے آنے والے پانی کو محفوظ طریقے سے کیسے منظم کیا جائے گا۔
لوپ ایریا اور دیگر موزوں مقامات پر بارش کے پانی کو ذخیرہ کرنے کے لیے واٹر ہارویسٹنگ کے ڈھانچے بھی بنائے جائیں گے، خاص طور پر ان جگہوں پر جہاں بارش کے پانی کی قدرتی نکاسی کا کوئی راستہ موجود نہیں ہوگا۔
انڈر پاس، فلائی اوور، نشیبی میڈیئنز اور دیگر تعمیراتی ڈھانچوں کے اطراف پانی کے بہتر نظم کے لیے خصوصی انتظامات کیے جائیں گے۔ اس سے پانی جمع ہونے اور قومی شاہراہ کے بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچنے کے خطرے کو کم کرنے میں مدد ملے گی۔
ڈرینیج پلان میں پانی کے اخراج کے مقامات کی واضح نشاندہی کی جائے گی اور تیز رفتار قومی شاہراہوں کے ساتھ ساتھ آس پاس کے علاقوں سے آنے والے بارش کے پانی کو مناسب طریقے سے سنبھالنے کے لیے ضروری بندوبست کیے جائیں گے۔
یہ ہدایات ملک بھر میں زیادہ محفوظ، پائیدار اور مستقبل کی ضروریات کو پورا کرنے والی تیز رفتار قومی شاہراہوں کے کوریڈور کی تعمیر میں اہم کردار ادا کریں گی۔
****
UN .NO : 4027
ش ح۔ م ش ع۔ خ م
(ریلیز آئی ڈی: 2314608)
وزیٹر کاؤنٹر : 7