PIB Backgrounder
azadi ka amrit mahotsav

دین دیال اپادھیائے گرامین کوشلیہ یوجنا(ڈی ڈی یو-جی کے وائی)


’’جب کوئی ہنر ایک نئی راہ کھولتا ہے‘‘

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 24 SEP 2026 12:11PM by PIB Delhi

ان گاؤں میں جہاں کسی خاندان کا مستقبل کافی حد تک فصلوں کی پیداوار پر منحصر ہوتا ہے، وہاں کوئی ہنر سیکھنا اکثر روزگار کے متبادل ذرائع کی راہیں کھول سکتا ہے۔ گاؤں کے بہت سے نوجوانوں کے لیے یہ ایک  سیکھنے کی راہ، کام کرنے اور آمدنی کے نئے ذرائع پیدا کرنے کے ایک موقع سے شروع ہوتا ہے۔ یہیں پر دین دیال اپادھیائے گرامین کوشلیہ یوجنا (ڈی ڈی یو-جی کے وائی) کا کردار سامنے آتا ہے۔ 25 ستمبر 2014 کو قومی دیہی روزی روٹی مشن (ڈے-این آر ایل ایم) کے تحت شروع کی گئی ڈی ڈی یو-جی کے وائی کا مقصد محروم طبقات اور کمزور دیہی خاندانوں سے تعلق رکھنے والے نوجوانوں پر توجہ مرکوز کرنا ہے۔ اس کے تحت پائیدار روزگار کے ذرائع کے لیے روزگار سے مربوط ہنرمندی کی تربیت فراہم کی جاتی ہے۔ اس پروگرام کا ہدف 15 سے 35 سال کی عمر کے نوجوان ہیں اور اس کے ذریعے ہنرمندی کی تربیت کو روزگار کے مواقع سے جوڑا جاتا ہے۔

یہ پروگرام بھی روزگار کی بدلتی ہوئی دنیا کے ساتھ خود کو تبدیل کر رہا ہے۔ ڈی ڈی یو-جی کے وائی 2.0 کے نظرثانی شدہ فریم ورک میں صنعت کی قیادت میں تربیت، پائیدار روزگار، ملازمت ملنے کے بعد معاونت، ہنرمندی کا فروغ  اور نئی مہارتیں سیکھنے پر زیادہ زور دیا گیا ہے۔ اب تربیت، جائزہ، سرٹیفیکیشن، نگرانی اور روزگار سے متعلق معلومات کی نگرانی کے لیے ایک جامع ڈیجیٹل نظام موجود ہے۔ اس کے علاوہ شراکت داری، روزگار میلوں، کیمپس تقرریوں اور صنعت سے مشاورت کے ذریعے آجروں کی شمولیت کو بھی مضبوط بنایا گیا ہے۔

توجہ واضح ہے: تربیت روزگار تک پہنچنی چاہیے اور روزگار کے طویل عرصے تک برقرار رہنے کے امکانات بھی بہتر ہوں۔ جون 2026 تک 18.45 لاکھ دیہی نوجوانوں کو ڈی ڈی یو-جی کے وائی کے تحت تربیت دی جا چکی ہے جبکہ 12.35 لاکھ نوجوانوں کو روزگار فراہم کیا جا چکا ہے۔

ان اعداد و شمار کے پیچھے ایسے لوگوں کی کہانیاں ہیں جن کی زندگیاں اس وقت بدل گئیں جب سیکھنے کے مواقع نے روزگار اور روزی روٹی کی نئےراہیں کھولیں۔

خواب کو زندہ رکھنا

کئی برسوں تک ناگالینڈ کی ویمتھانو ساکھری اپنی والدہ کو دس افراد پر مشتمل خاندان کی کفالت کے لیے انتھک محنت کرتے دیکھتی رہیں۔ ہائی اسکول کی تعلیم مکمل کرنے کے بعد ویمتھانو اعلی تعلیم حاصل کرنے کی خواہش مند تھیں، لیکن مالی مشکلات کے باعث ان کے لیے یہ خواب پورا کرنا مشکل تھا۔

سب کچھ اس وقت بدل گیا جب انہیں ڈی ڈی یو-جی کے وائی کے بارے میں معلوم ہوا۔ اپنے خوابوں سے دستبردار ہونے سے انکار کرتے ہوئے انہوں نے ڈی ڈی یو-جی کے وائی کے سیاحت اور مہمان نوازی کے تربیتی پروگرام میں داخلہ لیا۔ چند ماہ بعد ویمتھانو نے دی ڈین بنگلورو میں خوراک اور مشروبات کی خدمات کے شعبے میں اپنی پہلی ملازمت شروع کی۔ یہ محض ایک ملازمت نہیں تھی بلکہ ان کی اور ان کے خاندان کی زندگی میں ایک نئے باب کا آغاز تھا۔

اپنے سفر کو یاد کرتے ہوئے ویمتھانو کہتی ہیں، ’’میں دیہی ترقی کی وزارت اور حکومت ناگالینڈ کے این ایس آر ایل ایم کی شکر گزار ہوں کہ انہوں نے ڈی ڈی یو-جی کے وائی کو نافذ کیا، جس سے پورے بھارت میں بہت سے بے روزگار نوجوانوں کو مدد ملی ہے۔ یہ موقع میرے لیے ایک نعمت ثابت ہوا اور مجھے امید ہے کہ میری طرح بہت سے دوسرے نوجوان بھی اس سے فائدہ اٹھا سکیں گے۔‘‘

ویمتھانو کے لیے ڈی ڈی یو-جی کے وائی نے ادھوری رہ جانے والی تعلیم کو پیشہ ورانہ زندگی کی بنیاد میں تبدیل کر دیا۔ چندن شاہ کے لیے یہ موقع بالآخر انہیں اپنے گھر سے بہت دور لے گیا۔

چھوٹی موٹی ملازمتوں سے بیرون ملک کریئر تک

ایک وقت تھا جب چندن شاہ کے خاندان کے لیے بنیادی ضروریات پوری کرنا بھی مشکل تھا۔ بہار کے سیوان ضلع کے تیتہلی گاؤں میں رہنے والے چندن کے لیے اپنی تعلیم جاری رکھنے کی امید بہت کم تھی۔ انہوں نے ہائی اسکول کے بعد تعلیم چھوڑ دی اور کھیتوں میں اپنے والد کی مدد کرنے لگے۔ آس پاس روزگار کے محدود مواقع کے باعث چندن نے گزر بسر کے لیے چھوٹی موٹی ملازمتیں کرنا شروع کردیں۔ تاہم، ان کاموں سے اتنی آمدنی بھی نہیں ہو پاتی تھی کہ وہ باعزت زندگی گزار سکیں۔

ایک نیا موقع ان کی والدہ کے ذریعے سامنے آیا، جو گینڈا جیویکا اپنی مدد آپ گروپ کی رکن تھیں۔ انہوں نے چندن کو ڈی ڈی یو-جی کے وائی کے بارے میں معلومات حاصل کرنے کی ترغیب دی۔ چندن نے صلاح ومشورے کے بعد اسسٹنٹ الیکٹریشن کی تربیت حاصل کرنے کا انتخاب کیا۔ اس تربیت سے انہیں وہ ضروری ہنر حاصل ہوئے جن کی مدد سے وہ اپنے پیشہ ورانہ سفر کا پہلا قدم اٹھا سکے۔ کورس مکمل کرنے کے بعد انہیں بڈی میں ایک ڈسٹلری میں ہیلپر کی پہلی ملازمت ملی، جہاں انہیں 10,500 روپے ماہانہ اجرت ملتی تھی۔ اس ابتدائی تجربے نے انہیں مزید پیشہ ورانہ ترقی کے لیے مضبوط بنیاد فراہم کی۔ اِن ہنروں اور تجربے کو بروئے کار لاتے ہوئے چندن نے بعد میں بیرون ملک روزگار کا موقع حاصل کیا اور دبئی چلے گئے، جہاں انہوں نے الصفا جنرل کنٹریکٹنگ میں الیکٹریشن کی حیثیت سے کام شروع کیا۔

تب تک ان کی ماہانہ آمدنی بڑھ کر 35,000 روپے ہوچکی تھی۔ اس کا اثر صرف ان کے اپنے پیشہ ورانہ سفر تک محدود نہیں رہا بلکہ ان کے کنبے کے لیے بھی زیادہ مالی استحکام کا ذریعہ بنا۔ چندن اپنے کنبے کی مدد کرنے کے ساتھ ساتھ اپنے بہن بھائیوں کی پرائیویٹ اسکولوں میں تعلیم کے اخراجات میں بھی تعاون کرنے کے قابل ہوگئے۔ ان کے سفر نے انہیں اپنے گاؤں کے نوجوانوں کے لیے بھی ایک مثال بنا دیا۔

چندن کی کہانی اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ روزگار کا پہلا موقع پائیدار روزی روٹی اور بہتر معاشی ترقی کی بنیاد بن سکتا ہے۔ ڈی ڈی یو-جی کے وائی نے انہیں پہلا قدم اٹھانے کے لیے ضروری ہنر فراہم کیے، جبکہ ان کے عزم اور تجربے نے انہیں مزید مواقع حاصل کرنے کے قابل بنایا۔ دونوں نے مل کر انہیں اپنے اور اپنے خاندان کے لیے زیادہ محفوظ مستقبل تعمیر کرنے میں مدد دی۔

تاہم، ڈی ڈی یو-جی کے وائی کے ہر سفر کا رخ گھر سے دور نہیں ہوتا۔ روپالی ہسدا کے لیے یہ موقع بالآخر انہیں اپنے گھر واپس لے آیا۔

ملازمت کو کاروبار میں بدلنا

مالی مشکلات کے باعث آسام کے چرئی دیو کی روپالی ہسدا کو نویں جماعت کے بعد تعلیم چھوڑنی پڑی۔ ان کا خاندان زراعت پر منحصر تھا اور ان کے والد خاندان کے واحد کمانے والے فرد تھے۔ ان کی والدہ اپنی مدد آپ گروپ کی ایک سرگرم رکن تھیں اور بیٹی کو اپنے خواب پورے کرنے کی ترغیب دیتی رہیں۔ روپالی کو جیویکا سکھی کے ذریعے ڈی ڈی یو-جی کے وائی کے بارے میں معلوم ہوا اور انہوں نے دسمبر 2022 میں سلائی مشین آپریٹر کے ہنر کی تربیت کے لیے داخلہ لیا۔

تربیت مکمل کرنے کے بعد انہیں تمل ناڈو کے تروپور میں کے پی آر اپیرلز ملز میں ملازمت مل گئی۔ پانچ ماہ تک انہوں نے ایک اجنبی شہر میں کام کیا اور نئے ماحول سے خود کو ہم آہنگ کیا۔ تاہم، ان کے خیالات اپنے گھر سے جڑے رہے۔ ملازمت سے حاصل کی گئی بچت کے ساتھ وہ ہاتی بندھا واپس آئیں اور 50,000 روپے کی سرمایہ کاری سے سلائی اور کٹنگ مرکز قائم کیا۔ جو کام ابتدا میں ان کے لیے روزی روٹی کا ذریعہ تھا، اس نے جلد ہی کسی اور کے لیے بھی روزگار کا موقع پیدا کردیا۔ انہوں نے مرکز میں ایک نوجوان لڑکی کو ملازمت دی اور اپنی برادری میں ایک کاروبار قائم کرنے کی جانب قدم بڑھایا۔ تقریباً 1.10 لاکھ روپے سالانہ آمدنی کے ساتھ روپالی کا سفر ہنرمندی کے ایک اور پہلو کو اجاگر کرتا ہے۔ ملازمت نے انہیں آغاز کا موقع دیا، لیکن انہوں نے اس تجربے کو اپنے کاروبار میں تبدیل کرنے کا فیصلہ کیا۔

روپالی نے اپنے گھر کے قریب رہ کر روزی روٹی کا ذریعہ قائم کرنے کا راستہ اختیار کیا۔ جبکہ ہیرالال نے ایک مختلف راستہ اپنایا—ایک ایسا راستہ جس پر درپیش مشکلات کا سامنا کرتے ہوئے اپنے کریئر کو آگے بڑھانا ممکن ہوسکے۔

اپنا کریئر خود بنانے کا سفر

جھارکھنڈ کے ہیرالال پنڈت نے بچپن سے دیکھا تھا کہ ہر فصل یہ طے کرتی تھی کہ ان کے خاندان کی آمدنی کتنی مدت تک خرچ چلانے کے لیے کافی ہوگی۔ ان کے چار افراد پر مشتمل خاندان کا گزر بسر ان کے والد کی موسمی زراعت سے ہوتا تھا، جس سے تقریباً 5,000 روپے ماہانہ آمدنی ہوتی تھی۔

دسویں جماعت مکمل کرنے کے بعد انہوں نے ہر ممکن طریقے سے اپنے والد کی مدد کرنا شروع کردیا۔ ایک معذور نوجوان ہونے کی وجہ سے ان کے لیے روزگار تلاش کرنا آسان نہیں تھا، لیکن ہیرالال نے اپنے حالات کو اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنے نہیں دیا۔

وہ اپنے خاندان کی مالی حالت بہتر بنانے میں تعاون کرتے ہوئے اپنا کریئر بنانے کے خواہش مند تھے۔ اپنے لیے دستیاب مواقع تلاش کرتے ہوئے ہیرالال کو ڈی ڈی یو-جی کے وائی کے بارے میں معلوم ہوا۔ پروگرام کے تحت مفت تربیت اور روزگار کے لیے مدد نے انہیں ہنر سیکھنے اور ملازمت حاصل کرنے کا موقع فراہم کیا۔ انہوں نے جھارکھنڈ کے دمکا میں واقع ایک تربیتی مرکز میں ہیلتھ کیئر ملٹی پرپز شعبے میں داخلہ لیا۔

یہ تربیت ہیرالال کے سفر میں ایک اہم موڑ ثابت ہوئی۔ انہوں نے ایک معاون اور سب کو ساتھ لے کر چلنے والے تعلیمی ماحول میں نئے ہنر سیکھے، جہاں ان کے ساتھ عزت اور برابری کا برتاؤ کیا گیا۔ کورس مکمل کرنے کے بعد انہیں ناسک کے ایس ایم بی ٹی اسپتال میں جنرل ڈیوٹی اسسٹنٹ کی ملازمت ملی۔ اس موقع نے انہیں خود اپنی آمدنی حاصل کرنے اور اپنے خاندان کی مالی حالت بہتر بنانے میں تعاون کرنے کے قابل بنایا۔ اس سے بھی اہم بات یہ ہے کہ اس تجربے سے ان کے اعتماد میں اضافہ ہوا اور ان کے اندر اپنی صلاحیتوں اور امکانات کا احساس مزید وسیع ہوا۔

آج ہیرالال دوسرے نوجوانوں کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں کہ وہ اپنے حالات سے آگے بڑھ کر دیکھیں اور دستیاب مواقع سے بھرپور فائدہ اٹھائیں۔ ان کے لیے یہ سفر پہلا قدم اٹھانے کی ہمت سے شروع ہوا۔ ڈی ڈی یو-جی کے وائی نے اس پہلے قدم کو کریئر اور زیادہ محفوظ مستقبل کی جانب ایک راستے میں تبدیل کرنے میں ان کی مدد کی۔

جب کوئی ہنر روزی روٹی کا ذریعہ بن جائے

کوئی ہنر دیہی خاندان کو درپیش ہر مشکل کو دور نہیں کرسکتا، لیکن یہ بہتر امکانات کے دروازے ضرور کھول سکتا ہے۔ ویمتھانو کے لیے اس نے اس وقت روزگار کا راستہ فراہم کیا جب مالی مشکلات کے باعث ان کی تعلیم ادھوری رہ گئی تھی۔ چندن کے لیے یہ ایک ایسے کریئر کا آغاز ثابت ہوا جو بالآخر انہیں دبئی لے گیا۔ روپالی نے اپنے ہنر اور تجربے کو گھر واپس لاکر اپنا کاروبار قائم کیا، جبکہ ہیرالال کو روزگار کا موقع ملا اور وہ اپنے خاندان کی مالی مدد کرنے کے قابل ہوئے۔

ان کے سفر کی سمتیں مختلف رہیں، لیکن ان سب میں ہنر حاصل کرنے، اسے بروئے کار لانے اور روزی روٹی کا ذریعہ بنانے کا موقع مشترک ہے ۔ ڈی ڈی یو-جی کے وائی اسی پہلے قدم کو ممکن بنانے کی کوشش کرتا ہے تاکہ دیہی نوجوان تربیت سے روزگار اور روزگار سے زیادہ محفوظ اور پائیدار روزی روٹی کی جانب آگے بڑھ سکیں۔

حوالہ جات

دیہی ترقی کی وزارت

http://ddugky.info/

https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2289001

https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2297790

https://nsrlm.nagaland.gov.in/vimethano-sakhrie/

https://www.nitiforstates.gov.in/public-assets/Best_Practices/Compendiums/75%20Inspirational%20Stories%20of%20Aatmanirbhar%20Rural%20Women.pdf

https://asrlms.assam.gov.in/portlets/success-stories-0

[پی ڈی ایف دیکھنے کے لیے یہاں کلک کریں]

 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 (ش ح ۔م ش۔ع ن)

U. No. 4011

 


(ریلیز آئی ڈی: 2314313) وزیٹر کاؤنٹر : 10