کوئلے کی وزارت
کول انڈیا لمیٹڈ میں کارپوریٹ سماجی ذمہ داری:برادری کی فلاح و بہبود سے جامع ترقی تک کا سفر
کول انڈیا لمیٹڈ کے کارپوریٹ سماجی ذمہ داری کے اخراجات بڑھ کر سالانہ تقریباً 1,000 کروڑ روپے ہوگئے ہیں
مالی سال 2014-15 سے 2025-26 کے دوران سی آئی ایل نے 5,795 کروڑ روپے کی قانونی لازمی رقم کے مقابلے میں کارپوریٹ سماجی ذمہ داری کے تحت 7,276 کروڑ روپے خرچ کیے
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
22 SEP 2026 12:07PM by PIB Delhi
ایک ایسی کمپنی کے طور پر جس کی سرگرمیوں کا اثر ہندوستان کے ان اضلاع تک پہنچتا ہے جہاں وسائل کی کمی ہے اور قبائلی آبادی کی اکثریت ہے، کمیونٹی کی فلاح و بہبود میں اپنا حصہ ڈالنے کا تصور کول انڈیا لمیٹڈ (سی آئی ایل) کے لیے نیا نہیں ہے۔ کارپوریٹ شعبے کے لیے کمپنیز ایکٹ 2013 کے تحت کارپوریٹ سماجی ذمہ داری کو قانونی ذمہ داری قرار دیے جانے سے بہت پہلے ہی سی آئی ایل اور اس کی ذیلی کمپنیوں نے 2005 کی کمیونٹی ڈیولپمنٹ (سی ڈی)پالیسی کے تحت اپنی کان کنی کی سرگرمیوں والے علاقوں اور ان کے آس پاس فلاحی سرگرمیاں شروع کر دی تھیں۔
کمیونٹی ڈیولپمنٹ اس سابقہ نظام کے تحت ذیلی کمپنیوں نے کان کنی کے مقامات کے 8 کلومیٹر کے دائرے میں واقع دیہات میں پینے کے پانی کی سہولتیں، صحت کیمپ اور چھوٹے بنیادی ڈھانچے سے متعلق کاموں میں معاونت کی۔ یہ اقدامات اطراف کی آبادیوں کے ساتھ خوشگوار تعلقات کو فروغ دینے میں اہم ثابت ہوئے۔ کمپنیز ایکٹ کے نفاذ سے پہلے کے تین مالی برسوں (مالی سال 2011-12 سے 2013-14) کے دوران سی آئی ایل کے مجموعی کمیونٹی ڈیولپمنٹ اخراجات 82 کروڑ روپے (مالی سال 2011-12) سے بڑھ کر 409 کروڑ روپے (مالی سال 2013-14) تک پہنچ گئے۔ زمینی سطح پر کیے جانے والے یہ کام حقیقی اور قابل قدر تھے، تاہم ان میں سال بہ سال تسلسل برقرار رکھنے اور انہیں وسیع پیمانے پر نافذ کرنے کے لیے ایک مستقل اور ادارہ جاتی نظام کی کمی تھی۔
کمپنیز ایکٹ 2013 اور اس کی دفعہ 135 نے اس صورتحال کو بنیادی طور پر بدل دیا۔ اب کمپنیوں کے لیے ضروری ہوگیا کہ وہ اپنے اوسط خالص منافع کے ایک مقررہ قانونی حصے کو کارپوریٹ سماجی ذمہ داری (سی ایس آر) پر خرچ کریں۔ اس کے لیے شیڈول VII میں درج موضوعات کو رہنما اصول بنایا گیا اور بورڈ کی سطح پر قائم سی ایس آر کمیٹی کے ذریعے نگرانی کا نظام بھی وضع کیا گیا۔ سی آئی ایل نے اس نظام کو مزید مستحکم کرتے ہوئے اپنی پالیسی ترتیب دی، جس کے تحت سالانہ سی ایس آر اخراجات کا کم از کم 80 فیصد کانوں اور اداروں کے 25 کلومیٹر کے دائرے میں خرچ کیا جاتا ہے، جس میں کان کنی سے متاثرہ علاقوں کو ترجیح دی جاتی ہے، جبکہ باقی رقم ریاستی اور قومی سطح کے اقدامات کے لیے مختص کی جاتی ہے۔ مقامی علاقوں پر اس توجہ کے نتیجے میں سی آئی ایل کے 90 فیصد سے زیادہ سی ایس آر اخراجات کوئلہ پیدا کرنے والی ریاستوں میں ہی کیے جاتے ہیں، جس سے یہ یقینی بنتا ہے کہ کان کنی کے اثرات جہاں سب سے زیادہ براہ راست محسوس ہوتے ہیں، فائدہ بھی وہیں پہنچے۔
اس کے نتائج اعداد و شمار میں واضح طور پر نظر آتے ہیں۔ سی آئی ایل نے نہ صرف اپنی قانونی ذمہ داری پوری کی ہے بلکہ مسلسل ہر سال اس سے زیادہ خرچ کیا ہے۔ مالی سال 2014-15 سے 2025-26 تک سی آئی ایل نے مجموعی طور پر 7,276 کروڑ روپے خرچ کیے، جبکہ قانونی طور پر مقررہ رقم 5,795 کروڑ روپے تھی۔ اس سے بھی زیادہ نمایاں بات یہ ہے کہ اس مدت کے دوران سالانہ اخراجات میں مسلسل اضافہ ہوا ہے۔ جو رقم پہلے تقریباً 500 کروڑ روپے کے آس پاس تھی، وہ اب بڑھ کر تقریباً 1,000 کروڑ روپے سالانہ تک پہنچ گئی ہے، جس سے سی آئی ایل ملک میں کارپوریٹ سماجی ذمہ داری کے تحت سب سے زیادہ خرچ کرنے والی کمپنیوں میں شامل ہوگئی ہے۔
اس پیمانے میں اضافے کے ساتھ ساتھ سی آئی ایل کی کارپوریٹ سماجی ذمہ داری کے مقاصد میں بھی وسعت آئی ہے اور اس کے سی ایس آر اقدامات کو دانستہ طور پر قومی مشنوں کے ساتھ ہم آہنگ کیا گیا ہے۔ سی آئی ایل ’سوچھ ودیالیہ ابھیان‘ میں سب سے زیادہ تعاون کرنے والی مرکزی سرکاری کمپنی رہی، جس کے تحت سرکاری اسکولوں میں 50,000 سے زائد بیت الخلا تعمیر کیے گئے۔ یہ پی ایم کیئرز فنڈ میں ابتدائی طور پر نمایاں تعاون کرنے والوں میں بھی شامل رہی اور کووڈ-19 کے دوران اڈیسہ اور چھتیس گڑھ میں خصوصی اسپتال قائم کرنے سے لے کر ’مشن پرانا وایو‘ کے تحت آکسیجن پلانٹس لگانے تک وسیع پیمانے پر امدادی پروگرام چلایا۔
سی آئی ایل کے اہم اقدامات نے اس پروگرام کو ایک منفرد شناخت بھی دی ہے۔ نرمان اسکیم کے تحت کان کنی والے اضلاع کے 1,300 سے زائد یو پی ایس سی امیدواروں کی حوصلہ افزائی کی گئی، تھیلیسیمیا بال سیوا یوجنا کے ذریعے 1,000 سے زائد زندگی بچانے والے بون میرو ٹرانسپلانٹ ممکن بنائے گئے، نَنھا سا دل پروگرام کے تحت 2 لاکھ سے زائد بچوں کی اسکریننگ کی گئی اور 1,700 سے زائد بچوں کے پیدائشی امراض قلب کا علاج کیا گیا، جبکہ اسکالرشپ اسکیموں کے ذریعے، ہندوستان کی معزز سپریم کورٹ کے اشتراک سے، 2,500 سے زائد بچوں کو فائدہ پہنچا۔
اسی سلسلے میں صحت اور تعلیم کے بنیادی ڈھانچے کے میدان میں بھی بڑے اقدامات کیے گئے ہیں۔ انگول میں 500 بستروں پر مشتمل میڈیکل کالج اور اسپتال اور جھارسوگڑا میں قلبی امراض کی نگہداشت کا مرکز، جن کی مجموعی مالیت 596 کروڑ روپے ہے، اب اپنے اپنے علاقوں میں اعلی درجے کی طبی نگہداشت کے مراکز کے طور پر خدمات انجام دے رہے ہیں۔ اسی طرح ڈیجیٹل ودیا کے تحت سرکاری اسکولوں میں 2,300 سے زائد اسمارٹ کلاس رومز اور 500 آئی سی ٹی/اسٹیم لیبز قائم کی جا چکی ہیں، جبکہ رانچی میں 5,000 نشستوں پر مشتمل ریاستی کتب خانہ زیر تعمیر ہے۔
اس کی رسائی صحت اور تعلیم سے کہیں آگے تک ہے۔ ہنرمندی اور روزگار سے متعلق پروگراموں، جن میں پروجیکٹ پراگتی، قبائلی خواتین کے لیے پولٹری سے متعلق معاونت، پلاسٹک انجینئرنگ اور مختلف شعبوں میں ہنرمندی کی تربیت شامل ہیں، سے صرف گزشتہ چار مالی سالوں کے دوران 48,000 سے زائد افراد مستفید ہوئے ہیں۔ جھارکھنڈ حکومت کے اشتراک سے چلائی جانے والی کھیل گاؤں اسپورٹس اکیڈمی کے کھلاڑیوں نے 1,800 سے زائد تمغے حاصل کیے ہیں، جن میں 15 بین الاقوامی سطح کے تمغے بھی شامل ہیں۔ اسی طرح آئی آئی ٹی (آئی ایس ایم) دھنباد میں صد سالہ عمارت کی تعمیر سے لے کر کولکاتا کے ہاوڑہ پل کی تزئین کاری تک، عوامی مفاد کے اہم منصوبوں کے ذریعے سی آئی ایل کی کارپوریٹ سماجی ذمہ داری کا دائرہ ممتاز تعلیمی اداروں اور قومی اہمیت کے مقامات تک بھی پہنچا ہے۔
مجموعی طور پر ان اقدامات سے اندازاً 3.56 کروڑ افراد براہ راست اور بالواسطہ طور پر مستفید ہوئے ہیں۔ ان میں کمزور طبقات، جن میں درج فہرست ذاتوں اور درج فہرست قبائل کی برادریاں، معذور افراد اور خواتین شامل ہیں،نمایاں تعداد میں شامل ہیں۔ ان اقدامات سے ہندوستان کے پائیدار ترقی کے اہداف سے متعلق عزم کو بھی مؤثر طور پر آگے بڑھانے میں مدد ملی ہے، جن میں صحت (ایس ڈی جی-3)، تعلیم (ایس ڈی جی-4)، صنفی مساوات (ایس ڈی جی-5)، صاف پانی اور صفائی ستھرائی (ایس ڈی جی-6) اور غربت کا خاتمہ (ایس ڈی جی-1) شامل ہیں۔
یہ سب کچھ اتفاقاً نہیں ہوا ہے۔ سی آئی ایل کی کارپوریٹ سماجی ذمہ داری کے اقدامات ایک منظم نتائج پر مبنی طریقہ کار کے تحت انجام دیے جاتے ہیں۔ اس کے تحت کمیونٹی کی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے سالانہ ایکشن پلان تیار کیے جاتے ہیں، متعین اہداف اور مدت کے ساتھ مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط کیے جاتے ہیں، اور کام کاج کی پیش رفت سے منسلک مراحل کی تکمیل اور یوٹیلائزیشن سرٹیفکیٹس کی بنیاد پر مرحلہ وار فنڈ جاری کیے جاتے ہیں۔ اس کے علاوہ، اثرات کے جائزے سے متعلق رہنما خطوط کے تحت بڑے منصوبوں کی تیسرے فریق سے جانچ لازمی قرار دی گئی ہے، جبکہ داخلی، قانونی اور کمپٹرولر اینڈ آڈیٹر جنرل (کیگ) کے آڈٹ کے ذریعے بھی نگرانی کی جاتی ہے۔اب اس نظام کو شعبہ جاتی سطح پر مزید مضبوط کیا جا رہا ہے۔ 8 ستمبر کو وزارت کوئلہ ہندوستان کی حکومت کی پہلی وزارت بن گئی جس نے پورے شعبے کے لیے سی ایس آر کا فریم ورک شروع کیا۔ اس کا مقصد کوئلہ شعبے کی سرکاری کمپنیوں میں سی ایس آر کی کوششوں میں زیادہ یکسانیت، باہمی ہم آہنگی اور جواب دہی کو یقینی بنانا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(ش ح ۔م م ع ۔ع ن)
U. No. 3902
(ریلیز آئی ڈی: 2313361)
وزیٹر کاؤنٹر : 9