صحت اور خاندانی بہبود کی وزارت
مرکزی وزیر مملکت برائے صحت و خاندانی بہبود محترمہ انوپریہ پٹیل نےہندوستان کی ساتویں قومی فارمولری 2026 جاری کی، مریضوں کے تحفظ کے دائرے کو وسیع کرنے کے لیے بایو ویجیلنس پروگرام کا اعلان
حکومت نے ہندوستان کے بایو ویجیلنس پروگرام کی منظوری دے دی، آئی پی سی کو اعضا اور بافتوں کی پیوند کاری سے متعلق مضر واقعات کی نگرانی کی ذمہ داری
محترمہ پٹیل نے مریضوں کے تحفظ اور ادویات کی نگرانی کے نظام کو مضبوط بنانے کے لیے نئی پہل کا بھی آغاز کیا
عالمی سطح پر ڈبلیو ایچ او کے مریضوں کے تحفظ کے ڈیٹا بیس میں تعاون کے معاملے میں ہندوستان123 ویں مقام سے ترقی کرکے آٹھویں مقام پر پہنچا:محترمہ انوپریہ پٹیل
ملک بھر میں تقریباً 1,150 مضر اثرات سے متعلق ادویات کی رپورٹنگ مراکز فعال، اس نیٹ ورک کو بنیادی صحت مراکز کی سطح تک وسعت دی جائے گی
‘‘دواؤں کا محفوظ استعمال ہر شخص کی ذمہ داری بننا چاہیے، رپورٹ کیا گیا ہر واقعہ ایک زندگی بچا سکتا ہے’’: محترمہ پٹیل
دواؤں کے معقول استعمال اور زیادہ محفوظ صحت خدمات پر توجہ کے ساتھ 17 سے 23 ستمبر 2026 تک چھٹا قومی فارماکو ویجیلنس ہفتہ منایا جا رہا ہے
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
21 SEP 2026 2:13PM by PIB Delhi
مرکزی وزیر مملکت برائے صحت و خاندانی بہبود اور کیمیکلز و فرٹیلائزر محترمہ انوپریہ پٹیل نے آج نئی دہلی کے ڈاکٹر امبیڈکر انٹرنیشنل سینٹر میں انڈین فارماکوپیا کمیشن (آئی پی سی) کے زیر اہتمام چھٹے قومی فارماکو ویجیلنس ہفتہ پروگرام کے دوران ہندوستان کی قومی فارمولری (این ایف آئی) کا ساتواں ایڈیشن، بھارت کے اسپتالوں کے لیے طبی آلات سے متعلق مضر واقعات کی حفاظت کی نگرانی اور رپورٹنگ سے متعلق رہنما دستاویز اور آئی او ایس صارفین کے لیے اے ڈی آر-پی وی پی آئی 2.0 موبائل ایپ جاری کی۔
این ایف آئی کا ساتواں ایڈیشن این ایف آئی آن لائن کے ذریعے ڈیجیٹل شکل میں بھی فراہم کر دیا گیا ہے۔
17 سے 23 ستمبر 2026 تک منائے جا رہے چھٹے قومی فارماکو ویجیلنس ہفتہ کا موضوع ہے: ‘‘فارماکو ویجیلنس کے ذریعے ادویات کے معقول استعمال کو فروغ دینا: محفوظ تر صحت خدمات کی جانب ایک قدم’’۔ اس پروگرام میں اعلی سرکاری افسران، ضابطہ کار اداروں کے نمائندگان، صحت خدمات سے وابستہ ماہرین، ماہرین تعلیم، محققین اور دیگر متعلقہ فریقوں نے شرکت کی، جو ادویات کے تحفظ اور مریضوں کی نگہداشت کو مزید مضبوط بنانے کے لیے کام کر رہے ہیں۔
اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے محترمہ پٹیل نے کہا کہ ادویات کا معقول استعمال اور ان کے تحفظ کی مسلسل نگرانی عوامی صحت کا لازمی حصہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہر مریض کو درست دوا، یقینی معیار کے ساتھ، مناسب طریقے سے اور زیادہ سے زیادہ ممکنہ تحفظ کے ساتھ ملنی چاہیے۔
ملک میں فارماکو ویجیلنس کے میدان میں ہونے والی پیش رفت کا ذکر کرتے ہوئے وزیر موصوفہ نے کہا کہ بھارت نے ایک مضبوط مقامی نظام وضع کیا ہے جو ملک بھر سے ادویات کے تحفظ سے متعلق اعداد و شمار جمع کرنے، تیار کرنے، ان پر کارروائی کرنے اور ان کا تجزیہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ انہوں نے صحت کے شعبے میں اس صلاحیت کو آتم نربھر بھارت کا ایک اہم پہلو قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس کے ذریعے بھارت ادویات کے محفوظ اور مؤثر استعمال کے لیے اپنی سائنسی شواہد خود تیار کرنے کے قابل ہوا ہے۔
ملک کی بڑھتی ہوئی عالمی شراکت داری کی طرف اشارہ کرتے ہوئے محترمہ پٹیل نے کہا کہ مریضوں کے تحفظ سے متعلق عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او)کے ڈیٹا بیس میں بھارت کی شراکت داری2014-2009 کے دوران 123 ویں مقام سے بڑھ کر عالمی سطح پر آٹھویں مقام پر پہنچ گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کا بنیادی طور پر بیرون ملک تیار کی گئی تحفظ سے متعلق معلومات پر انحصار کرنے سے اپنے فارماکو ویجیلنس شواہد خود تیار کرنے اور ان میں تعاون دینے کی جانب بڑھنا قومی صلاحیت میں نمایاں مضبوطی کی عکاسی کرتا ہے۔
وزیر موصوفہ نے انڈین فارماکوپیا کمیشن (آئی پی سی) کے قومی رابطہ مرکز کے زیر انتظام فارماکو ویجیلنس پروگرام آف انڈیا (پی وی پی آئی) کے کردار کو اجاگر کیا، جو ادویات کے مضر اثرات سے متعلق معلومات کو منظم انداز میں جمع، جانچ اور تجزیہ کرتا ہے۔ انہوں نے طبی آلات سے متعلق مضر واقعات کی نگرانی میں میٹریو ویجیلنس پروگرام آف انڈیا (ایم وی پی آئی) کے تعاون کو بھی سراہا۔
حکومت نے بھارت کے بایو ویجیلنس پروگرام کی منظوری دے دی
بھارت میں مریضوں کے تحفظ کے نظام کو نمایاں طور پر وسعت دیتے ہوئے محترمہ پٹیل نے اعلان کیا کہ حکومت ہند نے بھارت کے بایو ویجیلنس پروگرام کو منظوری دے دی ہے۔
اس پروگرام کے تحت آئی پی سی اعضا اور بافتوں کی پیوند کاری میں استعمال ہونے والی ادویات اور حیاتیاتی مصنوعات سے متعلق مضر واقعات کی رپورٹنگ، جانچ، نگرانی اور روک تھام کے نظام کو مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کرے گا۔ اس میں عطیہ دہندگان اور اعضا یا بافتیں حاصل کرنے والے مریضوں کو دی جانے والی مصنوعات بھی شامل ہیں۔
فارماکو ویجیلنس، میٹریو ویجیلنس اور بایو ویجیلنس کی مشترکہ پہلوں سے ادویات، طبی آلات اور اعضا و بافتوں کی پیوند کاری کے طریقہ کار سے متعلق تحفظ کی نگرانی مزید مضبوط ہوگی۔
این ایف آئی 2026 شواہد پر مبنی اور ادویات کے معقول نسخے تجویز کرنے میں معاون ہوگا
قومی فارمولری آف انڈیا کے بارے میں بات کرتے ہوئے محترمہ پٹیل نے کہا کہ این ایف آئی سائنسی معیارات اور طبی عمل کے درمیان ایک اہم رابطے کا کام کرتا ہے اور صحت خدمات سے وابستہ ماہرین کی ادویات کے مناسب اور معقول استعمال کے سلسلے میں رہنمائی کرتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس کے ساتویں ایڈیشن کا اجرا صحت خدمات سے وابستہ ماہرین کو ادویات تجویز کرنے اور استعمال کرنے کے دوران باخبر اور شواہد پر مبنی فیصلے کرنے کے قابل بنانے کی سمت ایک اور اہم قدم ہے۔
وزیر موصوفہ نے زور دے کر کہا کہ ادویات کا تحفظ ایک مسلسل ذمہ داری ہے، جو کسی دوا یا طبی آلے کی تیاری اور پیداوار سے لے کر اس کے نسخے، تقسیم، استعمال اور بازار میں دستیاب ہونے کے بعد اس کی نگرانی تک جاری رہتی ہے۔
انہوں نے اس شعبے میں بھارت کو مل رہی بڑھتی ہوئی بین الاقوامی پذیرائی کا بھی ذکر کیا اور بتایا کہ تقریباً25 ممالک انڈین فارماکوپیا کو تسلیم کرتے اور قبول کرتے ہیں، جبکہ آئی پی سی2023 میں فارماکوپیئل ڈسکشن گروپ کا رکن بنا، جس سے عالمی سطح پر ضابطہ جاتی ہم آہنگی اور یکسانیت کے عمل میں بھارت کے کردار کو مزید تقویت ملی ہے۔
ادویات کے تحفظ کو مضبوط بنانے کے لیے ڈیجیٹل پلیٹ فارم، مصنوعی ذہانت اور اعداد و شمار کا تجزیہ
ٹیکنالوجی کے کردار کو اجاگر کرتے ہوئے محترمہ پٹیل نے کہا کہ این ایف آئی آن لائن، آئی پی آن لائن، اے ڈی آر-پی وی پی آئی 2.0 موبائل ایپ اور مضر اثرات کی نگرانی کا نظام (اے ڈی آر ایم ایس) سمیت ڈیجیٹل اقدامات ادویات سے متعلق معلومات اور مضر واقعات کی رپورٹنگ کو مزید قابل رسائی، شفاف اور مؤثر بنا رہے ہیں۔
انہوں نے ادویات کے تحفظ کے نظام کو مزید مضبوط بنانے اور تحفظ سے متعلق شواہد کی بروقت تیاری اور استعمال کو یقینی بنانے کے لیے مصنوعی ذہانت اور جدید اعداد و شمار کے تجزیے سمیت ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیوں کے زیادہ سے زیادہ استعمال پر زور دیا۔
وزیر موصوفہ نے مضر واقعات کی رپورٹنگ میں مریضوں کی زیادہ سے زیادہ شرکت کی ضرورت پر بھی زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ ڈیجیٹل پلیٹ فارم، موبائل ایپلی کیشنز اور ہیلپ لائنز نے رپورٹنگ کو آسان بنا دیا ہے اور مریضوں کی جانب سے رپورٹنگ کی ’’کمی‘‘ کو دور کرنے کی ضرورت ہے۔
اس وقت ملک کے سرکاری اور نجی اسپتالوں اور میڈیکل کالجوں میں تقریباً 1,150 مضر اثرات کی رپورٹنگ کے مراکز فعال ہیں، جبکہ طبی آلات سے متعلق تحفظ کی نگرانی کی سہولتیں بھی موجود ہیں۔ حکومت ان سہولتوں کو بنیادی صحت کی سطح تک توسیع دینے کا منصوبہ رکھتی ہے۔
‘دنیا کی فارمیسی’ سے مریضوں کے تحفظ میں عالمی قیادت تک
وکست بھارت 2047 کے وژن کا حوالہ دیتے ہوئے محترمہ پٹیل نے کہا کہ مریضوں کا تحفظ قومی ترجیحات میں ایک اہم ترجیح بنا رہنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کو ’’دنیا کی فارمیسی‘‘ کی حیثیت کو مزید مستحکم کرتے ہوئے فارماکو ویجیلنس سائنس اور مریضوں کے تحفظ کے شعبے میں عالمی رہنما بننے کی سمت آگے بڑھنا چاہیے۔
صحت کے پورے ماحولیاتی نظام کو شامل کرتے ہوئے مشترکہ نقطہ نظر اختیار کرنے پر زور دیتے ہوئے وزیر موصوفہ نے حکومت کے اداروں، ضابطہ کار حکام، صحت خدمات سے وابستہ ماہرین، تعلیمی اداروں، تحقیقی اداروں، ادویہ ساز صنعت اور مریضوں کے درمیان مسلسل تعاون کی ضرورت پر زور دیا۔
انہوں نے کہا، ‘‘ادویات کا تحفظ ہر شخص کی ذمہ داری بننا چاہیے۔ رپورٹ کیا گیا ہر ایک واقعہ کسی کی جان بچا سکتا ہے۔’’
انہوں نے کہا کہ ادویات کے تحفظ کی مضبوط ثقافت قائم کرنے اور ادویات کے معقول استعمال کو فروغ دینے کے لیے اجتماعی شرکت انتہائی اہم ہوگی۔
انڈین فارماکوپیا کمیشن کے سکریٹری اور سائنسی ڈائریکٹر ڈاکٹر وی کالی سیلویَن نے ادویات کے معقول استعمال اور زیادہ محفوظ طریقے سے ادویات تجویز کرنے کے طریقوں کو فروغ دینے میں بھارت کی قومی فارمولری کے کردار کو اجاگر کیا۔ انہوں نے ملک بھر میں این ایف آئی کے استعمال کو وسعت دینے اور ادویات، طبی آلات، خون اور خون سے بنی مصنوعات سمیت دیگر طبی مصنوعات کا احاطہ کرنے والے ڈیجیٹل نظام سے مربوط فارماکو ویجیلنس کو مضبوط بنانے کے لیے آئی پی سی کی کوششوں کا بھی ذکر کیا۔
بھارت میں عالمی ادارہ صحت کے نمائندے ڈاکٹر یوان جے ایف ہیوٹن نے ادویات کے تحفظ اور فارماکو ویجیلنس کے نظام کو مزید مضبوط بنانے کے لیے قومی اور بین الاقوامی متعلقہ فریقوں کے درمیان مسلسل تعاون کی اہمیت پر زور دیا۔
اے آئی آئی ایم ایس کلیانی کے صدر پروفیسر وائی۔ کے۔ گپتا، آئی سی ایم آر کے سابق ڈائریکٹر جنرل اور محکمہ صحت تحقیق کے سابق سکریٹری ڈاکٹر وی۔ ایم۔ کٹوچ، وزارت صحت و خاندانی بہبود اور انڈین فارماکوپیا کمیشن کے اعلی افسران اور دیگر متعلقہ فریق بھی اس موقع پر موجود تھے۔
این ایف آئی 2026 کے بارے میں
انڈین فارماکوپیا کمیشن کی جانب سے 2009 سے وقتاً فوقتاً شائع کی جانے والی بھارت کی قومی فارمولری صحت خدمات سے وابستہ ماہرین کے لیے ایک رہنما دستاویز ہے، جس کا مقصد ادویات کے معقول اور محفوظ استعمال کو فروغ دینا ہے۔
این ایف آئی 2026 میں34 ابواب، 20 ضمیمے اور 653 ادویات شامل ہیں، جن میں 42 مقررہ مقدار کے امتزاج والی ادویات اور 30 امیونولوجیکل ادویات شامل ہیں۔ ادویات کے مونوگراف کو ضروری ادویات کی قومی فہرست اور قومی صحت پروگراموں کے مطابق نظر ثانی کرکے مرتب کیا گیا ہے۔
طباعتی نسخے کے علاوہ این ایف آئی ڈیجیٹل شکل میں بھی دستیاب ہے اور اس میں قومی صحت پروگراموں، حفاظتی ٹیکہ کاری کے نظام الاوقات، جن اوشدھی، غیر استعمال شدہ یا میعاد ختم ہو چکی ادویاتی مصنوعات کو محفوظ طریقے سے تلف کرنے اور دیگر مستند ضابطہ جاتی وسائل سے متعلق اہم روابط فراہم کیے گئے ہیں۔
*****
ش ح۔ م ح۔ ج ا
U.No. 3848
(ریلیز آئی ڈی: 2312972)
وزیٹر کاؤنٹر : 19