صدر جمہوریہ کا سکریٹریٹ
azadi ka amrit mahotsav

صدر جمہوریہ نے ’ماحولیات اور موسمیاتی حرکیات کا مستقبل‘ پر بین الاقوامی کانفرنس کے اختتامی اجلاس سے خطاب کیا


روایتی علم پر مبنی عوام مرکوز اور کمیونٹی پر مبنی موافقتی طریقوں کے ذریعے موسمیاتی لچک کو مضبوط بنایا جائے: صدر جمہوریہ دروپدی مرمو

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 20 SEP 2026 6:09PM by PIB Delhi

  صدر جمہوریہ ہند محترمہ دروپدی مرمو نے آج (20 ستمبر 2026) نئی دہلی میں نیشنل گرین ٹریبونل کے زیر اہتمام ’ماحولیات اور موسمیاتی حرکیات کا مستقبل‘ کے موضوع پر منعقدہ بین الاقوامی کانفرنس کے اختتامی اجلاس میں شرکت کی۔

 

اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے صدر جمہوریہ نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی انسانی وجود کی مختلف سطحوں پر عدم توازن پیدا کر رہی ہے۔ حیاتیاتی تنوع میں کمی، پانی کی قلت اور زمین کے انحطاط جیسے مسائل اس سے گہرے طور پر جڑے ہوئے ہیں۔ موسمیاتی تبدیلی کے غذائی تحفظ، صحت اور روزگار پر بھی سنگین اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔

 

 

صدر جمہوریہ نے کہا کہ اس طرح کے پیچیدہ چیلنج سے مؤثر طریقے سے نمٹنے کے لیے پالیسیوں اور اقدامات کا ایک منظم فریم ورک ضروری ہے۔ اس فریم ورک میں نہ صرف حکومتوں اور قانونی ماہرین بلکہ موسمیاتی تبدیلی سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والی برادریوں کی فعال شرکت بھی یقینی بنائی جانی چاہیے۔ دیہی اور جنگلات میں رہنے والے معاشروں، چھوٹے کسانوں، خواتین اور دیگر کمزور طبقات کی ضروریات کے تئیں خصوصی حساسیت نہایت اہم ہے، کیونکہ قدرتی آفات کا سب سے زیادہ بوجھ انہی طبقات کو برداشت کرنا پڑتا ہے۔

 

صدر جمہوریہ نے اس بات پر زور دیا کہ روایتی علم کے نظام کے ساتھ ساتھ مقامی برادریوں کے طریقہ کار اور عملی تجربات موسمیاتی تبدیلی کے مطابق موافقت کی صلاحیت بڑھانے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں روایتی علم پر مبنی عوام مرکوز اور کمیونٹی پر مبنی موافقتی طریقوں کے ذریعے موسمیاتی لچک کو مضبوط بنانا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ پائیدار شجرکاری بھی موسمیاتی لچک کو بڑھانے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔ حیاتیاتی تنوع کو فروغ دینے اور مقامی حالات سے ہم آہنگ شجرکاری کی کوششیں اس سلسلے میں مؤثر ثابت ہو سکتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پائیدار شجرکاری کا حقیقی مقصد محض درخت لگانا نہیں بلکہ صحت مند اور خود کفیل ماحولیاتی نظام کی بحالی ہے۔

 

صدر جمہوریہ نے کہا کہ ترقی پذیر ممالک کو ایسا راستہ اختیار کرنا چاہیے جس سے ترقی کی رفتار برقرار رکھتے ہوئے موسمیاتی تبدیلیوں کے مقابلے میں لچک میں اضافہ ہو۔ ذمہ دارانہ موسمیاتی اقدامات سے متعلق عہد ملک کی ترقیاتی ضروریات اور معاشی خواہشات سے ہم آہنگ ہونے چاہئیں۔ ان اقدامات کا تکنیکی طور پر قابل عمل ہونا بھی ضروری ہے۔ انہوں نے اس بات پر خوشی کا اظہار کیا کہ کانفرنس میں ایسے متعدد پہلوؤں پر تبادلہ خیال کیا گیا ہے۔

صدر جمہوریہ نے کہا کہ ہندوستان نے عام شہریوں، خصوصاً نوجوانوں کو شامل کرکے ماحولیاتی بیداری کو فروغ دینے میں قابل ذکر کام کیا ہے۔ حکومت ہند کے ’مشن لائف‘ اقدام نے یہ ثابت کیا ہے کہ عوامی شمولیت اور کمیونٹی کی ذمہ داری کے ذریعے ماحولیاتی نظام کی بحالی کی جانب بامعنی پیش رفت کی جا سکتی ہے۔

صدر جمہوریہ نے نیشنل گرین ٹریبونل کی اس کوشش کو سراہا کہ اس نے ماحولیاتی امور سے وابستہ مختلف ممالک کے ماہرین، ججوں، قانونی ماہرین اور اہم متعلقہ فریقوں کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کیا۔ انہوں نے اعتماد ظاہر کیا کہ اس کانفرنس میں ہونے والے مباحثے اور تیار کیے جانے والے عملی منصوبے جامع پالیسیوں اور مؤثر اقدامات پر مبنی موسمیاتی لچکدار معاشروں کی تعمیر کی راہ ہموار کرنے میں معاون ثابت ہوں گے۔

Please click here to see the President's Speech

************

ش ح ۔   م  د ۔  م  ص

(U : 3821 )


(ریلیز آئی ڈی: 2312756) وزیٹر کاؤنٹر : 13