ماحولیات، جنگلات اور موسمیاتی تبدیلی کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

وزیر اعظم جناب نریندر مودی کی جانب سے نئی دہلی میں ’’ماحولیات اور موسمیاتی حرکیات کا مستقبل‘‘ کے موضوع پر بین الاقوامی کانفرنس کا افتتاح؛ این جی ٹی موبائل ایپلی کیشن جاری


مرکزی وزیر جناب بھوپیندر یادو نے مساوات، نفاذ اور پائیدار ترقی پر مبنی موسمیاتی اقدامات کے لیے ہندوستان کے عزم کو اجاگر کیا

دو روزہ کانفرنس میں عالمی ماہرین اور متعلقہ فریقوں کی شرکت؛ عالمی ماحولیات اور موسمیاتی تبدیلی سے متعلق اہم چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے باہمی تعاون پر مبنی اقدامات پر غور

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 19 SEP 2026 2:09PM by PIB Delhi

وزیر اعظم جناب نریندر مودی نے آج نئی دہلی میں نیشنل گرین ٹریبونل (این جی ٹی) کی جانب سے ’’ماحولیات اور موسمیاتی حرکیات کا مستقبل‘‘ کے موضوع پر منعقدہ دو روزہ بین الاقوامی کانفرنس کا افتتاح کیا۔ افتتاحی اجلاس میں بھارت کے چیف جسٹس، جسٹس سوریہ کانت، اٹارنی جنرل جناب آر۔ وینکٹ رمنی، مرکزی وزیر برائے ماحولیات، جنگلات اور موسمیاتی تبدیلی جناب بھوپیندر یادو اور قومی سبز ٹریبونل کے چیئرمین جسٹس پرکاش شریواستو نے شرکت کی۔

اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم نے فطرت کے ساتھ ملک کے گہرے تاریخی تعلق کو اجاگر کیا اور اس بات پر زور دیا کہ قدیم ثقافتی دانش جدید موسمیاتی حل کی تشکیل میں فعال کردار ادا کر رہی ہے اور عالمی سطح پر اجتماعی اقدامات کے لیے تحریک فراہم کر رہی ہے۔ انہوں نے اس اہم مشن کو مستقل طور پر آگے بڑھانے کے لیے قومی سبز ٹریبونل کی ستائش کی اور منتظمین کو مبارک باد پیش کی۔

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/2026/sep/image001_20260919141141_7155a2.jpg

افتتاحی خطاب کرتے ہوئے چیف جسٹس سوریہ کانت نے ہندوستان کی طویل عرصے سے جاری ماحولیاتی قانونی روایت کو اجاگر کیا۔ انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ نے گزشتہ کئی دہائیوں کے دوران آلودگی سے پاک ماحول کے حق کو بنیادی حق کے طور پر تسلیم کیا ہے اور احتیاطی اصول، آلودگی پھیلانے والے سے قیمت وصول کرنے کے اصول، مطلق ذمہ داری اور عوامی امانت کے اصول سمیت متعدد اصول وضع کیے ہیں۔ چیف جسٹس نے کہا کہ ہندوستانی موسمیاتی قانون نے موسمیاتی تبدیلی سے متعلق حقوق کو آئینی دائرۂ کار میں مزید نمایاں کیا ہے اور یہ تسلیم کیا ہے کہ موسمیاتی تبدیلی کے مضر اثرات مساوات، روزگار اور صحت سے متعلق بنیادی حقوق کو متاثر کر سکتے ہیں۔ انہوں نے عالمی ماحولیاتی نگہداشت کو مضبوط بنانے کے لیے عدالتی بصیرت، سائنسی علم اور بین الاقوامی تعاون کو یکجا کرنے پر زور دیا۔

اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے جناب بھوپیندر یادو نے وزیر اعظم جناب نریندر مودی کی قیادت میں ہندوستان کے موسمیاتی عہد کو اجاگر کیا۔ انہوں نے بتایا کہ اب بجلی کی نصب شدہ صلاحیت کا 54.18 فیصد غیر فوسل ایندھن کے ذرائع سے حاصل ہوتا ہے، جس کے ساتھ ہندوستان نے 2030 کے لیے مقررہ 50 فیصد کے ہدف کو مقررہ مدت سے نو سال پہلے ہی حاصل کر لیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان قابلِ تجدید توانائی کی نصب شدہ صلاحیت کے اعتبار سے دنیا میں تیسرے مقام پر ہے اور شمسی توانائی کی ترقی کے اعتبار سے دنیا کی دوسری سب سے بڑی منڈی ہے۔ یہ ظاہر کرتا ہے کہ اقتصادی ترقی اور موسمیاتی اقدامات ایک ساتھ آگے بڑھ سکتے ہیں۔

جناب یادو نے جنگلی حیات اور ماحولیاتی نظام کے تحفظ کے میدان میں ہندوستان کی کامیابیوں کو بھی اجاگر کیا، جن میں چیتوں کو دوبارہ ہندوستان میں بسائے جانے کا کامیاب پروگرام، عظیم ہندوستانی تلور کے تحفظ اور افزائشِ نسل کا پروگرام، نیز جنگلاتی علاقوں، گھاس زاروں اور آبی خطوں کا تحفظ اور بحالی شامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان میں جنگلات اور درختوں کا رقبہ 8.27 لاکھ مربع کلومیٹر تک پہنچ گیا ہے۔ انہوں نے اقوام متحدہ کے ادارۂ خوراک و زراعت (ایف اے او) کی 2025 کی عالمی جنگلاتی وسائل کی جائزہ رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ سالانہ خالص جنگلاتی رقبے میں اضافے کے اعتبار سے ہندوستان نے عالمی سطح پر اپنا تیسرا مقام برقرار رکھا ہے۔ آئندہ انطالیہ میں ہونے والی اقوام متحدہ کے فریم ورک کنونشن برائے موسمیاتی تبدیلی (یو این ایف سی سی سی) کی کوپ 31 کانفرنس کے تناظر میں انہوں نے کہا کہ ہندوستان مساوات، نفاذ اور کمزور ممالک کی ضروریات کو مرکز میں رکھتے ہوئے موسمیاتی اقدامات کی وکالت جاری رکھے گا۔

مرکزی وزیر نے کہا کہ ایسے فورمز، جہاں دنیا بھر سے جج، پالیسی ساز، سائنس دان، ماہرینِ عملی امور اور ماہرین ایک جگہ جمع ہوں، اس وقت انتہائی اہم ہیں جب ماحولیاتی چیلنجز قومی سرحدوں سے آگے بڑھ چکے ہیں۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ دنیا کے سامنے انتخاب ترقی اور ماحولیات کے درمیان نہیں، بلکہ پائیدار ترقی اور ایسی ترقی کے درمیان ہے جسے برقرار نہیں رکھا جا سکتا۔ وزیر نے کہا کہ ماحولیاتی ذمہ داری کے تئیں ہندوستان کا نقطۂ نظر اس کی تہذیبی اقدار میں پیوست ہے، جو زمین کو مشترکہ ورثہ اور مقدس امانت تصور کرتی ہیں۔ انہوں نے پائیدار، مضبوط اور منصفانہ مستقبل کے لیے اجتماعی اقدامات کے تئیں ہندوستان کے عزم کا اعادہ کیا۔

اپنی تقریر میں اٹارنی جنرل برائے ہند جناب آر۔ وینکٹ رمنی نے کہا کہ کوئی بھی ملک ماحولیاتی چیلنج کا اکیلے سامنا نہیں کر سکتا اور عالمی اقدامات کو محض اعلانات سے آگے بڑھ کر عملی اور قابلِ نفاذ نظام کی جانب بڑھنا ہوگا۔ وزیر اعظم جناب نریندر مودی کے اس قول کا حوالہ دیتے ہوئے کہ ’’عالمی عزائم کے مطابق عالمی اقدامات بھی ہونے چاہئیں‘‘، انہوں نے کہا کہ ترقی اور ماحولیاتی تحفظ کے لیے اختیار کیے گئے متوازن راستے کے ذریعے ہندوستان مثال قائم کر سکتا ہے۔ انہوں نے ماحولیاتی انصاف سے متعلق مسائل کے حل کے لیے ایک نئے عالمی ماحولیاتی ضابطہ جاتی نظام اور مضبوط تر بین الاقوامی اداروں کی ضرورت پر زور دیا، جس میں توانائی اور غذائی تحفظ، رہائش، صحت، پانی، ماحولیاتی نظام اور معاشی مواقع سے متعلق امور کو بھی شامل کیا جائے۔

اس سے قبل وفود کا خیرمقدم کرتے ہوئے قومی سبز ٹریبونل کے چیئرمین جسٹس پرکاش شریواستو نے وزیر اعظم جناب نریندر مودی کی قیادت میں ہندوستان کے جامع ماحولیاتی نظم و نسق کے طریقۂ کار کو اجاگر کیا۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان کے اقدامات نہ صرف قومی سطح پر کارروائی بلکہ عالمی ماحولیاتی تعاون کے تئیں بھی ملک کے عزم کا اظہار کرتے ہیں۔ جسٹس شریواستو نے کہا کہ یہ اقدامات ایک صاف ستھرے، سرسبز، زیادہ مضبوط اور پائیدار ہندوستان کے وسیع تر ویژن کی عکاسی کرتے ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ ماحولیاتی تحفظ کسی ایک ادارے یا شعبے کی ذمہ داری نہیں بلکہ قومی اور عالمی سطح پر اجتماعی ذمہ داری ہے، کیونکہ ماحولیاتی انحطاط کے اثرات اکثر ان لوگوں پر سب سے زیادہ پڑتے ہیں جو اس کے لیے سب سے کم ذمہ دار ہوتے ہیں۔

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/2026/sep/image002_20260919141134_557f09.jpg

وزیر اعظم نے کانفرنس کے افتتاحی اجلاس کے دوران قومی سبز ٹریبونل (این جی ٹی) کی موبائل ایپلی کیشن بھی جاری کی۔

دو روزہ کانفرنس میں دنیا کے 17 ممالک سے ماہرینِ قانون، ماہرینِ تعلیم، پالیسی ساز، سائنس دان، ماحولیاتی ماہرین اور دیگر متعلقہ فریق شرکت کر رہے ہیں۔ اس کے ساتھ اقوام متحدہ کا ماحولیاتی پروگرام (یو این ای پی) اور ایشیائی ترقیاتی بینک (اے ڈی بی) جیسی بین الاقوامی تنظیمیں بھی شریک ہیں۔ اس کانفرنس کا مقصد مکالمے اور عدالتی، سائنسی، پالیسی اور ادارہ جاتی بہترین طریقۂ کار سے متعلق علم کے تبادلے کو فروغ دینا ہے، جبکہ اہم ماحولیاتی اور موسمیاتی چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے باہمی تعاون پر مبنی اقدامات کی حوصلہ افزائی بھی کرنا ہے۔

کانفرنس میں ماحولیات اور موسمیاتی نظم و نسق کے اہم پہلوؤں کا احاطہ کرنے والے چار تکنیکی اجلاس شامل ہیں، جن میں سے دو اجلاس آج منعقد ہوئے۔

تکنیکی اجلاس-اول’’موسمیاتی انصاف، مساوات اور شمولیت: اصولوں سے عملی اقدامات تک‘‘ — میں موسمیاتی اقدامات میں مساوات اور شمولیت، ماحولیاتی اور سماجی تحفظات، نیز موسمیاتی تبدیلی اور ماحولیاتی انحطاط کے باہم مربوط اثرات پر توجہ مرکوز کی گئی۔

تکنیکی اجلاس-دوم’’ماحولیاتی قانون اور نظم و نسق کا مستقبل‘‘ — میں اداروں اور قوانین کے نفاذ کے طریقۂ کار کو مضبوط بنانے، پائیدار اور قابلِ رہائش شہروں، توانائی کی منتقلی، سبز بنیادی ڈھانچے اور سبز مالیات پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔

کانفرنس کا مقصد ماحولیاتی قانون اور اداروں کو مضبوط بنانا، موسمیاتی انصاف اور بین النسلی مساوات کو فروغ دینا، پائیدار اور مضبوط شہروں کے فروغ، منصفانہ توانائی کی منتقلی کو آسان بنانے اور سرحد پار ماحولیاتی چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے باہمی تعاون پر مبنی اقدامات کو فروغ دینا ہے۔ اس کے علاوہ تحقیق، بہترین طریقۂ کار اور اختراعی حلوں کے تبادلے، شراکت داریوں کے قیام، قابلِ عمل سفارشات مرتب کرنے اور مستقبل میں تعاون کے لیے لائحۂ عمل وضع کرنے پر بھی توجہ مرکوز کی گئی۔

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/2026/sep/image003_20260919141150_0af4f1.jpg

***

ش ح۔ ش ا ر۔ ول

Uno-3782


(ریلیز آئی ڈی: 2312405) وزیٹر کاؤنٹر : 18