نائب صدر جمہوریہ ہند کا سکریٹریٹ
azadi ka amrit mahotsav

نائب صدر جمہوریہ جناب سی پی رادھا کرشنن نے تلنگانہ میں حیدرآباد لبریشن ڈے کی تقریبات میں شرکت کی


حیدرآباد لبریشن: آزاد بھارت کی تاریخ کا ایک فیصلہ کن باب ہے:نائب صدر جمہوریہ

حیدرآباد لبریشن ڈے ہمیں یاد دلاتا ہے کہ قومی اتحاد کو شمولیت کا باعث بننا چاہیے:نائب صدر جمہوریہ

سردار پٹیل جی نے مضبوط اور متحد ایک بھارت کی مضبوط بنیاد رکھی:نائب صدر جمہوریہ

نائب صدر جمہوریہ نے رام جی گونڈ،طرےباز خان، کومارام بھیم اور بے شمار دیگر جانبازوں کی بہادری اور قربانی کو خراج عقیدت پیش کیا

شاہی ریاستوں کے انضمام میں مرکزی مسلح پولیس فورسز نے اہم کردار ادا کیا:نائب صدر جمہوریہ

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 17 SEP 2026 12:53PM by PIB Delhi

ہندوستان کے نائب صدر جمہوریہ جناب سی پی رادھا کرشنن نے آج تلنگانہ کے سکندرآباد میں پریڈ گراؤنڈ میں منعقدہ حیدرآباد لبریشن ڈے کی 79ویں تقریبات میں مہمان خصوصی کی حیثیت سے شرکت کی۔

اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے نائب صدر جمہوریہ نے کہا کہ 17 ستمبر 1948 آزاد بھارت کی تاریخ کا ایک فیصلہ کن باب تھا۔ ستمبر 1948 کے واقعات اور آپریشن پولو کے بعد سابق ریاست حیدرآباد کا بھارتی یونین میں انضمام عمل میں آیا۔انہوں نے کہا کہ حیدرآباد لبریشن ڈے محض ایک عظیم  تاریخ کی یاد منانے کا دن نہیں ہے بلکہ یہ قوم کی تعمیر کے سفر اور ان اقدار کی یاد دہانی بھی کراتا ہے جو آج بھی بھارت کو متحد رکھتی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ حیدرآباد کی داستان ان بڑے چیلنجوں کی عکاسی کرتی ہے جن کا سامنا ایک نئی قوم کو مختلف سیاسی حالات سے نکل کر آنے والے لوگوں کو ایک ساتھ لانے میں کرنا پڑا۔ یہ سیاسی بصیرت، بہادری اور قربانی کی داستان تھی، جس کے بعد ایک ایسی آئینی جمہوریت کی تعمیر کا وسیع تر اور مسلسل جاری رہنے والا کام شروع ہوا، جس میں ہر شہری کو مساوی مقام حاصل ہو۔

قومی اتحاد میں سردار ولبھ بھائی پٹیل کے کردار کو یاد کرتے ہوئے نائب صدر جمہوریہ نے کہا کہ  ملک کےپہلے وزیر داخلہ اور ریاستوں کے وزیر کی حیثیت سے سردار پٹیل نے ایسے وقت میں غیر معمولی ذمہ داری سنبھالی جب بھارت تقسیم کے بعد سنبھل رہا تھا اور بیک وقت سیکڑوں شاہی ریاستوں کو ایک یونین میں ضم کرنے کا عمل جاری تھا۔ جناب سی پی رادھا کرشنن نے کہا کہ’’سردار پٹیل جی نے ایک مضبوط اور متحد ایک بھارت کی فولادی بنیاد رکھی۔‘‘

بھارت کی قومی تعمیر کے مختلف مراحل کے درمیان مماثلت بیان کرتے ہوئے نائب صدر جمہوریہ نے کہا، ’’گاندھی جی اور نیتا جی سبھاش چندر بوس جی نے بھارت کی آزادی میں اہم کردار ادا کیا۔ سردار پٹیل جی نے شاہی ریاستوں کو جدید بھارت کے ساتھ متحد کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ وزیر اعظم نریندر مودی جی اب ترقی یافتہ بھارت - وکست بھارت @ 2047 کی تعمیر میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔‘‘

حیدرآباد کی جدوجہد کے پیچھے عوامی تحریک کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے جناب سی پی رادھا کرشنن نے کہا کہ طلبہ، دانشوروں، ادیبوں، سماجی کارکنوں، سیاسی کارکنوں، کسانوں اور عام شہریوں نے اس جدوجہد میں حصہ لیا اور قیدوبند، تشدد اور شدید ذاتی مشکلات برداشت کیں۔

انہوں نے رام جی گونڈ، طرےباز خان اور کومارام بھیم سمیت متعدد جانبازوں کو خراج عقیدت پیش کیا اور کہا کہ ان کی بہادری ہمیں یاد دلاتی ہے کہ تاریخ صرف سرکاری دفاتر میں یا معروف سیاست دانوں کے ذریعے نہیں بنتی بلکہ ان عام شہریوں کے ذریعے بھی بنتی ہے جو ناانصافی کو اپنی تقدیر تسلیم کرنے سے انکار کر دیتے ہیں۔

انہوں نے کہا، ’’سیاسی انضمام علاقوں کو ایک ساتھ لا سکتا ہے، جبکہ آئینی جمہوریت شہریوں کو ایک ساتھ جوڑتی ہے۔‘‘ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ قومی اتحاد صرف جغرافیہ کی بنیاد پر برقرار نہیں رہ سکتا بلکہ اسے مساوی حقوق، مساوی وقار اور مساوی مواقع کے ذریعے مضبوط بنانا ضروری ہے۔

انہوں نے کہا کہ بھارت کی یکجہتی کے لیے یہ ضروری نہیں کہ ہر شہری ایک جیسا ہو۔ انہوں نے کہا کہ بھارتی شہری مختلف زبانیں بول سکتے ہیں، مختلف روایات پر عمل کرسکتے ہیں، مختلف طریقوں سے عبادت کرسکتے ہیں اور مختلف سیاسی نظریات  کے حامل  ہوسکتے ہیں، اس کے باوجود وہ آئین اور اس اصول کے ذریعے ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں کہ حتمی طور پر اقتدار عوام کے پاس ہے۔

مرکزی مسلح پولیس فورسز کے کردار کا ذکر کرتے ہوئے نائب صدر جمہوریہ نے کہا کہ انہوں نے48-1947 میں شاہی ریاستوں کے انضمام اور بھارت کی علاقائی سالمیت کے تحفظ میں اہم کردار ادا کیا تھا۔ انہوں نے تلنگانہ، چھتیس گڑھ، جھارکھنڈ اور دیگر متاثرہ علاقوں میں بائیں بازو کی انتہا پسندی سے نمٹنے میں ان فورسز کے تعاون کو بھی تسلیم کیا۔

نائب صدر جمہوریہ نے جنگی یادگار کا دورہ کیا اور پھولوں کی چادر چڑھا کر بہادر سپاہیوں کو خراج عقیدت پیش کیا۔

انہوں نے پریڈ کا معائنہ بھی کیا اور تقریب میں شاندار مارچ پاسٹ اور پُراثر ثقافتی پروگراموں کا مشاہدہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ حیدرآباد کی میراث  کوقوم کو یہ یاد دلاتی رہنی چاہیے کہ انضمام کے نتیجے میں شمولیت کو فروغ ملنا چاہیے اور حب الوطنی کا اعلی ترین اظہار بالآخر قوم کی خدمت میں ہونا چاہیے۔

نائب صدر جمہوریہ نے وزارت اطلاعات و نشریات کے مرکزی بیورو آف کمیونیکیشن کی جانب سے لگائی گئی نمائش کا بھی دورہ کیا، جس میں حیدرآباد کی آزادی، بھارتی یونین میں انضمام کی جدوجہد، قربانیوں اور اس کی تاریخی سفر کو اجاگر کیا گیا ہے۔

تلنگانہ کے گورنر جناب شیو پرتاپ شکلا، مرکزی وزیر ثقافت و سیاحت جناب گجیندر سنگھ شیخاوت، مرکزی وزیر کوئلہ و کانکنی جناب جی کشن ریڈی، مرکزی وزیر مملکت برائے امور داخلہ جناب بندی سنجے کمار، ملکاج گیری کے رکن پارلیمنٹ جناب ایٹلا راجیندر اور دیگر معززین اس موقع پر موجود تھے۔

*****

 ش ح۔م م ع ۔ش ا

Urdu No-3699


(ریلیز آئی ڈی: 2311289) وزیٹر کاؤنٹر : 8