صحت اور خاندانی بہبود کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

مرکزی وزارت صحت نے اسٹیم سیل تھراپی کے ضابطے سے متعلق ایڈوائزری جاری کی ہے


معیاری نگہداشت کے طور پر اسٹیم سیل تھراپی کی اجازت صرف وزارت کی منظور شدہ فہرست میں شامل بیماریوں کے حالات واشارات کے لیے ہوگی

آٹزم اسپیکٹرم ڈس آرڈر ( اے ایس ڈی) کے لئے اسٹیم سیلز کا علاج معالجہ  ضروری ریگولیٹری منظوریوں کے ساتھ کلینیکل ٹرائلز تک محدودہے

غیر ثابت شدہ اسٹیم سیل اقدامات ، بشمول اے ایس ڈی کے لیے اسٹیم سیل تھراپی ، معمول ، معیاری یا تجارتی طبی خدمات کے طور پر پیش نہیں کی جائیں گی

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 17 SEP 2026 9:18AM by PIB Delhi

صحت اور خاندانی بہبود کی وزارت نے اسٹیم سیل تھراپی کے ضابطے سے متعلق 16 ستمبر 2026 کو ان تمام ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کے لیے ایک ایڈوائزری جاری کی ہے، جنہوں نے کلینیکل اسٹیبلشمنٹ(رجسٹریشن اینڈ ریگولیشن) ایکٹ، 2010 کو اختیار کیا ہے۔ یہ ایڈوائزری معزز سپریم کورٹ کے 30 جنوری 2026 کے فیصلے کی روشنی میں جاری کی گئی ہے، جو یَش چیریٹیبل ٹرسٹ و دیگر بنام یونین آف انڈیا و دیگر، ڈبلیو پی(سی)نمبر 369 آف 2022 [2026 آئی این ایس سی 96] کے معاملے میں سنایا گیا تھا۔

ایڈوائزری میں اسٹیم سیل تحقیق اور تھراپی کے حوالے سے موجودہ ضابطہ جاتی فریم ورک کو دہرایا گیا ہے اور اس بات کو یقینی بنانے کی کوشش کی گئی ہے کہ اسٹیم سیل تھراپی کو معمول کی طبی خدمات میں معیاری علاج کے طور پر صرف ان بیماریوں یا طبی صورتوں کے لیے استعمال کرنے کی اجازت ہو جو وزارت صحت و خاندانی بہبود کی منظور شدہ فہرست میں شامل ہیں۔

آٹزم اسپیکٹرم ڈس آرڈر (اے ایس ڈی) کے حوالے سے ایڈوائزری میں واضح کیا گیا ہے کہ آٹزم کے علاج میں کسی بھی قسم کے اسٹیم سیل کا علاج کے لیے استعمال باقاعدہ طور پر منظور شدہ کلینیکل ٹرائلز تک محدود رہے گا۔ یہ استعمال طبی تحقیق کی بھارتی کونسل(آئی سی ایم آر) اور محکمہ بایوٹیکنالوجی (ڈی بی ٹی) کی جانب سے مشترکہ طور پر جاری کردہ اسٹیم سیل ریسرچ کے لیے قومی رہنما خطوط، 2017 اور حکومت ہند کی جانب سے وقتاً فوقتاً جاری کردہ دیگر قابل اطلاق سرکاری ہدایات کے مطابق ہوگا۔

وزارت نے ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں سے کہا ہے کہ وہ معزز سپریم کورٹ کی ہدایات کو تمام متعلقہ ریاستی اور ضلعی ضابطہ کار حکام اور اسٹیم سیل تحقیق، علاج، تشہیر یا استعمال میں شامل سرکاری اور نجی طبی اداروں تک وسیع پیمانے پر پہنچائیں، تاکہ قابل اطلاق ضابطہ جاتی فریم ورک کی سختی سے تعمیل کو یقینی بنائی جا سکے۔

ایڈوائزری میں اسٹیم سیل تھراپی سے متعلق ضابطہ جاتی فریم ورک کی عدم تعمیل کے نتائج کی جانب بھی توجہ دلائی گئی ہے۔ معزز سپریم کورٹ نے 30 جنوری 2026 کے اپنے فیصلے کے پیرا(xiii) 151  میں قرار دیا کہ قانونی تقاضوں کی عدم تعمیل پر نتائج مرتب ہونے چاہئیں، جن میں آئی ایم سی ضوابط، 2002 کے ضابطہ 7.22 کے تحت پیشہ ورانہ بدسلوکی کے خلاف کارروائی کے ساتھ ساتھ کلینیکل اسٹیبلشمنٹس(رجسٹریشن اینڈ ریگولیشن) ایکٹ، 2010 کی دفعات 32 اور 40 کے تحت کارروائی بھی شامل ہے، جن میں رجسٹریشن منسوخ کرنے اور جرمانے عائد کرنے کی گنجائش  موجودہے۔

وزارت نے اسی مناسبت سے متعلقہ ریاستی اور ضلع سطح کے ضابطہ کار حکام اور طبی اداروں سے کہا ہے کہ وہ اسٹیم سیل تحقیق اور تھراپی سے متعلق قابل اطلاق ضابطہ جاتی فریم ورک کی سختی سے تعمیل یقینی بنائیں۔

ضابطہ جاتی موقف کو مزید واضح کرتے ہوئے، نیشنل میڈیکل کمیشن (این ایم سی) نے 5 ستمبر 2026 کو جاری کردہ اپنی ایڈوائزری میں دہرایا ہے کہ اسٹیم سیل تھراپی کو صرف منظور شدہ طبی صورتوں کے لیے معیاری طبی علاج کے طور پر فراہم کیا جا سکتا ہے۔ ایڈوائزری میں مزید کہا گیا ہے کہ منظور شدہ طبی صورتوں سے ہٹ کر اسٹیم سیل تھراپی کا غیر مجاز استعمال، تجویز، تشہیر یا اشتہار پیشہ ورانہ طور پرنامناسب طریقہ کارکے زمرے میں آئے گا۔

این ایم سی نے ریاستی میڈیکل کونسلوں کو مزید مشورہ دیا ہے کہ ان کے علم میں لائے جانے والے مبینہ خلاف ورزی کے معاملات کا جائزہ لیں اور جہاں باقاعدہ قانونی کارروائی کے بعد رجسٹرڈ طبی پریکٹیشنر کی جانب سے پیشہ ورانہ طور پر  نامناسب حرکات ثابت ہوں، وہاں قابل اطلاق قانونی اور ضابطہ جاتی دفعات کے مطابق مناسب تادیبی کارروائی کریں۔

*****

 ش ح۔م م ع۔ش ا

Urdu No-3684


(ریلیز آئی ڈی: 2311208) وزیٹر کاؤنٹر : 14