امور داخلہ کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

امورداخلہ و امداد باہمی کے مرکزی وزیر امت شاہ اور جل شکتی   کے مرکزی وزیر جناب سی آر پاٹل کی موجودگی میں اتر پردیش، اتراکھنڈ، ہماچل پردیش، راجستھان، دہلی اور ہریانہ کے وزرائے اعلیٰ نے کشاؤ کثیر المقاصد پروجیکٹ معاہدے پر دستخط کیے


یہ معاہدہ مودی جی کے "سب کا ساتھ، سب کا وکاس، سب کا وشواس اور سب کا پریاس" اور ٹیم ہندوستان کے بنیادی منتر کی ایک شاندار مثال ہے

مودی جی کے ’سمواد سے سمادھان‘کے منتر پر چار دہائیوں سے تعطل کے شکار اس پروجیکٹ کو کامیاب بنانے کے لیے تمام وزرائے اعلیٰ کا شکریہ

مودی حکومت میں یہ دسواں آبی تنازعہ آج ختم ہونے جا رہا ہے

آج ہونے والے معاہدے سے ہماچل پردیش، اتراکھنڈ، اتر پردیش، ہریانہ، راجستھان اور دہلی—یہ تمام ریاستیں مستفید ہوں گی

2018 سے 2026 تک کا دور مودی جی کی قیادت میں شمالی ہندوستان میں باہمی اتفاقِ رائے سے آبی تنازعات کو حل کرنے کے دور کے طور پر جانا جائے گا

کشاؤ کثیر المقاصد پروجیکٹ معاہدہ دہلی اور جمنا دونوں کے لیے انتہائی فائدہ مند ثابت ہوگا، اور اس سے ماحولیاتی تحفظ کو فروغ ملے گا

کشاؤ کثیر المقاصد پروجیکٹ کو 'قومی پروجیکٹ' قرار دیا گیا ہے، اس کا تقریباً 90 فیصد مالی بوجھ حکومتِ ہند اور بقیہ 10 فیصد رقم شراکت دار ریاستیں برداشت کریں گی

کشاؤ کثیر المقاصد پروجیکٹ معاہدے کے تحت اتراکھنڈ اور ہماچل پردیش کی سرحد پر بہنے والے دریائے تونس پر 232.6 میٹر اونچا کنکریٹ گریویٹی ڈیم تعمیر کیا جائے گا، جہاں 1,562 ملین کیوبک میٹر پانی ذخیرہ ہوگا

کشاؤ کثیر المقاصد پروجیکٹ معاہدے سے سب سے بڑا فائدہ دہلی کو حاصل ہوگا

اس منصوبے کے تحت 97 ہزار ہیکٹر اراضی سیراب ہوگی اور 1,476 ملین یونٹ ماحول دوست پن بجلی بھی حاصل ہوگی

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 15 SEP 2026 5:26PM by PIB Delhi

امورداخلہ و امداد باہمی کے مرکزی وزیر امت شاہ اور جل شکتی کے مرکزی وزیر جناب سی آر پاٹل کی موجودگی میں آج اترپردیش کے وزیراعلیٰ جناب یوگی آدتیہ ناتھ، اتراکھنڈ کے وزیراعلیٰ جناب پشکر سنگھ دھامی، ہماچل پردیش کے وزیراعلیٰ  جناب سکھویندر سنگھ سکھو، راجستھان کے وزیراعلیٰ  جناب بھجن لال شرما، دہلی کی وزیراعلیٰ   محترمہ ریکھا گپتا اور ہریانہ کے وزیراعلیٰ جناب نایب سنگھ سینی نے کشاؤ کثیرالمقاصد منصوبے کے معاہدے پر دستخط کیے۔

اس موقع پر مرکزی وزارت داخلہ کے سکریٹری، آبی وسائل، دریائی ترقی اور گنگا احیا محکمہ کے سکریٹری اور متعلقہ ریاستوں کے چیف سکریٹری بھی موجود تھے۔

 

 

 

امورداخلہ و امداد باہمی کے مرکزی وزیر امت شاہ نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آج ہم نے ایک تاریخی معاہدہ طے پاتے دیکھا ہے۔ انہوں نے اعتماد ظاہر کیا کہ پروجیکٹ کی تکمیل کے بعد آج کا یہ دن تاریخ کا ایک اہم باب بن جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ آج طے پانے والے معاہدے سے ہماچل پردیش، اتراکھنڈ، اتر پردیش، ہریانہ، راجستھان اور دہلی کو کسی نہ کسی شکل میں فائدہ پہنچے گا۔

جناب شاہ نے کہا کہ سب سے اہم بات یہ ہے کہ تمام چھ ریاستوں نے اپنی رضامندی ظاہر کرتے ہوئے معاہدے پر دستخط کیے ہیں۔ امورداخلہ و امداد باہمی کے مرکزی وزیر نے تمام چھ ریاستوں کے وزرائے اعلیٰ اور مرکزی وزیر جل شکتی سی آر پاٹل کو پروجیکٹ کو اس مرحلے تک پہنچانے میں اہم کردار ادا کرنے پر مبارکباد دی۔ انہوں نے کہا کہ حکومت ہند اور یمنا طاس کی ان چھ ریاستوں کے وزرائے اعلیٰ اس پروجیکٹ کو جلد از جلد مکمل کرنے کے لیے پرعزم ہیں۔

امورداخلہ و امداد باہمی کے مرکزی وزیر امت شاہ نے کہا کہ جناب نریندر مودی کے وزیراعظم بننے کے بعد یہ پانی سے متعلق دسواں تنازع ہے، جو اب حل ہونے جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم جناب نریندر مودی کی قیادت میں گزشتہ 50 برس سے جاری سنگین تنازعات کو حل کرنے کی پہل کی گئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ سب سے پہلے اگست 2018 میں لکھوار کثیرالمقاصد پروجیکٹ سے متعلق تنازع حل کیا گیا۔ اسی ماہ شاہ پور کنڈی ڈیم پروجیکٹ کا تنازع بھی حل کرلیا گیا۔ 2019 میں اپر یمنا طاس میں رینوکا جی کثیرالمقاصد ڈیم پروجیکٹ سے متعلق تنازع حل ہوا۔ 2021 میں مدھیہ پردیش اور اتر پردیش نے کین-بیتوا لنک پروجیکٹ پر معاہدہ کیا، جس سے پانی کی قلت سے دوچار بندیل کھنڈ خطے کو فائدہ پہنچے گا۔

سال 2024 میں نظرثانی شدہ پاربتی-کالی سندھ-چمبل دریا لنک پروجیکٹ پر پیش رفت ہوئی۔ فروری 2024 میں زیر زمین پائپ لائن کے ذریعے ہتھنی کنڈ سے یمنا تک پانی منتقل کرنے کی اسکیم کو منظوری دی گئی۔ جولائی 2026 میں نرمدا پروجیکٹ سے بے گھر ہونے والے خاندانوں کی بازآبادکاری سے متعلق تنازع حل کیا گیا۔ اگست 2026 میں بہار اور جھارکھنڈ کے درمیان سون طاس میں پانی کی تقسیم کا تنازع طے پایا اور آج آخرکار کِشو کثیرالمقاصد پروجیکٹ پر بھی معاہدہ ہوگیا۔

امورداخلہ و امداد باہمی کے مرکزی وزیر امت شاہ نے کہا کہ وزیراعظم جناب نریندر مودی کی قیادت میں 2018 سے 2026 تک کا عرصہ ایسے دور کے طور پر یاد کیا جائے گا، جس میں کشمیر سے اتر پردیش تک پانی سے متعلق تقریباً تمام تنازعات کو حل کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ ان تنازعات کے حل کی بنیاد زونل کونسلوں کے اجلاسوں میں رکھی گئی، جبکہ وزارت جل شکتی نے ان معاہدوں کو مؤثر انداز میں آگے بڑھایا۔

انہوں نے کہا کہ جل شکتی کے وزیر کا عہدہ سنبھالنے کے بعد سی آر پاٹل نے طویل عرصے سے زیر التوا تنازعات کو حل کرنے کی ذمہ داری اپنے اوپر لی۔ انہوں نے ہر سطح پر پہل کی اور جہاں بھی مدد کی ضرورت پڑی، خواہ بین ریاستی کونسل کو فعال کرنے کی بات ہو یا وزارت امور داخلہ کو شامل کرنے کی، اس بات کو یقینی بنایا کہ معاملے کو منطقی انجام تک پہنچایا جائے۔

امورداخلہ و امداد باہمی کے مرکزی وزیر امت شاہ نے کہا کہ کِشاؤ کثیرالمقاصد پروجیکٹ کے حوالے سے 12 مئی 1994 کو یہ معاہدہ ہوا تھا کہ دریائی طاس میں بننے والے ہر ذخیرہ آب کے پروجیکٹ کے لیے الگ الگ معاہدے کیے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ اگر یہ انتظام نہ کیا گیا ہوتا تو آج یہ ممکن نہیں ہوپاتا۔

بعد ازاں 2019 میں لکھوار اور رینوکا جی پروجیکٹوں سے متعلق تنازعات حل ہونے کے بعد کِشاؤ پروجیکٹ پر بھی کام آگے بڑھا۔ اس پروجیکٹ پر رواں سال 16 جون کو باضابطہ معاہدہ طے پایا۔ وزارت جل شکتی نے اس معاملے کو آگے بڑھاتے ہوئے تمام ریاستوں کی رضامندی حاصل کی اور تکنیکی و اقتصادی پہلوؤں کے ساتھ ساتھ تمام ریاستوں کے مفادات کا تحفظ یقینی بناتے ہوئے معاملے کو حل تک پہنچایا۔

 امورداخلہ و امداد باہمی کے مرکزی وزیر امت شاہ نے کہا کہ وزیراعظم جناب نریندر مودی کی قیادت میں حکومت ہند نے کِشاؤ کثیرالمقاصد پروجیکٹ کو قومی پروجیکٹ قرار دیا ہے۔ حکومت ہند اس پروجیکٹ کے تقریباً 90 فیصد مالی بوجھ کو برداشت کرے گی، جبکہ باقی 10 فیصد رقم 1994 کے معاہدے کے مطابق متعلقہ ریاستیں برداشت کریں گی۔ انہوں نے کہا کہ اتراکھنڈ حکومت کو کچھ مشکلات کا سامنا تھا۔ حکومت ہند کی جانب سے انہیں یقین دلایا گیا ہے کہ ان کے مطالبات کو حکومت ہند کی مختلف اسکیموں کے تحت پورا کرنے کی کوشش کی جائے گی اور آئندہ ریاست پر پڑنے والے مالی بوجھ میں بھی اتراکھنڈ کی مدد کی جائے گی۔

جناب امت شاہ نے کہا کہ اتراکھنڈ اور ہماچل پردیش کی سرحد کے ساتھ بہنے والے تونس دریا پر 232.6 میٹر بلند کنکریٹ گریوٹی ڈیم تعمیر کیا جائے گا، جس میں 1,562 ملین مکعب میٹر پانی ذخیرہ کرنے کی گنجائش ہوگی۔ اس پروجیکٹ سے 97 ہزار ہیکٹر اراضی کو آبپاشی کی سہولت ملے گی اور 1,476 ملین یونٹ صاف پن بجلی پیدا ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ اس پروجیکٹ سے سب سے زیادہ فائدہ دہلی کو ہوگا۔

امورداخلہ و امداد باہمی کے مرکزی وزیر نے کہا کہ جب یمنا کے پانی کی تقسیم کی گئی تو پالیسی سازوں کی جانب سے ایک سنگین کوتاہی ہوئی۔ یمنا کے ماحولیاتی بہاؤ کا بالکل حساب نہیں کیا گیا اور دستیاب تمام پانی ریاستوں کے درمیان تقسیم کردیا گیا۔ دریا کے لیے پانی ہی نہیں بچا۔ انہوں نے کہا کہ کِشاؤ کثیرالمقاصد پروجیکٹ معاہدے کے ذریعے 25 فیصد پانی دستیاب ہوگا، جو دہلی اور یمنا دونوں کے لیے انتہائی فائدہ مند ثابت ہوگا۔ اس سے ماحولیاتی تحفظ میں بھی مدد ملے گی۔

جناب امت شاہ نے کہا کہ محترمہ ریکھا گپتا کے دہلی کی وزیر اعلیٰ بننے کے بعد سے وزیراعظم جناب نریندر مودی کی قیادت میں یمنا کی صفائی کے لیے مسلسل کام کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے اعتماد ظاہر کیا کہ 2029 تک صاف یمنا کا ہدف حاصل کرلیا جائے گا۔ یمنا کے صاف ہونے سے گنگا بھی صاف ہوگی، کیونکہ آخرکار یمنا پریاگ راج میں گنگا سے مل جاتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب تک یمنا کی صفائی کا خواب پورا نہیں ہوتا، صاف گنگا کا خواب بھی ادھورا رہے گا۔

امورداخلہ و امداد باہمی کے مرکزی وزیر امت شاہ نے کہا کہ دہلی کی وزیر اعلیٰ اور تمام متعلقہ فریق یمنا کو صاف کرنے کے مقصد کے لیے مکمل تعاون اور عزم کے ساتھ آگے بڑھ رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آج کی کامیابی وزیراعظم جناب نریندر مودی کے رہنما منتر ’’سب کا ساتھ، سب کا وکاس، سب کا وشواس اور سب کا پریاس‘‘ اور ’ٹیم انڈیا‘ کے بنیادی منتر کی بہترین مثال ہے۔ یہ اس ہندوستان کے وژن کی بھی عکاسی کرتی ہے، جہاں سب مل کر آگے بڑھتے ہیں۔

انہوں نے اعتماد ظاہر کیا کہ جس طرح تمام فریقوں نے مشترکہ مقصد اور ایک ہی سمت میں کام کرتے ہوئے یہ معاہدہ طے کیا ہے، اسی طرح تمام ریاستیں بھی پروجیکٹ کی تکمیل کے لیے مل کر ایک سمت میں کام کریں گی۔ اس سے یمنا کو جلد از جلد صاف کرنے کے ساتھ کروڑوں لوگوں کو پینے، زراعت، ترقی اور صنعتی استعمال کے لیے پانی فراہم کرنے میں مدد ملے گی۔

***

ش ح ۔   م  د ۔  م  ص

U :3597 


(ریلیز آئی ڈی: 2310625) وزیٹر کاؤنٹر : 6