ماحولیات، جنگلات اور موسمیاتی تبدیلی کی وزارت
مرکزی وزیر ماحولیات اور گجرات کے وزیر اعلیٰ نے گاندھی نگر میں عالمی سرکلر اکانومی فورم (ڈبلیو سی ای ایف) -2026 کا افتتاح کیا
ڈبلیو سی ای ایف- 2026 کو دنیا کے لیے عملی سرکلر حل تیار کرکے ’وسودھیو کٹم بکم‘ کے جذبے کی عکاسی کرنی چاہیے: گجرات کے وزیر اعلیٰ جناب بھوپیندر بھائی پٹیل
مرمت کو تبدیلی پر، دوبارہ استعمال کو ضائع کرنے پر اور دوبارہ حصول کو کچرے پر ترجیح دیں- ہندوستان کا سرکلر معیشت کا نظریہ روایات میں رچا بسا ہے: جناب بھوپیندر یادو
سرکلر معیشت بنیادی طور پر باہمی تعاون پر مبنی ہے- علم، ٹیکنالوجی، مالی وسائل اور ذمہ داری کو سرحدوں اور مختلف شعبوں کے درمیان منتقل ہونا چاہیے: مرکزی وزیر ماحولیات
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
15 SEP 2026 12:20PM by PIB Delhi
مرکزی وزیر ماحولیات، جنگلات اور موسمیاتی تبدیلی جناب بھوپیندر یادو نے گجرات کے وزیر اعلیٰ جناب بھوپیندر بھائی پٹیل کے ساتھ آج گاندھی نگر میں عالمی سرکلر اکانومی فورم -2026 کا افتتاح کیا۔ یہ فورم ’سرکلر اکانومی: عوام اور خوشحالی کے لیے تبدیلی‘ کے موضوع کے تحت 15 سے 18 ستمبر تک منعقد کیا جا رہا ہے۔ افتتاحی اجلاس میں دیگر معزز شخصیات میں گجرات کے جنگلات، ماحولیات اور موسمیاتی تبدیلی کے وزیر جناب ارجن بھائی مودھ واڈیا، گجرات کے جنگلات اور ماحولیات و موسمیاتی تبدیلی کے وزیر مملکت جناب پروین بھائی مالی، ہندوستان میں فن لینڈ کے سفیر عزت مآب جناب مکو کیویکوسکی، نیدرلینڈز کی وزارت اقتصادی امور اور موسمیات میں سرکلر اکانومی کی ڈپٹی ڈائریکٹر جنرل محترمہ ماریکے اسپائیکربور اورایس آئی ٹی آر اے- سِٹراکے صدر جناب اٹے یاکیلائنن شامل تھے۔ اس موقع پر حکومت ہند اور حکومت گجرات کے سینئر افسران بھی موجود تھے۔

اپنے خصوصی خطاب میں گجرات کے وزیر اعلیٰ جناب بھوپیندر بھائی پٹیل نے کہا کہ جنوبی ایشیا میں پہلی بارڈبلیو سی ای ایف کی میزبانی ہندوستان کی جانب سے وزیر اعظم جناب نریندر مودی کے ویژن کے تحت عالمی سطح پر بڑھتی ہوئی قیادت کی عکاسی کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مشن لائف عالمی سرکلر اکانومی کی بنیاد کے طور پر ابھر رہا ہے اور اعتماد ظاہر کیا کہ یہ فورم دنیا کے سامنے سرکلر اکانومی کے عملی طریقوں کو پیش کرے گا۔
وزیر اعلیٰ نے ترقی اور ماحولیات کے درمیان توازن برقرار رکھتے ہوئے ماحولیاتی تحفظ کی جانب گجرات کے سفر کا بھی ذکر کیا۔ روایتی طور پر سرکلر اکانومی کے طریقوں کی مثال دیتے ہوئے انہوں نے سومناتھ مندر میں چڑھاوے کے طور پر پیش کی جانے والی اشیا کو دوبارہ قابل استعمال وسائل میں تبدیل کرنے اور اس سے مقامی برادریوں کے لیے روزگار پیدا ہونے کی مثال پیش کی۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ دوبارہ استعمال کی ثقافت اور کچرے کو دولت میں تبدیل کرنے کا تصور طویل عرصے سے ہندوستانی روایات کا حصہ رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ڈبلیو سی ای ایف کو دنیا کے لیے عملی سرکلر حل تیار کرکے ’وسودھیو کٹم بکم‘ کے جذبے کی عکاسی کرنی چاہیے۔

اس موقع پر اپنے کلیدی خطاب میں جناب بھوپیندر یادو نے کہا کہ ہندوستان کے لیے سرکلر اکانومی ’’کوئی نئی منزل نہیں، بلکہ قدیم دانش کو دیکھنے کا ایک نیا طریقہ ہے۔‘‘ انہوں نے کہا کہ دوبارہ استعمال، مرمت اور وسائل کے احترام کے اصول ہندوستان کے سماجی اور ثقافتی تانے بانے میں گہرائی سے رچے بسے ہیں۔ انہوں نے کہا - ’’جسے ہم آج پالیسی کی زبان میں سرکلریٹی کہتے ہیں، وہ کبھی روزمرہ کی ہندوستانی زندگی میں عام فہم بات تھی- تبدیلی سے پہلے مرمت، ضائع کرنے سے پہلے دوبارہ استعمال اور کچرا بننے سے پہلے وسائل کا دوبارہ حصول۔‘‘ وزیر نے کہا کہ انتخاب ترقی اور ماحولیات کے درمیان نہیں ہے، بلکہ یہ موقع ہے کہ ترقی کو خود وسائل کے زیادہ مؤثر استعمال، مضبوط اور پائیدار بنانے کی جانب لے جایا جائے۔ انہوں نے کہا، ’’سرکلر اکانومی کی حقیقی کامیابی کا پیمانہ یہ نہیں ہوگا کہ ہم کتنا کچرا ری سائیکل کرتے ہیں، بلکہ یہ ہوگا کہ ہم کتنی کم قدر کو ضائع ہونے دیتے ہیں۔‘‘ انہوں نے اعتماد ظاہر کیا کہ ڈبلیو سی ای ایف- 2026 ایک سرکلر مستقبل کے لیے شراکت داری اور حل تیار کرنے میں اہم کردار ادا کرے گا۔
جناب یادو نے اجاگر کیا کہ وزیر اعظم جناب نریندر مودی کی قیادت میں ہندوستان نے ضابطہ جاتی اصلاحات اور ڈجیٹل تعمیلی نظام کے ذریعے سرکلر اکانومی کی جانب پیش رفت کی ہے، جس میں شعبہ وار کچرا انتظام کے ضوابط کو مضبوط بنانا اور ایکسٹینڈڈ پروڈیوسر ریسپانسبلٹی (ای پی آر) کا نفاذ شامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ مقصد یہ یقینی بنانا ہے کہ ’’کچرے کو اب کسی مصنوعات کے سفر کا اختتام نہیں، بلکہ وسائل کے ایک نئے دور کا آغاز سمجھا جائے۔‘‘ انہوں نے بتایا کہ اگست 2026 تک مختلف ا ی پی آرفریم ورک کے تحت 83,000 سے زیادہ پروڈیوسرز اور 4,802 ری سائیکلرز رجسٹرڈ ہو چکے ہیں، جبکہ ضابطے کے تحت آنے والے مختلف اقسام کے کچرے میں تقریباً 482.24 لاکھ میٹرک ٹن کچرے کو پراسیس کیا جا چکا ہے۔

وزیر موصوف نے زور دے کر کہا کہ صرف ضابطے بنا دینے سے سرکلر اکانومی قائم نہیں ہو سکتی، بلکہ اس کا آغاز اس بات سے بھی ہونا چاہیے کہ لوگ کس طرح اشیا استعمال کرتے ہیں۔ لائف اسٹائل فار انوائرمنٹ (ایل آئی ایف ای) کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سرکلر اکانومی صرف ری سائیکلنگ پلانٹ میں قائم نہیں کی جا سکتی، بلکہ اس کا آغاز بازار سے ہونا چاہیے، یہ گھروں تک جاری رہنی چاہیے اور آخرکار روزمرہ زندگی کی عادت بن جانی چاہیے۔ سرکلریٹی کو بنیادی طور پر باہمی تعاون پر مبنی قرار دیتے ہوئے وزیر نے کہا کہ کوئی بھی ملک، کمپنی یا برادری اکیلے اس چکر کو مکمل نہیں کر سکتی۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ علم، ٹیکنالوجی، مالی وسائل اور ذمہ داری کو سرحدوں اور مختلف شعبوں کے درمیان منتقل ہونا چاہیے۔ انہوں نے سرکلر اکانومی کے شعبے میں ہندوستان کے بین الاقوامی تعاون کو اجاگر کیا، جس میں ہندوستان کی جی- 20 صدارت کے دوران شروع کیا گیا ریسورس ایفیشنسی اینڈ سرکلر اکانومی انڈسٹری کولیشن (آر ای سی ای آئی سی) بھی شامل ہے۔ وزیر نے یہ بھی بتایا کہ ہندوستان کی برکس صدارت کے دوران سرکلر اکانومی کو پائیدار طرز زندگی، ماحولیاتی نظام کی بحالی اور موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے مطابقت پیدا کرنے کے ساتھ باہم مربوط ترجیحات میں شامل کیا گیا ہے۔
اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے جناب ارجن بھائی مودھ واڈیا نے مہاتما گاندھی کے اس پیغام کو یاد کیا کہ زمین ہر شخص کی ضروریات پوری کرنے کے لیے کافی وسائل رکھتی ہے، لیکن ہر شخص کی لالچ پوری کرنے کے لیے نہیں۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم جناب نریندر مودی نے گجرات میں سرکلر اکانومی کی بنیاد رکھی تھی، جسے اب وزیر اعلیٰ جناب بھوپیندر بھائی پٹیل کی قیادت میں آگے بڑھایا جا رہا ہے اور ریاست کو سرکلر تبدیلی کے عالمی مرکز کے طور پر قائم کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے پائیدار اور مضبوط مستقبل کی تعمیر کے لیے کچرے کو وسائل اور وسائل کو قدر میں تبدیل کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔

فن لینڈ کے سفیر عزت مآب جناب مکو کیویکوسکی نے کہا کہ سرکلریٹی محض ماحولیات سے متعلق کوئی الگ ایجنڈا نہیں ہے، بلکہ ترقی کے بارے میں سوچنے کا ایک بنیادی طریقہ ہے اور یہ فن لینڈ کی قومی پالیسی کا لازمی حصہ بن چکی ہے۔ انہوں نے 2035 تک وسائل کے استعمال کو 2015 کی سطح سے کم رکھنے کے فن لینڈ کے عزم کو اجاگر کیا اور بتایا کہ ہندوستان میں کام کرنے والی 100 سے زیادہ فن لینڈ کی کمپنیاں پائیدار ٹیکنالوجیز اور سرکلر اصولوں کے ساتھ کام کر رہی ہیں۔ انہوں نے سرکلریٹی کو پیداوار کے ابتدائی مراحل تک لے جانے کی ضرورت پر زور دیا تاکہ اس بات پر ازسرنو غور کیا جا سکے کہ کیا پیدا کیا جائے اور قدر کو زیادہ سے زیادہ عرصے تک کیسے برقرار رکھا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’’بہترین کچرا وہ ہے جو کبھی پیدا ہی نہ ہو۔‘‘ انہوں نے بتایا کہ ہندوستان اور فن لینڈ کے تعلقات کو اسٹریٹجک شراکت داری کی سطح تک بڑھایا گیا ہے، جس میں ڈجیٹلائزیشن اور پائیداری پر توجہ مرکوز کی گئی ہے۔

محترمہ ماریکے اسپائیکربور نے زور دے کر کہا کہ سرکلر تبدیلی نیدرلینڈز کی صنعتی پالیسی کا لازمی حصہ ہے اور ملک کا مقصد 2050 تک مکمل طور پر سرکلر اکانومی اختیار کرنا ہے۔ انہوں نے وسائل کے استعمال میں کمی لانے کے سلسلے میں ہونے والی پیش رفت اور سرکلر اکانومی سے متعلق قانون اور ایکسٹینڈڈ پروڈیوسر ریسپانسبلٹی (ای پی آر) نظام کو مضبوط بنانے کی کوششوں کو اجاگر کیا۔ انہوں نے کہا کہ سرکلر ویلیو چینز کی تعمیر کے لیے بین الاقوامی تعاون ناگزیر ہے۔ ڈبلیو سی ای ایف- 2026 میں نیدرلینڈز کی 20 سے زیادہ کمپنیوں اور تنظیموں کی شرکت کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے بڑی کمپنیوں کے ساتھ ساتھ اسٹارٹ اپس میں بھی سرکلریٹی کو فروغ دینے کے لیے ہندوستان کی توانائی اور عزم کو سراہا۔

دیگرمعزز شخصیات نے پروگرام کے مقام پرڈبلیو سی ای ایف- 2026 کی نمائش کا افتتاح کیا اور اس کا جائزہ لیا۔ نمائش میں 135 قومی اور بین الاقوامی نمائش کنندگان نے شرکت کی ہے، جو سرکلر اکانومی کے عملی حل پیش کر رہے ہیں۔ فورم میں 62 ممالک سے مختلف شعبوں سے وابستہ 3600 سے زیادہ افراد شرکت کر رہے ہیں، جن میں کاروباری رہنما، صنعت کار، اختراع کار، محققین، پالیسی ساز، ماہرین تعلیم، تبدیلی کے لیے کام کرنے والے افراد اور دیگر شامل ہیں۔معزز شخصیات نے افتتاحی اجلاس کے دوران دو اشاعتیں بھی جاری کیں۔ ان کے عنوانات ’بیسٹ پریکٹیسیز فار ری یوز آف ٹریٹیڈ سیویج‘اور ’ڈرائیونگ سسٹینبلیٹی – اے گائیڈ ٹو انڈیاز سرکلر اکانومی این ای پی آر انی شی ایٹیو ‘ ہیں۔
اس تقریب کا مشترکہ طور پر انعقاد بھارت کے مرکزی آلودگی کنٹرول بورڈ (CPCB)، فن لینڈ کے انوویشن فنڈ سِٹرا، حکومت فن لینڈ، وزارت ماحولیات، جنگلات اور موسمیاتی تبدیلی (ایم او ای ایف اینڈ سی سی) ، حکومت ہند، حکومت گجرات اور گجرات آلودگی کنٹرول بورڈ (جی پی سی بی) کی جانب سے کیا جا رہا ہے۔
*****
ش ح – ظ الف – ن ع
UR No. 3570
(ریلیز آئی ڈی: 2310457)
وزیٹر کاؤنٹر : 4