ریلوے کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

پچاس (50)  کلومیٹر، بے شمار مستفیدین: میزورم کی ریلوے لائف لائن نے کامیابی کا ایک سال مکمل کیا


صرف ایک سال میں، بیرابی-سائرنگ ریلوے لائن نے میزورم میں سفر، سیاحت اور لاجسٹکس کو تبدیل کر دیا ہے، جس سے پہاڑی ریاست کے لیے نئی راہیں کھل رہی ہیں

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 13 SEP 2026 11:27AM by PIB Delhi

13 ستمبر 2025 کو ہندوستان کے عزت مآب وزیر اعظم جناب نریندر مودی نے میزورم کی ترقی کے ایک نئے باب کا آغاز کرتے ہوئے 51.38 کلومیٹر طویل بیرابی-سائرنگ ریلوے لائن اور سائرنگ ریلوے اسٹیشن کا افتتاح کیا۔ صرف ایک سال کے عرصے میں اس ریلوے لائن نے اس دور افتادہ پہاڑی ریاست کو تبدیل کر دیا ہے۔ اس نے اسے ریلوے کے نقشے پر محض ایک لائن سے آگے بڑھاتے ہوئے بہتر نقل و حرکت، بازاروں تک زیادہ رسائی، سیاحت کے فروغ اور نئے مواقع کے دروازے میں تبدیل کر دیا ہے۔

ایک اہم سنگ میل: جب ریلوے پہاڑوں تک پہنچی

کئی نسلوں سے میزورم کے دشوار گزار جغرافیے کے باعث سڑکوں پر بھاری ٹریفک کا دباؤ رہا ہے، جس کی وجہ سے طویل فاصلے کا سفر وقت طلب، دشوار اور غیر یقینی رہا ہے۔ بیرابی-سائرنگ نئی ریلوے لائن کے آغاز کے ساتھ یہ صورت حال بدل گئی ہے۔

(بیرابی-سائرنگ ریلوے لائن قومی ریلوے نیٹ ورک کو میزورم کے دشوار گزار پہاڑی خطے سے جوڑتی ہے۔)

بیرابی-سائرنگ ریلوے لائن ایک شاندار انجینئرنگ کا نمونہ ہے، جو میزورم کی کھڑی پہاڑیوں، گہری گھاٹیوں اور وادیوں سے گزرتی ہے۔ اس منصوبے میں 153 پل شامل ہیں، جن میں 55 بڑے پل، 88 چھوٹے پل اور 10 روڈ اوور/انڈر پل شامل ہیں۔ ان میں سے چھ پل 70 میٹر سے زیادہ بلند ہیں، جبکہ سب سے اونچے پل کی بلندی 114 میٹر ہے، جو دہلی کے قطب مینار سے 42 میٹر زیادہ ہے۔ یہ ریلوے لائن تقریباً 16 کلومیٹر کے مجموعی فاصلے پر پھیلی 45 سرنگوں سے بھی گزرتی ہے۔ یہ ریل کوریڈور قومی ریلوے نیٹ ورک کو بیرابی سے آگے چار نئے تعمیر شدہ اسٹیشنوں—ہورتوکی، کانپوئی، موالکھنگ اور آخر میں سائرنگ ریلوے اسٹیشن—سے جوڑتا ہے، جس سے میزورم کے دارالحکومت ایزول کی دہلیز تک ریلوے رابطہ مکمل ہوتا ہے۔

13 ستمبر 2025 کو بیرابی-سائرنگ ریلوے لائن کا افتتاح میزورم کے عوام کے ایک دیرینہ خواب کی تکمیل تھی۔ اس سے قابلِ اعتماد مسافر اور مال بردار ریلوے خدمات ریاست میں آبادی، انتظامیہ، تعلیم اور تجارت کے سب سے بڑے مرکز کے قریب پہنچ گئی ہیں۔

(سائرنگ اسٹیشن میزورم کے لیے ایک نئے مسافر مرکز اور قومی ریلوے نیٹ ورک کے لاجسٹک گیٹ وے کے طور پر ابھرا ہے۔)

مسافروں کی نقل و حرکت: اعداد و شمار قابلِ اعتماد رابطے کی کہانی بیان کرتے ہیں

تین اہم طویل فاصلے کی ٹرین خدمات اب میزورم کے دارالحکومت کو گوہاٹی، کولکتہ اور دہلی سے جوڑتی ہیں۔ سائرنگ-آنند وہار راجدھانی ایکسپریس نے میزورم کو قومی دارالحکومت کے ساتھ پہلی براہِ راست پریمیم ریلوے سروس فراہم کی، جبکہ گوہاٹی اور کولکتہ کے لیے چلنے والی ٹرین خدمات نے ملک کے مشرقی اور شمالی حصوں کے بڑے تعلیمی، تجارتی اور طبی مراکز کے ساتھ قابلِ اعتماد رابطہ قائم کیا ہے۔ مزید برآں، سائرنگ-سلچر مسافر ٹرین سروس، جس کا افتتاح عزت مآب مرکزی وزیر ریلوے جناب اشونی ویشنو نے جنوری 2026 میں کیا تھا، نے سائرنگ کو آسام کی وادیٔ بارک سے جوڑنے والی باقاعدہ اور قابلِ اعتماد مسافر ٹرین سروس فراہم کی ہے۔

گزشتہ ایک سال کے دوران ان ٹرین خدمات نے 1,100 سے زیادہ سفر مکمل کیے ہیں اور اب یہ میزورم کے عوام کی روزمرہ زندگی کا ایک لازمی حصہ بن چکی ہیں۔ ان ٹرین خدمات کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ انہیں 15 لاکھ سے زائد مسافروں نے استعمال کیا ہے۔ مسافروں کی زبردست مانگ کے باعث تمام ٹرینیں ہر سفر میں 100 فیصد سے زیادہ گنجائش کے ساتھ چل رہی ہیں۔

سائرنگ سے کولکتہ کے لیے ہفتے میں تین دن چلنے والی ٹرین سروس میں اوسط قبضے کی شرح 140 فیصد سے زیادہ رہی ہے، جبکہ سائرنگ سے گوہاٹی کے لیے روزانہ چلنے والی ٹرین سروس میں یہ شرح مسلسل 110 فیصد سے زیادہ رہی ہے۔ اسی طرح سائرنگ-آنند وہار راجدھانی ایکسپریس میں بھی اوسط قبضے کی شرح 145 فیصد سے زیادہ رہی ہے۔ ان ٹرین خدمات سے ہندوستانی ریلوے کو ٹکٹوں کی فروخت سے مجموعی طور پر 54 کروڑ روپے کی آمدنی ہوئی ہے۔

گزشتہ ایک سال کے دوران سائرنگ ریلوے اسٹیشن نے 5,54,000 سے زیادہ مسافروں کو سہولت فراہم کی ہے، جبکہ اوسطاً 3,300 مسافر روزانہ اسٹیشن سے سفر کرتے ہیں۔ یہ ریلوے اسٹیشن نہ صرف مسافروں کی آمدورفت کا ایک اہم مرکز بن گیا ہے بلکہ آس پاس کے علاقے میں اجتماعی زندگی کا بھی ایک لازمی حصہ بن چکا ہے۔ مقامی لوگ اسٹیشن کمپلیکس کے اطراف درخت لگانے اور دیگر ماحولیاتی سرگرمیوں میں بھی بڑھ چڑھ کر حصہ لے رہے ہیں۔

مال برداری میں تبدیلی: ریل کے ذریعے ایزول تک کارگو

بیرابی-سائرنگ ریلوے لائن نے میزورم میں مال برداری کے نظام میں بھی تبدیلی لائی ہے، جس کے ذریعے ضروری اشیا، گاڑیوں اور تعمیراتی سامان سمیت مختلف اشیا کو محفوظ، بروقت اور کم لاگت میں ایزول تک پہنچانا ممکن ہوا ہے۔

14 ستمبر 2025 کو، نئی ریلوے لائن کے افتتاح کے ٹھیک ایک دن بعد، پہلی مال بردار ٹرین گوہاٹی کے قریب ٹیٹیلیا میں واقع اسٹار سیمنٹ سائڈنگ سے سیمنٹ کے 26,000 سے زائد تھیلوں کی کھیپ لے کر سائرنگ پہنچی۔ اس مال بردار ٹرین کی آمد کا ایزول میں سیمنٹ کی قیمتوں پر فوری اثر پڑا، جس سے واضح طور پر ظاہر ہوا کہ ریلوے کس طرح لاجسٹک اخراجات میں نمایاں کمی لا سکتی ہے اور پورے خطے کی اقتصادی ترقی میں اپنا کردار ادا کر سکتی ہے۔ مزید برآں، براہِ راست مال بردار ٹرین خدمات نے آٹوموبائل کی خرید میں موجود خلاکو پُر کیا، ترسیل کی لاگت کم کی اور گاڑیوں کو آخری صارفین کے لیے مزید سستا بنایا۔ ایک اور قابلِ ذکر کامیابی کے طور پر، پہلی آٹوموبائل کھیپ، جس میں گوہاٹی کے قریب چانگساری سے 119 ماروتی کاریں شامل تھیں، دسمبر 2025 میں ریل کے ذریعے سائرنگ پہنچی، جس سے خطے میں آٹوموبائل کی لاجسٹکس میں نمایاں تبدیلی آئی۔

گزشتہ ایک سال کے دوران 2,500 سے زائد ریلوے مال بردار ویگنیں سائرنگ پہنچ چکی ہیں۔ ان کھیپوں میں تقریباً 70 فیصد تعمیراتی سامان، جیسے سیمنٹ، پتھر اور ریت شامل تھے۔ ان اشیا کی ترسیل نے میزورم میں مکانات کی تعمیر اور سرکاری تعمیراتی منصوبوں میں مدد فراہم کی، ریاست میں کم لاگت پر بنیادی ڈھانچے کی ترقی کو فروغ دیا اور سامان کی نقل و حمل میں لگنے والے وقت کو کم کیا۔

سائرنگ پہنچنے والے دیگر ریلوے کارگو میں چاول اور کھاد جیسی ضروری اشیا کے ساتھ آٹوموبائل سے لدی 156 ویگنیں بھی شامل تھیں۔ آٹوموبائل ریکس نے گاڑیوں کے لیے ایک محفوظ اور زیادہ گنجائش والا سپلائی چینل قائم کیا، جبکہ کھاد اور اناج کی ترسیل نے ریاست میں زراعت اور مقامی عوامی تقسیم نظام (پی ڈی ایس )کے تحت اشیا کی تقسیم کو سہارا دیا۔ اس طرح بڑی مقدار میں سامان کی نقل و حمل کو طویل فاصلے کی سڑک کے بجائے زیادہ مؤثر ریلوے نظام کی جانب منتقل کیا گیا۔

(ابتدائی سیمنٹ ریک نے سائرنگ کو مال برداری کے مرکز کے طور پر قائم کیا۔)

( میزورم میں پہلی آٹوموبائل مال بردار ریک کو ہینڈل کیا گیا۔)

ریلوے نے میزورم کے عوام کے لیے تعلیم اور سیاحت کے مواقع میں اضافہ کیا ہے

دہلی، کولکتہ، گوہاٹی اور سلچر سے براہِ راست چلنے والی ٹرینوں نے ملکی سیاحوں کے لیے میزورم پہنچنا آسان بنا دیا ہے۔ ریلوے نے ان زائرین کے لیے ایک سستا داخلی راستہ فراہم کیا ہے، جو اس سے پہلے مکمل طور پر ہوائی سفر یا طویل سڑک کے سفر پر انحصار کرتے تھے۔ اس کے نتیجے میں ریلوے خدمات کے آغاز کے بعد سے میزورم میں سیاحت میں 86 فیصد سے زیادہ اضافہ ہوا ہے۔

اس کے فوائد صرف ٹکٹ والے سفر تک محدود نہیں ہیں۔ سیاحوں کی بڑھتی ہوئی آمد سے ہوٹلوں، ہوم اسٹے، ریستورانوں، ٹیکسی خدمات، گائیڈز، ثقافتی اداروں اور مقامی بازاروں کو تقویت مل رہی ہے۔ قابلِ اعتماد ریلوے رابطہ میزورم کی تعلیمی، کھیلوں، ثقافتی اور سرکاری تقریبات کی میزبانی کرنے اور ان میں قومی سطح پر زیادہ سے زیادہ شرکت کو یقینی بنانے کی صلاحیت کو بھی مضبوط کر رہا ہے۔

میزورم کے طلبا کے لیے ریلوے رابطے نے ریاست سے باہر واقع یونیورسٹیوں، پیشہ ورانہ اداروں، کوچنگ مراکز، امتحانی مراکز اور تعلیمی تقریبات تک رسائی کو آسان بنا دیا ہے۔

مقامی کاروبار: میزو ہاتھوں سے قومی بازاروں تک

ریلوے میزورم کی ہینڈلوم، بانس، چھڑی اور دستکاری کی روایات کو بڑے بازاروں تک پہنچانے اور انہیں فروغ دینے میں بھی مدد کر رہی ہے۔ سائرنگ سے پارسل کی پہلی کھیپ 19 ستمبر 2025 کو بک کی گئی تھی، جس کے ذریعے سائرنگ-آنند وہار راجدھانی ایکسپریس کی پارسل وین سے انتھوریم کے پھول دہلی بھیجے گئے۔ اس چھوٹی سی کھیپ نے ایک بڑا پیغام دیا: اعلی قدر کی حامل  مقامی مصنوعات میزورم سے ہی ملک بھر کی منڈیوں تک اپنا سفر شروع کر سکتی ہیں۔

(انتھوریم کے پھولوں کی پہلی پارسل کھیپ سائرنگ سے دہلی کے لیے بک کی گئی۔)

(پارسل کی سہولت نے نازک اور فوری ترسیل کی متقاضی مقامی پیداوارکے لیے براہِ راست ترسیلی راستہ فراہم کیا۔)

ایک سال اور اس کے بعد: تنہائی سے نئے امکانات تک

صرف ایک سال میں بیرابی-سائرنگ ریلوے لائن نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ ایک تصور کو حقیقت میں تبدیل کرنے کے دور رس اثرات کیا ہو سکتے ہیں۔ اس کا اثر بیک وقت کئی شعبوں میں نظر آتا ہے۔ مسافروں کو بڑے شہروں تک براہِ راست رسائی حاصل ہوئی ہے۔ طلبا کے لیے اپنے تعلیمی اداروں اور امتحانات تک پہنچنے کا زیادہ عملی راستہ دستیاب ہے۔ سیاحوں کے لیے ایک سستا داخلی راستہ موجود ہے۔ تاجروں کو بڑی مقدار میں کھیپیں منڈیوں کے قریب پہنچانے کی سہولت حاصل ہوئی ہے۔ تعمیراتی سامان اور غذائی اشیا کی ترسیل زیادہ گنجائش کے ساتھ ہو رہی ہے۔ اور پھول، دستکاری اور دیگر مقامی مصنوعات ملک بھر کے صارفین تک پہنچنے کے نئے راستے تلاش کر رہی ہیں۔

سائرنگ کی حقیقی اہمیت ان امکانات میں مضمر ہے جو اس نے پیدا کیے ہیں۔ دشوار گزار پہاڑی خطوں سے گزرتی اس ریلوے لائن نے فاصلے کم کیے ہیں، انتخاب کے مواقع بڑھائے ہیں اور میزورم کو ایک نئی لاجسٹک شناخت دی ہے۔ اس نے نقل و حرکت کو وقار کے ساتھ، بنیادی ڈھانچے کو کاروبار کے ساتھ اور رابطے کو مواقع کے ساتھ جوڑ دیا ہے۔

(سائرنگ-آنند وہار ٹرمینل راجدھانی ایکسپریس میزورم کو قومی دارالحکومت کے ساتھ براہِ راست پریمیم ریلوے رابطہ فراہم کرتی ہے۔)

(سائرنگ ریلوے پل کے ستون 114 میٹر اونچے ہیں، جو دہلی کے قطب مینار سے 42 میٹر زیادہ بلند ہیں۔)

***

(ش ح۔اس ک  )

UR-3370


(ریلیز آئی ڈی: 2309741) وزیٹر کاؤنٹر : 7