صحت اور خاندانی بہبود کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

مرکزی وزیر صحت جناب جے پی نڈا نے آندھرا پردیش میں کریٹیکل کیئر بلاکس اور انٹیگریٹڈ پبلک ہیلتھ لیباریٹریز  کا کیا افتتاح

کریٹیکل کیئر بلاکس اور انٹیگریٹڈ پبلک ہیلتھ لیبارٹریز مریض کے شدید بیمار ہونے پر جان بچانے کی صلاحیت کی نمائندگی کرتی ہیں  اور صحت عامہ کی بڑی ہنگامی صورتحال بننے سے پہلے بیماری کے خطرات کا پتہ لگانے اور ان کا جواب دینے کی صلاحیت رکھتی ہیں : جناب  نڈا

’’پی ایم – ابھیم کا تصور صحت کے نظام کی اس صلاحیت کو مضبوط بنانے کے مقصد کے ساتھ کیا گیا تھا کہ وہ مستقبل کی وباؤں اور عوامی صحت کی ہنگامی صورتحال کا جواب دے سکے جبکہ معمول کی صحت کی دیکھ بھال کے تسلسل کو یقینی بنایا جا سکے‘‘

’’پی ایم – ابھیم  کے تحت  حکومت ہند نے ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں 631 کریٹیکل کیئر بلاکس کی منظوری دی ہے، جس سے کریٹیکل کیئر کی صلاحیت کا ایک ملک گیر نیٹ ورک قائم ہوا ہے‘‘

’’پہلے توجہ کا مرکز بڑے پیمانے پر احتیاطی حفظان صحت  پر تھا، جبکہ 2017 سے اب تک کا نقطہ نظر احتیاطی ،  بنیادی، ثانوی اور تیسرے درجے کی  صحت کی دیکھ بھال کے درمیان ایک مضبوط ربط پیدا کرنا رہا ہے ‘‘

جناب نڈا نے آندھرا پردیش کے 'سنجیونی' پروگرام کی تعریف کی جو صحت کی دیکھ بھال کوعوام  کی دہلیز تک پہنچا رہا  ہے اور صحت کے 41 پیرامیٹرز کے لیے ٹیسٹنگ کی سہولت فراہم کر رہا ہے

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 12 SEP 2026 2:52PM by PIB Delhi

مرکزی وزیر برائے صحت و خاندانی بہبود  جناب جگت پرکاش نڈا نے آج آندھرا پردیش کے وزیر اعلیٰ جناب این چندرابابو نائیڈو اور حکومت آندھرا پردیش کے وزیر برائے صحت، خاندانی بہبود و طبی تعلیم جناب ستیہ  کمار یادو، ارکان پارلیمنٹ، ارکان قانون ساز اسمبلی و قانون ساز کونسل، سینئر افسران، ڈاکٹروں اور صحت کی دیکھ بھال کے پیشہ ور افراد کی موجودگی میں آندھرا پردیش میں 10 کریٹیکل کیئر بلاکس ( سی سی بی)  اور 12 انٹیگریٹڈ پبلک ہیلتھ لیباریٹریز ( آئی پی ایچ ایل) کا افتتاح کیا۔

آج افتتاح کیے جانے والے 10 کریٹیکل کیئر بلاکس جی ایم سی کڈپا، اے سی ایس آر جی ایم سی نیلور، جی ایم سی سریکاکولم، اے ایم سی وشاکھاپٹنم، جی ایم سی اونگول، ڈسٹرکٹ ہسپتال اناکاپلی، جی ایم سی راجامہیندرورم، کے ایم سی کرنول، ڈسٹرکٹ ہسپتال ہند پور اور ایس ایم سی وجئے واڑہ میں واقع ہیں، جبکہ 12 انٹیگریٹڈ پبلک ہیلتھ لیباریٹریز  ایریا ہسپتال سیتھامپیٹا، ایریا ہسپتال گنتکل، ایریا ہسپتال پالامانیر، ایریا ہسپتال اگنامپوڈی، ایریا ہسپتال نندیگاما، ایریا ہسپتال چیرالا، ایریا ہسپتال اراکو، ایریا ہسپتال نرسا راؤ پیٹا، ایریا ہسپتال بناگاناپلی، ایریا ہسپتال اناپارتھی، ایریا ہسپتال تونی اور ایریا ہسپتال گوڈور میں واقع ہیں۔ جناب نڈا نے کہا کہ یہ سہولیات آندھرا پردیش اور ملک بھر میں عوامی صحت کی تیاریوں اور صحت   تحفظ کے ڈھانچے کو مضبوط بنانے کی جانب ایک اہم قدم ہیں۔

اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے جناب نڈا نے کہا کہ یہ افتتاح ’’ صرف انفراسٹرکچر کا افتتاح نہیں ہے، بلکہ آندھرا پردیش اور ملک کے لیے صحت   تحفظ کا ایک مضبوط ڈھانچہ تیار کرنے کی جانب ایک اہم قدم ہے‘‘۔  انہوں نے کہا کہ کریٹیکل کیئر بلاکس اور انٹیگریٹڈ پبلک ہیلتھ لیباریٹریز  صحت کے ایک لچکدار نظام کے دو ضروری پہلوؤں کی نمائندگی کرتی ہیں: ’’ مریض کے شدید بیمار ہونے کی صورت میں جان بچانے کی صلاحیت  اور بیماری کے خطرات کاپتہ  لگانے اور عوامی صحت کی بڑی ہنگامی صورتحال بننے سے پہلے ان کا جواب دینے کی صلاحیت‘‘۔

کووڈ-19 کی وبا کے سبق  کو یاد کرتے ہوئے  مرکزی وزیر صحت نے کہا کہ اس بحران نے یہ دکھایا کہ کس طرح صحت کی ایک ہنگامی صورتحال تیزی سے معاشی، سماجی، روزگار اور بالآخر ایک قومی ہنگامی صورتحال میں تبدیل ہو سکتی ہے۔ جناب نڈا نے کہا، ’’ کووڈ-19 نے ہمیں سکھایا کہ صحت کا تحفظ ہی قومی تحفظ ہے‘‘۔  اس وبا نے اس بات کو یقینی بنانے کی ضرورت پر بھی روشنی ڈالی کہ صحت کا انفراسٹرکچر معمول کی حفظان صحت  کی خدمات میں خلل ڈالے بغیر ہنگامی حالات کا مقابلہ کر سکے۔

وزیر موصوف نے کہا  کہ وبا کے دوران اسپتال کے مستقل  انفراسٹرکچر کو آئیسولیشن  اور کووڈ-کیئر کی سہولیات میں تبدیل کرنا پڑا تھا، جس سے کووڈ کے علاوہ دیگر کئی ضروری صحت کی خدمات کی فراہمی متاثر ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ 'پردھان منتری آیوشمان بھارت ہیلتھ انفراسٹرکچر مشن‘ ( پی ایم ابھیم) کا تصور اسی پس منظر میں کیا گیا تھا، جس کا مقصد صحت کے نظام کی اس صلاحیت کو مضبوط بنانا ہے کہ وہ مستقبل کی وباؤں اور عوامی صحت کی ہنگامی صورتحال کا جواب دے سکے اور ساتھ ہی معمول کی صحت کی دیکھ بھال کے تسلسل کو بھی یقینی بنا سکے۔

جناب نڈا نے کہا، ’’ ہم اب ہسپتالوں کے بارے میں صرف بستروں کی تعداد کے لحاظ سے نہیں سوچ سکتے‘‘۔  انہوں نے مزید کہا کہ "ایک لچکدار صحت کے نظام میں معمول کی صحت کی خدمات کو برقرار رکھتے ہوئے کریٹیکل کیئر کی صلاحیت، آکسیجن اور میڈیکل گیس کے نظام، آئیسولیشن کی سہولیات، تربیت یافتہ افرادی قوت، لیبارٹری کی صلاحیت اور وبا کا جلد پتہ لگانے کی صلاحیت ہونی چاہیے‘‘۔

مرکزی وزیر نے کہا کہ پی ایم ابھیم  عوامی صحت کے انفراسٹرکچر کے تئیں بھارت کے نقطہ نظر میں ایک بنیادی تبدیلی کی نمائندگی کرتا ہے۔ انہوں نے کہا، ’’مقصد محض مزید سہولیات تعمیر کرنا نہیں ہے۔ بلکہ ایک ایسا صحت کا نظام بنانا ہے جو: تیار، باہم مربوط، لچکدار اور مستقبل کی صحت کی ہنگامی صورتحال کا جواب دینے کے قابل ہو‘‘۔

پی ایم ابھیم کے تحت  حکومت ہند نے ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں 631 کریٹیکل کیئر بلاکس کی منظوری دی ہے، جس سے کریٹیکل کیئر کی صلاحیت کا ایک ملک گیر نیٹ ورک قائم ہوا ہے۔ آندھرا پردیش کے لیے حکومت ہند نے پانچ سالہ اسکیم کی مدت کے لیے چار اہم اجزاء — کریٹیکل کیئر بلاکس، انٹیگریٹڈ پبلک ہیلتھ لیبارٹریز، اربن آیوشمان آروگیہ مندر اور رورل آیوشمان آروگیہ مندر  کے تحت 1,271.80 کروڑ روپے کی منظوری دی ہے۔ جناب نڈا نے کہا کہ یہ کمیونٹی کی سطح سے لے کر ضلعی اور  تیسرے درجے  کی سہولیات تک صحت کی دیکھ بھال کو مضبوط بنانے  سے متعلق  حکومت کے جامع نقطہ نظر کی عکاسی کرتا ہے۔

 آندھرا پردیش میں پی ایم ابھیم کے تحت  تقریباً 606 کروڑ روپے کی تخمینہ لاگت سے 24 کریٹیکل کیئر بلاکس کی منظوری دی گئی ہے۔ ان کی منصوبہ بندی سرکاری میڈیکل کالجوں، ضلعی ہسپتالوں اور ایریا ہسپتالوں میں کی گئی ہے۔ جدید دیکھ بھال تک بروقت رسائی کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے جناب نڈا نے کہا، "کریٹیکل کیئر کی سہولت کمیونٹی کے قریب دستیاب ہونی چاہیے۔"

جناب نڈا نے کہا کہ جہاں کریٹیکل کیئر بلاکس سنگین طور پر  بیمار مریضوں کے علاج کے لیے صحت کے نظام کی صلاحیت کو مضبوط بناتے ہیں، وہیں انٹیگریٹڈ پبلک ہیلتھ لیبارٹریاں بیماری کو سمجھنے، اس کا پتہ لگانے اور اس پر قابو پانے کی صلاحیت کو تقویت دیتی ہیں۔پی ایم ابھیم کے تحت آندھرا پردیش کے لیے 32.50 کروڑ روپے کی لاگت سے 26 انٹیگریٹڈ پبلک ہیلتھ لیبارٹریوں کی منظوری دی گئی ہے۔ ان تمام 26  آئی پی ایچ ایل  کا  سول ورک  مکمل ہو چکا ہے؛ جن میں سے 14 پہلے ہی فعال ہیں اور بقیہ 12 افتتاح کے لیے تیار ہیں۔

جناب نڈا نے کہا، ’’ کووڈ-19 سے ملا سبق بالکل واضح تھا: اگر ہم کسی صحت کی ہنگامی صورتحال کا بروقت پتہ نہیں لگا سکتے، تو ہم اس کا مؤثر طریقے سے مقابلہ نہیں کر سکتے۔ ’’ انہوں نے لیبارٹری کی صلاحیت کو محض ایک تشخیصی سروس سے بڑھ کر قرار دیتے ہوئے اسے ’’ قومی صحت کے تحفظ کا ایک جزو‘‘ بتایا ۔

مرکزی وزیر نے کہا کہ پی ایم ابھیم کے تحت حکومت کا وژن صرف تیسرے درجے  کے ہسپتالوں تک محدود نہیں ہے بلکہ اس میں صحت کی دیکھ بھال کے تمام درجات شامل ہیں۔  زمینی  سطح پر، آیوشمان آروگیہ مندر جامع بنیادی صحت کی دیکھ بھال کو کمیونٹیز کے قریب لاتے ہیں۔ مضبوط بنائے گئے پی ایچ سی اور سی ایچ سی  ریفرل اور ثانوی دیکھ بھال فراہم کرتے ہیں، جبکہ کریٹیکل کیئر بلاکس ضلعی سطح پر جدید ترین ہنگامی اور انتہائی نگہداشت فراہم کرتے ہیں اور انٹیگریٹڈ پبلک ہیلتھ لیبارٹریاں تشخیصی اور نگرانی کی صلاحیت فراہم کرتی ہیں۔

جناب نڈا نے کہا کہ بھارت کے صحت کے شعبے میں اس تبدیلی کو نیشنل ہیلتھ پالیسی 2017 کے تناظر میں دیکھا جانا چاہیے، جس نے صحت کی دیکھ بھال کے لیے  احتیاطی ، ترقی پسند اور جامع نقطہ نظر کی طرف ایک اہم تبدیلی کی راہ ہموار کی تھی۔ انہوں نے کہا کہ 2017 سے پہلے توجہ کا مرکز بڑے پیمانے پر احتیاطی صحت  کی دیکھ بھال پر تھا، جبکہ اس کے بعد کا نقطہ نظر  احتیاطی ، بنیادی، ثانوی اور تیسرے درجے  کی صحت کی دیکھ بھال کے درمیان ایک مضبوط ربط پیدا کرنا رہا ہے۔ انہوں نے کہا، "ہم نے احتیاطی ، ثانوی اور تیسرے  درجے کی صحت کی دیکھ بھال کے درمیان ایک مضبوط ربط پیدا کرنے کی کوشش کی ہے تاکہ صحت کی دیکھ بھال جامع اور عوام دوست بن سکے۔"

جناب نڈا نے بتایا کہ ملک بھر میں 1.75 لاکھ سے زیادہ آیوشمان آروگیہ مندر قائم کیے جا چکے ہیں، جو جامع بنیادی صحت کی دیکھ بھال کو لوگوں کی دہلیز تک  پہنچاتے  ہیں۔ یہ مراکز ذیابیطس اور ہائپر ٹینشن  کی اسکریننگ  ، زچگی سے پہلے کے چیک اپ،  ٹیکہ کاری اور دیگر احتیاطی   صحت کو فروغ دینے والی خدمات سمیت کئی طرح کی سہولیات فراہم کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ 42 کروڑ سے زیادہ لوگوں کی ذیابیطس اور ہائپر ٹینشن  کے لیے، 36 کروڑ سے زیادہ کی منہ کے کینسر کے لیے، 17 کروڑ سے زیادہ خواتین کی چھاتی کے کینسر کے لیے اور 9 کروڑ سے زیادہ خواتین کے  سروائیکل  کینسر کے لیے اسکریننگ کی جا چکی ہے۔

مرکزی وزیر صحت نے ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کے ذریعے بھارت کے ٹیکہ کاری  پروگرام کو مضبوط بنانے پر بھی روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ پیدائش سے لے کر 16 سال کی عمر تک 12 ویکسین لگائی جاتی ہیں  اور ٹیکہ کاری  کے ریکارڈ کو 'یو-وِن' کے ذریعے ڈیجیٹل طور پر ٹریک کیا جا رہا ہے۔ یہ پلیٹ فارم ٹیکہ کاری  کی ڈیجیٹل ریکارڈنگ کو ممکن بناتا ہے اور اس بات کو یقینی بنانے میں مدد کرتا ہے کہ بچوں اور حاملہ خواتین کو ان کی مطلوبہ ویکسین وقت پر ملیں۔ جناب نڈا نے ٹیکہ کاری میں آندھرا پردیش کی بہترین کارکردگی کی تعریف کی اور کہا کہ ریاست نے 'مشن اندر دھنش' کے تحت بہت اچھا کام کیا ہے، جو کہ اعلیٰ  ٹیکہ کاری   کوریج کو یقینی بنانے سے متعلق  اس کے عزم کا ثبوت ہے۔

بھارت کے نظام صحت  میں تبدیلی کے وسیع تر نتائج پر روشنی ڈالتے ہوئے  جناب نڈا نے کہا کہ 24-2023 میں ادارہ جاتی زچگی   کی شرح 90 فیصد سے زیادہ ہو چکی ہے۔ انہوں نے کہا  کہ 48 فیصد کی عالمی گراوٹ  کے مقابلے میں بھارت میں زچگی کی شرح اموات  میں 86 فیصد کمی آئی ہے، جبکہ پانچ سال سے کم عمر بچوں کی اموات میں 61 فیصد کی عالمی گراوٹ  کے مقابلے میں 79 فیصد کمی  درج  کی گئی ہے۔ نوزائیدہ بچوں کی اموات میں 54 فیصد کی عالمی گراوٹ  کے مقابلے میں 70 فیصد کمی آئی ہے۔ انہوں نے مزید کہا  کہ ڈبلیو ایچ او کی 2025 کی رپورٹ کے مطابق، 12 فیصد کی عالمی  گراوٹ کے مقابلے میں بھارت میں ٹی بی  کے معاملات میں 25 فیصد کمی آئی ہے، جبکہ ٹی بی کے علاج کی کوریج 90 فیصد سے تجاوز کر گئی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ملک کے ہیلتھ انفراسٹرکچر میں نمایاں توسیع ہوئی ہے، جہاں محض 12 سال کے عرصے میں 16 نئے ایمس قائم کیے گئے ہیں، جس سے ملک میں ایمس  کی کل تعداد 23 ہو گئی ہے۔

وزیر موصوف  نے آندھرا پردیش کے 'سنجیونی' پروگرام کی بھی ستائش  کی جو صحت کی دیکھ بھال کو لوگوں کی دہلیز تک پہنچا رہا  ہے اور صحت کے 41 پیرامیٹرز کے لیے ٹیسٹنگ کی سہولت فراہم کر رہا ہے۔ انہوں نے اسکریننگ اور ہیلتھ کیئر سروسز کو کمیونٹیز کے قریب لانے کے لیے ریاست کے اختراعی نقطہ نظر کو سراہا اور کہا کہ اس طرح کے اقدامات بنیادی صحت کی دیکھ بھال کو مضبوط بنانے کے لیے قیمتی ماڈل فراہم کرتے ہیں۔ انہوں نے قومی سطح پر سنجیونی ماڈل کو اپنانے یا دہرانے کے امکانات کا جائزہ لینے میں دلچسپی کا اظہار کیا۔

مرکزی وزیر صحت نے پی ایم ابھیم  پروجیکٹوں کو آگے بڑھانے میں حکومت آندھرا پردیش کی قیادت اور اس کے محکمہ صحت، عہدیداروں اور صحت کی دیکھ بھال کے پیشہ ور افراد کی کوششوں کو سراہا۔ انہوں نے ڈاکٹروں، نرسوں، پیرامیڈیکل اسٹاف، لیبارٹری ٹیکنیشنز، ایمرجنسی نگہداشت کی  ٹیموں، آشا کارکنوں، اے این ایم  اور صف اول کے ہیلتھ ورکرز کی کوششوں کی بھی تعریف کی۔ جناب نڈا نے کہا، "انفراسٹرکچر صلاحیت پیدا کر سکتا ہے۔ ٹیکنالوجی رابطے  قائم کر سکتی ہے۔ لیبارٹریاں تشخیصی صلاحیت پیدا کر سکتی ہیں۔ لیکن بالآخر، انسان ہی انسانوں تک صحت کی دیکھ بھال پہنچاتے ہیں۔

جناب نڈا نے کہا کہ بھارت کی صحت میں تبدیلی میں آندھرا پردیش کو ایک اہم کردار ادا کرنا ہے اور ریاست سے ابھرنے   والے تجربات اور بہترین طور طریقے عوامی صحت کو مضبوط بنانے کی وسیع تر قومی کوششوں میں اپنا تعاون دے سکتے ہیں۔

پس منظر:

حکومت ہند نے 'پردھان منتری آیوشمان بھارت ہیلتھ انفراسٹرکچر مشن ( پی ایم ابھیم  ) کے تحت آندھرا پردیش کی ریاست کے لیے 647.51 کروڑ روپے کی تخمینہ رقم سے کل 24 کریٹیکل کیئر بلاکس  اور 26 انٹیگریٹڈ پبلک ہیلتھ لیبارٹریز کی منظوری دی تھی۔

کریٹیکل کیئر بلاکس کی منظوری کریٹیکل ہیلتھ کیئر انفراسٹرکچر کو مضبوط بنانے اور سنگین طور پر  بیمار مریضوں کے لیے جدید علاج تک بروقت رسائی کو یقینی بنانے کے لیے دی گئی تھی، خاص طور پر وباؤں، آفات اور عوامی صحت کی دیگر ہنگامی صورتحال کے دوران۔ اس اقدام کا مقصد ضلعی ہسپتالوں میں جدید ترین آلات سے لیس کریٹیکل کیئر کی سہولیات قائم کر کے انتہائی نگہداشت کی خدمات کے خلا کو پر کرنا، ہنگامی تیاریوں کو بہتر بنانا، اموات کی شرح کو کم کرنا  اور عوامی حفظان صحت  کے نظام کی مجموعی لچک اور صلاحیت کو بڑھانا ہے۔

انٹیگریٹڈ پبلک ہیلتھ لیبارٹریوں کی منظوری ملک بھر میں بیماریوں کی نگرانی کو مضبوط بنانے، تشخیصی صلاحیتوں کو بڑھانے اور عوامی صحت کے ردعمل کو بہتر بنانے کے لیے دی گئی تھی۔ ان لیبارٹریوں کا مقصد ضلعی سطح پر متعدی اور غیر متعدی بیماریوں کے لیے جامع اور بروقت جانچ فراہم کرنا ہے، جس سے وباؤں کا جلد پتہ لگانے، عوامی صحت کے خطرات کی بہتر نگرانی  اور شواہد پر مبنی فیصلہ سازی کو ممکن بنایا جا سکے۔

10 سی سی بیز کا سول ورک  مکمل ہو چکا ہے اور آج ان کا افتتاح کیا گیا۔ 26 آئی پی ایچ ایل کا سول ورک  مکمل ہو چکا ہے جن میں سے 14 آئی پی ایچ ایل  کو پہلے ہی فعال کر دیا گیا تھا اور باقی 12 آئی پی ایچ ایل  کا افتتاح آج مرکزی وزیر صحت جناب جے پی نڈا نے کیا۔

آج افتتاح کی جانے والی تمام 22 سہولیات کی تفصیلات درج ذیل ہیں:

 

(ش ح- ن  ا)

U.N:3345

 

 

 


(ریلیز آئی ڈی: 2309500) وزیٹر کاؤنٹر : 15