وزیراعظم کا دفتر
اٹھارہویں برکس سربراہ اجلاس کے دوران وزیر اعظم کے افتتاحی خطاب کا متن: سب کے شمولیت والی عالمی حکمرانی اور استحکام
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
12 SEP 2026 4:08PM by PIB Delhi
عالی جناب ،
معززین ،
نمسکار !
بھارت میں آپ سب کا خیرمقدم اور استقبال کرتے ہوئے مجھے بے حد خوشی ہو رہی ہے۔
بھارت کی برکس صدارت ، عوام پر مرکوز اور انسانیت کو اولیت دینے کے نقطۂ نظر پر مبنی ہے۔ پائیداری ، اختراع، اشتراک اور مضبوطی ہماری ترجیحات رہی ہیں۔ ان ترجیحات کے ساتھ ہم نے برکس اشتراک کو عام لوگوں سے جوڑنے پر خصوصی زور دیا ہے۔
اسی سوچ کے ساتھ ساڑھے تین سو سے زیادہ اجلاس منعقد کیے گئے۔ تقریباً تیس شہروں میں آپ کی ٹیموں کا استقبال کرنے کا ہمیں موقع ملا۔ بھارت کی برکس صدارت کو کامیاب بنانے میں فعال تعاون اور حمایت کے لیے میں آپ سب کا تہہ دل سے شکریہ ادا کرتا ہوں۔
دوستو،
اس سال کی برکس سربراہ کانفرنس ایک تاریخی سنگِ میل ہے۔ ہم برکس کی بیسویں سالگرہ منا رہے ہیں۔ انسانی زندگی میں بیس سال کی عمر پختگی اور ذمہ داری کے ایک نئے مرحلے کے آغاز کی علامت ہوتی ہے۔ یہ وہ مرحلہ ہوتا ہے ، جب خوابوں کے ساتھ ذمہ داریاں جڑتی ہیں اور صلاحیتوں کو ایک نئی سمت ملتی ہے۔
آج برکس بھی اپنی بلوغت کے مرحلے میں داخل ہونے کے موقع پر ہے۔ گزشتہ بیس برسوں میں ، برکس نے عالمی سطح پر اپنی ایک منفرد شناخت قائم کی ہے۔ ہم ایک دوسرے کے نقطۂ نظر کا احترام کرتے ہیں اور اتفاقِ رائے کے ذریعے آگے بڑھتے ہیں۔ ہم کسی کے خلاف نہیں بلکہ سب کو ساتھ لے کر چلنے کی سوچ کے ساتھ آگے بڑھنے کی کوشش کرتے ہیں۔
اب وقت آ گیا ہے کہ برکس میں اپنے اتحاد اور اتفاقِ رائے کو عالمی سطح پر ٹھوس نتائج میں تبدیل کریں۔ اگلے بیس برسوں کے لیے ہمیں ایک نئے اور پُرعزم ایجنڈے پر کام کرنا ہوگا۔ اس کی شروعات ہمیں اپنے ہی کام کرنے کے نظام سے کرنی ہوگی۔
برکس کی صدارت ہر سال تبدیل ہوتی ہے لیکن اس کی وجہ سے ہماری ادارہ جاتی پیش رفت رکنی نہیں چاہیے۔ میں ، برکس تسلسل اور نفاذ کا طریقۂ کار تجویز کرتا ہوں۔ اس کے تحت ٹروئیکا کے ذریعے تمام اقدامات اور نتائج کی پیروی کی جا سکے گی۔
ہم ڈیجیٹل ریکارڈ رکھنے کا ایک محفوظ مرکز قائم کر سکتے ہیں۔ اس میں ہر فیصلے کے ساتھ متعلقہ ذمہ دار فرد یا ادارہ، وقت کی حد اور نفاذ کی صورتِ حال درج کی جا سکتی ہے۔
دوستو،
برکس کو مضبوط کرتے ہوئے ، ہمیں عالمی اصلاحات کی سمت بھی طے کرنی ہوگی۔ عالمی حکمرانی کا موجودہ ڈھانچہ ایک اہرام کی مانند دکھائی دیتا ہے۔ اس کے بالائی حصے میں طاقت اور فیصلہ سازی مرکوز ہے، جب کہ نچلے حصے میں وہ ممالک ہیں ، جو ان فیصلوں سے متاثر تو ہوتے ہیں، لیکن انہیں تشکیل دینے کی صلاحیت نہیں رکھتے۔
آج عالمی جنوب ، عالمی بحرانوں کی صفِ اوّل میں ہے، لیکن فیصلہ سازی کی صفِ آخر میں۔ ہمیں اس ’’مراعات کے اہرام ‘‘ کو ’’ شراکت داری کے پلیٹ فارم‘‘ میں تبدیل کرنا ہے، جہاں ہر ملک کی آواز ہو، ہر رکن کا مفاد وابستہ ہو اور ہر کوشش کے مرکز میں انسانیت کی ترقی ہو۔
اسی مقصد کے تحت ، میں تجویز پیش کرتا ہوں کہ ہم مل کر عالمی حکمرانی میں اصلاحات کے دس نکات تیار کریں، جنہیں ہم اگلی سربراہ کانفرنس تک برکس اصلاحاتی نقشہ ٔ راہ کی شکل دینے کی کوشش کر سکتے ہیں۔
اس نقشۂ راہ کو تیار کرتے وقت ہمیں تین اہم پہلوؤں—نمائندگی ، جواب دہی اور ضابطے وضع کرنے کو مدِنظر رکھنا ہوگا۔
پہلا، نمائندگی کے حوالے سے میں کہنا چاہوں گا کہ اقوام ِمتحدہ کی سلامتی کونسل میں اصلاحات کو اب مزید ٹالا نہیں جا سکتا۔ اس معاملے میں متن پر مبنی مذاکرات کو ایک مقررہ مدت اور واضح نتائج سے جوڑنا ہوگا۔
اسی طرح مالیاتی اداروں میں ووٹ دینے کی طاقت، قیادت کے عہدے اور پالیسی ترجیحات آج کی اقتصادی حقیقتوں کے مطابق ہونی چاہئیں ۔ جو ممالک عالمی اقتصادی ترقی کو رفتار دیتے ہیں، انہیں عالمی اقتصادی حکمرانی کی سمت طے کرنے میں بھی مناسب کردار ملنا چاہیے۔
دوسرا، صورتِ حال کے لحاظ سے کارروائی کی صلاحیت ۔ عالمی اداروں پر انسانیت کا اعتماد اسی وقت قائم ہوگا ، جب وہ مسائل کا مؤثر حل پیش کرنے کی صلاحیت رکھتے ہوں۔ ہمیں اجتماعی ردِعمل کی رفتار، دائرۂ کار اور آخری سطح تک اس کے اثرات پر توجہ دینی ہوگی۔
سمندری جہازوں کے عملے کا عالمی تجارت میں بہت بڑا تعاون ہے، لیکن اکثر مشکل وقت میں انہیں مدد کی کمی محسوس ہوتی ہے۔ میری تجویز ہے کہ کیا ہم سمندری جہازوں کے عملے کے لیے ہنگامی امدادی نیٹ ورک قائم کر سکتے ہیں؟ اس کے ذریعے متعلقہ ممالک کی بحری حکام اور مشنوں کو آپس میں جوڑا جائے گا۔ اس سے ہنگامی پیغامات، طبی امداد، کنبوں کو اطلاع دینے اور محفوظ طور پر نکالے جانے میں تعاون کیا جا سکتا ہے۔
اور تیسرا، میں ضابطہ سازی کے حوالے سے کہنا چاہوں گا۔ مستقبل کے عالمی قوانین طے کرنے میں مساوی شراکت داری کو یقینی بنانا انتہائی اہم ہے۔
اے آئی ، سائبر اسپیس، خلائی شعبہ، بایو ٹیکنالوجی اور اہم ٹیکنالوجیز مستقبل کے مواقع کے ساتھ ساتھ مستقبل کے ضابطے بھی طے کر رہی ہیں۔
ہمیں عالمی جنوب کو ضابطوں پر عمل کرنے والے سے ، ضابطے تشکیل دینے والے کے مقام تک پہنچانے کے لیے کوششیں کرنی ہوں گی۔ برکس کے ذریعے ہم عالمی جنوب کے ممالک کے نوجوان سفارت کاروں اور پالیسی سازوں کو مذاکرات کی مہارت، عملی تربیت اور قانونی ماہرین کی رہنمائی فراہم کر سکتے ہیں۔
یہ ایک خوشگوار اتفاق ہے کہ آج جنوب-جنوب تعاون کے لیے اقوام متحدہ کا دن ہے۔ عالمی جنوب کے لیے وقف اس دن پر ایسا فیصلہ کیا جانا خصوصی اہمیت کا حامل ہے۔ بھارت اس معاملے میں قیادت کرنے کے لیے تیار ہے۔
دوستو،
بھارت میں منعقد ہونے والی اس برکس سربراہ کانفرنس کا پیغام واضح ہونا چاہیے: اگر ہمارا مستقبل مشترک ہے تو اس کی تعمیر کا حق بھی مشترک ہونا چاہیے۔
آواز سے اثر تک۔ مراعات سے شراکت داری تک۔
یہی 20 سالہ برکس کا عزم ہونا چاہیے۔
بہت بہت شکریہ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔ ۔۔ ۔۔۔۔ ۔
( ش ح ۔ ا ع خ ۔ ر ا )
U.No. 3346
(ریلیز آئی ڈی: 2309480)
وزیٹر کاؤنٹر : 14