ارضیاتی سائنس کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

ہندوستان کی ساحلی پٹی کو ماحولیات، سلامتی، معیشت، ٹیکنالوجی اور انسانی ترقی کے ایک مربوط شعبے کے طور پر دیکھنا ضروری: ڈاکٹر جتیندر سنگھ


ساحلی ماحولیات اور سلامتی کو الگ الگ نہیں دیکھا جا سکتا؛ ساحلی ہندوستان کے لیے جامع نقطۂ نظر اپنانے کی ضرورت ہے: ڈاکٹر جتیندر سنگھ

ہندوستان کی 11,000 سے 12,000 کلومیٹر طویل ساحلی پٹی سمندری وسائل اور ’بلیو اکانومی‘ کے لیے نمایاں امکانات فراہم کرتی ہے

سمندری مشاہدہ، نگرانی، مواصلات، ریموٹ سینسنگ اور ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز ساحلی سلامتی کو مزید مضبوط بنا سکتی ہیں

دیپ اوشن مشن اور مقامی طور پر تیار کردہ ٹیکنالوجیز سمندری وسائل کی تلاش کے لیے نئے امکانات کے دروازے کھول رہی ہیں: ڈاکٹر جتیندر سنگھ

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 11 SEP 2026 3:49PM by PIB Delhi

ہندوستان کی ساحلی پٹی کو ماحولیات، سلامتی، معیشت، ٹیکنالوجی اور انسانی ترقی کے باہمی مربوط شعبے کے طور پر دیکھا جانا چاہیے۔ سائنس و ٹیکنالوجی اور ارضیاتی علوم کے مرکزی وزیر مملکت(آزادانہ چارج) اور پی ایم او، عملہ، عوامی شکایات، پنشن، جوہری توانائی اور خلاء کے وزیر مملکت ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے

ساحلی ماحولیات، سلامتی اور پائیداری سے متعلق قومی کانفرنس( سی سی ای ایس ایس) ۔2026سے ورچوئل خطاب کرتے ہوئے یہ بات کہی۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہندوستان کی 11,000 سے 12,000 کلومیٹر طویل ساحلی پٹی سمندری وسائل اور ’’بلیو اکانومی‘‘ کے لیے نمایاں امکانات رکھتی ہے۔

وزیر موصوف نے کہا کہ ملک کی طویل ساحلی پٹی اور وسیع سمندری ماحولیاتی نظام اہم مواقع فراہم کرتے ہیں،مگر اس کے لیے ایک مربوط حکمت عملی کی بھی ضرورت ہے، جس میں سائنسی علم، ماحولیاتی پائیداری، سلامتی اور اقتصادی ترقی کو یکجا کیا جائے۔

ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا کہ ہندوستان کے پاس 11,000 سے 12,000 کلومیٹر طویل ساحلی علاقہ ہے، جو دنیا کے طویل ترین ساحلی علاقوں میں شمار ہوتا ہے۔ انہوں نے ملک کی مستقبل کی ترقی میں سمندر اور ساحلی خطوں کی اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان کا سمندر کے ساتھ تاریخی تعلق اس بات کی بھی عکاسی کرتا ہے کہ ہمارے آباؤ اجداد سمندری ماحول کے بارے میں علم اور گہری سمجھ رکھتے تھے۔

ڈیپ اوشن مشن کی اہمیتکا ذکر کرتے ہوئے وزیر موصوف نے کہا کہ ہندوستان گہرے سمندر کے بڑے پیمانے پر غیر دریافت شدہ وسائل کی تلاش کی سمت میں آگے بڑھ رہا ہے، ساتھ ہی مقامی سطح پر صلاحیتیں بھی تیار کر رہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ حال ہی میں مکمل طور پر مقامی ٹیکنالوجی سے تیار کردہ تحقیقی جہازاو آر وی ساگر منتھنکو ہری جھنڈی دکھائی گئی، جو گہرے سمندر میں تحقیق اور تلاش کے شعبے میں خود انحصاری کی کوششوں کی عکاسی کرتا ہے۔

ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا کہ سمندر کی گہرائیوں کی تلاش کے لیے روبوٹس اور آبدوز نما تحقیقی آلات (سبمرسیبلز) تیار کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے گہرے سمندر کی تحقیق اور تلاش کے لیے ہندوستان کی صلاحیت میں اضافے کی کوششوں کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ اس شعبے میں ملک کی پیش رفت سمندری وسائل کو سمجھنے اور ان کے استعمال کے لیے نئے امکانات پیدا کرے گی۔

وزیر موصوف نے گہرے سمندر میں تلاش کو ہندوستان کے ابھرتے ہوئے اقتصادی مواقع سے مربوط کرتے ہوئے کہا کہ اگر ملک کو اپنی معیشت کو اگلی سطح تک لے جانا ہے تو اسے ان وسائل کی جانب توجہ دینی ہوگی، جنہیں ابھی تک مکمل طور پر دریافت نہیں کیا گیا ہے۔ انہوں نے سمندری اور ساحلی وسائل، جن میں دھاتیں، معدنیات اور ماہی گیری شامل ہیں، کو ایسے شعبوں کے طور پر نشان زد کیا جن میں وسیع امکانات موجود ہیں۔

ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے ماحولیاتی پائیداری کو یقینی بناتے ہوئے ملک کی اقتصادی ترقی میں سمندری وسائل کے کردار کے امکانات کو اجاگر کیا۔ بلیک سلفائیڈ اور معدنیات سے متعلق تحقیق کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مستقبل میں سمندری معدنیات کے حصول کا امکان ان شعبوں میں شامل ہے جن پر تحقیق کی جا رہی ہے۔ انہوں نے ماہی گیری کی اقتصادی صلاحیت میں اضافے کے لیے کی جانے والی کوششوں کو بھی اجاگر کیا۔

وزیر موصوف نے اس بات پر زور دیا کہ ساحلی آبادی وسیع تر ساحلی ماحولیاتی نظام کا ایک لازمی حصہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ ساحلی وسائل کی اقتصادی صلاحیت کو بڑھانے کی کوششوں کے ساتھ ساتھ ساحلی علاقوں میں رہنے والی آبادی کے روزگار اور ذریعہ معاش کو بہتر بنانے پر بھی توجہ دینی چاہیے، جبکہ ماحولیات کے تحفظ کو یقینی بنانا بھی ضروری ہے۔

ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے ساحلی سلامتی کے بڑھتے ہوئے تکنیکی پہلوپر بھی روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ سمندری مشاہدہ، نگرانی، مواصلات، ریموٹ سینسنگ، ڈیٹا اور ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز ہندوستان کی ساحلی اور سمندری ماحول کے بارے میں سمجھ بوجھ اور تیاری کو مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہیں۔

وزیر موصوف نے کہا کہ ان تکنیکی صلاحیتوں کو ایک جامع ’’کوسٹل انڈیا‘‘ نقطۂ نظر کے تحت یکجا کرنے کی ضرورت ہے، جس میں حکومت اور ملک کے وسیع تر حلقوں کی مشترکہ طور پرشرکت ہو۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ ساحلی پٹی سے وابستہ چیلنجز اور مواقع کو مختلف شعبوں کی جانب سے الگ الگ کام کرتے ہوئے حل نہیں کیا جا سکتا۔

اس سلسلے میں ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا کہ نیشنل کانفرنس آن کوسٹل ایکولوجی، سیکیورٹی اینڈ سسٹین ایبلٹی (سی سی ای ایس ایس)۔2026مختلف شعبوں کی مہارت رکھنے والے ماہرین کو ایک مشترکہ پلیٹ فارم پر جمع کرنے کا اہم موقع فراہم کرتی ہے۔ کانفرنس کی کثیرالجہتی نوعیت میں ارضیاتی علوم، تعلیمی و تحقیقی ادارے، دفاع، بحری ادارے، قانونی ماہرین، صنعت اور ساحلی علاقوں سے وابستہ مختلف فریق شامل ہیں۔ یہ کانفرنس ساحلی چیلنجز کو جامع اور مربوط انداز میں سمجھنے، ان کے حل کے لیے باہمی تعاون کو فروغ دینے اور مؤثر حکمتِ عملی وضع کرنے کا ایک اہم موقع فراہم کرتی ہے۔

وزیر موصوف نے اس بات پر زور دیا کہ ساحلی ماحولیات اور ساحلی سلامتی کو الگ الگ نہیں دیکھا جا سکتا۔ انہوں نے کہا کہ مضبوط اور پائیدار ساحلی خطوں کے لیے صحت مند سمندری ماحولیاتی نظام، باشعور اور باخبر ساحلی آبادی، مؤثر حکمرانی اور مضبوط سائنسی صلاحیتیں ضروری ہیں۔

ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے سمندری سائنس کو قومی پالیسی سے جوڑنے کی اہمیت کو اجاگر کیا، تاکہ سائنسی معلومات براہِ راست ساحلی منصوبہ بندی اور انتظام میں معاون ثابت ہو سکیں۔ انہوں نے ساحلی آبادی کے کردار پر بھی زور دیا اور کہا کہ ان کا روزگار، روایتی علم اور شرکت پائیدار ساحلی ترقی کے لیے بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ہندوستان کا ساحلی بنیادی ڈھانچہ اور بندرگاہیں رابطے، تجارت اور اقتصادی ترقی کے لیے مرکزی حیثیت رکھتی ہیں اور ان اثاثوں کی پائیدار ترقی کے لیے ساحلی اور سمندری ماحول کی سائنسی بنیادوں پر مبنی جامع سمجھ بوجھ ضروری ہے۔

ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے ’’سوچھ ساگر، سرکشِت ساگر‘‘ مہم کو بھی اجاگر کیا، جو گزشتہ پانچ برس سے جاری ہے۔ انہوں نے یاد دلایا کہ 2022 میں 75 روزہ مہم کا آغاز کیا گیا تھا، جس میں ساحلی ریاستوں کے شہریوں اور مختلف متعلقہ فریقوں نے حصہ لیا تھا۔

وزیر موصوف نے کہا کہ رواں برس بھی یہ مہم 12 ستمبر سے 19 ستمبر تک جاری رہے گی، جس کے تحت صفائی مہمات سمیت مختلف سرگرمیاں منعقد کی جائیں گی اور غیر سرکاری تنظیموں (این جی اوز) اور دیگر اداروں کی شرکت بھی ہوگی۔ انہوں نے ہندوستان کی ساحلی پٹی کو صاف رکھنے کے لیے عہد (حلف) متعارف کرانے کا بھی ذکر کیا، جس کے ذریعے مہم میں شہریوں کی شرکت کو مزید فروغ دیا گیا ہے۔

ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا کہ وسیع تر مقصد ایک جامع ’’کوسٹل بھارت‘‘ نقطۂ نظر کو فروغ دینا ہونا چاہیے، جس میں ماحولیاتی پائیداری، اقتصادی مواقع، سائنسی صلاحیت اور ساحلی سلامتی ایک دوسرے کو تقویت دیں۔ انہوں نے الگ الگ شعبوں میں کام کرنے کے بجائے ایک مربوط نظام اپنانے کی ضرورت پر زور دیا، جو سائنسی علم کو باہمی تعاون، تحقیقی ترجیحات اور عملی اقدامات میں تبدیل کر سکے، تاکہ ساحلی خطوں کے لیے ایک محفوظ، پائیدار اور خوشحال مستقبل یقینی بنایا جا سکے۔

 

 *****

ش ح۔ م ع ن- ق ر

U.No. 3317


(ریلیز آئی ڈی: 2309194) وزیٹر کاؤنٹر : 15