زراعت اور کاشتکاروں کی فلاح و بہبود کی وزارت
جناب شیو راج سنگھ چوہان نے مجوزہ مضبوط بیج قانون کے حوالے سے ملک بھر کے کسان رہنماؤں سے بات چیت کی
حکومت کسانوں کے ساتھ بات چیت اور مشاورت کے ذریعے ہر زرعی پالیسی تشکیل دینے کے لیے پُرعزم ہے: جناب شیو راج سنگھ چوہان
سال1966 کا پرانا قانون اب وقت کے تقاضوں کے مطابق نہیں رہا؛ 70 فیصد بیج موجودہ ایکٹ کے دائرۂ کار سے باہر ہیں، نقلی بیجوں کے خلاف سخت کارروائی ضروری ہے: جناب شیو راج سنگھ چوہان
کسانوں کے حقوق مکمل طور پر محفوظ؛ روایتی اور کسانوں کی بیجوں کی اقسام پر کوئی پابندی نہیں: جناب شیوراج سنگھ چوہان
نقلی بیجوں کی تجارت کے خلاف سخت کارروائی کے لیے بھاری جرمانے اور قید کی سزائیں تجویز: جناب شیوراج سنگھ چوہان
بیجوں کی مکمل نگرانی اور ان کی شناخت یقینی بنانے کے لیے رجسٹریشن اور کیو آر کوڈ لازمی ہوں گے: جناب شیوراج سنگھ چوہان
نئی بیجوں کی اقسام جلد جاری کرنے کے لیے ریاستوں کو اختیارات دیے جائیں گے: جناب شیوراج سنگھ چوہان
کسانوں کو 15 دن کے اندر معاوضہ؛ ہر ریاست میں بیجوں کے تحفظ کے لئے سیڈ سیکیورٹی فنڈ بنانے کی تجویز: جناب شیوراج سنگھ چوہان
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
10 SEP 2026 8:55PM by PIB Delhi
وزیرِ اعظم جناب نریندر مودی کی قیادت اور رہنمائی میں مرکزی حکومت کسانوں کے مفاد میں ایک اور تاریخی قدم اٹھا رہی ہے۔ جعلی اور ناقص بیجوں سے کسانوں کو ہمیشہ کے لیے نجات دلانے کے لیے مجوزہ ’سیڈ بل‘ پر آج کرشی بھون، نئی دہلی میں مرکزی وزیرِ زراعت و کسان بہبود اور دیہی ترقی جناب شیوراج سنگھ چوہان نے ملک بھر کی کسان تنظیموں کے اعلیٰ رہنماؤں کے ساتھ تفصیلی بات چیت کی۔ تقریباً تمام ریاستوں سے آئے کسان نمائندوں کے ساتھ ہونے والی اس اعلیٰ سطحی میٹنگ میں مجوزہ قانون کے ہر پہلو پر کھل کر گفتگو ہوئی اور مرکزی وزیر جناب شیوراج سنگھ نے کسانوں کے زمینی تجربات کو غور سے سنا اور کہا کہ ان تجاویز پر سنجیدگی سے غور کیا جائے گا۔ میٹنگ میں مرکزی زراعت سکریٹری جناب آتیش چندرا سمیت کئی سینئر افسران بھی موجود تھے۔

بھارتیہ کسان سنگھ، بھارتیہ کسان یونین کے مختلف گروپوں، آل انڈیا کسان کوآرڈینیشن کمیٹی، کسان مہاپنچایت، بھارتیہ کرشک سماج، گاؤں کسان انّتیان، سوسائٹی فار انڈیپنڈنٹ فارمرز ایسوسی ایشن، کرناٹک راجیہ رائتھ سنگھ، تلنگانہ رائتھو سنگھم، مہاراشٹر کی مختلف کسان تنظیموں، گجرات کے کھیڈوت سماج، راجستھان اور بہار کی نیشنل کسان پروگریسیو ایسوسی ایشن، تمل ناڈو کے ویوسائیگل سنگم، جھارکھنڈ کے پراگریسیو کرشی منچ اور کیرالہ کے کوٹائم سے تعلق رکھنے والی ایک کسان تنظیم سمیت کئی دیگر کسان تنظیموں کے نمائندوں نے اس مشاورتی اجلاس میں شرکت کی۔

سال 1966کے موجودہ قانون کو اپ ڈیٹ کرنے کی ضرورت
جناب چوہان نے کہا کہ موجودہ بیج قانون 1966 میں بنایا گیا تھا، جبکہ بیجوں سے متعلق کنٹرول آرڈر 1983 میں نافذ ہوا تھا۔ گزشتہ چھ دہائیوں کے دوران زراعت کے شعبے میں بڑی تبدیلیاں آئی ہیں، اس لیے موجودہ قانونی نظام اب نئے چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے کافی نہیں ہے۔ ان چیلنجوں میں بازار میں جعلی اور ناقص معیار کے بیجوں کا آنا اور ان کی ذمہ داری طے کرنے میں موجود خامیاں بھی شامل ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ وِکست کرشی سنکلپ ابھیان کے دوران کسانوں نے نئے بیج اور کیڑے مار ادویات سے متعلق قوانین بنانے کی ضرورت پر زور دیا تھا۔ حکومت نے نومبر اور دسمبر 2025 میں مجوزہ نئے بیج قانون کے مسودے پر کسانوں سے تجاویز طلب کی تھیں، جس کے جواب میں کسانوں اور کسان تنظیموں کی جانب سے تقریباً 18,000 تجاویز موصول ہوئی تھیں۔ اب اس مشاورتی عمل کو دوبارہ شروع کیا گیا ہے، تاکہ ان تنظیموں سے براہِ راست تجاویز حاصل کی جا سکیں جو کسانوں کے ساتھ قریبی طور پر کام کرتی ہیں۔ جناب چوہان نے کہا کہ قانون کو حتمی شکل دینے میں کوئی جلد بازی نہیں کی جائے گی اور اس کے لیے کوئی آخری تاریخ مقرر نہیں کی گئی ہے۔ حکومت آگے بڑھنے سے پہلے کسانوں، کسان تنظیموں اور دیگر متعلقہ فریقوں کی تجاویز پر مسلسل غور کرتی رہے گی۔
موجودہ قانون کے دائرہ کار سے 70 فیصد بیج باہر
جناب چوہان نے کہا کہ اس وقت تقریباً 70 فیصد بیج موجودہ 'سیڈ ایکٹ' کے دائرہ کار سے باہر ہیں، جبکہ بیجوں سے متعلق طریقہ کار مختلف ریاستوں میں مختلف ہیں اور موجودہ تادیبی دفعات ناکافی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اسی لیے جعلی اور غیر معیاری بیجوں کے خلاف ایک مضبوط، زیادہ مؤثر اور یکساں ضابطہ کار کا نظام قائم کرنے کے لیے نئی قانون سازی ضروری ہے۔
کسانوں کے روایتی بیجوں کے حقوق بدستور محفوظ رہیں گے
وزیر نے واضح کیا کہ مجوزہ قانون کسانوں کے موجودہ حقوق کو محدود نہیں کرے گا۔ کسان روایتی اور کسانوں کی تیار کردہ اقسام کے بیجوں کو استعمال کرنے، ایک دوسرے سے تبادلہ کرنے اور فروخت کرنے کے لیے بدستور آزاد ہوں گے۔ روایتی بیجوں کی رجسٹریشن لازمی نہیں ہوگی۔ کسان اگر چاہیں تو اپنی اقسام کو رضاکارانہ طور پر رجسٹر کروا سکتے ہیں۔ ذاتی استعمال کے لیے، گاؤں کے اندر تقسیم کے لیے یا حتیٰ کہ کسی کمپنی کے لیے بیج تیار کرنے والے کسانوں کو بھی ان دفعات کے تحت ڈیجیٹل رجسٹریشن کروانے کی ضرورت نہیں ہوگی۔
سنگین جرائم پر 30 لاکھ روپے تک جرمانہ اور قید کی سزا
مجوزہ قانون میں جرائم کو تین زمروں میں تقسیم کیا گیا ہے:
معمولی خلاف ورزیاں: پہلی خلاف ورزی پر وارننگ دی جائے گی، جبکہ دوسری خلاف ورزی پر 50,000 روپے تک جرمانہ عائد کیا جائے گا۔
جان بوجھ کر کی جانے والی خلاف ورزیاں: کیو آر کوڈ لگانے میں ناکامی، مطلوبہ معلومات فراہم نہ کرنے یا غلط برانڈنگ جیسے جرائم پر پہلی خلاف ورزی کے لیے 1 لاکھ روپے اور دوسری خلاف ورزی کے لیے 2 لاکھ روپے جرمانہ ہوگا۔
سنگین جرائم: جعلی بیج فروخت کرنے، رجسٹریشن کے بغیر کاروبار کرنے یا جان بوجھ کر دھوکہ دہی کرنے پر 30 لاکھ روپے تک جرمانے کے ساتھ قید کی سزا بھی دی جائے گی۔
جناب چوہان نے کہا کہ سخت دفعات غیر قانونی بیجوں کی تجارت میں ملوث افراد کے خلاف ایک مؤثر روک تھام کے طور پر کام کریں گی۔
سو فیصد رجسٹریشن اور کیو آر کوڈ پر مبنی قابلِ سراغ نظام
مجوزہ قانون کے تحت تمام بیجوں اور پودے لگانے کے مواد کو قومی رجسٹر میں رجسٹر کرنا لازمی ہوگا۔ غیر رجسٹرڈ بیج غیر قانونی تصور کیے جائیں گے اور انہیں مارکیٹ میں فروخت نہیں کیا جا سکے گا۔ ہر بیج کے پیکٹ پر ایک کیو آر کوڈ موجود ہوگا، جس کے ذریعے کسان اس کے ماخذ، تیار کنندہ، لیبارٹری سے منظوری اور سپلائی چین کے ذریعے اس کی نقل و حرکت کا سراغ لگا سکیں گے۔ جناب چوہان نے کہا کہ اس وقت مؤثر ٹریس ایبلٹی نظام نہ ہونے کی وجہ سے بیج کے ناکام ہونے کی صورت میں ذمہ داری کا تعین کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔ نیا قانون ٹریس ایبلٹی کو لازمی قرار دے گا اور ذمہ داری کا تعین کرنے کے لیے ایک منظم نظام قائم کرے گا۔
نئی اقسام متعارف کرانے کے لیے ریاستوں کو مزید اختیارات
مجوزہ قانون ریاستی حکومتوں کو ریاستی سطح کی کمیٹیوں کی سفارش پر بیجوں کی نئی اقسام متعارف کرانے کا اختیار دے گا، جبکہ قومی معیار بدستور لاگو رہیں گے۔ اس سے ریاستیں اپنے مقامی موسم اور علاقائی ضروریات کے مطابق موزوں اقسام کو زیادہ مؤثر طریقے سے متعارف کرا سکیں گی۔ تمام اقسام کا اندراج ایک ہی قومی آن لائن رجسٹر میں کیا جائے گا، جس تک مرکز اور ریاستی حکومتیں دونوں رسائی حاصل کر سکیں گی، جس سے رجسٹریشن کے عمل میں دہراؤ سے بچا جا سکے گا۔
سیڈ سکیورٹی فنڈ اور 15 دن کے اندر معاوضہ
کسانوں کے مطالبات کو مدنظر رکھتے ہوئے، مجوزہ قانون کے تحت ہر ریاست میں سیڈ سکیورٹی فنڈ قائم کرنے کی تجویز ہے، جس کا انتظام متعلقہ ریاستی حکومتیں کریں گی۔ سیڈ ایکٹ کے تحت وصول کیے جانے والے جرمانے اور ریکوری کی رقم ان فنڈز میں جمع کی جائے گی۔ بیج کے ناکام ہونے یا کسان کو نقصان پہنچنے کی صورت میں ایک تصدیقی کمیٹی 15 دن کے اندر معاوضے کی ادائیگی کو یقینی بنائے گی۔ کسانوں کو صارفین کے تحفظ کے قانون کے تحت معاوضے کا مطالبہ کرنے کا حق بھی بدستور حاصل رہے گا۔
کسانوں سے مشاورت کا عمل جاری رہے گا
جناب چوہان نے کسان تنظیموں کے رہنماؤں کا اپنے تجربات اور تجاویز پیش کرنے پر شکریہ ادا کیا اور کہا کہ تمام تجاویز کا سنجیدگی سے جائزہ لیا جائے گا۔ قابلِ عمل پائی جانے والی تجاویز کو حتمی مسودے میں شامل کرنے پر غور کیا جائے گا۔ انہوں نے دہرایا کہ وزیر اعظم جناب نریندر مودی کی قیادت میں حکومت کسانوں سے مشاورت اور بات چیت کے ذریعے پالیسیاں وضع کرنے کے لیے پُرعزم ہے، جس میں کسانوں کے مفادات کو اس عمل کا مرکز بنایا گیا ہے۔وزیر موصوف نے کہا کہ جاری مشاورتی عمل بھارتی کسانوں کو نقلی اور غیر معیاری بیجوں سے تحفظ فراہم کرنے اور ایک مضبوط اور زیادہ جواب دہ بیج ریگولیٹری نظام تشکیل دینے کی جانب ایک اہم قدم ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ دیگر متعلقہ فریقوں کے ساتھ بھی مشاورت کی جا رہی ہے اور اس پورے عمل میں کسان بدستور مرکزی حیثیت رکھتے ہیں۔ جناب چوہان نے کہا کہ مجوزہ قانون سازی وزیر اعظم جناب نریندر مودی کے خوشحال، بااختیار اور خود کفیل کسانوں کے وژن کو عملی جامہ پہنانے کی کوششوں کا حصہ ہے۔
************
ش ح۔ع و ۔ ج ا
(U: 3308)
(ریلیز آئی ڈی: 2309095)
وزیٹر کاؤنٹر : 3