جدید اور قابل تجدید توانائی کی وزارت
چھوٹی پن بجلی بھارت کی صاف توانائی کی جانب منتقلی میں نمایاں کردار ادا کرتی ہے: جناب شری پد یسو نائک
بھارت میں چھوٹی پن بجلی کی تخمینہ شدہ صلاحیت تقریباً 21 گیگاواٹ ہے، جو 7,100 سے زائد شناخت شدہ مقامات پر پھیلی ہوئی ہے
بھارت رینیوایبل انرجی سمٹ اینڈ ایکسپو 2026 میں چھوٹی پن بجلی کے موضوع پر خصوصی اجلاس منعقد کیا جائے گا، جس کے سلسلے میں ایک تعارفی تقریب بھی منعقد کی گئی
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
10 SEP 2026 3:08PM by PIB Delhi
مرکزی وزیر مملکت برائے نئی اور قابلِ تجدید توانائی و بجلی، جناب شری پد یسو نائک نے کہا ہے کہ چھوٹی پن بجلی بھارت کی صاف توانائی کی جانب منتقلی میں ایک منفرد کردار ادا کرتی ہے۔ وہ آج نئی دہلی میں منعقدہ بھارت رینیوایبل انرجی سمٹ اینڈ ایکسپو 2026 میں چھوٹی پن بجلی (ایس ایچ پی )کے لیے مختص اجلاس کی تعارفی تقریب سے خطاب کر رہے تھے۔ لوگوں سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ چھوٹی پن بجلی توانائی کے تحفظ، غیر مرکزی سطح پر بجلی کی پیداوار، روزگار اور دور دراز علاقوں کی سماجی و معاشی ترقی میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔
جناب نائک نے کہا کہ وزیر اعظم جناب نریندر مودی کی دوراندیش قیادت میں بھارت کے صاف توانائی کے سفر میں نمایاں تبدیلی آئی ہے، جس نے ملک کو عالمی توانائی کی منتقلی میں صفِ اول میں پہنچا دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ قابلِ تجدید توانائی، توانائی کے تحفظ، اقتصادی ترقی، تکنیکی پیش رفت اور روزگار پیدا کرنے کا ایک مؤثر ذریعہ بن کر ابھری ہے۔
وزیر موصوف نے بتایا کہ بھارت میں نصب شدہ غیر حیاتیاتی ایندھن پر مبنی بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت 300 گیگاواٹ کی حد عبور کر چکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کی توانائی کی منتقلی کی اصل طاقت ایک ایسے متنوع، متوازن اور مضبوط توانائی نظام کی تعمیر میں ہے جو ملک کے جغرافیہ، وسائل اور ترقیاتی ضروریات سے ہم آہنگ ہو۔
جناب نائک نے اس تناظر میں چھوٹی پن بجلی کی نمایاں صلاحیت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ بھارت میں اس وقت چھوٹی پن بجلی کی تخمینہ شدہ صلاحیت تقریبا21 گیگاواٹ ہے، جو 7,100 سے زائد شناخت شدہ مقامات پر پھیلی ہوئی ہے، جبکہ اب تک صرف تقریباً 5.2 گیگاواٹ صلاحیت سے استفادہ کیا جا سکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ صورتِ حال اس شعبے کی مزید ترقی کے لیے ایک بڑی گنجائش کی نشاندہی کرتی ہے۔
شری نائک نے کہا کہ چھوٹی پن بجلی کا کردار محض بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت میں اضافے تک محدود نہیں ہے۔ ان کے مطابق، جہاں تکنیکی اور ماحولیاتی حالات سازگار ہوں، وہاں دریا کے بہاؤ پر مبنی منصوبے کم اراضی میں قابلِ تجدید توانائی پیدا کر سکتے ہیں اور بڑے ڈیموں اور آبی ذخائر کے منصوبوں کے برعکس وسیع علاقوں کے زیرِ آب آنے اور لوگوں کی منتقلی کے مسئلے سے بھی بچ سکتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ چھوٹی پن بجلی صارفین کے قریب قابلِ اعتماد قابلِ تجدید بجلی فراہم کر سکتی ہے، غیر مرکزی سطح پر بجلی کی پیداوار کو مضبوط بنا سکتی ہے اور بالخصوص جغرافیائی اعتبار سے دشوار گزار علاقوں میں بجلی کے نظام کو زیادہ مستحکم بنانے میں معاون ثابت ہو سکتی ہے۔ یہ شعبہ روزگار کے مواقع پیدا کرنے، مقامی کاروباری اداروں کو فروغ دینے اور دور دراز علاقوں میں معاشی مواقع پیدا کرنے کے ساتھ ساتھ ماحولیات اور مقامی آبادی کے تحفظ کا بھی خیال رکھ سکتا ہے۔
وزیر موصوف نے حکومت کی جانب سے 2026-27 سے31-2030 کی مدت کے لیے مجوزہ چھوٹی پن بجلی ترقیاتی اسکیم کو اجاگر کیا، جس کے لیے 2,584.60 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں اور تقریباً 1,500 میگاواٹ نئی چھوٹی پن بجلی کی صلاحیت پیدا کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ اس اسکیم کے تحت ریاستوں کو تقریباً 200 منصوبوں کے تفصیلی منصوبہ جاتی رپورٹس (ڈی پی آر)تیار کرنے کے لیے بھی ترغیب دی جائے گی، جس سے مستقبل میں چھوٹی پن بجلی کے منصوبوں کی ترقی کے لیے منصوبوں کی ایک مضبوط فہرست تیار ہوگی۔
وزیر موصوف نے زور دیا کہ صرف حکومتی تعاون سے اس شعبے کی مکمل صلاحیت کو بروئے کار نہیں لایا جا سکتا۔ انہوں نے مرکزی حکومت، ریاستی حکومتوں، منصوبہ سازوں، مالیاتی اداروں، ٹیکنالوجی فراہم کرنے والوں اور سرمایہ کاروں کے درمیان مضبوط شراکت داری پر زور دیا۔ انہوں نے پالیسی میں تسلسل، منظوری کے عمل کو آسان بنانے، کاروبار کرنے میں سہولت، مرکز اور ریاستوں کے درمیان بہتر تال میل اور منصوبوں کو مالیاتی اداروں کے لیے زیادہ قابلِ قبول بنانے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔
جناب نائک نے کہا کہ نقاب کشائی کی یہ تقریب اہم قومی مکالمے کا آغاز ہے کہ بھارت کیسے اپنی چھوٹی پن بجلی کی صلاحیت سے زیادہ بھرپور اور دانشمندانہ انداز میں فائدہ اٹھا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ 2 سے 5 نومبر 2026 تک نئی دہلی کے بھارت منڈپم میں منعقد ہونے والے بھارت رینیوایبل انرجی سمٹ اینڈ ایکسپو 2026 میں چھوٹی پن بجلی کے لیے مختص خصوصی اجلاس پالیسی اصلاحات، سرمایہ کاری، مالی معاونت، ٹیکنالوجی اور شراکت داری جیسے موضوعات پر غور و خوض کے لیے ایک اہم پلیٹ فارم فراہم کرے گا۔
وزیر موصوف نے تمام متعلقہ فریقوں کو اس قومی کوشش میں شرکت کی دعوت دی اور کہا کہ ہندوستان کا ندیوں کا نظام ، جغرافیائی تنوع، مقامی تکنیکی صلاحیتوں اور جدید اختراعات کو بروئے کار لانے کے لیے مل کر کام کیا جائے، تاکہ ایک زیادہ صاف، مضبوط، خود کفیل اور پائیدار بھارت کی تعمیر کی جا سکے۔
وزارتِ نئی اور قابلِ تجدید توانائی(ایم این آر ای ) کے سکریٹری جناب سنتوش کمار سارنگی نے بھی تمام متعلقہ فریقوں کو آئندہ بھارت رینیوایبل انرجی سمٹ اینڈ ایکسپو 2026 میں بڑی تعداد میں شرکت کرنے کی پرخلوص دعوت دی۔
وزارت کے سکریٹری نے پن بجلی کے منصوبوں کے آغاز میں طویل وقت لگنے کو ایک اہم چیلنج قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ جنگلات، ماحولیات اور راستۂ گزر (رائٹ آف وے) سے متعلق منظوریوں کے حصول میں تاخیر منصوبوں پر بروقت عمل درآمد کو متاثر کرتی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اگرچہ وزارتِ ماحولیات، جنگلات و موسمیاتی تبدیلی(ایم او ای ایف سی سی)نے وزارتِ نئی و قابلِ تجدید توانائی (ایم این آر ای)کو بالخصوص چھوٹے پن بجلی منصوبوں کے لیے بروقت منظوریوں کی یقین دہانی کرائی ہے، تاہم ایسا نظام وضع کیا جانا چاہیے جس کے ذریعے غیر ضروری تاخیر کی صورت میں انتباہات جاری کیے جائیں اور معاملے کو اعلیٰ سطح تک پہنچایا جا سکے۔
چھوٹے پن بجلی منصوبوں کو مالیاتی اداروں کے لیے زیادہ قابلِ قبول بنانے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے سکریٹری نے کہا کہ ان منصوبوں میں فنڈ کی فراہمی کی منفرد نوعیت کے باعث طویل مدتی سرمایہ تک رسائی ضروری ہے۔ انہوں نے انڈین رینیوایبل انرجی ڈیولپمنٹ ایجنسی(آئی آر ای ڈی اے)پر زور دیا کہ وہ بینکوں اور کثیرجہتی ترقیاتی اداروں، بشمول ایشیائی ترقیاتی بینک (اے ڈی بی) اور عالمی بینک کے ساتھ مل کر کام کرنے میں قائدانہ کردار ادا کرے، تاکہ منصوبہ سازوں کے لیے طویل مدتی سرمایہ کی دستیابی میں اضافہ کیا جا سکے۔
انہوں نے تمام متعلقہ فریقوں سے اپیل کی کہ وہ اپنے خیالات اور تجربات کا تبادلہ کریں اور یہ تجاویز پیش کریں کہ ملک میں پن بجلی، بالخصوص چھوٹی پن بجلی، کے فروغ کے لیے مزید کیا اقدامات کیے جا سکتے ہیں۔
تعارفی تقریب میں متعدد متعلقہ فریقوں کے علاوہ اعلیٰ حکام، تحقیق اور صنعتی شعبوں سے وابستہ نمائندے اور مندوبین بھی موجود تھے۔





*****
(ش ح ۔ ت ف۔ م ذ)
U.No: 3263
(ریلیز آئی ڈی: 2308718)
وزیٹر کاؤنٹر : 8