جدید اور قابل تجدید توانائی کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

ملک کو ہمیشہ اپنی خوراک فراہم کرنے والا کسان اب ملک کو روشن بھی کر رہا ہے، ان داتا اب اورجا داتا بھی بن رہا ہے:مرکزی وزیر جناب پرہلاد جوشی


ایگری وولٹائیکس کے ذریعہ کسان ایک ہی زمین سے خوراک کے ساتھ صاف توانائی بھی پیدا کر سکتے ہیں: جناب جوشی

ساتویں ایگری وولٹائیکس عالمی کانفرنس 21 سے 23 اکتوبر تک نئی دہلی میں منعقد ہوگی

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 09 SEP 2026 8:07PM by PIB Delhi

نئے اور قابل تجدید توانائی، تعلیم اور صارفین کے امور، خوراک اور عوامی تقسیم کے مرکزی وزیر جناب پرہلاد جوشی نے آج نئی دہلی میں ساتویں ایگرو وولٹائیکس عالمی کانفرنس 2026 کے سلسلے میں منعقدہ افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جو کسان ہمیشہ ملک کو خوراک فراہم کرتا رہا ہے وہ اب ملک کو روشن بھی کر رہا ہے اور انا داتا اب اورجا داتا بھی بن رہا ہے۔

مرکزی وزیر نے کہا کہ پی ایم-کسم کے اگلے مرحلے میں ایگرو وولٹائیکس کے لیے ایک مخصوص جزو شامل کیا جائے گا۔ جس سے کسان کھیتی باڑی جاری رکھنے کے ساتھ ساتھ بجلی کی پیداوار سے آمدنی بھی حاصل کر سکیں گے۔ انہوں نے کہا کہ اس میں چھوٹے اور معمولی کسانوں، فارمر پروڈیوسر آرگنائزیشنز، کوآپریٹیو اداروں اور پنچایتوں پر توجہ مرکوز کی جائے گی۔ جبکہ اس بات کو یقینی بنایا جائے گا کہ زمین کی ملکیت کسان کے پاس ہی رہے۔ انہوں نے کہا کہ شمسی توانائی سے حاصل ہونے والی آمدنی کسانوں کو زیادہ معاشی تحفظ فراہم کر سکتی ہے، جن کی آمدنی بصورت دیگر مانسون اور بازار کی قیمتوں پر منحصر ہوتی ہے۔

جناب جوشی نے کہا کہ ایک کسان ایک ہی ایکڑ زمین سے آمدنی کے تین ذرائع حاصل کر سکتا ہے۔فصل فروخت کرنے سے حاصل ہونے والی آمدنی، ڈسکام کو فروخت کی جانے والی بجلی کی آمدنی اور ڈیزل پر ہونے والی بچت۔ انہوں نے کہا کہ ایک چھوٹے کسان کے لیے شمسی توانائی سے حاصل ہونے والی آمدنی محض اضافی آمدنی نہیں بلکہ معاشی تحفظ کا ذریعہ ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس سے اچھے اور برے دونوں برسوں میں آمدنی کا ایک مستقل ذریعہ فراہم کیا جا سکتا ہے۔

وزیر موصوف نے کہا کہ دنیا کی تقریباً 18 فیصد آبادی ہندوستان میں رہتی ہے۔ جبکہ دنیا کی کل اراضی میں ہندوستان کا حصہ صرف 2.4 فیصد ہے۔ ملک کے 85 فیصد سے زیادہ کسان چھوٹے اور معمولی کسان ہیں، جو 2 ہیکٹر سے کم اراضی پر کاشت کاری کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایگری وولٹائکس کے ذریعے ہمیں فصل اور شمسی توانائی کے پلانٹ میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنے کی ضرورت نہیں ہے، بلکہ ہم دونوں کام ایک ساتھ کر سکتے ہیں۔ ایک ہی زمین پر نیچے فصلیں اگتی رہ سکتی ہیں، جبکہ اوپر صاف توانائی بھی پیدا کی جا سکتی ہے۔

وزیر موصوف نے کہا کہ ہندوستان نے گزشتہ سال 55.29 گیگاواٹ غیر فوسل توانائی کی صلاحیت میں اضافہ کیا، جو کئی ترقی یافتہ ممالک کی مجموعی نصب شدہ بجلی کی صلاحیت سے بھی زیادہ ہے۔ ان میں ناروے 40.6 گیگاواٹ، سوئٹزرلینڈ تقریباً 30 گیگاواٹ، آسٹریا 34 گیگاواٹ اور بیلجیم تقریباً 33 گیگاواٹ شامل ہیں۔

جناب جوشی نے پی ایم-کسم کے تحت ہونے والی پیش رفت کو اجاگر کرتے ہوئے بتایا کہ تقریباً 29 لاکھ پمپوں کو شمسی توانائی سے چلنے کے قابل بنایا جا چکا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ گزشتہ سال غیر مرکزی شمسی توانائی سے 16.3 گیگاواٹ بجلی پیدا ہوئی، جس میں پی ایم-کسم سے 7.6 گیگاواٹ اور روف ٹاپ سولر سے 8.7 گیگاواٹ شامل ہے۔ روف ٹاپ سولر کی بڑی تعداد پی ایم سوریہ گھر مفت بجلی یوجنا کے تحت نصب کی گئی ہے، جس سے استفادہ کرنے والوں کی تعداد 56 لاکھ تک پہنچ رہی ہے۔

مرکزی وزیر نے ایگری وولٹائکس کے شعبے میں مزید تحقیق کی ضرورت پر زور دیا تاکہ یہ سمجھا جا سکے کہ مختلف فصلوں، موسموں اور علاقوں کے لیے کون سا طریقہ سب سے زیادہ موزوں ہے۔ انہوں نے پونے میں بائف کے رورل انوویشن سینٹر کی مثال دیتے ہوئے بتایا کہ وہاں محققین 30 فصلوں کے لیے شمسی توانائی کے 17 مختلف طریقوں کی آزمائش کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہر طرح کی زرعی صورت حال کے لیے فصل، سولر پینل کی اونچائی، پینلوں کے درمیان فاصلہ، ٹریکنگ سسٹم اور کاروباری ماڈل کا درست امتزاج تلاش کرنا انتہائی اہم ہے۔

جناب جوشی نے صنعت اور اختراع کاروں سمیت تمام متعلقہ فریقوں پر زور دیا کہ وہ ایسے ڈھانچے تیار کرنے پر توجہ دیں جن میں ٹریکٹر اور فصل کاٹنے والی مشینیں آزادانہ طور پر آمد و رفت کر سکیں اور جو مقامی موسمی حالات کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہوں۔ انہوں نے کہا کہ آئی سی اے آر، زرعی یونیورسٹیوں اور کرشی وگیان کیندروں کے ذریعے فصل اور علاقے کے لحاظ سے اعداد و شمار تیار کیے جانے چاہئیں، جبکہ ڈھانچوں، مواد اور تنصیب کے نظام میں اختراع کے ذریعے روایتی شمسی توانائی کے مقابلے میں لاگت کے فرق کو کم کرنے کی کوشش کی جانی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان پہلے ہی گاؤں کی سطح پر ہنر مندی پیدا کر رہا ہے اور تقریباً 70,000 سوریہ متر تربیت حاصل کر چکے ہیں۔

وزیر موصوف نے کہا کہ ایگری وولٹائکس کے شعبے میں ہندوستان کا تجربہ گلوبل ساؤتھ کے لیے خاص طور پر اہم ثابت ہو سکتا ہے، جہاں کھیت چھوٹے رقبوں پر مشتمل ہیں، سورج کی روشنی وافر مقدار میں دستیاب ہے اور بجلی کے گرڈ ابھی ترقی کے مرحلے میں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کا وسیع پیمانہ ایسے سستے اور عملی حل تیار کرنے کا موقع فراہم کرتا ہے جنہیں گلوبل ساؤتھ کے دیگر ممالک میں بھی اختیار کیا جا سکتا ہے۔

کرٹن ریزر تقریب کے دوران مرکزی وزیر نے ساتویں ایگری وولٹائکس عالمی کانفرنس 2026 کا ٹیزر بھی جاری کیا اور کانفرنس کے سرکاری لوگو کی نقاب کشائی کی۔ ’’فارم سے فورک تک اختراعات کو فروغ دینا‘‘کے موضوع پر ایگری وولٹائکس پچ ہب کا بھی اعلان کیا گیا، جس میں نیشنل سولر انرجی فیڈریشن آف انڈیا (این ایس ای ایف آئی) نالج پارٹنر ہوگا۔ خوراک، ایندھن اور فائبر پر مشتمل 3 ایف فریم ورک کی بنیاد پر تیار کیا گیا پچ ہب ایسے اختراعی حل پیش کرنے کی دعوت دے گا جو ایگری وولٹائکس کے مستقبل میں اپنا کردار ادا کر سکیں۔

نقاب کشائی کی تقریب میں متعدد قومی اور بین الاقوامی متعلقہ فریقوں کے علاوہ وزارتوں، ریاستی محکموں، تحقیقی اداروں اور صنعتی شعبے کے اعلیٰ عہدیداروں اور نمائندوں نے شرکت کی۔

ساتویں ایگری وولٹائکس عالمی کانفرنس 2026 کا انعقاد 21 سے 23 اکتوبر 2026 تک نئی دہلی کے بھارت منڈپم میں کیا جائے گا۔ تین روزہ بین الاقوامی کانفرنس میں دنیا بھر سے کسان، پالیسی ساز، محققین، صنعتی شعبے کے رہنما، بین الاقوامی وفود اور دیگر متعلقہ فریق شرکت کریں گے۔ کانفرنس میں ایگری وولٹائکس کے مستقبل پر غور و خوض کیا جائے گا اور اس شعبے کو وسیع پیمانے پر فروغ دینے کے طریقوں پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔

کانفرنس قومی اور عالمی متعلقہ فریقوں کو اپنے تجربات کے تبادلے، شراکت داری کو فروغ دینے اور زراعت و شمسی توانائی کے انضمام کے لیے عملی راستے تلاش کرنے کا ایک اہم پلیٹ فارم فراہم کرے گی۔ اس کا مقصد کسانوں پر مرکوز، پائیدار اور وسیع پیمانے پر قابل عمل ایگری وولٹائکس حل کو آگے بڑھانا اور اس شعبے سے متعلق عالمی سطح پر جاری مباحثے کو سمت دینے میں ہندوستان کے کردار کو مزید مستحکم کرنا ہے۔

 

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/2026/sep/image001_20260909200743_3bdf81.jpg

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/2026/sep/image002_20260909200809_ed687f.jpg

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/2026/sep/image003_20260909200815_b88b5c.jpg

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/2026/sep/image004_20260909200822_aa997d.jpg

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/2026/sep/image005_20260909200830_af6d10.jpg

 

********

 

ش ح۔ م ح۔رض

U-3241


(ریلیز آئی ڈی: 2308584) وزیٹر کاؤنٹر : 8