زراعت اور کاشتکاروں کی فلاح و بہبود کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

نئی دہلی میں زراعت اور جنگلات کے موضوع پر نویں آسیان-بھارتی وزارتی میٹنگ اور دسویں آسیان-بھارت زراعتی ورکنگ گروپ میٹنگ کا انعقاد

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 09 SEP 2026 8:09PM by PIB Delhi

نئی دہلی میں 9 ستمبر 2026 کو زراعت اور جنگلات کے موضوع پر منعقدہ نویں آسیان-بھارت وزارتی میٹنگ میں، بھارت اور آسیان نے خوراک کے لحاظ سے زیادہ محفوظ، پائیدار اور لچکدار زرعی مستقبل کی تعمیر کے لیے اپنے مشترکہ عزم کا اعادہ کیا۔ فلپائن کے محکمہ زراعت کے سیکرٹری عالی جناب فرانسسکو پی ٹیو لاریل اور بھارت کے زراعت اور کاشتکاروں کی بہبود کے مرکزی وزیر، جناب شیوراج سنگھ چوہان کی مشترکہ صدارت میں ہونے والے اس اجلاس میں، عملی اور کسان دوست تعاون اور زراعت و جنگلات کے شعبوں میں آسیان-انڈیا جامع اسٹریٹجک شراکت داری کو مضبوط بنانے پر بھرپور زور دیا گیا۔

وزراء نے پائیدار اور لچکدار ترقی کو آگے بڑھانے کے لیے 'آسیان 2045: ہمارا مشترکہ مستقبل' اور 'آسیان فوڈ، ایگریکلچر اینڈ فاریسٹری سیکٹورل پلان 2026–2030' کا اسٹریٹجک فریم ورک کے طور پر خیرمقدم کیا۔ انہوں نے 'زراعت اور جنگلات میں تعاون کے لیے آسیان-بھارت درمیانی مدت کے لائحہ عمل 2026–2030' کی منظوری اور نفاذ کی بھی امید ظاہر کی، جس کی ترجیحات میں پالیسی مکالمہ، ڈیجیٹل جدت طرازی، تکنیکی تعاون، مشترکہ تحقیق، صلاحیت سازی اور کسانوں کا باہمی تبادلہ شامل ہیں۔

اجلاس میں عملی اور بڑے پیمانے پر نافذ ہونے والے تعاون کے لیے کلیدی شعبوں کی نشاندہی کی گئی، جن میں موسمیاتی تبدیلیوں کے خلاف لچکدار زراعت، کم کاربن کے اخراج والے چاول کی کاشت، پانی کی پیداواری صلاحیت، مصنوعی ذہانت سے لیس ڈیجیٹل زراعت، مٹی کی صحت، خوراک کی حفاظت، کٹائی کے بعد کا انتظام، سرکلر بائیو اکانومی، زرعی جنگلات اور لچکدار ویلیو چینز شامل ہیں۔ وزراء نے زرعی ایجادات کو بڑے پیمانے پر اپنانے کی رفتار کو تیز کرنے کے لیے تحقیقی اداروں، تکنالوجی بنانے والوں، توسیعی ایجنسیوں، نجی شعبے اور کسانوں کے درمیان مضبوط روابط قائم کرنے پر بھی زور دیا۔

اجلاس میں منڈیوں تک رسائی، قدر و قیمت میں اضافہ اور زراعت و جنگلات کی لاجسٹکس کو مضبوط بنانے پر مزید زور دیا گیا، جبکہ ابھرتی ہوئی چنوتیاں جیسے کہ موسمیاتی تبدیلی، شدید موسمی حالات، جغرافیائی سیاسی اور اقتصادی غیر یقینی صورتحال، زرعی مداخل (کھاد، بیج وغیرہ) کی منڈیوں میں اتار چڑھاؤ، تجارتی رکاوٹیں، اور سرحد پار پھیلنے والے کیڑوں اور بیماریوں سے نمٹنے کے لیے وسیع تر تعاون کی ضرورت کو تسلیم کیا گیا۔

ایک اہم نمایاں پہلو 'انڈیا-آسیان فرینڈشپ اسپائک فار ایگریکلچر اینڈ فاریسٹری' کی رونمائی تھا، جو زراعت اور جنگلات کے تعاون کی جانب بھارت اور آسیان کی پائیدار شراکت داری اور مشترکہ عزم کی علامت ہے۔

پروگرام کے ایک حصے کے طور پر، معزز مہمانوں نے آئی سی اے آر-انڈین ایگریکلچرل ریسرچ انسٹی ٹیوٹ (آئی اے آر آئی)، پوسیٰ کا دورہ کیا، جس میں محفوظ کاشتکاری کا مرکز، موٹے اناج اور چاول کے کھیت، نانا جی دیش مکھ فینومکس فیسلیٹی اور آئی سی اے آر-نیشنل بیورو آف پلانٹ جینیٹک ریسورسز (این بی پی جی آر) کا جین بینک شامل تھے۔ اس دورے نے وفد کو فصلوں کی تحقیق، جدید زرعی طریقوں اور پودوں کے جینیاتی وسائل کے تحفظ میں بھارت کی ترقی کا قریبی مشاہدہ فراہم کیا۔ اس وفد کی قیادت ڈاکٹر ایم ایل جاٹ، سیکرٹری (ڈی اے آر ای) اور ڈائریکٹر جنرل (آئی سی اے آر) نے کی۔

آسیان کے وزراء اور وفود کے سربراہان نے بھارتی سائنسدانوں، محققین اور کاروباری و صنعتی نمائندوں کے ساتھ اعلیٰ سطحی بات چیت بھی کی، جس کا مقصد زراعت اور جنگلات کے شعبے میں تحقیق، جدت طرازی، تکنیکی تبادلے اور صنعتی تعاون کے لیے مضبوط روابط کو فروغ دینا تھا۔

اجلاس میں اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ زراعت اور جنگلات پر دسویں آسیان-انڈیا وزارتی میٹنگ کا انعقاد سال 2028 میں کیا جائے گا۔

آسیان – بھارت زرعی ورکنگ گروپ کی 10ویں میٹنگ

آسیان – بھارت زرعی ورکنگ گروپ کی 10ویں میٹنگ 8 ستمبر 2026 کو نئی دہلی میں منعقد ہوئی، جس میں 11 آسیان رکن ممالک کے 45 مندوبین نے زراعت اور جنگلات کے شعبے میں آسیان-انڈیا تعاون کو مضبوط بنانے پر مرکوز مشاورت کے لیے شرکت کی۔

ورکنگ گروپ میٹنگ کی مشترکہ صدارت بھارت اور فلپائن نے کی، جس میں بھارت کی قیادت ڈاکٹر ایم ایل جاٹ، سیکرٹری اور ڈائریکٹر جنرل نے کی، جبکہ فلپائن نے آسیان کے چیئرمین کی حیثیت سے نمائندگی کی۔

وزارتی اجلاس کے موقع پر منعقد ہونے والی ایک نمائش میں نیچرل ریسورس مینجمنٹ، آئی سی ٹی، حیواناتی سائنس، ماہی گیری کی سائنس اور باغبانی کی سائنسکے شعبوں میں آئی سی اے آر کی ٹیکنالوجیز کو پیش کیا گیا، جو پائیدار اور موسمیاتی تبدیلیوں کے خلاف لچکدار زراعت میں بھارت کی ترقی کو نمایاں کرتی ہے۔

اس نمائش میں مٹی کی صحت اور لچکدار کاشتکاری کے حل پیش کیے گئے؛ 'کسان سارتھی' کو دکھایا گیا جو 3,500 سے زائد کے وی کے ماہرین اور 4,500 آئی سی اے آر سائنسدانوں کے ذریعے 13 بھارتی زبانوں میں 3.5 لاکھ سے زیادہ دیہاتوں کے 3.03 کروڑ رجسٹرڈ کسانوں کی مدد کرتا ہے؛ افریقن سوائن فیور کی مقامی ویکسین اور بیماریوں کی قبل از وقت پیشگوئی کرنے والے نظام کی نمائش کی گئی؛ ماہی گیری کی جدت طرازی بشمول 120 دنوں میں 40 سے 50 ٹن جھینگا پالنے کا ماڈل پیش کیا گیا؛ اور باغبانی کی ٹیکنالوجیز پیش کی گئیں جن میں متنوع فصلیں، مصالحہ جات، ویلیو ایڈڈ اشیاء اور ایروپونکس (ہوا میں پودے اگانے کی تکنیک) کے ذریعے وائرس سے پاک آلو کے بیجوں کی پیداوار شامل ہیں۔

بھارت کے مالا مال ثقافتی ورثے کی نمائش کی غرض سے 8 ستمبر 2026 کو ایک رنگا رنگ ثقافتی پروگرام کا اہتمام کیا گیا۔

**********

 (ش ح –ا ب ن)

U.No:3238


(ریلیز آئی ڈی: 2308544) وزیٹر کاؤنٹر : 7
یہ ریلیز پڑھیں: English , Gujarati , Marathi , Kannada