ہنر مندی کے فروغ اور صنعت کاری کی وزارت
ورلڈ اسکلز شنگھائی 2026 میں 11 نئی مہارتوں میں ہندوستان کی شروعات
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
09 SEP 2026 12:55PM by PIB Delhi
ہندوستان عالمی سطح پر اپنی ہنرمندی کے دائرےکو مزید وسیع کرنے کی جانب گامزن ہے۔ 22 سے 27 ستمبر 2026 تک چین کے شنگھائی میں منعقد ہونے والے 48ویں ورلڈ اسکلز مقابلے میں ہندوستان 11 نئی مہارتوں کے زمروں میں پہلی بار حصہ لے گا۔
ٹیم اسکل انڈیا 64 میں سے 63 مہارتوں کے مقابلوں میں حصہ لے گی۔ اس میں تقریباً 70 شرکاء شامل ہوں گے، جو اب تک ورلڈ اسکلز میں ہندوستان کی سب سے بڑی اور متنوع نمائندگیوں میں سے ایک ہوگی۔
ہندوستان جن 11 نئی مہارتوں کے زمروں میں پہلی بار شرکت کرے گا، ان میں دانتوں کی مصنوعی اعضا سازی، ڈیجیٹل انٹرایکٹو میڈیا ڈیزائن، انٹلیجنٹ سکیورٹی ٹیکنالوجی، قدرتی مناظرکی باغبانی، آپٹو الیکٹرانک ٹیکنالوجی، خوردہ فروخت، بغیر پائلٹ فضائی نظام، صنعتی مکینکس، سافٹ ویئر ٹیسٹنگ، بھاری گاڑیوں کی ٹیکنالوجی اور طیاروں کی دیکھ ریکھ شامل ہیں۔
ان نئی مہارتوں کے زمروں میں ہندوستان کی شرکت ملک کے ہنرمندی کے ماحولیاتی نظام کی بڑھتی ہوئی وسعت اور پختگی کی عکاس ہے، جو روایتی پیشوں میں مضبوط بنیادوں کے ساتھ آگے بڑھتے ہوئے جدید ٹیکنالوجی، خصوصی خدمات، تخلیقی صنعتوں اور نئی نسل کی صنعتی صلاحیتوں تک پھیل رہا ہے۔
اس شرکت کی قیادت ہنرسازی اور انٹرپرینیورشپ کی وزارت (ایم ایس ڈی ای) کے زیرِ اہتمام کی جا رہی ہے، جبکہ نیشنل اسکل ڈیولپمنٹ کارپوریشن (این ایس ڈی سی) صنعتی شراکت داروں، تربیتی اداروں اور متعلقہ شعبوں کے ماہرین کے ساتھ قریبی تعاون کے ذریعے ورلڈ اسکلز مقابلے کے لیے ہندوستان کی تیاری کو آگے بڑھا رہی ہے۔
ہندوستان کی شرکت کے حوالے سے ایم ایس ڈی ای کی سکریٹری محترمہ دیباشری مکھرجی نے کہا، ’’ان نئی مہارتوں میں ہندوستان کی شرکت ہمارے ہنرسازی کے ماحولیاتی نظام کے اس ارتقا کی عکاس ہے، جس کے تحت ہم مستقبل کی ضروریات سے ہم آہنگ اور عالمی سطح پر متعلقہ صلاحیتوں کی جانب آگے بڑھ رہے ہیں۔ مضبوط شراکت داریوں اور سخت و جامع تیاری کے ذریعے ہم اپنے نوجوانوں کو اعتماد کے ساتھ عالمی سطح پر مقابلہ کرنے اور بین الاقوامی معیارات کے مطابق اپنی صلاحیتوں کو پرکھنے کے قابل بنا رہے ہیں۔‘‘
نئے شعبوں میں ایسے ابھرتے ہوئے شعبے شامل ہیں جو روزگار کے مستقبل کی تشکیل کر رہے ہیں، جن میں صحت کی نگہداشت سے متعلق ٹیکنالوجیز، ڈیجیٹل ڈیزائن، انٹلیجنٹ سسٹم، ڈرون ٹیکنالوجی، جدید مینوفیکچرنگ، نقل و حرکت کے حل اور صارفین پر مرکوز خدمات شامل ہیں۔ ان شعبوں کااحاطہ کرنا اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ ہندوستان ہنرسازی کو عالمی صنعت کی ضروریات سے ہم آہنگ کرنے اور نوجوانوں کے لیے ایسے ہنرمندی کے شعبوں میں مواقع پیدا کرنے پر توجہ دے رہا ہے، جن کے لیے بین الاقوامی معیارات مقرر کیے گئے ہیں۔
ان شعبوں میں پہلی بار شرکت کے لیے تیاری کو خصوصی تربیتی اداروں اور صنعتی شراکت داروں پر مشتمل باہمی تعاون پر مبنی نظام کے ذریعے تعاون فراہم کیا جا رہا ہے۔ ان میں کرناٹک کا گورنمنٹ ٹول روم اینڈ ٹریننگ سینٹر (جی ٹی ٹی سی)، میٹرو وڈز لینڈ اسکیپ، گاندھی نگر کا نیمتیک (این اے ایم ٹیک)، بینیٹ یونیورسٹی، کروما، ٹائٹن کمپنی لمیٹڈ – تنیشک، شاپرز اسٹاپ، ریلائنس ٹرینڈز، ایس اے این وائی ہیوی انڈسٹری انڈیا پرائیویٹ لمیٹڈ، پرکھر سافٹ ویئر سالیوشن لمیٹڈ اور ڈین ایکسپرٹ ڈینٹل لیب سمیت دیگر ادارے شامل ہیں۔
ہنرمندی کےعالمی مقابلوں میں ہندوستان کی کارکردگی میں گزشتہ برسوں کے دوران مسلسل بہتری آئی ہے۔ 2015 میں ورلڈ اسکلز میں 29ویں مقام پر رہنے والا ہندوستان 2024 میں 13ویں مقام پر پہنچ گیا۔ ہندوستان نے ورلڈ اسکلز ایشیا 2025 میں ایشیائی سطح پر آٹھواں مقام حاصل کرکے اور تائپی کیپیٹل کپ 2026 میں پانچ تمغے جیت کر عالمی سطح پر اپنی کارکردگی کو مزید مضبوط کیا۔
اسکل انڈیا مشن کے تحت ہندوستان صنعت کے ساتھ شراکت داری، ماہرین کی رہنمائی، منظم تربیت اور عالمی سطح پر تجربات کے مواقع پر مبنی ایک مضبوط تیاری کا نظام تشکیل دے رہا ہے۔ ورلڈ اسکلز شنگھائی 2026 میں وسیع تر شرکت ہندوستان کے ہنرمند افرادی قوت کے عالمی مرکز کے طور پر خود کو قائم کرنے کے سفر میں ایک اور اہم قدم ہے۔
مزید وضاحت
انٹلیجنٹ سکیورٹی ٹیکنالوجی سے مراد ایسے انٹلیجنٹ سسٹم کی منصوبہ بندی، تنصیب اور دیکھ ریکھ ہے جو مصنوعی ذہانت سے لیس نگرانی، انٹلیجنٹ سینسرز اور خودکار ردِعمل کے نظام جیسی ٹیکنالوجیز کے ذریعے لوگوں، بنیادی ڈھانچے اور اثاثوں کا تحفظ کرتے ہیں۔
قدرتی مناظرکی باغبانی میں پائیدار اور فعال مقامات کی تخلیق کے لیے ڈیزائن، تعمیر اور ماحولیاتی فہم شامل ہے، جہاں تخلیقی صلاحیتوں اور عملی استعمال کے درمیان توازن قائم رکھا جاتا ہے۔
آپٹوالیکٹرانک ٹیکنالوجی ایک تیزی سے ترقی کرنے والا شعبہ ہے جو روشنی اور بجلی کے سائنسی اصولوں کو یکجا کرتا ہے اور جدید مینوفیکچرنگ، صحت کی دیکھ بھال، مواصلاتی نظام اور انٹلیجنٹ ٹیکنالوجیز سمیت مختلف شعبوں میں استعمال ہوتا ہے۔
ڈیجیٹل انٹرایکٹو میڈیا ڈیزائن میں ڈیزائن، مواد اور ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز کو یکجا کرکے مختلف پلیٹ فارمز پر صارفین کے لیے مضبوط، عمیق اور باہمی تعامل پر مبنی ڈیجیٹل تجربات فراہم کرنے پر توجہ دی جاتی ہے۔
خوردہ فروخت صارفین سے رابطے اور ان کے تجربے پر مبنی کاروباری ماڈلز کی بڑھتی ہوئی اہمیت کو اجاگر کرتی ہے، جس میں مصنوعات کے بارے میں معلومات، مؤثر ابلاغ، مصنوعات کی نمائش اور بہترین خدمات کی فراہمی پر زور دیا جاتا ہے۔
بھاری گاڑیوں کی ٹیکنالوجی نقل و حرکت اور صنعتی نظاموں کی بڑھتی ہوئی پیچیدگی کو اجاگر کرتی ہے، جس کے لیے جدید تشخیصی، مرمتی اور دیکھ ریکھ کی صلاحیتوں کی ضرورت ہوتی ہے۔
بغیر پائلٹ فضائی نظام مختلف شعبوں میں ڈرون ٹیکنالوجی کے بڑھتے ہوئے کردار کو نمایاں کرتا ہے، جن میں بنیادی ڈھانچہ، زراعت، عوامی خدمات، نگرانی اور ابھرتی ہوئی خودکار ایپلی کیشنز شامل ہیں۔
دانتوں کی مصنوعی اعضا سازی میں ڈینٹل کراؤن، مصنوعی دانتوں کے امپلانٹس اور مصنوعی بتیسی جیسے خصوصی دندانی آلات کی تیاری اور ڈیزائن پر توجہ دی جاتی ہے، جو درستگی اور طبی مہارت کے ذریعے منہ کے افعال کو بحال کرنے اور معیارِ زندگی کو بہتر بنانے میں مدد دیتے ہیں۔
انڈسٹریل مکینکس میں پیچیدہ صنعتی مشینری اور پیداواری نظاموں کی درست تنصیب، دیکھ ریکھ، خرابیوں کی تشخیص اور کارکردگی کو بہتر بنانے پر توجہ مرکوز کی جاتی ہے۔
سافٹ ویئر ٹیسٹنگ سخت جانچ اور توثیقی عمل کے ذریعے سافٹ ویئر کے معیار، قابلِ اعتماد کارکردگی اور صارف کے لیے مؤثر فعالیت کو یقینی بنانے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔
طیاروں کی دیکھ ریکھ میں طیارے کے مکینیکل، برقی، سیال مواد سے متعلق اور ساختی نظاموں کی انتہائی درست جانچ، سروسنگ، خامیوں کی تشخیص اور ہوا بازی کے قابل ہونے کی سخت تصدیق پر توجہ دی جاتی ہے، تاکہ مکمل حفاظت اور ضوابط کی پابندی کو یقینی بنایا جا سکے۔
******
(ش ح ۔ م ش ع۔ع ن)
U. No. 3194
(ریلیز آئی ڈی: 2308212)
وزیٹر کاؤنٹر : 18