کوئلے کی وزارت
سطحی کوئلہ/لگنائٹ گیسفیکیشن منصوبوں کے فروغ کی اسکیم: پہلے مرحلے کا اختتام، صنعتوں اور سرکاری اداروں کی جانب سے بھرپور ردِعمل
اڈانی انٹرپرائزز، این ٹی پی سی، تلچر فرٹیلائزرز، گیلنٹ اسپات اور شیام سیل اینڈ پاور لمیٹڈ سمیت متعدد اداروں نے درخواستیں جمع کرائیں، ہندوستان میں کوئلہ گیسفیکیشن کے بڑے منصوبے کو مزید تقویت
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
08 SEP 2026 11:39AM by PIB Delhi
37,500 کروڑ کی سطحی کوئلہ/لگنائٹ گیسفیکیشن منصوبوں کے فروغ کی اسکیم کے پہلے مرحلے کا اختتام صنعت کی جانب سے زبردست ردِعمل کے ساتھ ہوا ہے۔ اس مرحلے میں بھارت کے بعض بڑے صنعتی گھرانوں اور ممتاز سرکاری شعبے کے اداروں کی جانب سے سات (7) درخواستیں موصول ہوئی ہیں۔ یہ بھرپور ردِعمل وزارتِ کوئلہ کے اس اعتماد کی واضح تائید کرتا ہے جو اسے اس اسکیم سے وابستہ تھا۔ صنعت کی جانب سے سامنے آنے والا یہ ردِعمل اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ کوئلہ گیسفیکیشن کو بھارت کی توانائی سلامتی، درآمدات کے متبادل اور صنعتی ترقی کی حکمتِ عملی کے ایک اہم ستون کے طور پر صنعت کا اعتماد مسلسل بڑھ رہا ہے۔
پہلے مرحلے کے تحت موصول ہونے والی درخواستیں درج ذیل ہیں:
|
نمبر شمار
|
درخواست گزار
|
اختتامی مصنوعات
|
-
|
اڈانی انٹرپرائزز لمیٹڈ – پروجیکٹ 1
|
یوریا
|
-
|
اڈانی انٹرپرائزز لمیٹڈ – پروجیکٹ 2
|
یوریا
|
-
|
اڈانی انٹرپرائزز لمیٹڈ – پروجیکٹ 3
|
یوریا
|
-
|
گیلنٹ اسپات لمیٹڈ
|
براہ راست کم لوہا اور سن گیس
|
-
|
این ٹی پی سی لمیٹڈ
|
مصنوعی قدرتی گیس
|
-
|
شیام سیل اینڈ پاور لمیٹڈ
|
سن گیس
|
-
|
ٹیلچر فرٹیلائزرز لمیٹڈ
|
یوریا
|
وزارتِ کوئلہ کے ایک سینئر عہدیدار نے کہا:
’’جب ہم نے کہا تھا کہ ’خریدار نہ ملنے‘ سے متعلق رپورٹس قبل از وقت ہیں، تو ہمیں یقین تھا کہ صنعت کی جانب سے مثبت ردِعمل سامنے آئے گا، اور ایسا ہی ہوا۔وہ بھی واضح اور فیصلہ کن انداز میں۔ پہلے ہی مرحلے میں سات درخواستوں کا موصول ہونا، جن میں ہندوستان کے بعض بڑے صنعتی گھرانوں اور سرکاری شعبے کے ممتاز اداروں کی درخواستیں بھی شامل ہیں۔ اس اسکیم اور ہندوستان کے کوئلہ گیسفیکیشن مشن پر صنعت کے اعتماد کا واضح ثبوت ہے اوربازار نے اپنا وہ فیصلہ بھی پوری قوت کے ساتھ سنا دیا ہے۔‘‘
کوئلہ اور لگنائٹ گیسفیکیشن کے منصوبے بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کے حامل اور سرمایہ طلب منصوبے ہوتے ہیں۔ جن کے لیے وسیع پیمانے پر ابتدائی تیاری درکار ہوتی ہے۔ ان میں پیشگی امکانات کے جائزے، ٹیکنالوجی کا جائزہ، ماحولیاتی پہلوؤں کا مطالعہ اور تفصیلی مالی منصوبہ بندی شامل ہیں۔
پہلے ہی مرحلے میں سات درخواستوں کا جمع ہونا اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ 7 جولائی 2026 کو تجاویز طلب کرنے کا عمل شروع ہونے کے بعد سے صنعت نے اس اسکیم کو کتنی سنجیدگی سے لیا ہے۔
ان منصوبوں میں ملک میں ایک مضبوط اور مستحکم مقامی کوئلہ گیسفیکیشن نظام کی تشکیل میں نمایاں کردار ادا کرنے کی صلاحیت موجود ہے۔ اس سے قبل شروع کی گئی8,500 کروڑ روپئے کی مالی مراعات کی اسکیم کے تحت بھی آٹھ گیسفیکیشن منصوبوں پر پہلے ہی عمل درآمد جاری ہے۔
اسکیم کا پس منظر
سطحی کوئلہ/لگنائٹ گیسفیکیشن منصوبوں کے فروغ کی اسکیم کو وزیرِ اعظم جناب نریندر مودی کی زیرِ صدارت مرکزی کابینہ نے 13 مئی 2026 کو منظوری دی تھی۔ اس اسکیم کے لیے مجموعی طور پر37,500 کروڑ روپئےکی مالی رقم مختص کی گئی ہے۔ اسکیم کے اہم مقاصد درج ذیل ہیں:
- مقامی کوئلے اور لگنائٹ کو زیادہ قدر و قیمت رکھنے والی مصنوعات، مثلاً سنتھیسس گیس، میتھانول، امونیا، یوریا اور ہائیڈروجن میں تبدیل کرنے کو فروغ دینا۔
- ایل این جی، یوریا، امونیا اور میتھانول کی درآمدات پر بھارت کا انحصار کم کرنا۔ مالی سال 25-2024کے دوران ان اشیا کی مجموعی درآمدات تقریباً 2.77 لاکھ کروڑ رہی تھیں۔
- 2030 تک 10 کروڑ ٹن (100 ملین ٹن) کوئلہ گیسفیکیشن کی صلاحیت حاصل کرنے کے قومی ہدف میں معاونت کرنا۔ جس میں اس اسکیم کے تحت 7.5 کروڑ ٹن (75 ملین ٹن) کی گیسفیکیشن صلاحیت تیار کرنا بھی شامل ہے۔
- تقریباً2.5 سے 3 لاکھ کروڑ روپئےکی سرمایہ کاری کو راغب کرنا اور اس پوری ویلیو چین میں براہِ راست اور بالواسطہ روزگار کے خاطر خواہ مواقع پیدا کرنا۔
یہ اسکیم قومی کوئلہ گیسفیکیشن مشن اور جنوری 2024 میں منظور کی گئی 8,500 کروڑروپے کی اسکیم کی بنیاد پر آگے بڑھائی گئی ہے۔ اس سابقہ اسکیم کے تحت اس وقت آٹھ منصوبوں پر عمل درآمد جاری ہے۔
آئندہ کا لائحۂ عمل
پہلے مرحلے کے تحت موصول ہونے والی درخواستوں کا اب اسکیم کے رہنما اصولوں اور تجاویز طلب کرنے کے دستاویز(آر ایف پی) کے مطابق تفصیلی جائزہ لیا جائے گا۔
وزارت نے مزید اعلان کیا ہے کہ اسکیم کا دوسرا مرحلہ 8 ستمبر 2026 سے شروع کر دیا گیا ہے۔ آر ایف پی کے مطابق درخواستیں جمع کرانے کے مواقع ہر دو ماہ کے وقفے سے دوبارہ کھولے جاتے رہیں گے، تاکہ اہل اداروں کو اسکیم میں حصہ لینے کے لیے باقاعدہ مواقع فراہم ہوتے رہیں۔ اس وقت کئی ممکنہ درخواست گزار اپنے منصوبوں کی تیاری کے حتمی مراحل میں ہیں اور توقع ہے کہ وہ آئندہ مراحل میں اپنی تجاویز جمع کرائیں گے۔ اس عمل کے ذریعے زیادہ سے زیادہ اہل اداروں کو اپنی تجاویز پیش کرنے اور کوئلہ گیسفیکیشن کے شعبے میں جدید ٹیکنالوجیز کے استعمال کو فروغ دینے کا موقع ملے گا۔ اس سے نئی سرمایہ کاری، تکنیکی ترقی اور صنعتی صلاحیت میں اضافے کی بھی راہ ہموار ہوگی۔
وزارت نے تمام درخواست گزاروں کی شرکت اور اسکیم پر ان کے اعتماد کو سراہا ہے۔ وزارت ہندوستان میں کوئلہ گیسفیکیشن ٹیکنالوجیز کی ترقی کو تیز کرنے، توانائی کے تحفظ اور درآمدات کے متبادل کو مضبوط بنانے اور ہندوستان کو صاف ستھری کوئلہ ٹیکنالوجیز کے میدان میں عالمی سطح پر قائد ملک بنانے کے عزم پر قائم ہے۔ اس اقدام سے نہ صرف کوئلے کے مؤثر اور جدید استعمال کو فروغ ملے گا بلکہ ملک کی توانائی کی ضروریات کو زیادہ پائیدار انداز میں پورا کرنے میں بھی مدد ملے گی۔ ساتھ ہی، مقامی سطح پر ٹیکنالوجی، تحقیق و ترقی اور ہنرمند افرادی قوت کو فروغ دے کر صنعتی شعبے کی مسابقتی صلاحیت بہتر بنانے پر بھی توجہ دی جائے گی۔ یہ کوششیں طویل مدت میں توانائی کے شعبے میں خود کفالت، اقتصادی ترقی اور صاف ستھری توانائی کے اہداف کے حصول میں اہم کردار ادا کریں گی۔
*******
ش ح۔م ح ۔ ف ر
U-3145
(ریلیز آئی ڈی: 2307787)
وزیٹر کاؤنٹر : 7