بہت چھوٹی، چھوٹی اور درمیانی صنعتوں کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

روایتی ہنر سے دیہی کاروبار تک: کے وی آئی سی کس طرح روزگار کے نئے مواقع پیدا کر رہا ہے


جدوجہد سے کامیابی تک: کھادی و دیہی صنعت کمیشن کاروباری خوابوں کو کامیابی کی حقیقت میں بدل رہا ہے

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 07 SEP 2026 12:13PM by PIB Delhi

دیہی ہندوستان میں روایتی ہنر اور مقامی طور پر دستیاب وسائل تیزی سے کاروبار کے نئے مواقع کی بنیاد بن رہے ہیں۔ سائنسی طریقے سے شہد کی مکھیوں کی پرورش اور قدر میں اضافہ شدہ شہد کی مصنوعات سے لے کر خس پر مبنی کاروبار اور کیلے کے ریشے سے تیار کردہ مصنوعات تک، دیہی کاروباری افراد یہ ثابت کر رہے ہیں کہ مقامی علم و ہنر کو کس طرح قابلِ عمل کاروبار اور روزگار کے مواقع میں تبدیل کیا جا سکتا ہے۔

بہت چھوٹی،  چھوٹی اور درمیانے درجے کی صنعتوں کی وزارت کے تحت کھادی اور دیہی صنعت کمیشن تربیت، مالی معاونت، بہتر آلات و ٹیکنالوجی، مارکیٹ سپورٹ اور دیگر اقدامات کے ذریعے اس تبدیلی کی حمایت کر رہا ہے۔ کھادی وکاس یوجنا، گرامودیگ وکاس یوجنا اور پردھان منتری روزگار سرجن پروگرام جیسی اسکیموں کے ذریعے روایتی ہنر کو جدید کاروباری صلاحیتوں سے مضبوط کیا جا رہا ہے، جس سے کاریگروں اور دیہی کاروباری افراد کو پائیدار روزگار کے ذرائع پیدا کرنے میں مدد مل رہی ہے۔

جدوجہد سے کامیابی تک: متاثر کن کاروباری سفر

1.جناب ٹی - اجین: شہد کی مکھیوں  کو پالنےسے روزگار کے مواقع  پیدا کرنے تک:

تمل ناڈو کے کنیا کماری میں جناب ٹی- اجین نے شہد کی مکھیوں  کے پالنے سے متعلق اپنے علم کو’مارتھنڈم ہنی پروڈکٹس‘ کے ذریعے ایک کامیاب شہد کے کاروبار میں تبدیل کر دیا ہے۔ یہ ادارہ اے جی مارک سے تصدیق شدہ شہد اور خشک میوہ جات سے تیار کردہ شہد پیش کرتا ہے، جس سے روایتی شہد کی مکھیوں کی پرورش سے حاصل ہونے والی پیداوار میں قدر میں اضافہ ہوتا ہے۔

 .

لیکن جناب اجین کی خدمات صرف اپنے کاروبار تک محدود نہیں ہیں۔ وہ کسانوں، بالخصوص معاشی طور پر کمزور طبقات اور درج فہرست ذاتوں و قبائل سے تعلق رکھنے والے افراد کو شہد کی مکھیاں پالنے کے جدید طریقوں کی تربیت بھی دیتے ہیں۔ اس کے علاوہ وہ ریاستی، علاقائی اور ضلعی سطح کے مختلف پروگراموں میں بھی حصہ لے چکے ہیں اور آل انڈیا ریڈیو اور دوردرشن کے ذریعے بھی اپنے علم و تجربے سے لوگوں کو آگاہ کرتے رہے ہیں۔

ان کا سفر اس بات کی مثال ہے کہ ایک کاروباری شخص کامیاب کاروبار قائم کرنے کے ساتھ ساتھ اپنی برادری کے دیگر افراد کو روزگار کے اپنے مواقع تلاش کرنے میں مدد دے کر بھی مثبت اثرات پیدا کر سکتا ہے۔

2. جناب بی- سندراج: خس کو کاروبار میں تبدیل کرنے کی مثال

جناب بی- سندراج کے لیے قدرتی خوشبو رکھنے والا ایک پودا کاروبار کے ایک نئے موقع کی بنیاد بن گیا۔ اپنے ’پیور ہیلتھ ہربل اگربتی یونٹ‘ کے ذریعے وہ اگربتی، جڑی بوٹیوں سے تیار کردہ مصنوعات، خس کی اگربتی اور خس کی سنبورانی تیار کرتے ہیں.

.

سن25-2024کے دوران گرامودیگ وکاس یوجنا کے تحت حاصل ہونے والی مدد سے جناب سندراج نے اپنی پیداواری صلاحیت کو مزید بہتر بنایا اور اپنی مصنوعات کے دائرے کو وسعت دی۔ ان کی کہانی اس بات کی مثال ہے کہ مقامی وسائل، روایتی علم اور ایک کاروباری خیال کس طرح یکجا ہو کر ایک پائیدار دیہی کاروبار کی بنیاد بن سکتے ہیں۔

 

3.جناب ایم- مروگیشن: زرعی فضلے کو نئی شکل دی

جناب ایم- مروگیشن نے پی ایم ای جی پی کے تحت ’’کیلے کے ریشے سے آرائشی اشیا تیار کرنے کے یونٹ‘‘ کے ذریعے اسی تصور کو بنیاد بنا کر اپنا کاروبار قائم کیا ہے۔ ’’اوم بنانا کرافٹ پرائیویٹ لمیٹڈ‘‘ کے تحت وہ کیلے کے ریشے سے خوبصورت اور کارآمد آرائشی اشیا تیار کرتے ہیں، جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ زرعی وسائل کو کس طرح قدر افزا مصنوعات میں تبدیل کیا جا سکتا ہے۔

.

ان کی خدمات کے اعتراف میں انہیں مرکزی اور ریاستی حکومتوں کی جانب سے اعزازات بھی مل چکے ہیں۔ وہ باقاعدگی سے نمائشوں اور بیداری پروگراموں میں شرکت کرتے ہیں اور آل انڈیا ریڈیو، دوردرشن اور تربیتی پروگراموں کے ذریعے اپنے علم و تجربے سے دوسروں کو بھی مستفید کرتے ہیں۔ ان کا سفر اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ دیہی کاروبار نئی مصنوعات کی تیاری کے ذریعے قدر پیدا کرنے کے ساتھ ساتھ مقامی اور قدرتی وسائل کا بہتر استعمال بھی کر سکتے ہیں۔

شہد مشن: شہد کی مکھیوں  کی پرورش کو روزگار کا ذریعہ بنانا

اس سفر کے نمایاں پہلوں میں سے ایک ’شہد مشن‘ ہے، جسے 2017 میں سائنسی طریقے سے شہد کی مکھیوں کی پرورش کو فروغ دینے اور کسانوں، قبائلی برادریوں اور بے روزگار نوجوانوں کے لیے روزگار کے مواقع پیدا کرنے کے مقصد سے شروع کیا گیا تھا۔ اس پروگرام کے تحت مستحقین کو تربیت کے ساتھ شہد کی مکھیوں کے چھتے، زندہ شہد کی مکھیوں کی کالونیاں اور متعلقہ آلات پر مشتمل کٹس فراہم کی جاتی ہیں۔ اس طرح انہیں شہد کی مکھیوں کی پرورش شروع کرنے اور رفتہ رفتہ اسے آمدنی کا مستقل ذریعہ بنانے کے قابل بنایا جاتا ہے۔

  

اس پہل کے وسیع پیمانے کا اندازہ اعداد و شمار سے لگایا جا سکتا ہے۔ کھادی اور دیہی صنعت کمیشن کے مطابق،18-2017 سے26-2025 کے درمیان ملک بھر میں تقریباً 2,46,000 شہد کی مکھیوں کے چھتے اور کالونیاں تقسیم کی گئیں، جس کے نتیجے میں26-2025 کے دوران تقریباً 5,500 میٹرک ٹن شہد کی پیداوار ہوئی۔

شہد سے آگے

شہد کی مکھیوں کی پرورش سے شہد کی پیداوار کے علاوہ بھی روزگار کے مواقع پیدا ہوتے ہیں۔ شہد کی مکھیاں پھولوں کے زرگل کی منتقلی میں اہم کردار ادا کرتی ہیں، جس سے شہد کی مکھیوں کی پرورش، زراعت اور حیاتیاتی تنوع کے درمیان قدرتی ربط قائم ہوتا ہے۔ تمل ناڈو، کیرالہ، کرناٹک، آندھرا پردیش، تلنگانہ، اوڈیشہ اور شمال مشرقی ریاستوں سمیت کئی ریاستوں میں شہد کی مکھیوں کے پالنے والے ہندوستانی نسل کی شہد کی مکھیوں کی پرورش کرتے ہیں اور ان کی روزی روٹی اس سرگرمی سے وابستہ ہے۔

لہٰذا شہد کی مکھیوں کی پرورش محض اضافی آمدنی کا ذریعہ ہی نہیں بلکہ وسیع تر دیہی کاروباری نظام میں داخلے کا ایک اہم ذریعہ بھی بن سکتی ہے۔

روایت سے کاروبار تک

جناب ٹی- اجین، جناب بی- سندراج اور جناب ایم- مروگیشن کے تجربات دیہی ہندوستان کے لیے ایک بڑے موقع کی نشاندہی کرتے ہیں۔ روایتی ہنر اور مقامی وسائل تربیت، ٹیکنالوجی، مالی معاونت، منڈی تک رسائی اور کاروباری صلاحیت کی مدد سے جدید کاروبار کی بنیاد بن سکتے ہیں۔

اپنے مختلف پروگراموں اور اقدامات کے ذریعے کھادی اور دیہی صنعت کمیشن اس تبدیلی کی مسلسل حمایت کر رہا ہے۔ اس کا مقصد دیہی برادریوں کو اپنی روایتی صلاحیتوں اور ہنر کو محفوظ رکھنے کے ساتھ ساتھ ان کے گرد نئے معاشی مواقع پیدا کرنے میں مدد دینا ہے۔

روایت سے کاروبار تک، مقامی وسائل سے قدر میں اضافہ شدہ مصنوعات تک اور انفرادی ہنر سے وسیع تر روزگار کے مواقع تک، ہندوستان کی دیہی صنعتیں ملک میں دیہی کاروباری سرگرمیوں کی داستان کا ایک اہم حصہ بنتی جا رہی ہیں۔

تفصیلات کے لیے ویب سائٹ: https://www.kvic.gov.in/kvicres/index.php پر جائیں۔

***

ش ح۔   م ع ن۔ ش ب ن

U-NO-3102


(ریلیز آئی ڈی: 2307363) وزیٹر کاؤنٹر : 8