وزیراعظم کا دفتر
پیرس میں سوامی نارائن ہندو مندر کے افتتاح کے موقع پر وزیراعظم کے خطاب کا اصل متن
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
06 SEP 2026 11:33PM by PIB Delhi
پوجیہ مہنت سوامی جی، فرانس کی حکومت کے معزز نمائندگان، موجود معزز مہمانان گرامی، ہندوستانی کمیونٹی سے وابستہ میرے ساتھیو، ملک و دنیا بھر سے جڑے تمام ہری بھکت، خواتین و حضرات، جئے سوامی نارائن!
آج فرانس کے دارالحکومت پیرس میں عظیم الشان سوامی نارائن مندر کا افتتاح ہو رہا ہے۔ یہ افتتاح ہندوستان اور فرانس کے ثقافتی تعلقات میں ایک نئے دور کا سنگ میل ہے۔ پوجیہ سنتوں اور سناتن روایت کے معزز بزرگوں کےآشیرواد کے ساتھ آج افتتاح کا یہ موقع ’’وسودھیو کٹمبکم‘‘ یعنی ’’پوری دنیا ایک خاندان ہے‘‘ کے جذبے کا مظہر بن گیا ہے۔بھگوان سوامی نارائن کی کرپا اور ہمارے سنتوں کی محبت و آشیرواد حاصل ہونا ،میرے لیے خوش نصیبی ہے کہ مجھے ایسے مقدس مواقع سے ہمیشہ جڑنے کا موقع ملتا رہتا ہے۔ آج بھی اگرچہ میں پیرس میں آپ سب کے درمیان موجود نہیں ہوں، لیکن اپنے من اور دل سے میں خود کو آپ ہی کے درمیان محسوس کر رہا ہوں۔
ساتھیو!
آج اس موقع پر میں پرم پوجیہ پرمکھ سوامی جی مہاراج کو بھی عقیدت و احترام کے ساتھ یاد کرتا ہوں۔ زمانہ قدیم میں ہندوستان کو جو عظیم ثقافتی اور روحانی ورثہ حاصل تھا، اس کے احیاء کے لیے انہوں نے ایک عظیم مہم کا آغاز کیا تھا۔ آج اس مہم کی روشنی یورپ سمیت پوری دنیا میں پھیل رہی ہے۔2024 میں ابوظہبی میں ایک عظیم الشان مندر کا افتتاح ہوا تھا۔ آج وہاں ہزاروں لوگ درشن کے لیے جاتے ہیں اور اب یہاں پیرس میں سوامی نارائن مندر کی تعمیر،تخلیق اور خدمت کے اس تسلسل کا جاری رہناسنتوں کی عزم و حوصلے کی قوت کا ثبوت ہے۔میں اس مقدس اور نیک کام کے لیے پوجیہ مہنت سوامی جی کا تہہ دل سے شکریہ ادا کرتا ہوں اور ان کے قدموں میں پرنام کرتا ہوں۔ میں بی اے پی ایس سوامی نارائن سنستھا اور کروڑوں ہری بھکتوں کو اس مبارک موقع پر دل کی گہرائیوں سے مبارک باد پیش کرتا ہوں۔
ساتھیو!
بی اے پی ایس کے ذریعے جب مختلف ممالک میں مندروں کی پران پرتِشٹھا کی جاتی ہے تو وہاں ہندوستان کے قدیم افکار اور انسانی اقدار بھی ساتھ ساتھ پہنچتے ہیں۔ ہندوستان کا فلسفہ کہتا ہے: ’’سَمانَم مَنَہ سہ چِتّام ایشام‘‘، یعنی ہمارے خیالات یکساں ہوں اور ہمارے دل ایک دوسرے سے جڑے رہیں۔ اسی لیے آج جب فرانس میں اتنا عظیم الشان مندر تعمیر ہو کر تیار ہوا ہے تو یہ نہ صرف فرانس کے تنوع کو مزید مالا مال کرے گا بلکہ اس سے ہندوستان اور فرانس کے ثقافتی تعلقات کو بھی نئی توانائی ملے گی۔
ساتھیو!
گزشتہ برسوں میں ہندوستان اور فرانس کے تعلقات نئی بلندیوں تک پہنچے ہیں۔ میرے دوست صدر میکرون کے ساتھ مل کر دونوں ممالک ایک خصوصی عالمی اسٹریٹجک شراکت داری کو فروغ دے رہے ہیں۔ ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت اور دفاع سے لے کر خلاء اور موسمیاتی اقدامات تک، ہم نئی رفتار اور نئی توانائی کے ساتھ مل کر آگے بڑھ رہے ہیں۔ ہم 2026 کو ’’انڈیا-فرانس ایئر آف انوویشن‘‘کے طور پر بھی منا رہے ہیں۔ ہندوستان-فرانس کی یہ اسٹریٹجک شراکت داری اس لیے بھی خاص ہے کہ یہ ہمارے قدیم ثقافتی اور سیاسی تعلقات کی مضبوط بنیاد پر قائم ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ فرانس میں ہندوستانی فوجیوں کی قربانیوں کی تاریخ آج بھی لوگوں کے دلوں میں زندہ ہے۔زبان سے متعلق موضوعات میں دلچسپی رکھنے والے لوگ یہ بھی جانتے ہیں کہ فرانسیسی اسکالرز نے سنسکرت کو مقبول بنانے میں کتنا اہم کردار ادا کیا ہے۔ رام کرشن پرمہنس اور سوامی وویکانند پر رومیں رولاں کی تحریروں نے ہمارے معاشروں کو مزید ایک دوسرے کے قریب لانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔پیرس سے پڈوچیری کے اروبندو آشرم تک ’’دی مدر‘‘کا روحانی سفراس نے کتنے ہی ہندوستانی اور فرانسیسی سادھکوں کو تحریک اور ترغیب دی ہے۔
ساتھیو!
کئی دہائیاں قبل شریلا پربھوپاد سوامی جی بھی فرانس آئے تھے۔ انہوں نے اسکان کے ذریعے ہندوستان اور فرانس کے درمیان روحانی تعلقات کے ایک نئے باب کا آغاز کیا تھا۔ آج یوگا بھی ہندوستان اور فرانس کے عوام کے درمیان باہمی روابط کا ایک ذریعہ بن چکا ہے۔ ’’بین الاقوامی یومِ یوگا‘‘کے موقع پر ایفل ٹاور کے سامنے سے آنے والی تصاویر فرانس میں یوگا کی مقبولیت کی ایک مثال ہیں اور اب بی اے پی ایس کے اس عظیم الشان مندر کے ذریعے ہمارے ان ثقافتی تعلقات میں ایک نیا باب شامل ہو رہا ہے۔
ساتھیو!
آج کل ہندوستان اور فرانس کے درمیان مشترکہ منصوبوں کے امکانات پر گفتگو ہوتی رہتی ہے۔ سوامی نارائن مندر نے اس امکان میں بھی ایک نئی جہت کا اضافہ کیا ہے۔ یہ مندر ’’میڈ اِن انڈیا‘‘ہے اور ’’بلٹ اِن فرانس‘‘ہے۔اس مندر کے بہت سے پتھروں کو ہندوستان میں تراشا گیا ہے۔ ہندوستان کی قدیم فنی مہارت یہاں فرانس میں جدید انجینئرنگ کے ساتھ مل کر ایک نئی شکل اختیار کر چکی ہے۔ اس طرح پیرس میں اس عظیم الشان مندر نے اپنی صورت اختیار کی ہے۔اسی لیے مجھے امید ہے کہ یہ مندر صدیوں تک ہندوستان اور فرانس کے درمیان تعاون اور باہمی امکانات کی علامت کے طور پر بھی ابھرتا رہے گا۔
ساتھیو!
سوامی نارائن مندر ہمیشہ سے بھکتی کے ساتھ ساتھ خدمت کا ذریعہ بھی رہے ہیں۔ مجھے بتایا گیا ہے کہ یہ مندر بھی اسی طرح مختلف خدمت کے منصوبوں کا مرکز بنے گا۔ مجھے یقین ہے کہ یہاں سے ہندوستانی ثقافت کے جو سُر بلند ہوں گے، ان سے پورے یورپ کے لوگوں کو فائدہ پہنچے گا۔مستقبل میں جب بھی مجھے وقت ملے گا، میں اس مندر میں درشن کرنے کی ضرور کوشش کروں گا۔انہی الفاظ کے ساتھ، ایک بار پھر آج کی اس افتتاحی تقریب میں شریک تمام معزز مہمانوں، سبھی خاندانوں، تمام ہری بھکتوں اور ہندوستانی تارکینِ وطن کو اپنی جانب سے اس مبارک افتتاح کے موقع پر نیک خواہشات اور مبارک باد پیش کرتا ہوں!
بہت بہت شکریہ!
مرسی بوکو!
جئے سوامی نارائن!
********
ش ح۔ م ع ن۔ ش ب ن
U-NO-3095
(ریلیز آئی ڈی: 2307329)
وزیٹر کاؤنٹر : 7