امور داخلہ کی وزارت
داخلی امور اور امداد باہمی کے مرکزی وزیر جناب امت شاہ پیر کے روز ، 7 ستمبر 2026 کو گوا کے دارالحکومت پناجی میں مغربی زونل کونسل کے 28 ویں اجلاس کی صدارت کریں گے
وزیر اعظم جناب نریندر مودی جی نے باہمی تعاون پر مبنی وفاقیت کی بنیاد پر ملک کے لیے ٹیم بھارت کا تصور پیش کیا ہے اور زونل کونسلیں اس سمت میں ایک اہم کردار ادا کر رہی ہیں
زونل کونسلیں دو یا دو سے زیادہ ریاستوں، یا مرکز اور ریاستوں کو یکجا طور پر متاثر کرنے والے مسائل پر بات چیت اور تبادلہ خیال کے لیے ایک ڈھانچہ جاتی میکانزم فراہم کرتی ہیں اور اس عمل کے ذریعے باہمی تعاون کو فروغ دینے کے لیے ایک بہترین پلیٹ فارم کے طور پر کام کرتی ہیں
تمام ریاستی حکومتوں، مرکزی وزارتوں اور محکموں کے تعاون سے جون 2014 سے اب تک مختلف زونل کونسلوں اور ان کی قائمہ کمیٹیوں کے مجموعی طور پر 70 اجلاس منعقد ہو چکے ہیں
زونل کونسلیں مرکز اور رکن ریاستوں/مرکز کے زیرِ انتظام علاقوں کے درمیان اور رکن ریاستوں/مرکز کے زیرِ انتظام علاقوں کے مابین مسائل اور تنازعات کو حل کرنے اور خطے سے متعلق معاملات پر پیش رفت کے لیے ایک بہترین پلیٹ فارم فراہم کرتی ہیں
یہ کونسلیں قومی اہمیت کے حامل وسیع مسائل پر بھی بحث کرتی ہیں، جیسے کہ خواتین اور بچوں کے خلاف عصمت دری کے معاملات کی تحقیقات میں تیزی لانا، ان کے فوری تصفیہ کے لیے فاسٹ ٹریک اسپیشل کورٹس ( ایف ٹی ایس سی) کا نفاذ اور ایمرجنسی رسپانس سپورٹ سسٹم پر عملدرآمد وغیرہ
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
05 SEP 2026 3:27PM by PIB Delhi
داخلی امور اور امداد باہمی کے مرکزی وزیر جناب امت شاہ پیر، 7 ستمبر 2026 کو گوا کے دارالحکومت پناجی میں مغربی زونل کونسل کے 28 ویں اجلاس کی صدارت کریں گے۔ مغربی زونل کونسل گوا، گجرات اور مہاراشٹر کی ریاستوں اور دادرا اور نگر حویلی اور دمن اور دیو کے مرکز کے زیرِ انتظام علاقے پر مشتمل ہے۔ مغربی زونل کونسل سمیت پانچ زونل کونسلیں اسٹیٹس ری آرگنائزیشن ایکٹ، 1956 کی دفعات 15 سے 22 کے تحت قائم کی گئی ہیں۔
داخلی امور اور امداد باہمی کے مرکزی وزیر جناب امت شاہ مغربی زونل کونسل کے چیئرمین ہیں، جبکہ گوا کے وزیر اعلیٰ اس کے وائس چیئرمین ہیں۔ رکن صوبوں میں سے، ایک ریاست کا وزیر اعلیٰ ہر سال باری باری سے کونسل کے وائس چیئرمین کے طور پر خدمات انجام دیتا ہے۔ اس اجلاس کا انعقاد بین ریاستی کونسل سیکریٹریٹ ، وزارت داخلہ، حکومت ہند کی جانب سے کیا جا رہا ہے اور گوا حکومت اس کی ميزبانی کر رہی ہے۔ زونل کونسل مغربی خطے کی ہر ریاست کے وزرائے اعلیٰ اور ہر ریاست کے دو سینئر وزراء پر بطور ارکان مشتمل ہے۔ حکومت ہند اور ریاستی حکومتوں/مرکز کے زیرِ انتظام علاقوں کے سینئر افسران بھی کونسل کے اس اجلاس میں شرکت کریں گے۔
زونل کونسل نے چیف سیکریٹریوں کی سطح پر ایک قائمہ کمیٹی بھی تشکیل دی ہے۔ ریاستوں کی طرف سے تجویز کردہ مسائل کو پہلے بحث کے لیے زونل کونسل کی قائمہ کمیٹی کے سامنے رکھا جاتا ہے۔ غور و خوض کے بعد جو مسائل حل طلب رہ جاتے ہیں، انہیں زونل کونسل کے اجلاس میں غور وخوض کے لیے پیش کیا جاتا ہے۔
وزیر اعظم جناب نریندر مودی جی نے باہمی تعاون پر مبنی وفاقیت کے اصول کی بنیاد پر ملک کے لیے ٹیم بھارت کا تصور پیش کیا ہے اور زونل کونسلیں اس سمت میں ایک اہم کردار ادا کر رہی ہیں۔ وزیر اعظم جناب نریندر مودی جی نے ہمہ جہت ترقی کے حصول کے لیے باہمی تعاون پر مبنی اور مسابقتی وفاقیت کی صلاحیتوں سے فائدہ اٹھانے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔
اس جذبے کے ساتھ کہ مضبوط ریاستیں ایک مضبوط ملک بناتی ہیں، زونل کونسلیں دو یا دو سے زیادہ ریاستوں، یا مرکز اور ریاستوں کو یکجا طور پر متاثر کرنے والے مسائل پر بات چیت اور مباحثے کے لیے ایک ڈھانچہ جاتی میکانزم فراہم کرتی ہیں اور اس عمل کے ذریعے باہمی تعاون کو فروغ دینے کے لیے ایک بہترین پلیٹ فارم کے طور پر کام کرتی ہیں۔
زونل کونسلوں کا کردار مشاورتی ہے، تاہم، گزشتہ چند برسوں کے دوران یہ کونسلیں مختلف شعبوں میں باہمی افہام و تفہیم اور تعاون کے صحت مند رشتوں کو فروغ دینے کے لیے ایک اہم عنصر کے طور پر ابھری ہیں۔
تمام ریاستی حکومتوں، مرکزی وزارتوں اور محکموں کے تعاون سے گزشتہ 12 برسوں کے دوران (جون 2014 سے اب تک) مختلف زونل کونسلوں اور ان کی قائمہ کمیٹیوں کے مجموعی طور پر 70 اجلاس منعقد ہو چکے ہیں۔
زونل کونسلیں مرکز اور رکن ریاستوں/مرکز کے زیرِ انتظام علاقوں کے درمیان اور رکن ریاستوں/مرکز کے زیرِ انتظام علاقوں کے مابین مسائل اور تنازعات کو حل کرنے اور خطے سے متعلق معاملات پر پیش رفت کے لیے ایک بہترین پلیٹ فارم فراہم کرتی ہیں۔
یہ کونسلیں قومی اہمیت کے حامل وسیع مسائل پر بھی بحث کرتی ہیں، جن میں خواتین اور بچوں کے خلاف عصمت دری کے معاملات کی تیز رفتار تحقیقات اور ان کے فوری تصفیہ کے لیے فاسٹ ٹریک اسپیشل کورٹس ( ایف ٹی ایس سی) کا نفاذ؛ ایمرجنسی رسپانس سپورٹ سسٹم ( ای آر ایس ایس 112-) ؛ غذائی تحفظ کے معیارات سے متعلق مسائل؛ ہر گاؤں کے ایک متعینہ دائرے میں بِرک- اینڈ- مورٹار بینکنگ سہولیات فراہم کرنا ؛ اور غذائیت، تعلیم، صحت، بجلی کے شعبے کی اصلاحات، شہری منصوبہ بندی ، کوآپریٹو سسٹم کو مضبوط بنانا ، سائبر جرائم اور ڈیجیٹل انفراسٹرکچر جیسے دیگر معاملات شامل ہیں۔
زونل کونسلیں مرکز اور رکن ریاستوں/مرکز کے زیرِ انتظام علاقوں کے درمیان اور رکن ریاستوں/مرکز کے زیرِ انتظام علاقوں کے مابین مسائل اور تنازعات کو حل کرنے اور خطے سے متعلق معاملات پر پیش رفت کے لیے ایک بہترین پلیٹ فارم فراہم کرتی ہیں۔
یہ کونسلیں قومی اہمیت کے حامل وسیع مسائل پر بھی بحث کرتی ہیں، جن میں خواتین اور بچوں کے خلاف عصمت دری کے معاملات کی تیز رفتار تحقیقات اور ان کے فوری تصفیہ کے لیے فاسٹ ٹریک اسپیشل کورٹس ( ایف ٹی ایس سی) کا نفاذ؛ ایمرجنسی رسپانس سپورٹ سسٹم ( ای آر ایس ایس 112-) ؛ غذائی تحفظ کے معیارات سے متعلق مسائل؛ ہر گاؤں کے ایک متعینہ دائرے میں بِرک- اینڈ- مورٹار بینکنگ سہولیات فراہم کرنا ؛ اور غذائیت، تعلیم، صحت، بجلی کے شعبے کی اصلاحات، شہری منصوبہ بندی ، کوآپریٹو سسٹم کو مضبوط بنانا ، سائبر جرائم اور ڈیجیٹل انفراسٹرکچر جیسے دیگر معاملات شامل ہیں۔
*****
(ش ح- ن ا)
U.N:3058
(ریلیز آئی ڈی: 2307019)
وزیٹر کاؤنٹر : 6