وزیراعظم کا دفتر
بیلجیم کے وزیرِ اعظم کے دورۂ بھارت کے موقع پر بھارت اور بیلجیم کا مشترکہ اعلامیہ
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
03 SEP 2026 2:48PM by PIB Delhi
بھارت کے وزیرِ اعظم جناب نریندر مودی کی دعوت پر مملکتِ بیلجیم کے وزیرِ اعظم عالی جناب بارٹ ڈی ویور 2 سے 4 ستمبر 2026 تک بھارت کے سرکاری دورے پر ہیں۔ بیلجیم کے وزیرِ اعظم کے ہمراہ بیلجیم کے وزیرِ دفاع و خارجہ تجارت عالی جناب تھیو فرانکن کے علاوہ اعلیٰ حکام اور کاروباری رہنماؤں پر مشتمل ایک اعلیٰ سطحی وفد بھی بھارت آیا ہے۔ وزیرِ اعظم ڈی ویور کا فروری 2025 میں منصبِ وزارتِ عظمیٰ سنبھالنے کے بعد یہ بھارت کا پہلا دورہ ہے۔
وزیرِ اعظم ڈی ویور نے اپنے دورے کا آغاز راج گھاٹ پر مہاتما گاندھی کو خراجِ عقیدت پیش کرکے کیا۔ اس کے بعد وزیرِ اعظم ڈی ویور نے بھارت کے وزیرِ اعظم جناب نریندر مودی کے ساتھ دوطرفہ مذاکرات کیے۔ مذاکرات کا پہلا مرحلہ محدود سطح پر ہوا، جس کے بعد دونوں جانب کے وفود کی شرکت کے ساتھ بات چیت کا سلسلہ جاری رہا۔ دونوں رہنماؤں کے درمیان ہونے والی گفتگو میں دونوں ممالک کے باہمی تعلقات کے تمام پہلوؤں کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ وزیرِ اعظم مودی نے وزیرِ اعظم ڈی ویور اور ان کے ہمراہ آنے والے وفد کے اعزاز میں ظہرانہ بھی دیا۔
دونوں رہنماؤں نے پہلی عالمی جنگ کے دوران فلینڈرز کے میدانوں میں 9,000 سے زائد بھارتی فوجیوں کی عظیم قربانی کو یاد کیا۔ انہوں نے اس امر کو بھی یاد کیا کہ بیلجیم 1947 میں بھارت کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کرنے والے اولین یورپی ممالک میں شامل تھا۔ رہنماؤں نے اس بات کا مشاہدہ کیا کہ اس کے بعد سے دونوں ممالک کے درمیان شراکت داری مشترکہ جمہوری اقدار، باہمی اعتماد، معاشی تکمیلات اور عوامی سطح پر مضبوط روابط کی بنیاد پر مسلسل فروغ پاتی رہی ہے۔دونوں رہنماؤں نے اس کثیرالجہتی تعلق کو مزید وسعت دینے اور اسے زیادہ مستحکم و گہرا بنانے کی خواہش کا اظہار کیا۔ 2027 میں بیلجیم اور بھارت کے درمیان سفارتی تعلقات کے قیام کی 80ویں سالگرہ دونوں ممالک کو باہمی تعلقات میں مزید وسعت اور گہرائی پیدا ہونے کی خوشی منانے کے لیے ایک اور تاریخی موقع فراہم کرے گی۔
دونوں رہنماؤں نے 15 جولائی 2026 کو برسلز میں بھارت۔بیلجیم اسٹریٹجک ڈائیلاگ کے افتتاحی اجلاس کے آغاز کا خیرمقدم کیا، جس کی مشترکہ صدارت بھارت کے وزیرِ خارجہ اور بیلجیم کے نائب وزیرِ اعظم و وزیرِ خارجہ نے کی۔ وسیع تر بھارت۔یورپی یونین اسٹریٹجک شراکت داری کے تناظر میں قائم کیے گئے اس مکالمے نے تجارت و سرمایہ کاری، سبز منتقلی، ٹیکنالوجی، رابطہ کاری، دفاع، سلامتی اور عوامی روابط سمیت مختلف شعبوں میں تعاون کو آگے بڑھانے کے لیے ایک باقاعدہ اور جامع طریقۂ کار وضع کیا ہے۔ اس ضمن میں دونوں رہنماؤں نے آئندہ ہونے والے خارجہ امور کے مشاورتی جلسوں کا خیرمقدم کرتے ہوئے انہیں اسٹریٹجک ڈائیلاگ کے تحت متعین ترجیحات کو آگے بڑھانے کے لیے ایک اہم پلیٹ فارم قرار دیا۔
دونوں رہنماؤں نے ایک بار پھر ایسے اصلاح شدہ اور مؤثر کثیرالجہتی نظام کی ضرورت پر زور دیا جس کا مرکز اقوامِ متحدہ کا منشور ہو، تاکہ ایک منصفانہ اور پُرامن بین الاقوامی نظام کو برقرار رکھا جا سکے، دنیا کو درپیش فوری نوعیت کے عالمی چیلنجز سے نمٹا جا سکے اور ٹیکنالوجی اور معیشت سمیت ابھرتی ہوئی عالمی پیش رفت کے لیے دنیا کو تیار کیا جا سکے۔ دونوں رہنماؤں نے بالخصوص اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل میں اصلاحات کی فوری ضرورت پر زور دیا تاکہ اسے آج کی دنیا کی عکاسی کرنے والا زیادہ نمائندہ ادارہ بنایا جا سکے۔ بیلجیم نے اصلاح شدہ اور توسیع شدہ اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل میں مستقل رکنیت کے لیے بھارت کی امیدواری کی حمایت کا اعادہ کیا۔ دونوں ممالک نے اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی غیر مستقل رکنیت کے لیے ایک دوسرے کی امیدواری بھارت 2028-29 کی مدت کے لیے اور بیلجیم 2037-2038 کی مدت کے لیے کی حمایت کرنے پر اتفاق کیا۔
بھارت۔یورپی یونین اسٹریٹجک شراکت داری اور آزاد تجارتی معاہدہ
دونوں وزرائے اعظم نے اس امر کی توثیق کی کہ بھارت اور بیلجیم کے تعلقات میں بھارت۔یورپی یونین اسٹریٹجک شراکت داری کو مرکزی حیثیت حاصل ہے۔ انہوں نے 27 جنوری 2026 کو منعقدہ بھارت۔یورپی یونین سربراہی اجلاس کے دوران بھارت۔یورپی یونین آزاد تجارتی معاہدے کے لیے مذاکرات کی کامیاب تکمیل کا خیرمقدم کیا۔ دونوں رہنماؤں نے اس امر پر زور دیا کہ بھارت اور یورپی یونین کے درمیان اقتصادی روابط کو مزید مستحکم کرنے کے لیے یورپی یونین۔بھارت سرمایہ کاری کے تحفظ کے معاہدے اور جغرافیائی اشاریوں سے متعلق معاہدے پر مذاکرات بھی جلد از جلد مکمل کیے جائیں۔
دونوں رہنماؤں نے بھارت۔یورپی یونین آزاد تجارتی معاہدے کو اسٹریٹجک شراکت داری میں ایک تاریخی سنگِ میل قرار دیتے ہوئے اس پر بروقت عمل درآمد پر زور دیا، تاکہ اہمیت کی حامل ویلیو چینز کو متنوع بنانے اور نئی منڈیوں تک رسائی کے ذریعے تجارت اور سرمایہ کاری میں تعاون کی حقیقی صلاحیت سے بھرپور فائدہ اٹھایا جا سکے۔
دونوں وزرائے اعظم نے بھارت۔یورپی یونین تجارت و ٹیکنالوجی کونسل کے تحت ہونے والی نمایاں پیش رفت کا خیرمقدم کیا، جس میں جولائی 2026 میں برسلز میں منعقدہ وزارتی اجلاس بھی شامل ہے۔ اس پیش رفت کا مقصد ایسے وقت میں زیادہ مربوط، مضبوط اور پائیدار اقتصادی و تکنیکی شراکت داری کو فروغ دینا ہے، جب تجارت اور ٹیکنالوجی باہم پہلے سے کہیں زیادہ جڑتے جا رہے ہیں۔ اس تناظر میں دونوں رہنماؤں نے تجارت، ٹیکنالوجی، اقتصادی سلامتی اور مضبوط و قابلِ اعتماد ویلیو چینز کے شعبوں میں بھارت، بیلجیم اور یورپی یونین کے درمیان تعاون کو مزید مستحکم کرنے کے عزم کا اعادہ کیا۔
دونوں فریقوں نے 2030 کے لیے مشترکہ بھارت۔یورپی یونین جامع اسٹریٹجک ایجنڈے کی بھی توثیق کی، جس کا مقصد بھارت۔یورپی یونین تعاون کو مزید وسیع اور گہرا کرکے اسٹریٹجک شراکت داری کو مضبوط بنانا اور دونوں شراکت داروں کے ساتھ ساتھ وسیع تر عالمی برادری کے لیے باہمی مفاد پر مبنی، ٹھوس اور دور رس نتائج حاصل کرنا ہے۔ دونوں رہنماؤں نے یہ بھی نوٹ کیا کہ بھارت۔یورپی یونین سلامتی و دفاعی شراکت داری پر دستخط سے مشترکہ مفادات کے حامل شعبوں میں اسٹریٹجک تعاون مزید گہرا ہوگا۔ ان شعبوں میں بحری سلامتی، دفاعی صنعت اور ٹیکنالوجی، سائبر اور ہائبرڈ خطرات، خلائی امور اور انسدادِ دہشت گردی شامل ہیں۔
تجارت، اقتصادی تعاون اور سرمایہ کاری
بیلجیم دنیا کی 24ویں بڑی معیشت ہے، جبکہ بھارت آنے والے برسوں میں اپنی معیشت کا حجم 10 ٹریلین امریکی ڈالر تک پہنچانے کا عزم رکھتا ہے۔ دونوں رہنماؤں نے باہمی مفاد پر مبنی شراکت داری کے وسیع امکانات کا اعتراف کیا۔ اپنی معیشتوں کے درمیان پائی جانے والی مضبوط تکمیلی نوعیت کو مدنظر رکھتے ہوئے، دونوں وزرائے اعظم نے تجارت، سرمایہ کاری اور اقتصادی تعاون کو مزید گہرا کرنے کے عزم کا اعادہ کیا۔ اس تناظر میں انہوں نے دوطرفہ اقتصادی تعلقات میں مسلسل وسعت اور باہمی تجارت کے شعبوں میں بڑھتی ہوئی تنوع کا خیرمقدم کیا، اور اس عزم کا اظہار کیا کہ مشترکہ مفادات کے حامل اہم شعبوں میں تعاون کو مزید مضبوط بنایا جائے گا، تاکہ آئندہ پانچ برسوں میں دوطرفہ تجارت کو دوگنا کرنے کی راہ ہموار ہو سکے۔
دونوں وزرائے اعظم نے مارچ 2025 میں شاہی خاندان کی رکن، عالی جاہ شہزادی آسٹرڈ کی قیادت میں بھارت کے کامیاب بیلجین اقتصادی مشن پر اطمینان کا اظہار کیا۔ انہوں نے اس مشن کو دوطرفہ اقتصادی روابط کو آگے بڑھانے، کاروباری اداروں اور دیگر اداروں کے درمیان نئی شراکت داریوں کے فروغ، خواتین کے معاشی طور پر بااختیار بنانے کے حوالے سے تبادلے، اور ترجیحی شعبوں میں تعاون کو وسعت دینے کی جانب ایک اہم سنگِ میل قرار دیا۔ ان ترجیحی شعبوں میں حیاتیاتی علوم، ادویہ سازی اور صحتِ عامہ، توانائی اور قابلِ تجدید توانائی، دفاع، ہوابازی و خلائی امور، لاجسٹکس، نقل و حمل اور بندرگاہیں، ماحول دوست ٹیکنالوجی اور گرین انجینئرنگ، کیمیا، جدید مواد اور مینوفیکچرنگ، ڈیجیٹل ٹیکنالوجیز اور جدت طرازی شامل ہیں۔ اس ضمن میں دونوں رہنماؤں نے حیاتیاتی علوم کے شعبے میں بھارت۔بیلجیم شراکت داری کی وسیع صلاحیت کو اجاگر کیا، جو ادویہ سازی، حیاتیاتی ٹیکنالوجی، طبی آزمائشوں، جدت طرازی اور جدید طبی نگہداشت کے حل کے شعبوں میں دونوں ممالک کی باہمی تکمیلی صلاحیتوں پر استوار ہے۔ انہوں نے صنعت، تعلیمی اداروں اور تحقیقی مراکز کے درمیان مزید قریبی تعاون کی حوصلہ افزائی کی۔
دونوں رہنماؤں نے اس پیش رفت اور رفتار کو برقرار رکھنے پر اتفاق کیا اور اس مقصد کے لیے اعلیٰ سطحی روابط کا سلسلہ باقاعدگی سے جاری رکھنے پر زور دیا، جس میں بیلجیم کے علاقائی تجارتی و سرمایہ کاری کے اداروں کے ساتھ روابط بھی شامل ہوں گے۔ دونوں رہنماؤں نے دوطرفہ اقتصادی تعلقات میں ہونے والی پیش رفت اور ان میں بڑھتے ہوئے تنوع پر اطمینان کا اظہار کیا اور سیمی کنڈکٹرز، کیمیکلز، ادویہ سازی، دفاعی صنعت میں تعاون، اہم معدنیات کی ریفائننگ اور ری سائیکلنگ، پائیدار صنعتوں اور جوہری توانائی سمیت مختلف شعبوں میں تعاون کو وسعت دینے کا خیرمقدم کیا۔ اس مقصد کے لیے نجی شعبے کے شراکت داروں کو شامل کرتے ہوئے تعاون کے ابھرتے ہوئے مواقع تلاش کرنے کی بھی حوصلہ افزائی کی گئی۔ دونوں رہنماؤں نے انٹورپ کو ممبئی اور سورت سے جوڑنے والی ہیرے کی تجارت کی دیرینہ اہمیت کا بھی اعتراف کیا اور اس تاریخی شراکت داری کو مزید مضبوط بنانے پر اتفاق کیا، جبکہ اقتصادی روابط اور باہمی ترقی کے لیے تعاون کی نئی راہیں تلاش کرنے کا عزم بھی ظاہر کیا۔
دونوں رہنماؤں نے دونوں ممالک کے درمیان بحری اور بندرگاہی تعاون کی اہمیت پر زور دیا اور بندرگاہوں کی ترقی، لاجسٹکس، رابطہ کاری، ڈریجنگ اور سمندر میں ہوا سے بجلی پیدا کرنے کے بنیادی ڈھانچے کے شعبوں میں تعاون کو مزید گہرا کرنے کے مواقع کا خیرمقدم کیا۔ اس تناظر میں انہوں نے اکتوبر 2026 میں نئی دہلی میں منعقد ہونے والے "ساگرمنتھن: دی گریٹ اوشنز ڈائیلاگ" میں فلیمش وزیرِ نقل و حرکت و بندرگاہیں، اینک ڈی رِڈر، کی متوقع شرکت کا خیرمقدم کیا۔ دونوں رہنماؤں نے اے پی ای سی (انٹورپ/فلینڈرز پورٹ ٹریننگ سینٹر) اور بھارت کی جواہر لال نہرو پورٹ اتھارٹی (جے این پی اے) کے درمیان تعاون میں اضافے کے امکانات کا بھی خیرمقدم کیا۔ بالخصوص بھارتی بندرگاہی شعبے میں تمام سطحوں کے انتظامی افسران اور ملازمین کی تربیتی ضروریات کی نشاندہی اور استعدادِ کار بڑھانے کے شعبوں میں تعاون کو اہم قرار دیا گیا، جبکہ اس تعاون کو وسیع تر بحری شعبے تک وسعت دینے کی بھی گنجائش تسلیم کی گئی۔ دونوں رہنماؤں نے بھارت کے بندرگاہی بنیادی ڈھانچے کی ترقی میں بیلجیم کی ڈریجنگ مہارت کے مسلسل کردار کو بھی سراہا اور سمندر میں قابلِ تجدید توانائی کے منصوبوں کی معاونت میں اس مہارت کے ممکنہ کردار کو تسلیم کیا۔
دونوں وزرائے اعظم نے تحقیق اور اعلیٰ تعلیم کے شعبے میں بھارت اور بیلجیم کے درمیان بڑھتے ہوئے تعاون کا خیرمقدم کیا، جس میں بیلگو۔انڈین نیٹ ورک فار آسٹرونومی اینڈ آسٹروفزکس (بی آئی این اے) کے ذریعے علمِ فلکیات، فلکی طبیعیات اور خلائی ٹیکنالوجیز کے شعبوں میں تعاون بھی شامل ہے۔ انہوں نے بھارت میں فلکیاتی تحقیق کے کئی اہم منصوبوں میں بیلجیم کے تعاون کا بھی ذکر کیا، جن میں دیواستھل آپٹیکل ٹیلی اسکوپ، دیواستھل انٹرنیشنل لیکوئڈ مرر ٹیلی اسکوپ، ماؤنٹ ابو ٹیلی اسکوپ اور اُدے پور میں ملٹی ایپلی کیشن سولر ٹیلی اسکوپ شامل ہیں۔ یہ منصوبے دونوں ممالک کے درمیان سائنسی تعاون کی مضبوطی اور وسعت کی عکاسی کرتے ہیں۔
دونوں رہنماؤں نے بھارت۔بیلجیم سرمایہ کاری فاسٹ ٹریک میکانزم کے آغاز کا خیرمقدم کیا اور اسے دوطرفہ سرمایہ کاری کے روابط کو مزید مضبوط بنانے کی جانب ایک اہم قدم قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ میکانزم ایک مخصوص پلیٹ فارم کے طور پر کام کرے گا، جس کے ذریعے بیلجیم کی جانب سے بھارت میں اور بھارت کی جانب سے بیلجیم میں سرمایہ کاری کو سہولت فراہم کرنے اور اس میں وسعت لانے، کاروباری اداروں کی معاونت کرنے، سرمایہ کاری کی راہ میں حائل رکاوٹوں کو دور کرنے اور دونوں ممالک کے درمیان طویل مدتی اقتصادی تعاون کے لیے زیادہ سازگار ماحول پیدا کرنے میں مدد ملے گی۔
دونوں رہنماؤں نے فیڈرل ہولڈنگ اینڈ انویسٹمنٹ کمپنی (ایس ایف پی آئی ایم)، جو بیلجیم کا خودمختار دولت فنڈ ہے، اور بھارت کے نیشنل انویسٹمنٹ اینڈ انفراسٹرکچر فنڈ (این آئی آئی ایف) کے درمیان جاری روابط کا بھی خیرمقدم کیا۔ انہوں نے ایس ایف پی آئی ایم اور این آئی آئی ایف کے درمیان تعاون کو باضابطہ شکل دینے کی امید ظاہر کی، تاکہ بھارت۔بیلجیم اقتصادی و سرمایہ کاری راہداری کے قیام میں مدد مل سکے۔ دونوں رہنماؤں نے بیلجین انویسٹمنٹ کمپنی فار ڈیولپنگ کنٹریز (بائیو انویسٹ) کے کردار کا بھی خیرمقدم کیا اور باہمی مفاد کے شعبوں میں بائیو انویسٹ اور این آئی آئی ایف کے درمیان ممکنہ تعاون کے امکانات تلاش کرنے پر اتفاق کیا۔ دونوں وزرائے اعظم نے بھارت۔بیلجیم۔لگژمبرگ اقتصادی اتحاد (بی ایل ای یو) کے مشترکہ اقتصادی کمیشن کی اہمیت کا اعادہ کیا اور اسے دوطرفہ اقتصادی تعاون کو آگے بڑھانے کے لیے ایک کلیدی طریقۂ کار قرار دیا۔ انہوں نے اس سال کے اواخر میں کمیشن کے 19ویں اجلاس کے انعقاد کے حوالے سے بھی توقعات کا اظہار کیا۔
دفاع اور سلامتی کے شعبے میں تعاون
وزیرِ اعظم بارٹ ڈی ویور نے دہشت گردی، بشمول سرحد پار دہشت گردی، کے خلاف جنگ میں بھارت کے ساتھ بیلجیم کی یکجہتی کا اظہار کیا۔ انہوں نے اپریل 2025 میں بھارت کے زیرِ انتظام جموں و کشمیر کے پہلگام میں بے گناہ شہریوں پر ہونے والے دہشت گرد حملے کی ایک بار پھر شدید مذمت کی۔ دونوں رہنماؤں نے دہشت گردی کے خلاف جامع اور عالمی سطح پر مربوط حکمتِ عملی اختیار کرنے کے اپنے عزم کا اعادہ کیا اور اس بات پر زور دیا کہ دہشت گردی خواہ کسی بھی شکل و صورت میں ہو اور دنیا میں کہیں بھی سرزد ہو، اسے کسی صورت جائز قرار نہیں دیا جا سکتا۔ انہوں نے دہشت گردی کے قصورواروں کو بین الاقوامی قانون کے مطابق جواب دہ ٹھہرانے کا مطالبہ کیا۔ دونوں رہنماؤں نے اس امر پر اتفاق کیا کہ عالمی برادری کو دہشت گردوں اور دہشت گرد تنظیموں کے خلاف متحد ہو کر کارروائی کرنی چاہیے، جن میں اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کے قرارداد 1267 کے تحت عائد پابندیوں کے نظام میں شامل دہشت گرد عناصر و تنظیمیں، دہشت گرد نیٹ ورک، ان کی محفوظ پناہ گاہیں اور ان کے مالی وسائل بھی شامل ہیں۔ اس مقصد کے لیے اقوامِ متحدہ اور فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) سمیت متعلقہ عالمی اداروں کے ذریعے مؤثر اقدامات کیے جانے چاہئیں۔ رہنماؤں نے دہشت گردی کی روک تھام اور اس کے خلاف کارروائی کے لیے بین الاقوامی تعاون کو مزید مضبوط بنانے پر زور دیا، جس میں قومی، علاقائی اور بین الاقوامی سطح پر پابندیوں کے مؤثر نظام کے ذریعے تعاون بھی شامل ہے۔ اس تناظر میں دونوں رہنماؤں نے بدلتے ہوئے دہشت گردی کے خطرات سے نمٹنے کے لیے دوطرفہ تعاون کو مزید مؤثر بنانے کی غرض سے بیلجیم۔بھارت مشترکہ ورکنگ گروپ برائے انسدادِ دہشت گردی کے قیام کے امکانات تلاش کرنے کے اپنے ارادے کا اظہار کیا۔
دفاعی تعاون کے حوالے سے دونوں وزرائے اعظم نے دونوں ممالک کی وزارتِ دفاع کے درمیان اقرار نامے پر دستخط کا خیرمقدم کیا۔ اس کے ذریعے باقاعدہ روابط، اعلیٰ حکام کی سطح پر مذاکرات، تعلیم و تربیت، تحقیقی تعاون اور دفاعی صنعت کے شعبے میں شراکت داری کے لیے ایک باقاعدہ فریم ورک وضع کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ معاہدہ مارچ 2025 میں بھارت اور بیلجیم کے وزرائے دفاع کے درمیان طے پانے والی مفاہمت کی بنیاد پر استوار ہے، جس کا مقصد دوطرفہ دفاعی تعاون کو ادارہ جاتی شکل دینا اور اسے مزید مضبوط بنانا تھا۔ دونوں رہنماؤں نے دونوں ممالک کے دفاعی اداروں کے درمیان بحری سلامتی، ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز، تعلیم و عسکری تبادلوں اور بحرِ ہند و بحرالکاہل کے خطے میں تعاون کے حوالے سے مسلسل گہرے ہوتے روابط کا خیرمقدم کیا۔ اس تناظر میں انہوں نے ان عملی مواقع کا بھی خیرمقدم کیا جو دونوں دفاعی اداروں کے درمیان روابط اور تعاون کو مزید مضبوط بنانے میں معاون ثابت ہوں گے۔ ان میں بیلجیم کی فریگیٹ لیوپولڈ1 کا 5 سے 8 نومبر 2026 تک بھارت کا مجوزہ دورہ، بیلجین ڈیفنس کالج کی جانب سے 2027 کا ورلڈ اسٹڈی ٹرپ بھارت میں منعقد کرنے کا ارادہ، اور کالج آف ڈیفنس مینجمنٹ، سکندرآباد کا اکتوبر 2026 میں بیلجیم کا مطالعاتی دورہ شامل ہیں۔
دونوں رہنماؤں نے نئی دہلی میں بیلجیم کی جانب سے دفاعی اتاشی مقرر کیے جانے کا بھی خیرمقدم کیا اور بھارت کی جانب سے مستقبل قریب میں برسلز میں بھارتی سفارت خانے میں مستقل دفاعی اتاشی تعینات کرنے کے فیصلے کا خیرمقدم کیا۔ دونوں رہنماؤں نے بحری سلامتی، ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز اور بحرِ ہند و بحرالکاہل کے خطے میں تعاون کے حوالے سے دونوں ممالک کے دفاعی اداروں کے درمیان مسلسل بڑھتے ہوئے روابط کو سراہا۔
دونوں وزرائے اعظم نے بھارت اور بیلجیم کے درمیان بڑھتے ہوئے دفاعی صنعتی تعاون کا خیرمقدم کیا اور نوٹ کیا کہ مارچ 2025 میں بیلجین اقتصادی مشن کے بھارت کے دورے کے دوران اس نوعیت کی شراکت داری مزید مضبوط ہوئی۔ دفاعی پیداوار، ٹیکنالوجی، جدت طرازی، مشترکہ ترقی اور مشترکہ پیداوار کے شعبوں میں مزید تعاون کے امکانات کو تسلیم کرتے ہوئے، دونوں رہنماؤں نے بیلجیم اور بھارت کی دفاعی صنعتوں کے درمیان متعدد معاہدوں اور شراکت داریوں پر دستخط کا خیرمقدم کیا اور دونوں ممالک کی دفاعی صنعتوں کو باہمی روابط اور تعاون کا سلسلہ جاری رکھنے کی ترغیب دی۔
دونوں رہنماؤں نے یپریس کے فلینڈرز فیلڈز میوزیم اور نئی دہلی میں قائم سینٹر فار آرمڈ فورسز ہسٹوریکل ریسرچ (سی اے ایف ایچ آر) کے درمیان جاری تعاون کا بھی ذکر کیا، جو بھارت اور بیلجیم کے مشترکہ تاریخی ورثے کے تحفظ اور اس کے فروغ میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔
دونوں وزرائے اعظم نے بھارت کے مرکزی تحقیقاتی بیورو (سی بی آئی) اور بیلجیم کی وفاقی پولیس کے درمیان سرحد پار منظم جرائم، سائبر جرائم اور متعلقہ امور سے نمٹنے کے لیے تعاون کے مفاہمت نامے پر دستخط کا خیرمقدم کیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ مفاہمت نامہ دونوں ممالک کے متعلقہ اداروں کے درمیان روابط کو مزید مضبوط بنائے گا، معلومات کے تبادلے میں سہولت فراہم کرے گا، صلاحیت سازی میں اضافے اور بہترین عملی طریقۂ کار کے تبادلے کو فروغ دے گا، مفرور افراد کا سراغ لگانے میں تعاون کو مؤثر بنائے گا اور سرحد پار منظم جرائم، سائبر جرائم اور متعلقہ امور کے خلاف کارروائی کے لیے دونوں ممالک کے قانون نافذ کرنے والے اداروں کے درمیان دوطرفہ تعاون کو مزید گہرا کرے گا۔
ماحول دوست توانائی کی جانب منتقلی، ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز، صحتِ عامہ میں تعاون اور اسٹارٹ اَپس
دونوں وزرائے اعظم نے بھارت اور بیلجیم کے درمیان قابلِ تجدید توانائی کے شعبے میں تعاون سے متعلق تجدید شدہ مفاہمت نامےپر دستخط کا خیرمقدم کیا۔ انہوں نے نوٹ کیا کہ یہ تجدید شدہ مفاہمت نامہ 2015 کے فریم ورک کے تحت قائم ہونے والے تعاون اور قابلِ تجدید توانائی سے متعلق مشترکہ ورکنگ گروپ کے کام کو مزید آگے بڑھاتا ہے، جبکہ گرین ہائیڈروجن، شمسی توانائی، توانائی ذخیرہ کرنے کے نظام، سمندری ہوائی توانائی، حیاتیاتی توانائی، چھوٹے پن بجلی منصوبوں اور پمپڈ اسٹوریج پلانٹس سمیت اہم شعبوں میں تعاون کو وسعت دیتا ہے۔
دونوں ممالک نےگرین ہائیڈروجن کے شعبے میں بھارت اور بیلجیم کے درمیان بڑھتے ہوئے تعاون کا خیرمقدم کیا، جس میں صنعتی شراکت داری اور علم و تجربے کا تبادلہ بھی شامل ہے۔ انہوں نے جی ایچ 2 انڈیا، بیلجین ہائیڈروجن کونسل اور فلینڈرس سرمایہ کاری اور تجارت کے درمیان مفاہمت کی یادداشت کے تحت جاری تعاون کو تسلیم کیا، نیز برسلز میں ایگمونٹ انسٹی ٹیوٹ کے گرین ہائیڈروجن تبادلہ پروگرام میں بھارتی حکام کی فعال شرکت اور دونوں ممالک کے سرکاری، صنعتی اور تحقیقی نمائندوں کے باہمی دوروں کا بھی خیرمقدم کیا۔ دونوں رہنماؤں نے سبز ہائیڈروجن کی پوری ویلیو چین کو مضبوط بنانے میں بھارت اور بیلجیم کے اہم کردار پر زور دیا، جس میں اس کی پیداوار، ترسیل، ذخیرہ کاری اور حتمی استعمال شامل ہیں۔ اس تعاون کا مقصد کاربن اخراج میں کمی کی کوششوں کو آگے بڑھانا، جدت طرازی کو فروغ دینا، توانائی کے تحفظ کو مضبوط بنانا اور پائیدار اقتصادی ترقی کو فروغ دینا ہے۔
بیلجیم اور بھارت نے پیرس معاہدے، اس کے طویل مدتی اہداف، بالخصوص درجۂ حرارت سے متعلق ہدف، اور اس کے بنیادی اصولوں، جن میں مساوات اور مشترکہ مگر مختلف نوعیت کی ذمہ داریاں اور متعلقہ صلاحیتیں شامل ہیں، سے اپنی وابستگی کا اعادہ کیا، جبکہ مختلف ممالک کے مخصوص قومی حالات کو بھی مدنظر رکھنے پر زور دیا۔ دونوں ممالک نے ایک کامیاب COP31 کی حمایت کی جو معاہدے پر عمل درآمد کو آگے بڑھائے اور زمینی سطح پر مؤثر موسمیاتی اقدامات میں مزید اضافہ کرے۔ دونوں ممالک نے تسلیم کیا کہ خصوصاً ترقی پذیر ممالک میں موسمیاتی اقدامات کو مؤثر بنانے کے لیے تمام ذرائع سے مناسب، قابلِ پیش گوئی اور قابلِ رسائی موسمیاتی مالی وسائل متحرک کرنا، موسمیاتی ٹیکنالوجیز کی ترقی و ترویج اور صلاحیت سازی میں اضافہ ضروری ہے۔ انہوں نے ان شعبوں میں بین الاقوامی تعاون کو مزید مضبوط بنانے کی اہمیت پر زور دیا۔ دونوں فریقوں نے موسمیاتی تبدیلی کے مطابق ڈھالنے، لچک پذیری اور قدرتی آفات سے نمٹنے کی تیاری کو مضبوط بنانے کے عزم کا اظہار کیا۔ انہوں نے اس امر کو بھی تسلیم کیا کہ سمندر اور ساحلی ماحولیاتی نظام موسمیاتی لچک، پائیدار ترقی اور ساحلی آبادیوں کی بہبود میں نہایت اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ پائیدار ترقی اور موسمیاتی لچک کے ایک اہم جزو کے طور پر سمندری نظم و نسق کو مضبوط بنانے کی اہمیت کو تسلیم کرتے ہوئے، دونوں ممالک نے قومی حدود سے ماورا حیاتیاتی تنوع سے متعلق معاہدے (بی بی این جے ایگریمنٹ) اور سمندری امور میں وسیع تر بین الاقوامی تعاون کی اہمیت پر زور دیا۔
دونوں رہنماؤں نے بھارت کے مائیکرو الیکٹرانکس ماحولیاتی نظام سے وابستہ اداروں، جن میں سیمی کنڈکٹر کمپنیاں، چپ ان سینٹر،سی-ڈی اے سی، یونیورسٹیوں اورآئی ایم ای سی بیلجیم کا دورہ شامل ہیں، کے درمیان روابط اور تعاون کی حوصلہ افزائی کی۔ انہوں نے ان باہمی روابط کی حمایت کا اظہار کیا، تاکہ یہ سیمی کنڈکٹر ٹیکنالوجیز کے شعبے میں مزید گہری شراکت داریوں کی شکل اختیار کریں اور دونوں ممالک میں مضبوط، محفوظ اور جدید ٹیکنالوجی کے ماحولیاتی نظام تشکیل دینے میں معاون ثابت ہوں۔
دونوں رہنماؤں نے بھارت کی میزبانی میں منعقد ہونے والے اے آئی امپیکٹ سمٹ میں حکومتِ فلینڈرز کے صدر-وزیر کی شرکت کا خیرمقدم کیا۔ انہوں نے کہا کہ اس دورے سے مصنوعی ذہانت، ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز اور جدت طرازی کے شعبوں میں باہمی تعاون کی بڑھتی ہوئی اہمیت اجاگر ہوتی ہے۔
دونوں فریقوں نے اسٹارٹ اَپ انکیوبیشن کے شعبے میں تعاون کا خیرمقدم کیا۔ اس سلسلے میں انہوں نے ایم ای آئی ٹی آئی اسٹارٹ اپ ہب اور ہب برسلز کے درمیان، نیز دیگر اسٹارٹ اَپ ہبز اور ہنرمندی کے فروغ کے مراکز کے درمیان تعاون جاری رکھنے پر اتفاق کیا۔ اس تعاون کا مقصد ایسے اسٹارٹ اَپ ماحولیاتی نظام کو فروغ دینا ہے جو جدت پر مبنی کاروباری سرگرمیوں کی معاونت کریں، جبکہ ڈیجیٹل مہارتوں کی ترقی کو بھی مزید تقویت دی جائے۔
کنکٹی ویٹی، موبلیٹی ،تعلیم، ثقافت اور عوامی روابط
دونوں رہنماؤں نے عوامی سطح کے روابط اور باہمی رابطہ کاری کو مؤثر ویزا خدمات کے ذریعے مضبوط بنانے کی اہمیت کو تسلیم کیا۔ اس تناظر میں انہوں نے ویزا درخواستوں کی آسان اور فوری کارروائی کی ضرورت پر زور دیا۔ بھارت اور بیلجیم کے درمیان باہمی آمد و رفت اور روابط میں اضافے کے پیشِ نظر، دونوں ممالک میں موجود سفارتی مشنز کی جانب سے ویزا درخواستوں پر کارروائی کی صلاحیت میں نمایاں اضافہ کیا جائے گا۔ اس مخصوص ضرورت کو مدنظر رکھتے ہوئے دونوں رہنماؤں نے بھارت میں بیلجیم کی ویزا خدمات کے موجودہ نظام کو مزید مستحکم کرنے کا خیرمقدم کیا۔
رہنماؤں نے جامع نقل و حرکت کے لیے تعاون کے فریم ورک سے متعلق یورپی یونین کے مفاہمت نامے پر دستخط اور بھارت میں یورپی یونین لیگل گیٹ وے آفس کے آزمائشی منصوبے کے آغاز کا خیرمقدم کیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ اقدام پیشہ ور افراد، ہنرمند افرادی قوت اور طلبہ کی نقل و حرکت کے لیے قانونی راستوں کو فروغ دینے اور بھارت و یورپی یونین کے درمیان عوامی روابط کو مزید مضبوط بنانے میں معاون ہوگا۔ دونوں رہنماؤں نے اتفاق کیا کہ جیسے جیسے تجارت، سرمایہ کاری اور عوامی روابط میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، ہنرمند پیشہ ور افراد، طلبہ، محققین اور کاروباری مسافروں کی نقل و حرکت میں سہولت پیدا کرنا ناگزیر ہوگا۔ دونوں رہنماؤں نے رابطہ کاری کو مزید مضبوط بنانے کی اہمیت پر زور دیا اور فضائی کمپنیوں کی حوصلہ افزائی کی کہ وہ بیلجیم اور بھارت کے درمیان براہِ راست فضائی رابطے کے قیام کے امکانات کا جائزہ لیں۔ دونوں رہنماؤں نے صحتِ عامہ کے شعبے میں بیلجیم کے طبی اداروں اور بھارت کے درمیان جاری تعاون کا بھی خیرمقدم کیا۔ اس تعاون میں بھارت سے تربیت یافتہ اور اہل نرسوں کی بیلجیم منتقلی میں سہولت فراہم کرنے والے اقدامات بھی شامل ہیں۔ انہوں نے صحتِ عامہ اور تعلیم کے شعبوں میں بیلجیم اور بھارت کے درمیان سول سوسائٹی کی سطح پر وسیع اور فعال تعاون کو بھی سراہا۔ دونوں رہنماؤں نے موبلیٹی اور مائیگریشن سے متعلق مفاہمت نامے پر دستخط کے لیے جاری مذاکرات کو آگے بڑھانے کی حوصلہ افزائی کی۔
دونوں رہنماؤں نے بیلجین اقتصادی مشن کے دوران قائم ہونے والی متعدد تعلیمی شراکت داریوں کا ذکر کرتے ہوئے، وزیرِ اعظم مودی کی جانب سے بیلجیم کی ممتاز یونیورسٹیوں اور اعلیٰ تعلیمی اداروں کو بھارت کی نئی تعلیمی پالیسی کے تحت بھارت میں اپنے کیمپس قائم کرنے کی دعوت کا خیرمقدم کیا۔ دونوں رہنماؤں نے دونوں ممالک کے متعلقہ حکام، اداروں اور صنعتی شراکت داروں کی حوصلہ افزائی کی کہ وہ بھارت اور بیلجیم کے ہنرمندی کی ترقی اور فنی و پیشہ ورانہ تعلیم و تربیت (ٹی وی ای ٹی) کے نظام کے درمیان تعاون کے امکانات تلاش کریں۔ اس تعاون میں بہترین عملی طریقۂ کار کا تبادلہ، صنعت کی ضروریات سے ہم آہنگ تربیت، تربیت دہندگان اور جائزہ کاروں کی صلاحیت سازی میں اضافہ، اپرنٹس شپ اور عملی کام پر مبنی تعلیم، ابھرتی ہوئی اور مستقبل کی مہارتوں کے شعبے میں تعاون، نیز تعلیمی و پیشہ ورانہ اسناد کی مطابقت اور باہمی تسلیم کے حوالے سے مذاکرات شامل ہو سکتے ہیں۔ اس کا مقصد روزگار کے حصول کی صلاحیت کو بہتر بنانا اور ہنرمند پیشہ ور افراد کی باہمی مفاد پر مبنی موبلیٹی میں معاونت فراہم کرنا ہے۔
رہنماؤں نے فلیمش انسٹی ٹیوٹ فار ٹیکنالوجیکل ریسرچ (وی آئی ٹی او) کی جانب سے بھارتی شراکت داروں کے ساتھ تحقیقی تعاون، جدت طرازی اور علم و تجربے کے تبادلے کے فروغ میں ادا کیے جانے والے کردار کو بھی تسلیم کیا۔ دونوں رہنماؤں نے سشما سوراج انسٹی ٹیوٹ آف فارن سروس اور بیلجیم کی فیڈرل پبلک سروس فارن افیئرز کے درمیان سفارتی تربیت کے شعبے میں تعاون کا خیرمقدم کیا۔
بین الاقوامی امور
دونوں وزرائے اعظم نے یوکرین اور مغربی ایشیا میں ہونے والی حالیہ پیش رفت سمیت اہم بین الاقوامی معاملات پر بھی تبادلۂ خیال کیا۔ یوکرین کی جنگ کے حوالے سے دونوں فریقوں نے اقوامِ متحدہ کے منشور اور بین الاقوامی قانون کے اصولوں کے مطابق مذاکرات اور سفارت کاری کے ذریعے جامع، منصفانہ اور پائیدار امن کے حصول کی کوششوں کی حمایت کا اعادہ کیا۔
مغربی ایشیا کے حوالے سے دونوں رہنماؤں نے خطے میں تشویش کا باعث بننے والی حالیہ پیش رفت پر تبادلۂ خیال کیا اور چیلنجز کو پُرامن طریقے سے حل کرنے کے لیے مذاکرات اور سفارتی روابط کی اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے بحری راستوں کی سلامتی اور تحفظ یقینی بنانے اور سمندری نقل و حمل کو محفوظ اور بلا رکاوٹ جاری رکھنے کی اہمیت پر بھی زور دیا۔
دونوں وزرائے اعظم نے باہمی اعتماد اور امن، خوشحالی اور ترقی کے مشترکہ وژن کی رہنمائی میں بھارت۔بیلجیم شراکت داری کو مزید گہرا اور متنوع بنانے کے مشترکہ عزم کا اعادہ کیا۔ انہوں نے اتفاق کیا کہ دونوں ممالک کے درمیان بڑھتی ہوئی شراکت داری کی رہنمائی جمہوریت، قانون کی حکمرانی، انسانی حقوق کے احترام، صنفی مساوات اور قواعد پر مبنی بین الاقوامی نظام کے لیے مشترکہ وابستگی سے ہوتی رہے گی۔ ان بنیادوں پر آگے بڑھتے ہوئے دونوں رہنماؤں نے اس اعتماد کا اظہار کیا کہ بھارت۔بیلجیم شراکت داری دونوں ممالک کے عوام اور پوری دنیا کے لیے ٹھوس فوائد کا سلسلہ جاری رکھے گی، اور مشترکہ عالمی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے بھارت اور یورپ کے درمیان تعاون کو مزید مضبوط بنانے میں بھی کردار ادا کرے گی۔
بھارت۔بیلجیم شراکت داری میں بڑھتی ہوئی گہرائی اور تنوع، نیز بھارت اور یورپ کے درمیان بڑھتے ہوئے روابط اور بھارت۔یورپی یونین تعلقات کے تناظر میں، وزیرِ اعظم بارٹ ڈی ویور نے وزیرِ اعظم نریندر مودی کو باہمی طور پر موزوں وقت پر بیلجیم کے دوطرفہ دورے کی دعوت دی۔
***
ش ح۔ ض ر ۔ت ع
U.No. 2983
(ریلیز آئی ڈی: 2306360)
وزیٹر کاؤنٹر : 15