کامرس اور صنعت کی وزارتہ
azadi ka amrit mahotsav

تجارت و صنعت  کے مرکزی وزیر جناب پیوش گوئل نے بھارت کے ڈیٹا سینٹر کے ماحولیاتی نظام کو وسعت دینے کے لیے کاروبار میں آسانی سے متعلق سی ای اوز کے گول میز اجلاس کی صدارت کی


جناب پیوش گوئل نے بھارت کی ڈیٹا سینٹر صنعت میں  200 ارب امریکی ڈالر کی سرمایہ کاری کی صلاحیت کو اجاگر کیا

حکومت  ، بھارت میں ڈیٹا سینٹرز کی توسیع کو تیز کرنے کے لیے کاروبار میں آسانی پر توجہ مرکوز کر رہی ہے

ڈیٹا سینٹر سے متعلق گول میز اجلاس میں قابلِ اعتماد  بجلی، فوری استعمال کے لیے تیار زمین اور منظوری کے عمل کو آسان بنانے پر توجہ مرکوز کی گئی

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 02 SEP 2026 4:07PM by PIB Delhi

تجارت و صنعت  کے مرکزی وزیر  جناب پیوش گوئل نے آج نئی دلّی کے وانجیہ بھون میں ’’ بھارت کے ڈیٹا سینٹر کے ماحولیاتی نظام کو وسعت دینے کے لیے کاروبار میں آسانی  ( ای او ڈی بی )  ‘‘ کے موضوع پر منعقدہ سی ای اوز کے گول میز اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ڈیٹا سینٹرز قائم کرنے کے لیے بھارت دنیا کا بہترین مقام ہے۔ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے  ، وزیر موصوف نے کہا کہ اس گول میز اجلاس نے ڈیٹا سینٹر صنعت سے وابستہ متعلقہ فریقوں کے ساتھ شعبے کو مزید فروغ دینے اور بھارت میں کاروبار کرنے میں آسانی کو بہتر بنانے کے حوالے سے بات چیت کے لیے ایک مفید اور نتیجہ خیز پلیٹ فارم فراہم کیا۔

جناب گوئل نے عالمی سطح پر موجود غیر یقینی اور اتار چڑھاؤ کے باوجود بھارت کی ترقی کے امکانات پر اعتماد کا اظہار کیا اور رواں مالی سال کی پہلی سہ ماہی میں ملک کی  7.8 فی صد اقتصادی ترقی کو اجاگر کیا۔ انہوں نے بھارت کے عوام کو مبارک باد پیش کی اور وزیر ِ اعظم جناب نریندر مودی کی فیصلہ کن قیادت اور ہر بھارتی شہری میں امرت کال اور وکست بھارت  2047  کے ویژن میں اپنا  رول ادا کرنے کے لیے اعتماد پیدا کرنے پر ان کی  ستائش کی۔

وزیر موصوف نے ڈیٹا سینٹر اور سیمی کنڈکٹر صنعتوں کی صلاحیت، مصنوعی ذہانت  ( اے آئی )   کے شعبے میں  ، بھارت کی بڑھتی ہوئی موجودگی اور عالمی معیار کی مصنوعات کے لیے ملک کے بڑھتے ہوئے مینوفیکچرنگ شعبے کو اجاگر کیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ شعبے آنے والے برسوں میں بھارت کی ترقی کو تقویت  فراہم کریں گے اور  2047  ء تک  30  ٹریلین امریکی ڈالر کی معیشت کے ہدف کو حاصل کرنے میں اپنا کردار ادا کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ متعلقہ فریقوں کے ساتھ ہونے والی بات چیت میں مثبت سوچ نمایاں رہی اور حکومتِ ہند کی مختلف وزارتوں اور محکموں اور ریاستی حکومتوں کے درمیان ہونے والی بات چیت سے کئی مسائل پہلے ہی حل کیے جا چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ اطمینان کی بات ہے کہ صنعت  ، اس شعبے میں سرمایہ کاری کے لیے پوری طرح تیار ہے اور ڈیٹا سینٹر صنعت میں تقریباً  200 ارب امریکی ڈالر کی ممکنہ سرمایہ کاری متوقع ہے۔  جناب گوئل نے کہا کہ اس اجلاس سے  ، اس حوالے سے قیمتی معلومات اور تجاویز حاصل ہوئیں کہ بھارت کس طرح دنیا کا ڈیٹا سینٹر بن سکتا ہے۔

یہ گول میز اجلاس ڈیٹا سینٹر کے سی ای اوز کے پہلے گول میز اجلاس کے بعد منعقد کیا گیا، تاکہ بھارت کے ڈیٹا سینٹر شعبے کی تیز رفتار اور پائیدار توسیع کے لیے معاون ماحول کو مزید مضبوط بنایا جا سکے۔ بات چیت میں بالخصوص بجلی، زمین، ضابطہ جاتی اور مالیاتی امور کے شعبوں میں    ، کاروبار میں آسانی  اور ڈیٹا سینٹر کے بنیادی ڈھانچے کی تیز تر تعمیر و تنصیب پر توجہ مرکوز کی گئی ۔

بات چیت کے دوران کلاؤڈ اور مصنوعی ذہانت  ( اے آئی )  سے متعلق کام کے بڑھتے ہوئے استعمال کے نتیجے میں پیدا ہونے والی تیزی سے بڑھتی مانگ کو اجاگر کیا گیا۔  2026 ء کی پہلی ششماہی میں ڈیٹا سینٹرز کے استعمال میں ہائپر اسکیلرز کا حصہ  80  فی صد سے زیادہ رہا، جو اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ بھارت مصنوعی ذہانت کے بنیادی ڈھانچے کے مرکز کے طور پر ابھر رہا ہے۔ حکومت کو توقع ہے کہ ڈیٹا سینٹر شعبے میں سرمایہ کاری تقریباً  200 ارب امریکی ڈالر تک پہنچ جائے گی، جو بھارت کی تیزی سے بڑھتی ہوئی ڈیجیٹل معیشت اور مصنوعی ذہانت کے ماحولیاتی نظام سے پیدا ہونے والے مواقع کے حجم کو ظاہر کرتی ہے۔

متعلقہ فریقوں نے مناسب اور قابلِ اعتماد بجلی کی دستیابی کو یقینی بنانے کے لیے مختلف اقدامات پر تبادلہ خیال کیا، جن میں کلسٹر کی بنیاد پر ٹرانسمیشن اور سب اسٹیشن کی منصوبہ بندی، پہلے ہی دن منظور شدہ بجلی کا لوڈ   ، بجلی کی فراہمی کے لیے دوہری فیڈرز اور ریاستی حدود کے پار قابلِ تجدید توانائی کی خریداری میں سہولت فراہم کرنا شامل ہیں۔ اس کے علاوہ  ، ڈیٹا سینٹرز کے لیے تیار لینڈ بینکس اور پہلے سے نشان زد بجلی کی سہولت سے لیس زمین کے مخصوص قطعات  کی ضرورت کو بھی اجاگر کیا گیا۔

گول میز اجلاس میں  ، منصوبوں کی تکمیل کے لیے درکار وقت کم کرنے اور سرمایہ کاری کے حوالے سے یقین دہانی بہتر بنانے کے مقصد سے ضابطہ جاتی اقدامات کا بھی جائزہ لیا گیا، جن میں سنگل ونڈو منظوری کے عمل کو آسان بنانا اور ڈیٹا سینٹرز کے لیے موزوں تعمیراتی ضوابط شامل ہیں۔

بات چیت میں گزشتہ گول میز اجلاس کے بعد ہونے والی اہم پیش رفت کو بھی اجاگر کیا گیا۔ نیشنل بلڈنگ کوڈ  2026   میں اب ڈیٹا سینٹرز کو باقاعدہ طور پر گروپ  ای   کے تحت تسلیم کیا گیا ہے، جب کہ ڈیٹا سینٹرز سے متعلق ضروریات کے لیے ایک مخصوص ضمیمہ  بھی شامل کیا گیا ہے، جس میں آگ کے خطرے کا جائزہ اور ڈیٹا سینٹرز سے متعلق مخصوص کارکردگی کے اشاریے شامل ہیں۔

اس گول میز اجلاس میں مرکزی اور ریاستی حکومتوں کے نمائندوں، عالمی ہائپر اسکیلرز کے سی ای اوز اور اعلیٰ نمائندوں، ڈیٹا سینٹرز کے ڈیولپرز اور آپریٹرز، سرمایہ کاروں، بنیادی ڈھانچے کے فراہم کنندگان اور دیگر اہم متعلقہ فریقوں نے شرکت کی۔

آندھرا پردیش، گجرات، ہریانہ، کرناٹک، مہاراشٹر، تمل ناڈو، تلنگانہ اور اتر پردیش کی حکومتوں کے اعلیٰ نمائندوں کے علاوہ تقریباً 46 ڈیٹا سینٹر کمپنیوں کے نمائندوں نے بھی گول میز اجلاس میں شرکت کی۔

یہ بات چیت قابلِ عمل، مقررہ مدت میں مکمل کیے جانے والے اور بڑے اثرات مرتب کرنے والے اصلاحاتی اقدامات کی بنیاد فراہم کرے گی، جن کا مقصد سرمایہ کاری اور جدت طرازی کو تیز کرنا، بھارت کے ڈیجیٹل بنیادی ڈھانچے کو مضبوط بنانا اور ملک کو ایک قابلِ اعتماد عالمی ڈیٹا سینٹر مرکز کے طور پر مستحکم کرنا ہے۔

 

*****

) ش ح – ا  ع خ       -  ع ا )

U.No. 2940


(ریلیز آئی ڈی: 2305997) وزیٹر کاؤنٹر : 8