امور صارفین، خوراک اور عوامی تقسیم کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

ریاستوں اور مرکز کے زیرانتظام علاقوں کے محکمۂ خوراک کے سکریٹریز کی کانفرنس میں محکمۂ خوراک و عوامی تقسیم سے متعلق مختلف امور کا جائزہ


نئی اسٹوریج پالیسی کے تحت 131 لاکھ میٹرک ٹن (ایل ایم ٹی) اضافی ذخیرہ کرنے کی گنجائش پیدا کرنے کا منصوبہ

ریاستوں کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ دسمبر 2026 تک وہیکل لوکیشن ٹریکنگ سسٹم (وی ایل ٹی ایس) کے نفاذ کا عمل مکمل کریں

تیس جولائی 2026 تک ای-کے وائی سی کی تکمیل کی شرح 90.64 فیصد تک پہنچ گئی

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 01 SEP 2026 8:39PM by PIB Delhi

محکمۂ خوراک و عوامی تقسیم (ڈی ایف پی ڈی) ، حکومت ہند کے سکریٹری جناب سنجیو چوپڑا نے یکم ستمبر 2026 کو نئی دہلی میں ریاستی محکمۂ خوراک کے سکریٹریز کے اجلاس کی صدارت کی۔ اجلاس میں غذائی اجناس کی خریداری، عوامی تقسیم اور ذخیرہ کاری سے متعلق اہم امور کا جائزہ لیا گیا۔ مختلف ریاستوں اور مرکز کے زیرانتظام علاقوں کے محکمۂ خوراک کے سکریٹریز اور فوڈ کارپوریشن آف انڈیا (ایف سی آئی) کے افسران نے اجلاس میں شرکت کی۔

دھان کی خریداری اور بہتر چاول

ریاستوں اور مرکز کے زیرانتظام علاقوں کے ساتھ تفصیلی غور و خوض کے بعد آئندہ خریف مارکیٹنگ سیزن (کے ایم ایس) 2026-27 کے لیے دھان کی خریداری کا تخمینہ 708.64 لاکھ میٹرک ٹن (ایل ایم ٹی) مقرر کیا گیا۔

پردھان منتری غریب کلیان ان یوجنا (پی ایم جی کے اے وائی) اور دیگر فلاحی اسکیموں کے تحت بہتر معیار کے چاول کے نفاذ کا بھی جائزہ لیا گیا۔ منظور شدہ پالیسی کے تحت خریدے جانے والے کچے چاول میں اب زیادہ سے زیادہ 10 فیصد ٹوٹے ہوئے دانے شامل ہو سکیں گے، جبکہ موجودہ معیار کے تحت یہ حد 25 فیصد تھی۔ پَربوائلڈ چاول کے لیے ٹوٹے ہوئے دانوں کی حد 5 فیصد مقرر کی گئی ہے، جو موجودہ 16 فیصد کی حد کی جگہ لے گی۔

بہتر معیار کے چاول کی خریداری خریف مارکیٹنگ سیزن 2026-27 سے شروع کی جائے گی اور مرحلہ وار خریداری کرنے والی ریاستوں میں اس کا دائرہ وسیع کیا جائے گا۔ ریاستوں سے کہا گیا کہ وہ چاول کی ملنگ کی دستیاب صلاحیت کا جائزہ لیں، ضروری اپ گریڈیشن کا منصوبہ بنائیں اور اس کے نفاذ کے لیے مرحلہ وار روڈ میپ تیار کریں۔

خریف مارکیٹنگ سیزن -  2026-27 کے دوران ریاستوں کی جانب سے 18.85 لاکھ میٹرک ٹن موٹے اناج کی خریداری کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔

موٹے اناج، موٹے اناج کی اقسام اور خریداری کی ٹیکنالوجی

اجلاس میں موٹے اناج، باجرے اور دیگر چھوٹے جوار/باجرے کی اقسام کی خریداری اور تقسیم کے منصوبوں کا جائزہ لیا گیا۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ 2025-26 کے دوران 16.38 لاکھ میٹرک ٹن موٹے اناج اور باجرے کی خریداری کی گئی، جو گزشتہ پانچ برسوں میں ریکارڈ کی گئی سب سے زیادہ خریداری ہے۔

پروکیورمنٹ سینٹر اسمارٹ اسیسمنٹ پورٹل (پی سی ایس اے پی) کے تحت پیش رفت کا بھی جائزہ لیا گیا۔ اس میں خریف مارکیٹنگ سیزن 2026-27 سے مصنوعی ذہانت (اے آئی) پر مبنی تصاویر کی توثیق کا نظام متعارف کرانا بھی شامل ہے۔

اجلاس میں جوائنٹ فزیکل ویریفکیشن (جے پی وی) کے تحت پیش رفت کا بھی جائزہ لیا گیا۔ ریاستوں کے ساتھ خریف مارکیٹنگ سیزن 2026-27 سے خریداری کے سیزن کے اختتام پر دھان کی آن لائن  فزیکل تصدیق کی تجویز پر بھی تبادلۂ خیال کیا گیا۔

ریاستوں کی جانب سے کامیابی سے نافذ کیے گئے اقدامات اور بہترین طریق کار (بی پی) کو بھی تسلیم کیا گیا:

  1. آندھرا پردیش - بہتر معیار کے چاول کی اسکیم کے بہترین نفاذ کا اعزاز
  2. پنجاب - جے پی وی اور پی سی ایس اے پی میں بہترین کارکردگی
  3. کرناٹک - شری اَنّا کی خریداری میں نمایاں کارکردگی
  4. چھتیس گڑھ - دھان کی خریداری میں ایگری اسٹیک(اے ایس) نافذ کرنے والی پہلی ریاست

ذخیرہ کرنے کی گنجائش اور ڈپو درپن

اجلاس میں نئی ذخیرہ کاری (اسٹوریج)پالیسی کا جائزہ لیا گیا، جس کا مقصد خریداری اور اٹھان(آف ٹیک) کے درمیان بڑھتے ہوئے فرق، علاقائی عدم توازن اور ذخیرہ کرنے کی گنجائش کے ناکافی استعمال جیسے مسائل سے نمٹنا ہے۔

اس پالیسی کے تحت 131 لاکھ میٹرک ٹن اضافی ذخیرہ کاری کی گنجائش پیدا کرنے کا تصور پیش کیا گیا ہے، جس میں ریاستوں کی جانب سے 111 لاکھ میٹرک ٹن اور فوڈ کارپوریشن آف انڈیا(ایف سی آئی) کی جانب سے 20 لاکھ میٹرک ٹن گنجائش شامل ہے۔ متعلقہ ریاستوں سے کہا گیا کہ وہ مقررہ مدت کے مطابق عملی منصوبے پیش کریں۔

ریاستوں کو یہ بھی مشورہ دیا گیا کہ وہ اپنی غذائی اجناس کی ذخیرہ گاہوں کو ’ڈپو درپن پورٹل‘ پر درج کریں۔ یہ گوداموں کے لیے خود تشخیصی نظام ہے۔ ریاستوں سے کہا گیا کہ وہ مقررہ مدت کے اندر جائزے مکمل کریں اور سنٹرل ویئرہاؤسنگ کارپوریشن(سی ڈبلیو سی) ، ایف سی آئی اور ڈی ایف پی ڈی کی جانب سے فراہم کردہ تربیت اور رہنمائی سے استفادہ کریں۔

ٹیکنالوجی کے ذریعے غذائی اجناس کی نقل و حرکت

عوامی تقسیم کے نظام (پی ڈی ایس) کی سپلائی چین کے تحت غذائی اجناس منتقل کرنے والی گاڑیوں کی جی پی ایس پر مبنی حقیقی وقت میں نگرانی کے لیے وہیکل لوکیشن ٹریکنگ سسٹم(وی ایل ٹی ایس) کے نفاذ کا جائزہ لیا گیا۔

ریاستوں کو ہدایت دی گئی کہ وہ دسمبر -  2026 تک اس نظام کا نفاذ مکمل کریں، جبکہ مخصوص ریاستوں کے لیے ستمبر -  2026 تک تکمیل کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔

خریف مارکیٹنگ سیزن( کے ایم ایس) اور ربیع مارکیٹنگ سیزن(آر ایم ایس) دونوں کے لیے معاونت فراہم کرنے والے پروکیورمنٹ آپٹیمائزیشن ٹول کا بھی جائزہ لیا گیا۔ اس ٹول کا سکیورٹی آڈٹ مکمل ہو چکا ہے اور اسے پنجاب اور ہریانہ میں نصب کیا جا چکا ہے۔ باقی ریاستوں سے کہا گیا کہ وہ 15 ستمبر سن2026 تک نظام میں خریداری مراکز، ملوں اور گوداموں سے متعلق ڈیٹا تیار کرکے اپ ڈیٹ کریں۔

اجلاس میں اَنّا چکر کو ریاستی سپلائی چین مینجمنٹ سسٹم(ایس سی ایم ایس) اور وی ایل ٹی ایس کے ساتھ مربوط کرنے کے عمل کا بھی جائزہ لیا گیا، تاکہ ڈیٹا کے تبادلہ میں انسانی مداخلت کو ختم کیا جا سکے۔ چھ ریاستوں میں انضمام مکمل ہو چکا ہے۔ باقی ریاستوں کو ہدایت دی گئی کہ وہ ستمبر اور دسمبر 2026 تک مرحلہ وار انضمام مکمل کریں اور فیئر پرائس شاپس(ایف پی ایس) ، گوداموں اور اجناس کے ماسٹر ڈیٹا کی تصدیق اور تازہ کاری کو یقینی بنائیں۔

پی ڈی ایس اصلاحات اور ٹیکنالوجی پر مبنی خدمات

اجلاس میں عوامی تقسیم کے نظام(پی ڈی ایس) میں اصلاحات اور ٹیکنالوجی پر مبنی خدمات کی فراہمی سے متعلق اہم اقدامات کا جائزہ لیا گیا۔ ان میں ایس ایم اے آرٹ-پی ڈی ایس ، ایس اے آر ٹی ایچ اے کے-پی ڈی ایس ، ای-کے وائی سی اور موبائل نمبر سیڈنگ کے تحت رجسٹریشن اور آئندہ کے لائحۂ عمل کے علاوہ میرا راشن اور اَنّا متر موبائل ایپلی کیشنز شامل ہیں۔

اجلاس میں فیئر پرائس شاپس(ایف پی ایس) کو معقول بنانے، مرکزی بینک ڈجیٹل کرنسی(سی بی ڈی سی) ، غیر فعال اور دوہرے مستحقین کی شناخت، شکایات کے ازالے، ریاست کے اندر غذائی اجناس کی نقل و حرکت اور ایف پی ایس ڈیلرز کے کمیشن/منافع کے ساتھ ساتھ نگرانی کے نظام کو مزید مضبوط بنانے سے متعلق امور پر بھی تبادلۂ خیال کیا گیا۔

ایف پی ایس ڈیلرز کے کمیشن کے لیے ڈجیٹل روپے پر مبنی ڈی بی ٹی

فیئر پرائس شاپ (ایف پی ایس) ڈیلرز کے کمیشن کے لیے ڈجیٹل روپے () پر مبنی براہ راست فائدہ منتقلی (ڈی بی ٹی) کا پائلٹ منصوبہ، جس کا پہلے ہی گجرات، پڈوچیری اور چنڈی گڑھ و دادرا نگر حویلی میں افتتاح کیا جا چکا ہے، اب پوری دہلی ریاست اور مزید چھ ریاستوں—آندھرا پردیش، جموں و کشمیر، مدھیہ پردیش، اوڈیشہ، مغربی بنگال اور تمل ناڈو-کے دو، دو اضلاع تک توسیع دی جائے گی۔اس سلسلہ میں 11 ستمبر 2026 کو  گجرات کے گاندھی نگر میں ایک جائزہ ورکشاپ منعقد کی جائے گی۔

ایس اے آر ٹی ایچ اے کے-پی  ڈی ایس اور فیئر پرائس شاپس

ایس اے آر ٹی ایچ اے کے-پی  ڈی ایس  جو 2026-31 کے لیے ایک جامع اسکیم ہے، ریاستوں کو ریاست کے اندر غذائی اجناس کی نقل و حرکت اور ایف پی ایس ڈیلرز کے کمیشن کے لیے فراہم کی جانے والی معاونت کو ایس اے آر ٹی ایچ اے کے-پی  ڈی ایس کی ٹیکنالوجی پر مبنی سہولت کے ساتھ مربوط کرتی ہے۔ مالی سال 2026-27 کے لیے ریاستوں اور مرکز کے زیرانتظام علاقوں کو 100 فیصد مدر سینکشن (ایم ایس) جاری کیا جا چکا ہے۔

ای -کے وائی سی اور راشن کارڈ کا ڈیٹا

مورخہ 30جولائی 2026 تک ای-کے وائی سی کی شرح 90.64 فیصد رہی۔ ای-کے وائی سی پر مبنی ڈیٹا کی نقل اورای-پی او ایس کے ذریعے موبائل نمبرز کی سیڈنگ کے لیے ایک نیا معیاری طریق کار (ایس او پی) نافذ کیا گیا ہے۔ محکمہ نے دوبارہ واضح کیا کہ اس اقدام سے مستحقین تک غذائی اجناس کی آسان تر فراہمی میں مدد ملے گی۔

خاموش-سائیلنٹ راشن کارڈز اور دوہرے مستحقین سے متعلق نئے معیاری طریق کار (ایس او پیز) ، جو ترمیم شدہ(کنٹرو ل)ٹی پی ڈی ایس  سن2015 کے تحت جاری کیے گئے ہیں، پہلے عارضی طور پر کارڈ کو غیر فعال کرنے اور اس کے بعد تین ماہ کی ای-کے وائی سی دوبارہ تصدیق کی مدت کی گنجائش فراہم کرتے ہیں۔ یہ سہولت یکم اکتوبر -  2026 سے ایس ایم اے آر ٹی -پی ڈی ایس میں فعال ہو جائے گی۔

نگرانی کے نظام کو مضبوط بنانا

ریاستوں اور مرکز کے زیرانتظام علاقوں کو ہدایت دی گئی کہ وہ نگرانی کمیٹیوں (وجیلنس کمیٹیوں) کی بروقت تشکیل اور ان کے باقاعدہ اجلاس و فعالیت کو یقینی بنائیں اورقومی غذائی سلامتی ایکٹ (این ایف ایس اے) 2013 کی دفعہ 29 کے مطابق مقررہ پیش رفت رپورٹس جمع کرائیں۔

ریاستوں اور مرکز کے زیرانتظام علاقوں کو یہ بھی ہدایت دی گئی کہ وہ نگرانی کمیٹیوں کے ذریعے فیئر پرائس شاپ کی سطح پر غذائی اجناس کی وصولی کی آدھار پر مبنی تصدیق کو عملی طور پر نافذ کریں اور چار ہفتوں کے اندر نفاذ سے متعلق تعمیلی رپورٹس پیش کریں۔

 

*****

)ش ح – ظ الف – اش ق )

UR No. 2920


(ریلیز آئی ڈی: 2305840) وزیٹر کاؤنٹر : 5